وجود

... loading ...

وجود

صوبے میں پانی کی قلت سیاسی نہیں معاشی مسئلہ ہے ،مراد علی شاہ

هفته 29 مئی 2021 صوبے میں پانی کی قلت سیاسی نہیں معاشی مسئلہ ہے ،مراد علی شاہ

سندھ اسمبلی کی تمام جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز نے سندھ میں پانی کے قلت کے خاتمہ اورپانی کی منصفانہ تقسیم کے مطالبہ کی حمایت کردی ہے ۔ وزیراعلی سندھ سیدمراد علی شاہ نے کہاہے کہ صوبے میں پانی کی قلت سیاسی نہیں اکنامک ایشو ہے ،27 فیصد کم پانی دینے کا مطلب 27ارب کانقصان ہے ،جب بھی پانی کی قلت ہوتی ہے ٹی پی لنک کینال کھول دی جاتی ہے اورسندھ کا پانی کم کردیا جاتاہے سندھ میں ابی مسئلہ پرحکومت اورعوام متحد ہیں۔وہ سندھ اسمبلی میں پانی کے مسئلہ پرپالیسی بیان کے دوران اظہارخیال کررہے تھے ۔وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہاکہ ہمیں کہا جاتا ہے کہ ڈیم بنیں گے توپانی ملے گا،یہ ہم کب سے سنتے چلے آرہے ہیں،سندھ اسمبلی میں ماضی میں جب پانی پرکوئی قرارداد پیش ہوئی توسب نے حمایت کی،2008سے لیکر2013تک جب بھی پانی کی قلت ہوئی ارسانے تقسیم میں بے قاعدگی کی کوشش کی ،جس کی سندھ نے سخت مذاحمت کی ہے ،جب پانی کی کمی ہوتی ہے تویہ کھیل ہمارے ساتھ کھیلاجاتا ہے ،ربیع کے پچھلے عرصے میں پبنجاب کو33فیصد پانی زیادہ سندھ کو27فیصد کم دیاگیا،ٹیل کے دونوں صوبے متاثرہوئے ۔انہوں نے کہاکہ 27ایم اے ایف مطلب 27ارب کانقصان ہوا، ہمیں سندھ کے لوگوں نے اس لئے منتخب کیا ہے تاکہ ہم کے حق کی بات کریں۔وزیراعلی سندھ نے کہاکہ گزشتہ اجلاس میں جو کچھ ہوا مجھے اس پر افسوس ہوا،ہم اپوزیشن میں تھے جب بھی پانی کے مسئلہ پر سندھ کا ایوان متحد رہاہے ،میں کوئی تنقید نہیں کروں گا،پانی کا مسئلہ سندھ کے ایوان میں رکھنا چاہتا ہوں،پانی کیمسئلہ پر ہم متحد رہے ہیں،2002 میں جب میں اسمبلی ممبر بنا تو مجھے پانی کا اتنا زیادہ علم نہیں تھا،جب ہم اپوزیشن میں تھے تو زیادہ ڈاکومنٹ نہیں ملتے تھے ،جہاں بھی پانی کا گزر ہے ،سندھ کی سر زمین ہمیشہ سر سبز شاداب رہی ،پنجاب سے سارا پانی آتا تھا،سارے نیچرل کینال تھے ،سیلاب آتے تھے تو تباہی ہوتی تھی،85 میں دریاؤں کو روکنے کاکام شروع ہوا،سندھ کا پانی کم ہوناشروع ہوتا گیا،گریٹر تھل کینال 2000 میں بنا ہے یہ ایک ڈکٹیٹر کے زمانے میں بنا،1945 میں دونوں صوبوں کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا،پانی کا معاملہ سیاسی نہیں اکنامک ایشو ہے ،اس وقت ایک گورے کو بھی اس کا علم تھا،اس معاہدے میں پنجاب کو 48.8 اور 46.08 ملین ایکٹر فٹ پانی میں حصہ ملا تھا،قومی اسمبلی میں 1970 میں واپڈا نے کہا تھا ہم 1945 کے معاہدے کو فالو کرتے ہیں۔1948 اپریل میں ہندوستان نے ہیڈ ورکس بند کردئیے ،اس وقت پاکستان کی حکومت نے پیسے بھی بھارت کو دیے تھے ۔انہوں نے کہاکہ ہمارا موقف شروع سے ایک ہی رہا ہے ،یہ کہا جاتا ہے کہ سمندر میں پانی ضائع کیا جارہا ہے ،یہ ضائع نہیں کیا جاتا ہے ،ہم اپنے لوگوں کو پیاسہ مار کر پانی نہیں دے سکتے ہیں،پرانا کیس پڑھ لیں،1971 میں ہمارا ملک ٹوٹا،پہلے سال مسئلہ ہوا،یہ وہ وقت تھاجب چشمہ جہلم کینال بنا تھا،72 میں گورنرز نے اس اکارڈ پر دستخط کیے ،اس وقت وزیر اعلیٰ نہیں تھے ۔سندھ کی طرف سے 72 میں ایک خط لکھا گیا کہ سندھ میں پانی کی شارٹیج ہے تو کینال بند کردیں تو انہوں نے بند کردیا،85 میں جاکر پھر پانی کے مسائل ہوئے ،سندھ کے پانی پر ڈاکہ کے علاوہ پھر اور کیا الفاظ استعمال کریں،1991 میں واٹر اکارڈ کیا گیا،اس کی پیپلز پارٹی نے مخالفت کی تھی،48.76 ملین ایکٹر ہمارا کیا گیا،پنجاب کا 58 ملین ایکٹر کردیا گیا ،پنجاب اپنے پروجیکٹ بناتا گیا،پھر کہا گیا کہ یہ ہمارا حق ہے ۔مراد علی شاہ نے کہاکہ 1991 کے معاہدے کے مطابق سب نے سمندر میں پانی جانے پر دستخط کیے ۔ہم نے کہا سمندر میں 10 فیصد پانی جانا چاہیے ،کوٹری میں یہ پانی جانا چاہیے تاکہ ہمارا ڈیلٹا آباد رہے ،انہوں نے کہا 5 ہزار کیوبک فٹ پانی ہر وقت سمندر جائے ،کوٹری بیراج کی حالت سب نے دیکھی ہوگی،ایک قطرہ پانی وہاں نہیں جاتا۔ان حالات میں اگر کوئی اور ڈیم بنتا ہے اس کو 50 فیصد اس وقت تک بھرا نہیں جاسکتا ہے جب تک کہ سیلاب آجائیڈیم پھر ہی بھر سکتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ جس کو بھی ثبوت اورحقائق چاہئیں وہ آئے اور لے لے ، میں نے واپس اس مٹی میں جانا ہے ،مجھے کیوں نہیں اپنی مٹی کے لیے جذبات آئیں گے ،اپوزیشن بھی سوالات ضرور کرے انہیں حقائق بتائیں گے شواہد دکھائیں گے ۔ سندھ کا مقدمہ مضبوط ہے ۔مراد علی شاہ نے کہاکہ میں پیر کو ایوان میں شکار پور ایشو پر بیان دوں گا،ہم پنجاب کے لوگوں کے خیر خواہ ہیں،ہم صرف ایک بات کہتے ہیں انصاف سے جو پانی کا حصہ ہے وہ دیں۔آپ اپنے حق سے زیادہ کی بات نہ کریں،میں نے تین وزیر اعظم کے سامنے پانی کی باتیں رکھی ہیں،پانی کے اوپر کبھی سندھ اسمبلی میں جھگڑا نہیں ہوا اگر کسی نے کوئی ایسی بات کی ہے تو میں معافی مانگتا ہوں،آپ جگہ بتائیں میں آنے کیلیے تیار ہوں ہمیں سندھ کے لوگوں نے اس لئے منتخب کیا ہے تاکہ ہم حق کی بات کریں۔سندھ اسمبلی میں ایم کیوایم کے خواجہ اظہارالحسن نے وزیراعلی سندھ کی تقریرکی جواب میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ ہم وفاقی حکومت کے اتحادی صحیح لیکن پانی کے مسئلے پر سندھ کے ساتھ ہیں، پانی زندگی و موت کا مسئلہ ہے ،وزیراعلی مرادعلی شاہ نیمدلل انداز میں پانی کیمعاملے پر بات کی،سندھ کیحق کے لیے ہر فورم پرساتھ ہیں۔ پی ٹی ا?ئی کے پارلیمانی لیڈر بلال عبد الغفارنے پانی کیمسئلے پر وزیراعلی سندھ کے خطاب حوصلہ افزا ہے ،سندھ کیمسئلے پر سب ایک پیج پر ہیں،پانی کیمسئلے پر ایک پورا دن ایوان میں بریفنگ دی جائے ،ہم سندھ کیحقوق کے لیے ساتھ ہیں۔ ایم ایم اے اور جی ڈی اے کے ارکان نے بھی وزیراعلی مرادعلی شاہ کیخطاب کا خیر مقدم کیا جی ڈی اے کے عارف مصطفی جتوئی نے کہاکہ پانی ہم سب کا مسئلہ اور بنیادی ضرورت ہے ،ہم سب سندھ کیمسائل پر ایک ساتھ ہیں۔ایم ایم اے کے سید عبد الرشید نے کہاکہ میں پانی کے مسئلہ پر مکمل سپورٹ کرتا ہوں،سندھ کے حقوق کی ساری جدو جدوجہد میں ان کے ساتھ رہیں گے ۔ایم کیوایم کے جاوید حنیف نے کہاکہ سندھ کے حقوق کے لیے ہم سب متحد ہیں،وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ جس دن بھی کوئی ٹائم فکس کریں میں پوری تیاری سے ان کے ساتھ ہوں۔


متعلقہ خبریں


شیخ الحدیث مولانا ادریس قاتلانہ حملے میں شہید وجود - بدھ 06 مئی 2026

موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ ، مولاناادریس کے دو گارڈز بھی زخمی ،مولانا کو زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا راستے میں ہی دم توڑ گئے،ہسپتال کے باہر ہزاروں عقیدت مند پہنچ گئے،علاقہ میںکہرام مچ گیا ضلع چارسدہ میں ممتاز عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس قاتلانہ حملے میں شہید ہ...

شیخ الحدیث مولانا ادریس قاتلانہ حملے میں شہید

دہشت گرد بزدلانہ حملوںسے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے،صدر مملکت ، وزیراعظم وجود - بدھ 06 مئی 2026

چارسدہ میں مولانا ادریس کی شہادت پر آصف زرداری اورشہباز شریف کا اظہارِ افسوس دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قومی عزم غیر متزلزل، زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئیدعا کی چارسدہ میں جے یو آئی کے سابق رکن صوبائی اسمبلی اور ممتاز عالم دین مولانا محمد ادریس ترنگزئی پر حملے کے نتیجے میں ان ک...

دہشت گرد بزدلانہ حملوںسے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے،صدر مملکت ، وزیراعظم

فیلڈ مارشل کو نوبل امن انعام کیلئے نامزدگی کی سفارش ،سندھ اسمبلی میں قرارداد جمع وجود - بدھ 06 مئی 2026

عاصم منیر نے خطے میں امن و استحکام کیلئے بھرپور کردار ادا کیا ہے، ایم کیو ایم ارکان اسمبلی ایران امریکا جنگ رکوانے کیلئے بھی فیلڈ مارشل کی کاوشیں قابل ستائش ہیں، قرارداد کا متن فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو نوبیل امن انعام کے لئے سفارش کی جائے، سندھ اسمبلی میں قرارداد جمع کرا د...

فیلڈ مارشل کو نوبل امن انعام کیلئے نامزدگی کی سفارش ،سندھ اسمبلی میں قرارداد جمع

اسرائیل نے ایران پر نئے حملوں کی تیاری شروع کردی وجود - بدھ 06 مئی 2026

تیاری ایرانی انرجی انفرااسٹرکچر اور سینئر ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کی ہے جنگ امریکا کا انتخاب تھی، اثرات دنیا محسوس کررہی ہے، سی این این رپورٹ اسرائیل نے آبنائے ہُرمُز سے متعلق کشیدگی بڑھنے پر ایران پر نئے حملوں کی تیاری شروع کردی۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق...

اسرائیل نے ایران پر نئے حملوں کی تیاری شروع کردی

ایران کا امریکی جہاز پر حملے کا دعویٰ وجود - منگل 05 مئی 2026

یو ایس نیول ڈسٹرائر جہاز پسپائی پر مجبور،امریکی بحری جہاز کو رکنے کی وارننگ دی گئی تھی ہدایات نظر انداز کرنے پر دو میزائل داغے گئے جو ہدف پر جا لگے، پاسدارانِ انقلاب ایران کی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں اصول و ضوابط کی خلاف ورزی اور انتباہ کے باوجود اپنی سمت تبدیل نہ ...

ایران کا امریکی جہاز پر حملے کا دعویٰ

حکومت پر دبائو بڑھائیں،ارکان اسمبلی آج اڈیالہ جیل پہنچیں،علیمہ خانم کی پارٹی رہنمائوں کو ہدایت وجود - منگل 05 مئی 2026

بانی سے وکلاء اور اہل خانہ کی فوری ملاقات ممکن بنائی جا سکے،عمران خان کے ذاتی معالج، ماہر ڈاکٹروں اور اہل خانہ کی موجودگی میں علاج کا مطالبہ، شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے ضمانت کی درخواستوں پر فوری سماعت مقرر کی جائے، عمران اور بشریٰ کی رہائی کا مطالبہ، تنہائی میں قید رکھ...

حکومت پر دبائو بڑھائیں،ارکان اسمبلی آج اڈیالہ جیل پہنچیں،علیمہ خانم کی پارٹی رہنمائوں کو ہدایت

جماعت اسلامی، آئی پی پیز، پیٹرول مافیا کیخلاف تحریک چلانے کا اعلان وجود - منگل 05 مئی 2026

سرکاری اسکولوں کا بیڑہ غرق کردیا، سولرپربھی ٹیکس لگا دیا گیا،اب نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے باہرنکلنا پڑے گا، خاندانوں کی بنیاد پر نظام چل رہا ہے، حکومت بیوروکریسی چلا رہی ہے، خطاب امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے بعد آئی پی پیز،پٹرول مافیا کیخلاف...

جماعت اسلامی، آئی پی پیز، پیٹرول مافیا کیخلاف تحریک چلانے کا اعلان

ایران پر دوبارہ حملہ کرسکتے ہیں،امریکی صدر وجود - پیر 04 مئی 2026

مجھے ایران کی تازہ ترین تجاویز پیش کر دی گئی ہیں، تہران سے ہماری مذاکرات کی صلاحیت لامحدود ہے ہرمز کی ناکا بندی دوستانہ ہے، نہیں چاہتے ان کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں،ٹرمپ کا ٹروتھ سوشل پر بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے جو کچھ کیا ہے اب تک ایران نے اس کی زیادہ بڑ...

ایران پر دوبارہ حملہ کرسکتے ہیں،امریکی صدر

ابدالی میزائل کے کامیاب تجربے نے دشمن کی نیندیں اڑا دیں وجود - پیر 04 مئی 2026

میزائل زمین سے زمین تک 450 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے،حکام پاکستان نے دفاعی نظام کی جانچ سے بھارتی فالس فلیگ ہتھکنڈوں کامنہ توڑجواب دیا،ماہرین پاکستان نے ابدالی میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ کرتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیت اور تکنیکی مہارت کا عملی مظاہرہ کیا ہ...

ابدالی میزائل کے کامیاب تجربے نے دشمن کی نیندیں اڑا دیں

کرپشن،مافیا کلچر نے ملک کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، حافظ نعیم وجود - پیر 04 مئی 2026

25 کروڑ عوام پر آئی پی پیز، گیس، چینی اور آٹا مافیانے اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے چند خاندان مختلف ناموں، جماعتوں، نعروں کیساتھ بار بار اقتدار میں آتے ہیں،خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ کرپشن اور مافیا کلچر پاکستان کے مسائل کی جڑ ہیں، جنہ...

کرپشن،مافیا کلچر نے ملک کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، حافظ نعیم

آبنائے ہرمز سے امریکی و اسرئیلی جہاز نہیں گزریں گے، ایران کا قانون سازی کا فیصلہ وجود - پیر 04 مئی 2026

نئی قانون سازی کے تحت سپریم لیڈر سے اجازت لی جائے گی ، علی نیکزاد ایران آبنائے ہرمز میں اپنے جائز حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا،گفتگو ایران کی پارلیمنٹ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کی روشنی میں اسٹریٹجک آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کی شر...

آبنائے ہرمز سے امریکی و اسرئیلی جہاز نہیں گزریں گے، ایران کا قانون سازی کا فیصلہ

اپوزیشن اتحاد،عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوسوں کااعلان وجود - اتوار 03 مئی 2026

بانی پی ٹی آئی ملک کا سب سے بڑا لیڈر ،یہاںوفاداریاں نہ بیچنے والے غدار ہیں، مائنس عمران خان کا ماحول بنایا جا رہا ہے،اداروں سے کہتے ہیں سیاست آپ کا کام نہیں ہے ،محمود اچکزئی تاریخ گواہ ہے عوام کے ریلے کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی اور یہ ریلا عمران خان کو آزاد کرائے گا، ہم بانی ...

اپوزیشن اتحاد،عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوسوں کااعلان

مضامین
بنگال میں الیکشن ہورہا تھا یا جنگ؟ وجود بدھ 06 مئی 2026
بنگال میں الیکشن ہورہا تھا یا جنگ؟

پاک افغان تعلقات کا مستقبل وجود بدھ 06 مئی 2026
پاک افغان تعلقات کا مستقبل

مودی کی بدعنوان حکومت وجود بدھ 06 مئی 2026
مودی کی بدعنوان حکومت

عصرِ حاضر میں اللہ کا روحانی قرب وجود منگل 05 مئی 2026
عصرِ حاضر میں اللہ کا روحانی قرب

آؤ ! جیل کی سلاخیں توڑیں! وجود منگل 05 مئی 2026
آؤ ! جیل کی سلاخیں توڑیں!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر