وجود

... loading ...

وجود

پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں کوئی بھی وزیراعظم مدت پوری نہ کر سکا

اتوار 10 اپریل 2022 پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں کوئی بھی وزیراعظم مدت پوری نہ کر سکا

قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی جس کے بعد وہ ملک کے وزیراعظم نہیں رہے اور ساتھ ہی عدم اعتماد کے ذریعے ہٹائے جانے والے ملک کے پہلے وزیراعظم بن گئے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے 18 اگست 2018 کو وزارت عظمیٰ کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا اور 10 اپریل کو اْن کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگئی، جس کے بعد اْن کی وزارت عظمیٰ کا عہد اپنے اختتام کو پہنچا۔ ہفتہ 18 اگست 2018 کو شروع ہونے والا اْن کا 1332 دنوں پر مشتمل عہد وزارت عظمیٰ اتوار 10 اپریل 2022 کو تمام ہوا، عمران خان کی وزارت عظمیٰ کا دور 3 سال 7 ماہ اور 24 دن پر مشتمل رہا، جو مہینوں میں 43 ماہ اور 24 دن بنتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 1947 کو پاکستان آزاد ہوا جس کے بعد ان 75 برسوں میں پاکستان میں 29 وزیراعظم آئے لیکن بد قسمتی سے ایک بھی اپنی 5 سالہ مدت مکمل نہ کر سکا۔ 29 وزرائے اعظم میں سے 18کو کرپشن کے الزامات، براہ راست فوجی بغاوت اور حکمران گروپوں میں آپس کے اختلافات کی وجہ سے گھر بھیجا گیا، ایک وزیر اعظم کو قتل کیا گیا۔باقی وزرائے اعظم نئے انتخابات کی نگرانی یا برطرف وزیر اعظم کے دورِ حکومت کو چلانے کیلئے نگراں کے طور پر محدود وقت کے لیے اس عہدے پر فائز رہے، سال 1993 خاص طور پر کافی منفرد رہا کیوں کہ اس سال 5 بار ملکی وزیر اعظم کو تبدیل کیا گیا۔ پاکستان میں وزیر اعظم کا مختصر ترین دور دو ہفتے رہا اورکسی بھی وزیر اعظم کی سب سے طویل مدت چار سال اور دو ماہ ہے، نواز شریف سب سے زیادہ تین بار (1990، 1997 اور 2013) میں وزیراعظم منتخب ہوئے۔ آئیے نظر ڈالتے ہیں ان وزراء اعظم پر جن کی مدت قبل از وقت ختم ہو گئی تھی، اس میں نگران وزیر اعظم یا وہ لوگ شامل نہیں ہیں جنہوں نے دوسرے وزیر اعظم کی مدت پوری کی۔ لیاقت علی خان جو پاکستان کے پہلے وزیر اعظم تھے انہوں نے اگست 1947 میں اقتدار سنبھالا تاہم بد قسمتی سے 16 اکتوبر 1951 کو ایک سیاسی جلسے میں انہیں قتل کر دیا گیا۔

ان کا دور 4 سال اور 2 ماہ پر محیط رہا۔ خواجہ ناظم الدین نے 17 اکتوبر 1951 کو عہدہ سنبھالا لیکن انہیں مذہبی فسادات کو غلط سنبھالنے کے الزام میں17 اپریل 1953 کو ملک کے گورنر جنرل نے برطرف کر دیا تھا، وہ ایک سال 6 ماہ تک وزیراعظم رہے۔ محمد علی بوگرہ نے 17 اپریل 1953 کو عہدہ سنبھالا اور 11 اگست 1955 کو 2 سال 3 ماہ بعد استعفیٰ دے دیا۔ چوہدری محمد علی نے اگست 1955 میں اقتدار سنبھالا لیکن حکمران جماعت میں اندرونی اختلافات 12 ستمبر 1956 کو ان کی برطرفی کا باعث بنے، ان کا عہد حکومت ایک سال اور ایک ماہ رہا۔ حسین شہید سہروردی نے 12 ستمبر 1956 کو عہدہ سنبھالا لیکن 18 اکتوبر 1957 کو دیگر طاقتور اداروں کے ساتھ اختلافات کے بعد ان سے زبردستی استعفیٰ لیا گیا،ان کی مدت ایک سال اور ایک ماہ رہی۔ ابراہیم اسماعیل چندریگر نے اکتوبر 1957 میں وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا لیکن انہوں نے 16 دسمبر 1957 کو پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کے ووٹ کا سامنا کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا، وہ دو ماہ سے بھی کم عرصے کے لیے وزیراعظم رہے۔ ملک فیروز خان نون نے 16 دسمبر 1957 کو وزیر اعظم کی کرسی سنبھالی لیکن 7 اکتوبر 1958کو پاکستان میں مارشل لاء کے نفاذ کی وجہ سے انہیں 10 ماہ سے بھی کم عرصے میں برطرف کر دیا گیا۔ نورالامین 7 دسمبر 1971 کو پاکستان کے وزیر اعظم بنے لیکن انہوں نے بنگلا دیش کی علیحدگی کے فوراً بعد 20 دسمبر 1971 کو استعفیٰ دے دیا، وہ دو ہفتوں سے بھی کم عرصے کے لیے وزیراعظم پاکستان رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 14 اگست 1973 کو اقتدار سنبھالا لیکن 5 جولائی 1977 کو ایک فوجی بغاوت کے ذریعے ان کا تختہ الٹ کر انہیں جیل بھیج دیا گیا اور ایک مقدمے میں سزا سنا کر پھانسی دے دی گئی، ان کا دور حکومت تین سال اور 11 ماہ پر محیط رہا۔ محمد خان جونیجو مارچ 1985 کو پاکستان کے وزیر اعظم بنے لیکن انہیں 29 مئی 1988 کو فوجی سربراہ نے برطرف کر دیا، وہ 3 سال اور 2 ماہ برسر اقتدار رہے۔ بے نظیر بھٹو سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی اور مسلم ممالک کی پہلی خاتون وزیر اعظم نے 2 دسمبر 1988 کو اقتدار سنبھالا لیکن ان کی حکومت کو 6 اگست 1990 کو صدر نے کرپشن کے الزام میں برطرف کر دیا، بے نظیر ایک سال اور 8 ماہ وزیراعظم رہیں۔

میاں محمد نواز شریف 6 نومبر 1990 کو ملک کے وزیر اعظم بنے، ان کی حکومت کو بھی صدر نے 18 اپریل 1993 کو بھی کرپشن کے الزامات کے تحت برطرف کر دیا تھا لیکن وہ چند ہفتوں بعد عدالت کے ذریعے اس فیصلے کو کالعدم کروانے میں کامیاب ہو گئے اور دوبارہ وزیر اعظم بنے لیکن فوج سے اختلافات کے بعد انہوں نے دوبارہ استعفیٰ دے دیا۔ ان کی مدت دو سال اور سات ماہ رہی۔ بے نظیر بھٹو 19 اکتوبر 1993 کو دوسری بار ملک کی وزیر اعظم منتخب ہوئیں لیکن انہیں 5 نومبر 1996 کو صدر کی طرف سے ایک بار پھر برطرف کر دیا گیا۔ اس بار ان کی مدت تین سال سے زائد رہی۔ میاں محمد نواز شریف بھی17 فروری 1997 کو دوسری بار اقتدار میں آئے لیکن دو سال اور 8 ماہ بعد 12 اکتوبر 1999 کو ایک فوجی بغاوت کے ذریعے ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ میر ظفر اللہ خان جمالی نومبر 2002 میں فوجی حکومت کے دوران وزیر اعظم منتخب ہوئے لیکن 26 جون 2004 کو فوج سے اختلافات کے بعد استعفیٰ دے دیا، وہ ایک سال اور 7 ماہ ملک کے وزیراعظم رہے۔ یوسف رضا گیلانی 25 مارچ 2008 کو وزیر اعظم منتخب ہوئے، انہیں 4 سال اور ایک ماہ بعد سپریم کورٹ آف پاکستان نے 2012 میں توہین عدالت کے الزام میں نااہل قرار دیا تھا۔ نواز شریف 5 جون 2013 کو تیسری بار وزیر اعظم منتخب ہوئے لیکن انہیں 28 جولائی 2017 کو سپریم کورٹ نے اثاثے چھپانے کے الزام میں برطرف کر دیا، اس بار نواز شریف کا دور حکومت 4 سال اور 2 ماہ رہا۔ عمران خان 18 اگست 2018 کو وزیر اعظم منتخب ہوئے لیکن 10 اپریل 2022 کو اپوزیشن کی طرف سے عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے اقتدار سے باہر ہو گئے، ان کا دور حکومت 3 سال اور 7 ماہ پر مشتمل رہا۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر