وجود

... loading ...

وجود

وزیر اعظم عمران خان کا کشمیری عوام کو دو ریفرنڈم کرانے کا عندیہ

هفته 24 جولائی 2021 وزیر اعظم عمران خان کا کشمیری عوام کو دو ریفرنڈم کرانے کا عندیہ

وزیر اعظم عمران خان نے آزاد کشمیر کو پاکستان کا صوبہ بنانے سے متعلق الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دو ریفرنڈم کرانے کا عندیہ دیا ہے کہ پہلے ریفرنڈم میں کشمیری عوام پاکستان یا بھارت کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کریں گے ، ہماری حکومت میں ہونے والے دوسرے ریفرنڈم میں وہ پاکستان کے ساتھ الحاق یا آزاد ریاست کے طور پر رہنے کا فیصلہ کریں گے ،مسلم لیگ (ن) نے آج تک کوئی چیز ایمانداری سے نہیں کی ،آزاد کشمیر میں(ن )لیگ کی حکومت ہے ، عملہ ان کا ہے ، الیکشن کمیشن پسند کا ہے اور ہم پر دھاندلی کے الزام لگا رہے ہیں ،اِن کو اپنے امپائر کھڑے کرنے کی عادت پڑگئی ہے ، ایک سال سے اپوزیشن کو دعوت دے رہے ہیں ہم سے شفاف الیکشن کے لئے بات کرو، یہ بات ہی نہیں کرتے ،انتخابی عمل میں ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے ،یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس کی بنیاد پر کوئی کسی پر دھاندلی کا الزام نہیں لگا سکتا، پاکستان اور کشمیر کے 40 فیصد نیم متوسط طبقے کو سبسڈی پر ضروری اشیا ملیں گی،میں ہر فورم پر کشمیر کا مقدمہ لڑتا رہوں گا۔ جمعہ کو یہاں تراڑ کھل میں انتخابی جلسے سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ میرا ایمان ہے کشمیر کے لوگوں کی قربانیاں ضائع نہیں ہوں گی، یہ بہت پرانی جدوجہد ہے اور وہ اپنے حق کے لیے بار بار کھڑے ہوئے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ انتخابات میں دھاندلی سے متعلق بیانات کا سلسلہ شروع ہوگیا، مسلم لیگ (ن) نے آج تک کوئی چیز ایمانداری سے نہیں کی اور اب وہ انتخابات سے قبل ہی شروع ہوگئے ہیں کہ دھاندلی ہوگی۔وزیر اعظم عمران خان نے سوالیہ انداز میں کہا کہ حکومت آپ کی، عملہ آپ کا، الیکشن کمیشن آپ کی پسند کا اور دھاندلی ہم کریں گے ؟۔انہوں نے ماضی میں لاہور کے جم خانہ میں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی آمد سے متعلق بتایا کہ جب نواز شریف وزیر خزانہ بننے اور جم خانہ آئے تو اپنے ساتھ دو امپائر لاتے تھے ، ایک کمشنر اور دوسرا ڈپٹی کمشنر اور جب نواز شریف آؤٹ ہوتے تھے تب دونوں میں سے ایک امپائر نو بال قرار دے دیتا تھا۔وزیر اعظم نے کہا کہ تب سے مسلم لیگ (ن) کو صرف ان امپائرز کے فیصلے پسند ہوتے ہیں جو ان کی منشا کے مطابق ہوں اور اب انتخابات میں الیکٹرانک مشن کے استعمال پر اپوزیشن لچک کا مظاہرہ نہیں کررہی ہے ۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ انتخابات میں ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے ، یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس کی بنیاد پر کوئی کسی پر دھاندلی کا الزام نہیں لگا سکتا۔انہوں نے کہا کہ ایک سال ہوگیا لیکن اپوزیشن نے تاحال کوئی جواب نہیں دیا، ایسے حالات پیدا کیے جارہے ہیں جو انتخابی عمل کو مزید مشکل بنادیا جائے گا۔وزیر اعظم عمران خان نے خیبرپختونخوا میں اپنی حکومتی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ 2013 میں خیبرپختونخوا تنہا ہوچکا تھا، ہم جب حکومت میں آئے تب 500 پولیس اہلکار دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہوچکے تھے ، روزگار ختم ہوگیا تھا۔عمران خان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 2013 اور 2018 کے دوران سب سے زیادہ خیبرپختونخوا میں غربت کی شرح کم ہوئی تھی، امیر غریب میں فرق کم ہوا اور ہیومن ڈیولپمنٹ میں سب سے زیادہ خرچ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کشمیر کے 40 فیصد نیم متوسط طبقے کو سبسڈی پر مشتمل ضروری اشیا میسر ہوں گی اور دسمبر تک تمام ڈیٹا بیس اور سافٹ ویئر تیار ہوجائے گا۔وزیر اعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر مسلم لیگ (ن) کے قائد پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت پاکستانیوں اور کشمیریوں پر ظلم کررہا تھا اور نواز شریف، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو شادی میں شرکت کے لیے دعوت دے رہا تھا اور بھارت جاتے ہیں تو حریت رہنماؤں سے ملاقات نہیں کرتے تھے تاکہ مودی سرکار ناراض نہ ہوجائے ۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی تو بات ہی نہیں کریں، سابق صدر آصف علی زرداری کو پیسے گنے سے فرصت ملتی تو وہ کشمیر کی بات کرتا۔انہوں نے کشمیری رہنماؤں کو مخاطب کرکے کہا کہ وہ ہمت نہ ہاریں ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہر مشکل میں ساتھ کھڑے رہیں گے ۔بعدازاں کوٹلی میں انتخابی جلسے سے خطاب کیدوران وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ دو سیاسی جماعتیں (ن لیگ اور پیپلز پارٹی) جلسے کررہی ہیں ، ان سے صرف یہ سوال کرنا ہے کہ آپ نے کشمیریوں کے زندگی بہتر کرنے کے لیے کیا کیا؟ دوسرا سوال یہ پوچھنا ہے کہ دونوں جماعتوں کو 5ـ5 سال ملے تو انہوں نے دنیا میں جا کر کشمیریوں کا مقدمہ کتنا لڑا؟وزیر اعظم نے کہا کہ میں ہر فورم پر کشمیر کا مقدمہ لڑتا رہوں گا کیونکہ کشمیری وہاں جدوجہد کررہے ہیں اور یہاں بطور کشمیر کا سفیر میں جدوجہد کروں گا۔انہوں نے کہا کہ جب سے نریندر مودی کا دور آیا سب سے زیادہ کشمیریوں پر ظلم کیا، نام نہاد آپریشن کا نام دے کر کشمیریوں کو شہید کیا، پیلٹ گن کا استعمال کیا، گائے کا گوشت کھانے پر مسلمانوں کو قتل کیا گیا اور دیگر اقلیتوں پر بھی آر ایس ایس کے غنڈوں نے ظلم کیے ۔وزیر اعظم نے کہا کہ کتنی مرتبہ آصف علی زرداری اور نواز شریف نے آر ایس ایس کا نام لیا؟ بھارت میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی کتنی مذمت کی؟ اور کتنی مرتبہ عالمی فورم پر آر ایس ایس کے نظریے کے خلاف اپنی آواز بلند کی؟عمران خان نے سیکریٹری خارجہ کا حوالہ دے کر کہا کہ انہوں نے اپنے انٹرویو میں انکشاف کیا کہ ہمیں حکم تھا کہ بھارت پر تنقید نہیں کرنی۔انہوں نے تصنیف The Way of Worldکا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مصنف نے انکشاف کیا کہ 2007 میں بے نظیر بھٹو نے بلاول بھٹو زرداری کو بذریعہ فون بیرون ملک بینک اکاؤنٹس کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا اور اس وقت کی ایجنسیوں نے تمام ریکارڈنگ محفوظ کرلی۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ جب پیسہ بیرون ملک میں موجود ہو تو مغربی ممالک انہی معلومات کی بنیاد پر حکمرانوں کو کنٹرول کرتی ہیں، اور اسی پر بے نظیر اور سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے مابین سمجھوتا ہوا۔انہوںنے کہاکہ 2008 میں ہم ساری جماعتیں چیف جسٹس کو بحال کرنے کے لیے متحد تھیں، ہمارے ساتھ نواز شریف بھی تھا، تین مرتبہ الیکشن کا بائیکاٹ کیا، یہ سب ریکارڈ پر ہے پھر اس کے بعد باہر سے اس کو حکم آیا کہ الیکشن لڑو اور اس نے ہم سب کو نہر کے پل پر کھڑا کر خود جا کر الیکشن لڑ لیا۔انہوں نے کہاکہ امریکا میں بھارت کی لابی اسرائیل کے ساتھ مل کر کام کرتی ہیں، نواز شریف ، نریندر مودی سے اس لیے دوست کرنا چاہتا تھا کہ بیرون ملک اثاثے کی حفاظت کی جا سکے ۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ نواز شریف اور آصف علی زرداری کے دور میں ملک کے اندر اتحادی ملک (امریکا) ڈرون حملے کرتا تھا، دونوں حکومتیں مذمت کرتے تھے تاہم اندر سے اجازت دی ہوئی تھی۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ میرے ہوتے ہوئے ڈرون حملہ کیوں نہیں ہوتا؟ امریکا کو برا نہ کہوں کیونکہ ہمارے اپنے لوگوں نے اجازت دی ہوئی تھی۔ وزیر اعظم نے ایک اور تصنیف کا حوالہ دے کر کہا کہ آصف علی زرداری نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ڈرون حملے میں اگر دہشت گردوں کے ساتھ معصوم شہری بھی نشانہ بن جائیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔انہوں نے کہا کہ جس طرح نواز شریف اور آصف علی زرداری، آر ایس ایس کا نام نہیں لیتے اسی طرح دونوں اسرائیل کا نام نہیں لیں گے ۔


متعلقہ خبریں


آئی ایم ایف نے پاکستان سے مہنگائی کی جنگ چھیڑ دی،پیٹرولیم مصنوعات،سولر سسٹم پر 18 فیصدٹیکس کا مطالبہ وجود - بدھ 01 اپریل 2026

پیٹرولیم مصنوعات اور سولر سسٹم مزید مہنگا ہونے کا خدشہ،نئے گھروں پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ، اگلے بجٹ کے ٹیکس ہدف میں 16 سو ارب روپے اضافے کی تجویز،ذرائع ایف بی آر اس وقت پیٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی کی شرح صفر،چھوٹے کاروبار اور تاجروں پر اثاثوں کی بنیاد پر ٹیکس لگانے کی ...

آئی ایم ایف نے پاکستان سے مہنگائی کی جنگ چھیڑ دی،پیٹرولیم مصنوعات،سولر سسٹم پر 18 فیصدٹیکس کا مطالبہ

اپنا تیل خود حاصل کرو امریکا تمہاری مدد کو نہیں آئے گا،ٹرمپ برطانیہ، فرانس و دیگر ممالک پر برہم وجود - بدھ 01 اپریل 2026

برطانیہ سمیت وہ ممالک جو ایران کیخلاف جنگ میں شامل نہیں ہوئے اور جیٹ فیول حاصل نہیں کرپارہے آئل امریکا سے خریدیں یا ہمت کرکے آبنائے ہرمز جائیں اور آئل حاصل کرلیں آپ کو اب خود لڑنا سیکھنا ہوگا،ایران کو تباہ کر دیا اور مشکل مرحلہ مکمل ہو چکا ہے،فرانس نے ایران کے قصائی کے حوالے...

اپنا تیل خود حاصل کرو امریکا تمہاری مدد کو نہیں آئے گا،ٹرمپ برطانیہ، فرانس و دیگر ممالک پر برہم

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی قیادت متحرک،تحریک تیز کرنے کا اعلان وجود - بدھ 01 اپریل 2026

جنید اکبر خان کی زیرصدارتخیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں ایک اہم تنظیمی اجلاس سہیل آفریدی نے اجلاس کے شرکاء کو صوبے کو درپیش اہم معاملات پر تفصیلی بریفنگ دی خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت نے تنظیمی استحکام، موجودہ سیاسی صورتحال اور بانی چیٔرمین عمران خان کی رہائی کے لیے جا...

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی قیادت متحرک،تحریک تیز کرنے کا اعلان

خیبر پختونخوا حکومت سے علیمہ خانم کی بتدریج دوری، اختلافات کی اندرونی کہانی وجود - بدھ 01 اپریل 2026

علیمہ کی ہدایت پر فیصل ترکئی، عاقب اللہ کو کابینہ میں شامل کرنے پر اختلافات کی وجہ بنے مختلف نجی محافل میں ان تقرریوں کے حوالے سے پارٹی کے اندر تنقید کا سلسلہ شروع ہوا خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت میں چند ماہ قبل تک عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کو غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل...

خیبر پختونخوا حکومت سے علیمہ خانم کی بتدریج دوری، اختلافات کی اندرونی کہانی

صوبوں کی مخالفت ، حکومت کا اسمارٹ لاک ڈاؤن نہ لگانے کا فیصلہ وجود - منگل 31 مارچ 2026

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس، شہباز شریف کی ملاقات، قومی سلامتی کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی غور، مشکل وقت میں معاشی طور پر کمزور طبقات کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، آصف زرداری ایندھن کے کم استعمال، پبلک ٹرانسپورٹ کے فروغ اور مشترکہ سفری سہولیات کیلئے عوام میں آگاہی پھیلائی جائے،...

صوبوں کی مخالفت ، حکومت کا اسمارٹ لاک ڈاؤن نہ لگانے کا فیصلہ

ٹرمپ کی ایران کے بجلی گھروں، تیل کے کنوئوں پر حملوں کی دھمکی وجود - منگل 31 مارچ 2026

ایران کو 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کھولنے کا الٹی میٹم،بصورت دیگر امریکا ایرانی تیل کے کنوؤں ،بجلی گھروں اور ڈی سیلینائزیشن پلانٹس کو نشانہ بنا سکتا ہے، امریکی صدرکاسوشل میڈیا پر بیان ٹرمپ نے ایران کے ایندھن اور توانائی ڈھانچے پر حملہ کیا تو خطے میں امریکی توانائی کے انفراسٹرک...

ٹرمپ کی ایران کے بجلی گھروں، تیل کے کنوئوں پر حملوں کی دھمکی

ایران کیخلاف جنگ میں امریکا نے 26 ارب ڈالر اڑا دیے وجود - منگل 31 مارچ 2026

حالیہ ایران پر امریکی فوجی حملے کی وجہ سے پینٹاگون پر بھاری مالی بوجھ آن پڑا ہے 800 سے زائد ٹوماہاک میزائلوں پر 3۔06 ارب ڈالر خرچ ہوئے،سینٹ کام ایران کیخلاف جنگ میں امریکہ نے 26 ارب ڈالر اڑا دیے، اس ایک ماہ کی جنگ کے دوران اخراجات آسمان سے باتیںکرنے لگے جس کی وجہ سے یہ تاری...

ایران کیخلاف جنگ میں امریکا نے 26 ارب ڈالر اڑا دیے

ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پرعزم ،وزیراعظم وجود - منگل 31 مارچ 2026

خطے میں کشیدگی کے فوری خاتمے کیلئے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں، شہبازشریف جنگ سے ایران سمیت کئی مسلم ممالک میں جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے،پیغام وزیر اعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پرعزم ہیں، جنگ سے ایران سمیت کئی مسلم ممالک میں جان...

ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پرعزم ،وزیراعظم

امریکا کی زمینی فوج بھیجنے کی تیاری،امریکی فوج شارک کی خوراک بنے گی، ایران کی تباہ کن نتائج کی دھمکی وجود - پیر 30 مارچ 2026

ہمارے جوان زمین پر امریکی فوجیوں کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ انہیں آگ لگا کر نشانہ بنائیں اور ان کے علاقائی شراکت داروں کو ہمیشہ کیلئے سزا دیں،ترجمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز ایسا اقدام امریکی افواج کے لیے شدید ذلت آمیز نتائج کا باعث بنے گا،ٹرمپ نے امریکی افواج کو دلدل میں دھکیل ...

امریکا کی زمینی فوج بھیجنے کی تیاری،امریکی فوج شارک کی خوراک بنے گی، ایران کی تباہ کن نتائج کی دھمکی

اسلام آباد میں چار فریقی وزرائے خارجہ اجلاس، مشرق وسطی کا تنازع مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق وجود - پیر 30 مارچ 2026

پاکستان کی میزبانی میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے درمیان بات چیت کا پہلا راؤنڈ ختم،اگلا راؤنڈ جلد ہوگا جس میںتجاویز پر پیش رفت سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا جائے گا اسحاق ڈار کی سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں، ایران کی موجودہ صورتحال پر تبادل...

اسلام آباد میں چار فریقی وزرائے خارجہ اجلاس، مشرق وسطی کا تنازع مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق

وفاقی حکومت نے قاسم خان کی گفتگو کوخود متنازع بنایا، سہیل آفریدی وجود - پیر 30 مارچ 2026

گفتگو کا اردو ترجمہ کروایا ہے ،یہ ایک بیٹے کے باپ کیلئے احساسات تھے جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفتگو کو جی ایس پی پلس کے ساتھ جوڑ کر غلط بیانی کی جا رہی ہے،نیوز کانفرنس وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفت...

وفاقی حکومت نے قاسم خان کی گفتگو کوخود متنازع بنایا، سہیل آفریدی

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں، شہباز شریف وجود - پیر 30 مارچ 2026

حکومت نے 125 ارب کی خطیر رقم، مختلف بچتوں اور ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کر کے دی وزیراعظم کا ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات پرجائزہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومتی فیصلوں کی بدولت پٹرولیم مصنوعات کی ملکی ضروریات کیلئے مناسب مقدار موجود ہے۔وزیراعظم ...

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں، شہباز شریف

مضامین
بھارت میں جعلی ڈگری کا دھندا وجود جمعرات 02 اپریل 2026
بھارت میں جعلی ڈگری کا دھندا

مرجھایا ہو ا دل معاشروں کو قبرستان بنا دیتا ہے! وجود جمعرات 02 اپریل 2026
مرجھایا ہو ا دل معاشروں کو قبرستان بنا دیتا ہے!

ڈالر کیوں بڑھ رہا ہے؟ وجود جمعرات 02 اپریل 2026
ڈالر کیوں بڑھ رہا ہے؟

خوشی کی حقیقی شناخت :باطن کی خوشبو اور کردار کی مٹھاس وجود جمعرات 02 اپریل 2026
خوشی کی حقیقی شناخت :باطن کی خوشبو اور کردار کی مٹھاس

تسبیح خواں وجود بدھ 01 اپریل 2026
تسبیح خواں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر