وجود

... loading ...

وجود

انسانوں سے زمینی حیات کو خطرہ

جمعه 15 جون 2018 انسانوں سے زمینی حیات کو خطرہ

امریکا کے شمال مغرب میں ’’ییلوسٹون نیشنل پارک‘‘ کو 146 سال قبل محفوظ علاقہ (پروٹیکٹڈ ایریا) قرار دیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے دنیا بھر کی اقوام نے دو لاکھ سے زائد محفوظ علاقے قائم کئے۔ یہ دو کروڑ مربع کلومیٹر پر پھیلے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں سیارہ زمین کی خشکی کا تقریباً 15فیصد ان پر مشتمل ہے جو کہ براعظم جنوبی امریکا سے زیادہ رقبہ بنتا ہے۔

حکومتیں محفوظ علاقے اس لیے قائم کرتی ہیں تاکہ پودے اور جانور انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے دباؤ کا شکار نہ ہوں اور اس سے آزاد اپنی زندگی گزار سکیں، کیونکہ یہ انہیں ناپید بھی کر سکتا ہے۔ یہ علاقے مخصوص ہوتے ہیں جو موجودہ اور آنے والے انسانوں کے علاوہ دوسری زمینی حیات کے لیے ایک تحفہ کی مانند ہیں۔ (پاکستان میں اس کی مثالیں کیرتھر نیشنل پارک، ہنگول نیشنل پارک و دیگر ہیں۔)

لیکن جریدہ ’’سائنس‘‘ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا کے محفوظ علاقوں میں سے تقریباًایک تہائی (60 لاکھ مربع کلومیٹر) کو شدید انسانی دباؤ کا سامنا ہے۔ سڑکیں، کانیں، بڑے پیمانے پر جنگلات کی کٹائی، فارمز، قصبوں اور شہروں کا قیام، ان سب نے محفوظ علاقوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

یہ ایک جانی مانی حقیقت ہے اس طرح کی انسانی سرگرمیاں دنیا بھر میں مختلف انواع کے ناپید ہونے کی وجہ بن رہی ہیں۔ تاہم ایک تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں اس طرح کی سرگرمیاں انہی علاقوں میں ہو رہی ہیں جنہیں ’’محفوظ‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ اس تحقیق میں دنیا میں محفوظ علاقوں پر انسانی سرگرمیوں سے پڑنے والے دباؤ کا جائزہ لیا گیا۔ اس دباؤ کا پیمانہ ’’ہیومن فٹ پرنٹ‘‘ جو زراعت، آبادی، رات کی روشنی، سڑکیں، ریلویز اور نہریں وغیرہ کی بنیاد پر بنایا جاتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر تین چوتھائی ممالک میں کم از کم 50 فیصد محفوظ رقبہ شدید انسانی دباؤ میں ہے۔ یعنی اس میں کان کنی ہو رہی ہے، سڑکیں بنائی جا رہی ہیں، قصبے آباد ہو رہے ہیں، جنگلات کاٹے جا رہے ہیں اور زرعی کام ہو رہا ہے۔ یہ مسئلہ مغربی یورپ اور جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ شدید ہے۔

دنیا بھر میں محفوظ علاقوں کی حدود کے اندر ایک کے بعد دوسرا بڑا ڈھانچہ تعمیر ہو رہا ہے۔ بڑے منصوبوں میں کینیا کے مشرقی اور مغربی تساؤ نیشنل پارک سے گزرنے والا ریلوے کا منصوبہ شامل ہے۔ یہاں ایسی انواع پائی جاتی ہیں جن کی بقا کو خطرہ لاحق ہے، مثال کے طور پر مشرقی سیاہ گینڈے اور وہ عجب شیر جن کے بال بہت کم ہوتے ہیں۔ ریل کی پٹری کے ساتھ چھ رویا سڑک کا منصوبہ بھی جاری ہے۔

دو امریکی براعظموں کے بہت سے محفوظ علاقوں، جن میں کولمبیا اور برازیل کے دو اہم علاقے شامل ہیں، کے قریب گنجان آبادیوں اور بڑھتی ہوئی سیاحت کا دباؤ ہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکا میں یوسیمائٹ اور ییلوسٹون دونوں محفوظ علاقوں کی سرحدوں پر بڑھتی ہوئی سیاحتی سرگرمیوں کے لیے قائم کردہ انفراسٹریکچر سے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ انتہائی ترقی یافتہ ممالک، جیسا کہ آسٹریلیا، میں بھی صورت حال خراب ہے۔ اس کی بڑی مثال مغربی آسٹریلیا کا بارو آئی لینڈ نیشنل پارک ہے۔ یہاں ایک طرف منصوبے جاری ہیں دوسری طرف بقا کی جنگ لڑنے والی حیات زندگی بسر کر رہی ہے۔

یہ ضرور ہے کہ تساؤ یا آسٹریلیا میں بارو آئی لینڈ نیشنل پارک میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے حکومت اور بین الاقوامی سطح پر باقاعدہ فنڈ دیے جاتے ہیں، اور یہ منظور شدہ ہوتے ہیں، لیکن محفوظ علاقوں میں ایسی غیر قانونی سرگرمیاں بھی جاری ہیں جو اثر انداز ہوتی ہیں۔ سماٹرا میں موجود نیشنل پارک، جسے یونیسکو کی طرف سے عالمی ورثہ بھی قرار دیا گیا ہے اور جہاں ناپید ہونے کے خطرے سے دوچار چیتوں اور گینڈوں کی انواع رہتی ہیں، وہاں انسانی آبادی ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ لوگ غیر قانونی طور پر یہاں آباد ہیں اور انہوں نے یہاں کے 15 فیصد حصے کو ’’کافی‘‘ کی کاشت کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ محفوظ علاقوں کے قیام کا مقصد قدرت کا تحفظ ہے۔ اقوام متحدہ کے قائم کردہ معیار کے مطابق 17 فیصد رقبے کو حیاتیاتی تنوع کی خاطر محفوظ علاقہ قرار دیا جانا چاہیے۔ اس معیار پر 111 ممالک پورا اترتے ہیں۔ لیکن اگر ہم ان محفوظ علاقوں پر پڑنے والے انسانی دباؤ کو خاطر میں لائیں تو ان 111 میں سے 74 معیار پر پورا نہیں اترتے۔

دنیا بھر کی حکومتیں یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ انہوں نے فطری حیات اور ماحلو کی خاطر محفوظ علاقے قائم کیے ہیں، لیکن ساتھ ہی وہ ان علاقوں کی حدود میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام جاری کیے ہوئے ہیں یا ان میں جاری غیرقانونی سرگرمیوں کو روکنے سے قاصر ہیں۔ دنیا میں حیاتیاتی تنوع میں کمی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے، حالانکہ محفوظ علاقوں کے رقبے اچھے خاصے ہیں۔


متعلقہ خبریں


ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی وجود - هفته 28 مارچ 2026

بزدل امریکی اور صہیونی افواج میں اپنے فوجی اڈوں کا دفاع کرنے کی ہمت نہیں ، دہشتگردفورسز نے ایرانیوں کونشانہ بنایا،جہاں ملیں انہیں ختم کردو ، پاسداران انقلاب کی عوام کو دور رہنے کی ہدایت اسلامی جنگجوؤں کی کارروائیوں کے خوف سے معصوم لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی ...

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری وجود - هفته 28 مارچ 2026

سفیر اور عملہ محفوظ،سفارتخانے کے اطراف میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو تہران میں پاسداران کے زیر انتظام علاقے میں مقیم ہیں ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کی رہائشگاہ کے قریب اسرائیل نے شدید بمباری کی تاہم تمام سفارت...

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری

توانائی بحران میں حکومت سرگرم، عوام کو پیٹرول پر سبسڈی دینے کیلئے ایپ تیار وجود - هفته 28 مارچ 2026

موٹر سائیکلصارفین کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر کرنے کی تجویز 800 سی سی گاڑیوں تک سبسڈی کا فیصلہ نہیں ہو سکا، ذرائع وفاقی حکومت عوام کو ریلیف دینے کیلئے حکومت نے پیٹرول سبسڈی پلان پر عملی کام شروع کر دیا۔موٹر سائیکلز کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر ک...

توانائی بحران میں حکومت سرگرم، عوام کو پیٹرول پر سبسڈی دینے کیلئے ایپ تیار

لبنان پر اسرائیلی حملہ،3 لاکھ 70 ہزار بچوں کی نقل مکانی پر خطرے کی گھنٹی وجود - هفته 28 مارچ 2026

اسرائیل کی جانب سے لبنان کے تقریباً 14 فیصد علاقے کو خالی کرنے کی دھمکیاں جارحیت کا شکار معصوم بچپن، ایک ماہ کے دوران 121 بچے جاں بحق، یونیسف کی رپورٹ اقوامِ متحدہ کے بچوں کے عالمی ادارے (UNICEF) نے لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی جارحیت کے نتیجے میں بچوں پر ہونے والے...

لبنان پر اسرائیلی حملہ،3 لاکھ 70 ہزار بچوں کی نقل مکانی پر خطرے کی گھنٹی

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس،سول و عسکری قیادت کا معیشت، توانائی، سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق وجود - جمعه 27 مارچ 2026

حکومتی فیصلوں میں عوامی مفاد کو مقدم رکھنے کیلئے جامع حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ،اجلاس میںعالمی سطح پر تیل و گیس کی فراہمی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے معیشت پر اثرات کا جائزہ لیا شرکاء نے مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی، وزیراعظم ...

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس،سول و عسکری قیادت کا معیشت، توانائی، سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق

قاسم خان کی جنیوا میں پاکستان مخالف پروگرام میں شرکت، نیا تنازع کھڑا ہوگیا وجود - جمعه 27 مارچ 2026

بانی عمران خان کے بیٹے نے بلوچ نیشنل موومنٹ کے متنازع رہنما نسیم بلوچ کے ہمراہ خطاب کیا سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اس مشترکہ موجودگی کو پاکستان مخالف لابنگ قرار دیا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے پاکستان مخا...

قاسم خان کی جنیوا میں پاکستان مخالف پروگرام میں شرکت، نیا تنازع کھڑا ہوگیا

تاجر برادری کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان وجود - جمعه 27 مارچ 2026

رات ساڑھے 8بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کیلئے تیار ہیں ملکی مفاد میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں،چیئرمین سندھ تاجر اتحاد تاجر برادری نے حکومت کے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا رات ساڑھے 8 بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کے لیے تیار ہے۔تفصیلات کے مطاب...

تاجر برادری کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان

امریکی تجاویز مسترد، جنگ کا خاتمہ ہماری شرائط پر ہوگا،ایران کا دوٹوک جواب وجود - جمعرات 26 مارچ 2026

  ایران پر حملے اور ٹارگٹ کلنگ فوری بند کی جائے، مستقبل میں حملے اور جارحیت کے نہ ہونے کی ٹھوس ضمانت دی جائے،جنگ سے ایران میں ہونیوالے نقصانات کا ازالہ بصورت معاوضہ کیا جائے مشرق وسطیٰ میں ایران کے اتحادی یا حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کو بند کیا جائے،آبن...

امریکی تجاویز مسترد، جنگ کا خاتمہ ہماری شرائط پر ہوگا،ایران کا دوٹوک جواب

بھارتی عدالت کا فیصلہ سیاسی انتقام قرار، عالمی برادری سے نوٹس کا مطالبہ وجود - جمعرات 26 مارچ 2026

پاکستان کی آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین کو سنائی گئی سزائوں کی مذمت فیصلہ مقبوضہ کشمیر میں بنیادی حقوق کے دبائو کی عکاسی کرتا ہے، ترجمان دفترخارجہ پاکستان نے کشمیری خاتون رہنماء آسیہ اندرابی اور ان کی دوساتھیوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو سنائی گئی سزاں کی مذ...

بھارتی عدالت کا فیصلہ سیاسی انتقام قرار، عالمی برادری سے نوٹس کا مطالبہ

چین کا ایران کو امریکا سے مذاکرات کا مشورہ،پاکستان نے میزبانی کی پیشکش کردی وجود - بدھ 25 مارچ 2026

تنازعات کو طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے،چینی وزیر خارجہ کی ایرانی ہم منصب سے گفتگو میں جنگ کے بجائے مذاکرات پر زور چین نے ایران پر زور دیا ہے کہ جنگ کے بجائے بات چیت کو فوقیت دی جائے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی وزارت خارجہ...

چین کا ایران کو امریکا سے مذاکرات کا مشورہ،پاکستان نے میزبانی کی پیشکش کردی

شہباز شریف کی جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم وجود - بدھ 25 مارچ 2026

  وزیراعظم پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم اور حمایت کا اعلان کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان خطے کے امن و استحکام کے مفاد میں مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذ...

شہباز شریف کی جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم

جوچاہیں کرلیں ، سر نہیں جھکاؤں گا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 مارچ 2026

کوئی مذاکرات اور کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، کسی میں ہمت ہے تو جا کر عمران خان سے مذاکرات کرے، آپ پونے تین سال کسی کو جیل میں رکھ کر اب کہیں کہ ڈیل کرنا چاہتا ہوں، علیمہ خانم بانی پی ٹی آئی سے بشریٰ بی بی کی ملاقات،بہنوں اور وکلا کی ملاقات نہ ہوسکی،جیل انتظامیہ سے لیکر باتیں کرن...

جوچاہیں کرلیں ، سر نہیں جھکاؤں گا،عمران خان کا جیل سے پیغام

مضامین
ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق وجود هفته 28 مارچ 2026
ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق

کشمیری خواتین رہنماؤں کو سزائیں،سیاسی انتقام وجود هفته 28 مارچ 2026
کشمیری خواتین رہنماؤں کو سزائیں،سیاسی انتقام

جیو۔۔۔ سچ کے ساتھ وجود هفته 28 مارچ 2026
جیو۔۔۔ سچ کے ساتھ

قطر کی ایل این جی فراہمی رک جانے کے پاکستان پر اثرات وجود هفته 28 مارچ 2026
قطر کی ایل این جی فراہمی رک جانے کے پاکستان پر اثرات

بھارت میں توانائی کابحران وجود جمعه 27 مارچ 2026
بھارت میں توانائی کابحران

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر