وجود

... loading ...

وجود

سیاحوں کا رش، مری میں شدید برف باری سے گاڑیوں میں19افراد ہلاک

هفته 08 جنوری 2022 سیاحوں کا رش، مری میں شدید برف باری سے گاڑیوں میں19افراد ہلاک

مری میں شدید برف باری اور سیاحوں کے رش کی وجہ سے گاڑیوں میں19افراد کی موت ہوگئی ، برفانی طوفان نے مزید مشکلات پیدا کر دیں، ہزاروں سیاحوں نے رات سڑک پر گزاری ،سیاحوں کو نکالنے کیلئے سول آرمڈ فورسز طلب کرلی گئی،انتہائی خرا ب صورتحال کے باعث سیاحتی مقام کو آفت زدہ قرار دیکر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ،وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے مری کی صورتحال انتہائی خراب ہونے کے بعد سرکاری ریسٹ ہاؤسز اور سرکاری دفاتر کو سیاحوں کیلئے کھولنے کا حکم دیا ہے، مری کی جانب پیدل جانے والے راستے سمیت تمام راستے بھی بند کر دیئے گئے ،اسلام آباد سے مری گاڑیوں کا داخلہ اتوار کی رات 9 بجے تک بند رہے گا،صرف کمبل، ادویات اور کھانے پینے کا سامان لے جانے والوں کو جانے کی اجازت دی گئی ، مری اور گلیات میں سڑکوں پر جمی برف کو ہٹانے کیلئے نمک پاشی کی گئی جبکہ آزاد کشمیر ، گلگت بلتستان اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بارش اور پہاڑوں پر برف باری کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا ، کئی روز جاری سے برف باری کے باعث کئی علاقوںکا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا جس کے باعث اشیاء ضروریہ کی قلت پیدا ہوگئی ،بلوچستان سمیت کئی علاقوں میں کچے مکانات منہدم ہوگئے اور پانی گھروں میں داخل ہوگیا جس کے باعث مزید مشکلات کا سامنا رہا ،پاک فوج سمیت امدادی اداروں کی جانب سے امدادی کارروائیاں جاری رہیں ، کوئٹہ، زیارت شاہراہ آمدورفت کیلئے جزوی طور پر بحال کردی گئی۔ ہفتہ کو وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ رات سے ایک ہزار گاڑیاں مری میں پھنس گئیں انہوں نے بتایا کہ مری میں گاڑیوں میں 16 سے 19 افراد کی گاڑیوں میں اموات ہوئی ہیں۔شیخ رشید نے بتایا کہ مری میں ایف سی اور رینجرز کو بھی امدادی کارروائیوں کے لیے طلب کر لیا گیا ہے، اس کے علاوہ پاک فوج کے دستے بھی طلب کر لیے گئے ۔ انہوںنے کہاکہحکومت پنجاب، اسلام آباد کی انتظامیہ اور میں خود معاملے کو مانیٹر کر رہا ہوں اور حکومت کو اس معاملے پر آگاہ بھی کر رہا ہوں۔مری جانے والے تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں، صرف کمبل، ادویات اور کھانے پینے کا سامان لے جانے والوں کو جانے کی اجازت ہو گی، پیدل جانے والوں کے لیے بھی راستے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ مری اور گلیات کی طرف جانے والے سیاحوں کو 17 میل انٹرچینج سے آگے جانے کی اجازت نہیں ، انتہائی ایمرجنسی کی صورت میں ہی شہریوں کو مری اور گلیات کی طرف سفر کرنے کی اجازت دی جائے گی۔دوسری جانب ذرائع نے بتایا کہ 10 سے 12 گاڑیاں کلڈنہ کے مقام پر پھنسی اور ابتدائی معلومات کے مطابق ایک ہی خاندان کے 10 افراد کی اموات کی اطلاعات موصول ہوئیں۔مری میں رواں سال ہونے والی برفباری کو 10 سالوں کی شدید برفباری قرار دیا گیا اور اس دوران ہونے والی اموات کو مری کی تاریخ کا سب سے المناک واقعہ بتایا گیا۔مری اور گلیات میں سڑکوں پر جمی برف کو ہٹانے کے لیے نمک پاشی کی جا رہی ہے تاکہ برف پگھلے تو سڑکیں کھولی جا سکیں۔ ذرائع کے مطابق ریسکیو 1122 کی جانب سے شدید سرد موسم میں سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہونے والے افراد کو نکالنے کی کوششیں کی جاتی رہیں تاہم راستے بند ہونے کی وجہ سے ریسکیو ٹیموں کو دشواری کا سامنا رہا۔ذرائع کے مطابق گزشتہ روز سے ہی راولپنڈی اور اسلام آباد کی انتظامیہ، پولیس اور دیگر ادارے ٹریفک بحال کرنے کی کوشش میں لگے رہے تاہم عوام کی اتنی بڑی تعداد ہے کہ پچھلے 12 گھنٹوں میں راستہ کھولنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔مری کے مقامی افراد سے اپیل گئی کہ سخت سردی میں گاڑیوں میں پھنسے لوگوں کو کمبل اور دیگر ضروری اشیا فراہم کریں۔محکمہ موسمیات کے مطابق مری میں 24 گھنٹوں کے دوران 17 انچ برفباری ریکارڈ کی گئی۔محکمہ موسمیات کے مطابق مری میں 3 جنوری سے اب تک 32 انچ برفباری ریکارڈ کی گئی جبکہ 94 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔مری میں اس وقت درجہ حرارت صفر ڈگری سینٹی گریڈ ، مری میں برفباری اور بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ہفتہ کو مری میں ہلکی برفباری جاری رہی جو اتوار صبح تک جاری رہنے کا امکان ہے ، مری میں دوپہر تک برفباری کا سلسلہ تھم جانے کا امکان ہے۔مری، گلیات اور آزاد کشمیر میں برفانی طوفان کے باعث محکمہ موسمیات نے 50 سے 90 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کا امکان ظاہر کر دیا۔ایمبولینس، سیکیورٹی گاڑیوں اور فائر فائٹرز کو الرٹ رہنے کا کہا گیاہے،ان علاقوں میں انتظامیہ نے وارننگ دی ہے کہ کسی بھی صورتِ حال سے بچنے کے لیے شہری گھروں سے باہر نہ نکلیں،خیال رہے کہ مری میں برفباری شروع ہوتے ہی ہزاروں سیاح سیاحتی مقام کی سیر کو پہنچ گئے تھے تاہم شدید برفباری کے باعث سڑکوں پر بدترین ٹریفک جام ہو گیا اور خواتین اور بچوں سمیت سیاحوں کی بڑی تعداد نے رات خون جما دینے والی سردی میں کھلے آسمان تلے گاڑیوں میں ہی گزاری۔ ایک اندازے کے مطابق اب تک سوا لاکھ سے زائد گاڑیاں شہر میں داخل ہوئیں جس کے باعث شدید رش اور سڑکوں پر بد ترین ٹریفک جام رہا ۔ادھر سیاحوں کا کہنا ہے کہ بچوں، خواتین اور بڑی عمر کے افراد کے ساتھ رش میں پھنسے ہوئے ہیں، بچوں کا دودھ اور دوائی بھی ختم ہو گئی، حکومت سے اپیل ہے کہ ہماری مدد کی جائے اور ہمیں یہاں سے نکالا جائے۔ادھر ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے بتایا کہ مسلسل برفباری کے باعث ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مری جانے والے راستے کو بہارہ کہو ٹول پلازہ سے بند کر دیا گیا ۔ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ ٹریفک میں پھنسے افراد کو نکالنے کیلئے انتظامیہ اور پولیس متحرک رہی اور عوام سے بھی اپیل کی گئی کہ موجودہ صورتحال میں مری کا رخ نہ کریںاس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق اسلام آباد سے مری گاڑیوں کا داخلہ اتوار کی رات 9 بجے تک بند رہے گا، مری میں برفباری اور ٹریفک جام کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے، ایمبولینس، سکیورٹی کی گاڑیاں، فائر فائٹنگ گاڑیاں پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔دوسری جانب مری میں سیاحوں کے رش اور ٹریفک جام کے معاملے پر وزیراعلیٰ پنجاب نے نوٹس لے لیا اور متعلقہ حکام کو مری آنے اور جانے والے راستوں کی بحالی کا حکم دیدیا۔وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارکی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر، سی پی او اور سی ٹی او راولپنڈی مری روانہ ہوگئے اور صورتحال کو مانیٹر کرتے رہے ڈپٹی کمشنر راولپنڈی اور اسسٹنٹ کمشنر مری کے دفتر میں کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے۔دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے مری کی صورتحال انتہائی خراب ہونے کے بعد سرکاری ریسٹ ہاؤسز اور سرکاری دفاتر کو سیاحوں کے لیے کھولنے کا حکم دیا ہے۔وزیراعلیٰ نے انتظامیہ کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ پیدا شدہ صورتحال میں سیاحوں کو ہر ممکنہ طریقے سے ریلیف دیا جائے۔عثمان بزدار نے مری میں پھنسے لوگوں کو بحفاظت نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن تیز کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں، سیاحوں کو ضروری امدادی اشیاء بھی فراہم کی جائیں اور سیاحوں کو ہر ممکنہ طریقے سے ریلیف دیا جائے۔وزیراعلیٰ نے راولپنڈی اور دیگر شہروں سے اضافی مشینری اور عملہ مری بھجوانے کی ہدایت کی ہے۔دوسری جانب مری،گلیات اور آزاد کشمیر میں برفانی طوفان نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا۔مری، گلیات اور آزاد کشمیر میں برفانی طوفان کے بعد محکمہ موسمیات نے 50 سے 90 کلو میٹرفی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔انتظامیہ نے کسی بھی صورتحال سے بچنے کے لیے شہریوں کو بلا ضرورت گھروں سے نہ نکلنے کی ہدایت کی ہے۔انتظامیہ کے مطابق مری سے باہر موجود شہریوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مری کا رْخ نہ کریں،اس کے علاوہ برفانی طوفان سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کے پاس کھانے پینے کی اشیا نہ ہونے کے برابر ہیں اور دواؤں کی قلت کا بھی سامنا رہا۔دریں اثناء خیبر پختون خوا کے شہر دیر بالا میں شدید برفباری سے چھت گرنے سے 5 افراد جاں بحق ہوگئے۔دیربالا کے علاقے ڈوگدرا میں شدید برفباری کے باعث گھرکی چھت گرگئی جس کے نتیجے میں ایک خاتون اور چار بچے جاں بحق ہوگئے جن کی لاشوں کو ملبے سے نکال لیا گیا ہے ادھر گلگت میں بارش اور برفباری سے لینڈ سلائیڈنگ کے باعث اسکردو جانے والی سڑک اور شاہراہ قراقرم متعدد مقامات پر بلاک ہوگئی،شدید برف باری کے باعث ہزارہ موٹر وے کوزہ بانڈہ سے بٹل تک بند کر دی گئی ،مری، گلیات اور گرد و نواح میں شدید برف باری اور بڑی تعداد میں سیاحوں کی آمد نے نظام درہم برہم کر دیا،منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہونے لگا، برف باری کے خوبصورت مناظر دیکھنے مری پہنچنے والے بچوں، خواتین اور بزرگوں سمیت ہزاروں سیاح پھنس کر رہ گئے۔دوسری جانب کوئٹہ، زیارت شاہراہ آمدورفت کے لیے جزوی طور پر بحال کردی گئی اور کان مہتر زئی ہائی وے سے برف ہٹانے کا آپریشن مکمل کرلیاگیاادھر گوجرانوالہ اور گجرات میں بارش کے باعث مکانوں کی چھتیں گرنے سے دوبچیوں اور سکیورٹی گارڈ سمیت 3افرادہلاک ہوگئے ہیں۔گوجرانوالہ کے علاقے حافظ آباد روڈ پربارش کے باعث مکان کی چھت گرنے سے دو بچیاں ہلاک اور ایک بچہ اور ان کا والد زخمی ہوگیا۔ ذرائع کے مطابق دونوں زخمیوں کو مقامی ہسپتال منتقل کردیا گیا ۔گجرات کے علاقے اصغرٹاؤن لالہ موسیٰ میں بھی بارش کے باعث مکان کی چھت گرگئی، ملبے تلے دب کر سکیورٹی گارڈ چل بسا۔محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی ہواؤں کا سلسلہ کراچی سے نکل گیا، شہر میں موسم خوشگوار اور 16 جنوری تک سردی رہنے کا امکان ہے۔ دوسری جانب لاہور میں گزشتہ رات سے بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا جس کے باعث کئی گلیوں میں پانی جمع ہوگیا جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کر نا پڑا۔ بارش کے بعد سے فضائی آلودگی میں بھی کمی آگئی جس کے بعد دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں لاہور کا چھٹا نمبر ہوگیا۔


متعلقہ خبریں


ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں وجود - جمعه 24 اپریل 2026

ایشیائی ترقیاتی بینک کی مشاورت کے ساتھ ہی ہم نے یہ قدم اٹھایا،شرجیل میمن حکومت اس کوریڈور کو جلد از جلد مکمل کرنا چاہتی ہے،سینئروزیرکی خصوصی گفتگو سندھ کے سینئروزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ 48 گھنٹے میں ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔خصوصی گفتگو کرتے ...

ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں

ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی گینگ کوجلد گرفتار کرلیا جائیگا، آئی جی سندھ وجود - جمعه 24 اپریل 2026

ملائشیا سے بھتا گینگ آپریٹ کرنیوالے 3سرغنوں کیخلاف ریڈ وارنٹ جاری ہوچکے ہیں کراچی میں اسٹریٹ کرائم پر مجموعی طور پر قابو پا لیا گیا ہے،صنعت کاروں سے خطاب آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی سمیت ملائشیا سے بھتہ گینگ آپریٹ کرنے والے 3سرغنوں...

ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی گینگ کوجلد گرفتار کرلیا جائیگا، آئی جی سندھ

فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران امن مذاکرات بچانے کیلئے سرگرم وجود - جمعه 24 اپریل 2026

چیف آف ڈیفنس فورسزمذاکرات کو ٹوٹنے سے بچانے اور رابطہ کاری کی کوشش کر رہے ہیں، فنانشل ٹائمز دونوں ممالک میں اعتماد کی کمی، پابندیوں ،فوجی کشیدگی کے باعث امن مذاکرات مشکل صورتحال کا شکار ہیں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران مذاکرات کو مکمل طور پر ٹوٹنے سے...

فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران امن مذاکرات بچانے کیلئے سرگرم

کراچی میں ترقیاتی منصوبے نا اہلی و کرپشن کا شاہکار،حافظ نعیم وجود - جمعه 24 اپریل 2026

بلاول کی سیاست محض دعوؤں تک محدود ہے، ریڈ لائن منصوبہ عالمی سطح پر مذاق بن چکا ہے پاکستانی سفارتی کوششیں قابل ستائش،آبنائے ہرمز کا گھیراؤ ختم کیے بغیر معاہدہ ممکن نہیں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ایران و امریکہ مذاکرات کے حوالے سے ایران کے مؤقف...

کراچی میں ترقیاتی منصوبے نا اہلی و کرپشن کا شاہکار،حافظ نعیم

صیہونی فوج کا جنوبی لبنان پر حملہ، صحافی سمیت5افراد شہید وجود - جمعه 24 اپریل 2026

اسرائیلی فوج کیجنوبی لبنان کے قصبے ال خیام سمیت مختلف علاقوں میں منظم بمباری توپ خانے کا استعمال، رہائشی عمارتیںبلڈوزر کے ذریعے مسمار ، مساجد کو بھی نشانہ بنایا صیہونی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، جنوبی لبنان پر حملہ کرکے صحافی سمیت 5 افراد کو موت کی وادی ...

صیہونی فوج کا جنوبی لبنان پر حملہ، صحافی سمیت5افراد شہید

ایران سے مذاکرات کا دوسرا دور جمعہ کو ہوسکتا ہے، امریکی صدر وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہے،جنگ بندی کو اس وقت تک بڑھایا جا رہا ہے جب تک ایران اپنی تجاویز پیش نہیں کر دیتا،فوج کو ہدایت اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات اگلے تین روز میں کسی بھی وقت شروع ہوسکتے ہیں،امریکی صدر نے ٹیکسٹ پیغام میں جواب...

ایران سے مذاکرات کا دوسرا دور جمعہ کو ہوسکتا ہے، امریکی صدر

سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

غیر تسلی بخش کارکردگی اور عالمی معیار کی خلاف ورزی پر کنٹریکٹرز کا معاہدہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا کارروائی شہریوں کو درپیش شدید مشکلات اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تحفظات کے بعد عمل میں لائی گئی سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا اور کہا حکومت ا...

سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا

پی ٹی اے ، غیر رجسٹرڈ ادویات کی آن لائن تشہیر کیخلاف ایکشن وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

فروخت میں ملوث ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پیجز کیخلاف کریک ڈاؤن جنسی صحت، وزن میں کمی، ذہنی امراض ادویات کی آن لائن فروخت غیر قانونی قرار پی ٹی اے نے آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے ادویات کی آن لائن تشہیر اور غیر قانونی فروخت کرنے والوں کے خلاف ایکشن لے لیا۔غیر رجسٹرڈ ادویات ک...

پی ٹی اے ، غیر رجسٹرڈ ادویات کی آن لائن تشہیر کیخلاف ایکشن

لبنان میں چلتی کار پر اسرائیل کا ڈرون حملہ، 2 افراد شہید وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار، حکومت کی سخت الفاظ میں مذمت شہری دریائے لیطانی، وادی السلوقی اور السلھانی کے علاقوں سے دور رہیں لبنان کے جنوبی علاقے میں ایک چلتی ہوئی کار پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق ہوگئے جسے حکومت نے جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے...

لبنان میں چلتی کار پر اسرائیل کا ڈرون حملہ، 2 افراد شہید

معاہدہ نہ کیا تو ایران پر حملہ کر دیں گے،ٹرمپ کی نئی دھمکی وجود - بدھ 22 اپریل 2026

امریکی افواج بے تاب ، گن لوڈڈ ہیں،حکم ملتے ہی ایران پر حملہ کردیں گی، مجھے یقین ہے ایران کے پاس معاہدہ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا ،ہمارے پاس بہت زیادہ اسلحہ اور وسائل موجود ہیں پوری امید ہے ایران کے ساتھ جنگ ایک عظیم ڈیل پر ختم ہوگی،2 ہفتوں کی جنگ بندی کو اپنی تیاری بڑھانے ...

معاہدہ نہ کیا تو ایران پر حملہ کر دیں گے،ٹرمپ کی نئی دھمکی

عمران خان کو رہا کرکے سیاسی کردار ادا کرنے کا موقع دیں، مولانا فضل الرحمان وجود - بدھ 22 اپریل 2026

ثالثی کی کوششوںسے حکمرانوں کو ملنے والا عروج عارضی ہے، موجودہ حالات عالمی جنگ کا باعث بن سکتے ہیں، اگر یہ صورتحال جاری رہی تو دوسری بڑی طاقتیں جنگ کا حصہ بن جائیں گی خلیجی ممالک کو سمجھنا ہوگا امریکی اڈے اُن کے لیے نقصان کا باعث ہیں، مدارس کی رجسٹریشن ہو رہی ہے ا ور نہ ہی اکاؤن...

عمران خان کو رہا کرکے سیاسی کردار ادا کرنے کا موقع دیں، مولانا فضل الرحمان

مہاجر ایک قوم، ملکی وسائل پر مہاجروں کا حق تسلیم کیا جائے،آفاق احمد وجود - بدھ 22 اپریل 2026

مہاجر ایک قوم، ملکی وسائل پر مہاجروں کا حق تسلیم کیا جائے،آفاق احمد ساڑھے چار لاکھ بچوں کے مستقبل سے کھیلا جارہا، اسکول اور اساتذہ بکے ہوئے ہیں،چیئرمین مہاجرقومی موومنٹ مہاجر قوم، قوم پرست بنے، ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوجائے، خدارا خود کو مہاجر تحریک سے جوڑیں،عید ملن پارٹی سے خطا...

مہاجر ایک قوم، ملکی وسائل پر مہاجروں کا حق تسلیم کیا جائے،آفاق احمد

مضامین
پاکستان میں امریکی مہرے اور ان کی چالبازیاں وجود جمعه 24 اپریل 2026
پاکستان میں امریکی مہرے اور ان کی چالبازیاں

ایران جنگ میں بھارتی تنہائی وجود جمعه 24 اپریل 2026
ایران جنگ میں بھارتی تنہائی

کراچی کی قاتل اور زہریلی فضا وجود جمعه 24 اپریل 2026
کراچی کی قاتل اور زہریلی فضا

انسان خوش فہمیوں کا قید ی! وجود جمعرات 23 اپریل 2026
انسان خوش فہمیوں کا قید ی!

یورپی یونین ۔۔برطانیہ کی مجبوری وجود جمعرات 23 اپریل 2026
یورپی یونین ۔۔برطانیہ کی مجبوری

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر