وجود

... loading ...

وجود

حکومت شدید دباؤ میں، نیا آرمی چیف کون؟شریف برادران میں حتمی نام پر اختلاف

پیر 14 نومبر 2022 حکومت شدید دباؤ میں، نیا آرمی چیف کون؟شریف برادران میں حتمی نام پر اختلاف

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ:باسط علی) پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت میں نئے آرمی چیف کی تعیناتی پر غور جاری ہے۔ مگر یہ معاملہ جس قدر حساس ہے، اس سے کہیں زیادہ اِسے خود شریف برادران کے صلاح مشوروں کے عمل نے سنگین بنا دیا ہے۔ مسلم لیگ نون کے ایک اہم ذریعے نے اس نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قائد نون لیگ نوازشریف کے لیے یہ تعیناتی ہمیشہ ایک مسئلہ رہی ہے اور اُنہیں سیاست کے موجودہ گرداب تک پہنچانے میں یہی تعیناتی اور اس سے متعلق امور نہایت پریشان کن عوامل رہے ہیں۔ اس دفعہ فوجی سربراہی کی جادوئی چھڑی کسی کے ہاتھ لگے، شریف برادران کے لیے یہ مسئلہ رہے گا کہ اُنہوں نے ایک مرتبہ پھر آرمی چیف کے انتخاب کے حساس ترین معاملے کو کس انداز سے حل کیا؟ شریف برادران یہ امر فراموش کردیا کہ آرمی چیف کا منصب پاکستان میں کس درجہ حساسیت کا حامل ہے۔ ایک طرف پاکستا ن کے سب سے مقبول رہنما عمران خان لانگ مارچ کے لیے سڑکوں پر عوام کو لاچکے ہیں۔ اُنہوں نے حکومت کے خلاف گفتگو میں آرمی چیف کی تعیناتی کو بھی ایک موضوع بنایا ہے۔ درست یا غلط طریقے سے عمران خان نے مگر یہ ایک سوال بنا دیا ہے کہ اگر آرمی چیف کی تعیناتی وزیراعظم کا ہی حق ہے تو وزیراعظم یہ تعیناتی کرتے ہوئے لندن اپنے بھائی کے پاس کیا کررہے ہیں؟ قائد نون لیگ کے طور پر نوازشریف کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں کہ وہ اس اہم ترین تعیناتی پر کسی بھی طرح اثرانداز ہوں، مگر پاکستان میں سیاست خالص آئینی تقاضوں کے تحت کب ہوئی ہے۔ یہاں شخصیات ہی جماعتوں اور حکومتی مناصب پر حاوی ہوتی ہے۔ لہذادرست یا غلط نئے آرمی چیف کے انتخاب کا معاملہ نوازشریف کی صوابدید پر انحصار کرتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف خود فوجی قیادت بھی نئے آرمی چیف کے انتخاب میں ہمیشہ اپنی ترجیح کا ایک دباؤ رکھتی ہے۔پاکستان کے گزشتہ تین برسوں کے عمومی اور ایک برس کے خصوصی حالات میں رخصتی دروازے کی طرف گامزن آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجود ایک انتہائی اثر ڈالنے والی قیادت کے طور پر نئے آرمی چیف کے حوالے سے کیا سوچتے ہیں، یہ بھی سب سے بڑا سوال ہے؟ نواز لیگ کے اندرونی ذرائع کے مطابق ترجیحات کا یہی ٹکراؤ لندن میں وزیراعظم شہباز شریف اور نون لیگ کے قائد نواز شریف کے درمیان صلاح مشوروں کے عمل کو طویل کرنے کا باعث بنا ہے۔ انتہائی ذمہ دار ذرائع کے مطابق وزیر اعظم شہبازشریف کے پاس جو نام موجود ہے، وہ نوازشریف کی خواہش کا آئینہ دار نہیں۔ جس کے باعث شہباز شریف کو لندن میں اپنے قیام کو طویل کرنا پڑا۔ شہباز شریف کو اپنے پروگرام کے مطابق جمعہ کی شب پاکستان پہنچنا تھا۔ مگر وہ اب پیر کو کسی وقت پاکستان پہنچیں گے۔ اُن کے اگلے دو تین روز کے قیام کے پیچھے اگر چہ اُن کی طبیعت کی خرابی کو ایک جواز کے طور پر پیش کیا گیا، دوسری طرف ڈیلی میل کے ساتھ جاری مسئلے میں لندن کی عدالت کے ایک فیصلے نے بھی کچھ قیاس آرائیوں کو جنم دیا، مگر شہباز شریف دراصل نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے میں کسی متفقہ حل کی طرف نہ پہنچنے کے باعث شدید دباؤ میں دکھائی دیتے ہیں۔ دوسری طرف نون لیگ کے لیے اب یہ بھی ایک مسئلہ ہے کہ وہ اس اعلیٰ ترین منصب کی تعیناتی کے معاملے میں اپنے اتحادیوں میں سب سے اہم دوجماعتوں کے قائدین آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان کے ساتھ کیا ہم آہنگی پیدا کرپائیں گے؟ان دونوں رہنماؤں کا جھکاؤ بھی بوجوہ کافی پیچیدگیاں پیدا کرسکتا ہے۔واضح رہے کہ نواز لیگ کے حکومت میں شامل نہایت اہم وزراء بھی اس سوال کا کوئی جواب نہیں رکھتے کہ اگلا آرمی چیف کون ہوگا؟ وہ شریف برادران کی ملاقاتوں کی صورتِ حال سے خود بھی اتنے ہی بے خبر دکھائی دیتے ہیں جتنے عام لوگ۔ کیونکہ اُن اہم ترین رہنماؤں سے بھی اعلیٰ قیادت میں سے کسی نے کوئی بات چیت نہیں کی۔اس حکمت عملی پیچھے دراصل یہ خطرہ موجود ہے کہ کوئی ایسا نام جو عسکری حلقوں میں اس وقت کی غالب قوت کی مرضی کے برخلاف ہوا تو بساط اُلٹ بھی سکتی ہے۔ اور ردِ تدبیر زیادہ خطرناک نتائج پیدا کرسکتی ہے۔ لہذا شریف برادران اس معاملے میں کافی اندیشوں کے شکار ہیں۔ اگرچہ اس حوالے سے ایک سادہ فقرہ یہ زیر گردش رہا ہے کہ شریف براداران کے صلاح مشوروں میں فوج کے سب سے سینئر امیدوار کو سربراہ ہونا چاہئے، مگر یہ سادہ فقرہ حقیقی صورت حال کی عکاسی نہیں کر رہا۔ کیونکہ اس معاملے میں بھی یہ بات زیادہ اہم ہے کہ فوجی سربراہ کی تعیناتی کی سمری کب زیر غور لائی جائے گی۔ اسی ماہ میں مختلف تاریخوں کی اُلٹ پھیر سے سینئر امیدواروں کے نام تبدیل ہوجاتے ہیں۔ لہذا یہ سادہ بیان بھی کافی پیچیدگیاں پیدا کررہا ہے۔ لندن میں موجود نواز لیگ کے ایک اہم ترین رہنما نے جرأت سے بات چیت کرتے ہوئے رازداری کی شرط پر اپنا یہ احساس لفظوں میں بیان کیا کہ حالیہ صورتِ حال میں یہ خطرہ موجود ہے کہ ریٹائر ہونے والے آرمی چیف اور آنے والے آرمی چیف دونوں ہی موجودہ طریقہ کار کے باعث اپنے منہ کا ذائقہ خراب کر بیٹھیں۔ کیونکہ اس عمل میں احتیاط بھی مسائل پیدا کرنے کا موجب بن رہی ہے۔ نون لیگی رہنما کے مطابق نواز شریف کی جانب سے آرمی چیف کے سب سے سینئر رہنما کے طور پر تقرری کی رائے سے وزیراعظم شہباز شریف سمیت پاکستان میں موجود سینئر رہنماؤں کا اختلاف ہے۔ چنانچہ یہ خطرہ موجود ہے کہ آرمی چیف کی طرف سے نام پیش کیے جانے پر نئے ناموں کی طلبی یا کچھ اہم اقدامات کی جو توقعات نون لیگ کی اعلیٰ قیادت شہبازشریف سے رکھتے ہیں، وہ عسکری حلقوں کے دباؤ کے باعث ایسا کر پائیں گے یا نہیں؟نون لیگی رہنما کے مطابق یہی وہ پہلو ہے جو اگلے دنوں میں بھی ہمارے لیے پریشانی کاباعث بنا رہے گا۔ ایسا لگتا ہے کہ عمران خان سے زیادہ خود نون لیگی رہنماؤں کا حالیہ طرزِ عمل اس پورے عمل کو زیادہ سنگین بنارہا ہے۔


متعلقہ خبریں


مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر وجود - جمعه 06 نومبر 2026

گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر