وجود

... loading ...

وجود

از خود نوٹس کاطریقہ کار طے، چیف جسٹس یا اُن کی منظوری سے لیا جاسکتا ہے

جمعرات 26 اگست 2021 از خود نوٹس کاطریقہ کار طے، چیف جسٹس یا اُن کی منظوری سے لیا جاسکتا ہے

سپریم کورٹ نے از خود نوٹس کا اختیار استعمال کرنے کامعاملہ ہمیشہ کیلئے طے کرتے ہوئے قراردیا ہے کہ کسی بھی معاملے کا از خود نوٹس صرف چیف جسٹس پاکستان لے سکتے ہیں یا ازخودنوٹس چیف جسٹس کی منظوری سے ہی لیا جاسکتا ہے۔قائم مقام چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے ازخودنوٹس لینے کے طریقہ کار کے کیس کی سماعت کے بعد سنائے گئے اپنے مختصرفیصلے میں از خود نوٹس کاطریقہ کار طے کردیا ہے ۔عدالت عظمی کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے ازخودنوٹس کیس نمبر4/2021کاتحریری حکمنامہ جاری کیا ہے جو دو صفحات اور چار پیراگرافس پرمشتمل ہے ، قائم مقام چیف جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجازالاحسن ،جسٹس منیب اختر ،جسٹس محمد امین احمداورجسٹس محمدعلی مظہرپر مشتمل پانچ رکنی  لارجر بینچ نے تین سماعتوں کے بعد تحریری حکم جاری کیاہے ۔دوران سماعت اٹارنی جنرل پاکستان خالدجاوید خان، ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمن، سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کے  صدرعبدالطیف آفریدی، وائس چیئرمین پاکستان بارکونسل خوشدل خان، جہانگیرجدون ایڈووکیٹ،صحافی امجدبھٹی اور قیوم صدیقی عدالت میں پیش ہوئے ۔ عدالت نے قراردیاہے کہ اس کیس کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی۔عدالت نے قراردیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل184(3)کے تحت اس عدالت کے از خودنوٹس کے اختیار کااستعمال مندرجہ ذیل اصولوں کے تحت کیا جائے گا۔ عدالت نے کہاہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان وہ واحد اتھارٹی ہیں جوازخودنوٹس لے سکتے ہیں اور ان کے ذریعے ہی نوٹس لیاجاسکے گااور لیا جاتا ہے ۔ چیف جسٹس اپنی صوابدید پر اس دائرہ اختیار کو استعمال کریں گے اور چیف جسٹس ایسا اس عدالت کے بینچ کی درخواست یا سفارش پر ایساکرسکیں گے۔عدالت نے قراردیا ہے کہ کوئی بھی بینچ کسی جاری کیس میں  یا ویسے بھی ایسا کوئی اقدام یا حکم جاری نہیں کرے گا ۔اور نہ ہی ایسا کوئی دائرہ کار بنایا جاسکتا ہے ،ایسا کرنا صرف نوٹس جاری کرنے تک محدود نہیں بلکہ انکوائری کا حکم بھی نہیں دیا جاسکتا اور نہ ہی کسی شخص یا اتھارٹی کو طلب کیا جاسکتا ہے۔نہ کسی سے رپورٹ طلب کی جاسکتی ہے تاوقتیکہ چیف جسٹس اس اختیار کااستعمال نہ کریں۔ عدالت نے قراردیاہے کہ ازخود نوٹس سے متعلق جو معاملات پہلے سے زیر سماعت ہیں ۔ان کواس حکم کاپیراگراف نمبر ایک متاثر نہیں کرے گا انکی وہی بینچ سماعت کریں گے  جن کے سامنے چیف جسٹس نے سماعت کیلئے مقررکیا ہے ۔عدالت نے قراردیا ہے کہ 20اگست کو از خود نوٹس کیس 4/2021میں جاری کیا گیاحکم واپس لیا جاتا ہے اور اس دن جو بھی فائلنگ کی گئی اس کونمٹایا گیا تصورکیا جائے گا۔ عدالت نے قراردیا ہے کہ پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ  کی جانب سے جو کلیم (دعوے) کیے گئے اور جو درخواستیں20اگست کو سپریم کورٹ  میں جمع کرائی گئیں وہ جائزے کیلئے چیف جسٹس پاکستان کے سامنے رکھی جائیں گی ۔ قبل ازیں دوران سماعت پریس ایسوسی ایشن سپریم کورٹ کے صدر امجد بھٹی نے عدالت کے روبرو کہا کہ پانچ رکنی بینچ نے قانونی سوالات اٹھائے ہیں، قانونی نکتے پر صحافی معاونت نہیں کرسکتے۔دوران سماعت صحافی عامر میر کے وکیل جہانگیر جدون نے بنچ پر اعتراض کر دیا، جس پر جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیئے کہ بنچ پر اعتراض جرم نہیں لیکن اس نکتے پر دلائل تو دیں، صحافیوں کی درخواست میں فریقین کے نام بھی شامل نہیں، ایک صحافی نے دستخط 14 دوسرے نے 20 تاریخ کو کیے، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ کا آفس کھلا تھا تو آپ نے درخواست وہاں کیوں نہیں دی؟ جس پر جہانگیر جدون نے کہا کہ تسلیم کرتا ہوں کہ صحافیوں نے درخواست رولز کے مطابق دائر نہیں کی، جن اداروں کو نوٹس ہوا تو وہ درخواست پر اعتراض کر سکتے تھے۔وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل نے کہا کہ خوشدل خان نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ کسی سائل کو مرضی کے بنچ میں مقدمہ لگانے کی اجازت نہیں، عوام کو عدلیہ سے انصاف کی توقع ہے، تکنیکی نکات کی وجہ سے انصاف میں رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے، 9 رکنی بنچ قرار دے چکا کہ عدالت طریقہ کار کی پابند نہیں۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر لطیف خان آفریدی ایڈوکیٹ نے عدالت کے روبرو کہا کہ پاکستان بننے کے بعد فوجی حکمرانوں نے زیادہ عرصہ حکومت کی،ڈکٹیٹرز کے دور میں ہر ادارے کو تباہ کیا گیا، معلوم نہیں سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ کا حکم کس اختیار کے تحت معطل کیا گیا،بہتر ہے کہ معاملہ چیف جسٹس کو بھجوایا جائے اور اسے فل کورٹ میں رکھا جائے، ممکن ہے چیف جسٹس 2 رکنی بینچ کے ججز کو بھی بینچ میں شامل کرلیں۔دوران سماعت قائم مقام چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کو قانون اور ضابطے کے تحت کارروائی کرنی ہوتی ہے، صحافی معاشرے کی آواز ہیں، صحافیوں کے ساتھ ہونے والی ذیادتی پر کوئی دو رائے نہیں، صحافیوں کی درخواست برقرار ہے اس پر کارروائی بھی ہوگی، سپریم کورٹ کا ہر بنچ ازخود نوٹس لے سکتا ہے ، از خود نوٹس کی سماعت پر بنچ بنانا اور تاریخ مقرر کرنا چیف جسٹس کا کام ہے۔ سپریم کورٹ رولز آئین کے تحت بنے ہوئے ہیں، 20 اگست کا حکم سپریم کورٹ کا حکم ہے، موجودہ بنچ سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کے حکم میں مداخلت نہیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ آئین کا تحفظ اور بنیادی حقوق کا نفاذ عدلیہ کی ذمہ داری ہے، صحافیوں کیخلاف کچھ ہوا تو سپریم کورٹ دیوار بن کر کھڑی ہوگی، صحافی عدالت سے کبھی مایوس ہوکر نہیں جائیں گے۔ سپریم کورٹ آئین کے بنیادی حقوق کی محافظ ہے، سپریم کورٹ کے تمام ججز محترم ہیں۔یاد رہے کہ جسٹس قاضی فائزعیسی نے عدالت میں صحافیوں کی درخواست وصول کرکے اس پر وفاقی وصوبائی حکام کو نوٹس جاری کردیے تھے ۔ جس کے بعدیہ لارجر بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔


متعلقہ خبریں


ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای شہید،تباہ کن کارروائی جلد شروع ہوگی،صدر کا بدلہ لینے کا اعلان وجود - پیر 02 مارچ 2026

سپریم لیڈرکی بیٹی، نواسی، داماد اور بہو شہید ، علی شمخانی اور کمانڈر پاکپور کی شہادت کی تصدیق ، سات روز کیلئے چھٹی ، چالیس روزہ سوگ کا اعلان،مقدس روضوں پر انقلاب کی علامت سرخ لائٹیں روشن کردی گئیں مشہد میں حرم امام رضا کے گنبد پر سیاہ پرچم لہرایا دیا گیا، ویڈیو جاری ،کئی افراد غ...

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای شہید،تباہ کن کارروائی جلد شروع ہوگی،صدر کا بدلہ لینے کا اعلان

خامنہ ای کی شہادت ،کراچی میں مظاہرین کی امریکی قونصلیٹ میں داخلے کی کوشش،جھڑپوں میں 10 افراد جاں بحق، 40 زخمی وجود - پیر 02 مارچ 2026

مائی کلاچی روڈ پر واقع امریکی قونصل خانے پر احتجاجی مظاہرہ ،مرکزی دروازے کی توڑ پھوڑ،نمائش چورنگی، عباس ٹائون اور ٹاور پر مظاہرین بڑی تعداد میں جمع ،سڑکوں پر نعرے بازی پولیس نے امریکی قونصل خانے کے باہر موجود احتجاجی مظاہرین کو منتشر کر دیا گیا اب حالات قابو میں ہیں، کسی کو بھی ...

خامنہ ای کی شہادت ،کراچی میں مظاہرین کی امریکی قونصلیٹ میں داخلے کی کوشش،جھڑپوں میں 10 افراد جاں بحق، 40 زخمی

ریاستوں کے سربراہوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا، وزیراعظم وجود - پیر 02 مارچ 2026

پاکستان عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر اظہارِ تشویش کرتا ہے،شہباز شریف کی مذمت غم کی اس گھڑی میں ایرانی بہن بھائیوں کیساتھ ہیں،خامنہ ای کی شہادت پر غم کا اظہار وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت پاکستان اور عوام کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر اظہار افسو...

ریاستوں کے سربراہوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا، وزیراعظم

ایران کا بڑا وار،امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ وجود - پیر 02 مارچ 2026

خشکی اور سمندر تیزی سے دہشت گرد جارحین کا قبرستان بن جائیں گے، امریکا کا خلیج عمان میں ایرانی جہاز ڈبونے کا دعویٰ ابراہم لنکن کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا،دشمن فوج پرایران کے طاقتور حملے نئے مرحلے میں داخل ہوگئے، پاسداران انقلاب ایران نے بڑا وار کرتے ہوئے امریکی بحری بیڑے می...

ایران کا بڑا وار،امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ

وعدۂ صادق 4؛ 14 اڈوں پر حملوں میںامریکا کے سیکڑوں فوجی مارے گئے وجود - اتوار 01 مارچ 2026

  ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکا کے 14 اڈوں کو نشانہ بنایا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب کے ترجمان نے بتایا کہ ایران کے ان حملوں میں سیکڑوں امریکی فوجی ہلاک ہوگئے۔ترجمان پاسدار...

وعدۂ صادق 4؛ 14 اڈوں پر حملوں میںامریکا کے سیکڑوں فوجی مارے گئے

مودی امریکا، اسرائیل کو ایران کی تباہی کے مشورے دینے لگا وجود - اتوار 01 مارچ 2026

ایران کے دوست مودی کا مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا رجیم تبدیلی کیلئے ایران پر کئی ہفتوں تک بمباری کرنا ہوگی، بھارت کا مشورہ ایران کے نام نہاد دوست بھارت کا مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا۔بھارت امریکا اور اسرائیل کو ایران کی...

مودی امریکا، اسرائیل کو ایران کی تباہی کے مشورے دینے لگا

شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس( ڈھائی ہزار ارب مارکیٹ سے غائب) وجود - اتوار 01 مارچ 2026

فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا سرمایہ کار پاکستان سے بھاگ رہے ہیں، معاشی بہتری کے دعوؤں کی دھجیاں اڑگئیں شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس ، فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا، ڈھائی ہزار ارب روپے ...

شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس( ڈھائی ہزار ارب مارکیٹ سے غائب)

امریکا، اسرائیل کا ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ، حافظ نعیم وجود - اتوار 01 مارچ 2026

خطے کو جنگ کی لپیٹ میں دھکیلا جا رہا ہے، امریکا کی پالیسی جنگ، خونریزی ،تباہی کے سوا کچھ نہیں ڈونلڈ ٹرمپ کا نام نہاد بورڈ آف پیس درحقیقت بورڈ آف وار ہے، امیر جماعت کا ایکس پر بیان امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا مل کر ایران پر ح...

امریکا، اسرائیل کا ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ، حافظ نعیم

آپریشن غضب للحق ،274 طالبان ہلاک،12 جوان شہید،ترجمان پاک فوج وجود - هفته 28 فروری 2026

400 طالبان زخمی، پاک فوج نے 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں اور 73 افغان چیک پوسٹیں تباہ کردیں،18 ہمارے قبضے میں ہیں، افغان چیک پوسٹوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے ذلت آمیز شکست کے بعد طالبان کا سول آبادی پر حملہ ،فتنۃ الخوارج کی ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز سے حملہ...

آپریشن غضب للحق ،274 طالبان ہلاک،12 جوان شہید،ترجمان پاک فوج

افغانستان کی طرف سے مذاکرات کا عندیہ، تنازع کا حل مذاکرات میں ہی ہے،ترجمان طالبان حکومت وجود - هفته 28 فروری 2026

افغانستان کی طالبان رجیم پاکستان کے ساتھ جنگ چھیڑ کر مذاکرات کی باتیں کرنی لگی(ذبیح اللّٰہ مجاہد کی نیوز کانفرنس) نگران وزیر خارجہ مولوی امیر متقیکا قطری وزیر مملکت برائے خارجہ امور سے ٹیلی فونک رابطہ کابل حکومت پاکستان کیساتھ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کی خواہاں ،افغان سرزمین کس...

افغانستان کی طرف سے مذاکرات کا عندیہ، تنازع کا حل مذاکرات میں ہی ہے،ترجمان طالبان حکومت

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ

مضامین
امریکہ واسرائیل کے خلاف مسلم امہ متحد ہو! وجود منگل 03 مارچ 2026
امریکہ واسرائیل کے خلاف مسلم امہ متحد ہو!

مودی سرکار کی اسرائیل نوازی وجود منگل 03 مارچ 2026
مودی سرکار کی اسرائیل نوازی

ہمارے بچے مت مارو !! وجود پیر 02 مارچ 2026
ہمارے بچے مت مارو !!

طاقت کی خواہش ذہنی بیماری ہے! وجود پیر 02 مارچ 2026
طاقت کی خواہش ذہنی بیماری ہے!

ایران پر امریکہ و اسرائیلی حملہ وجود پیر 02 مارچ 2026
ایران پر امریکہ و اسرائیلی حملہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر