وجود

... loading ...

وجود

میاں برادران کی نرالی منطق یاچالاکیاں

هفته 09 جون 2018 میاں برادران کی نرالی منطق یاچالاکیاں

سابق وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ نگران حکومت لوڈ شیڈنگ کی ذمہ دار ہے، ہم سسٹم میں 10 ہزار میگاواٹ کا اضافہ کر کے آئے تھے، ہمارے جانے تک کوئی لوڈ شیڈنگ نہیں تھی، اب اگر بجلی پوری نہیں ہو رہی تو ذمہ دار نگران حکومت ہے۔ اسی طرح وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا تھا کہ 31 مئی تک کوئی لوڈ شیڈنگ نہیں ہے، اس کے بعد ہوئی تو ذمہ دار نگران حکومت ہو گی۔ ابھی گزشتہ روز ہی انہوں نے کہا کہ بجلی کی دستیابی ہماری سب سے بڑی کامیابی ہے، مجھ پر ایسے الزام لگائے گئے جن کا کوئی سر پیر نہیں، سی پیک کے تحت توانائی شعبہ میں سرمایہ کاری اہم کامیابی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 31 مئی تک پاکستان میں کم لوڈ شیڈنگ رہی۔ یہ بڑی عجیب صورتحال ہے اور جو دعوے کیے جا رہے ہیں‘ وہ اس سے بھی زیادہ تعجب خیز ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک حکومت نے بجلی پیدا کرنے کے جو منصوبے مکمل کیے‘ وہ اس حکومت کے ختم ہوتے ہی اپنی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کھو دیں اور صورتحال چند سال پہلے جیسی ہو جائے۔ یہ الگ بات ہے کہ مسلم لیگ نون کی حکومت نے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے مکمل کیے‘ لیکن نگران حکومت پوری گنجائش کے مطابق بجلی پیدا نہیں کر رہی۔

ایک مشہور فرانسیسی قول ہے جو انگریزی زبان میں بھی عام استعمال ہوتا ہے۔ یہ اٹھارہویں صدی میں فرانس کے ایک بادشاہ سے منسوب ہے۔ قول یہ ہے: ’’میرے بعد طوفانِ عظیم ہے، بربادی ہے‘‘۔ یہ قول دو معنوں میں بیان کیا گیا تھا۔ ایک یہ کہ جب میں نہ رہا تو پھر مکمل بربادی سب کا مقدر ہو گی۔ دوسرا یہ کہ جب میں نہ رہا تو بھلے سب کچھ ختم ہو جائے، میری بلا سے۔ محترم نواز شریف اور خادمِ اعلیٰ پنجاب کے ان دنوں دیے گئے بیانات بھی کچھ ایسے ہی ہیں۔ بجلی کی فراہمی اور دیگر عوامی اہمیت کے ایشوز کے بارے میں ان کے ارشادات کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ ہم مسندِ اقتدار پر نہیں رہے‘ تو ضروری نہیں کہ ملکی معاملات ٹھیک چلتے رہیں۔ ہم تخت سے اتر گئے ہیں (اور قوم صرف دیکھتی رہی) تو اس کا اب نتیجہ بھگتے۔ ہمارا اقتدار ختم ہو گیا ہے تو خرابی عوام کا مقدر ہونا ہی تھا۔ یہ عجیب منطق اور انوکھی سوچ ہے، جس کی مثال شاید ہی کسی اور ملک میں ملتی ہو۔ افراد کی زندگی میں ان کا کیا ہوا کوئی انتظام اگر اْن کے فوراً بعد جاری نہ رہے‘ اور ان کا بنایا ہوا نظام ان کے بعد بھی اگر کارآمد نہ ہو تو اس کا الزام انہی پر عائد کیا جاتا ہے‘ جنہوں نے انتظام کیا ہوتا ہے کہ کیسا ناقص انتظام کیا۔ اقوام اور ممالک کے معاملات تو افراد کی زندگیوں سے بھی زیادہ واضح اور شفاف ہوتے ہیں۔

اگر ہمارے قومی قرض پچھلے 5 سالوں میں 56.19 بلین ڈالر سے 75.66 بلین ڈالر تک پہنچ گئے ہیں تو اس کے نتیجے میں ہونے والی بربادی کی ذمّہ دار کیا چند ہفتوں کی مہمان نگران حکومت ہے یا پھر کیا آئندہ منتخب حکومت ہے‘ جو ابھی وجود میں ہی نہیں آئی؟ اگر بجلی ایک ہفتہ پہلے ملکی ضرورت کیلئے کافی تھی تو ایک ہفتہ کے بعد اتنی ناکافی کیسے ہو گئی؟ کیا نگران حکومت نے بجلی چوری کر لی یا ہمسایوں کو بیچ دی گئی؟ اگر گرمی زیادہ ہو گئی ہے ، مناسب مقدار میں بارش نہیں ہو رہی، ملک میں پانی کی کمی بحران کی شکل اختیار کر گئی ہے، پینے کے پانی کی شدید قلّت ہے تو اس کی وجوہ کیا ہو سکتی ہیں؟ یہ بھی حکومتی ناقص پالیسیوں کے ہی شاخسانے ہیں۔ کیا اس ملک کے عوام کا گناہِ عظیم یہ ہے کہ انہوں نے میعاد مکمل ہونے پر عظیم قائدین کو جاتے ہوئے دیکھا، لیکن روکا نہیں؟ جانے والی حکومتوں کی کارکردگی کس قسم کی تھی کہ ان کے جاتے ہی ہوا میں تحلیل ہو گئی؟ عوامی قائدین کا یہ کہنا تو خود اْن کے خلاف ایک فردِ جرم ہے کہ ان کے کیے گئے اقدامات کے اثرات ان کے جاتے ہی ختم ہو گئے۔ کمال ہارڈ ویئر بنانے میں نہیں، اصل کمال تو سافٹ ویئر بنانے میں ہے، جس کے بغیر تمام تر کاوشیں اور اقدامات بے معنی ہیں۔

ہمارا المیہ بھی یہی ہے کہ ہم نے پرانے نظام کو بہتر طریقے سے چلانے کی بجائے، نئے کی تعمیر پر وسائل برباد کرنے کو ہی کامیابی سمجھا۔ انتظامات ناقص ہیں اور عوام بے شعور۔ اسی لیے سکول تعلیم نہیں دیتے، ہسپتالوں میں علاج نہیں ملتا، فلٹریشن پلانٹس خراب پڑے ہیں، نئی سڑکوں کی تعمیر کے لیے پرانیوں کو اکھاڑا جا رہا ہے۔ یہ ہے حکمرانوں کی کارکردگی کی حقیقت۔ خادم اعلیٰ نے پنجاب کے لیے اپنی خدمات شمار کروائی ہیں، لیکن یہ کیسی خدمات ہیں کہ جن کے بارے میں پنجاب کے عوام کو بتانا پڑ رہا ہے۔ جوش خطابت میں ہوش شامل رہنا ضروری ہے‘ بالخصوص جہاں خطیب عظمت کے دعویدار ہوں اور مخاطب نا سمجھ اور محض جذباتی۔ ہم حقائق کو اس حد تک مسخ کرنا جائز کیوں سمجھتے ہیں؟ کیا اسی لیے قوم نے کسی بھی بات پر یقین کرنا چھوڑ دیا ہے؟ حتیٰ کہ ہر سطح سے ایک ہی بات دہرائے جانے کے بعد بھی بے یقینی کی کیفیت قائم رہتی ہے اور عوام تذبذب کا شکار‘ اس کی تازہ مثال عام انتخابات 2018ء کے بروقت انعقاد (25 جولائی )کے اعلان کو ہی لے لیجئے۔


متعلقہ خبریں


آج دنیا بھر میں یومِ یکجہتی کشمیر کی گونج سنائی دے گی، تیاریاں مکمل وجود - جمعرات 05 فروری 2026

پاکستان اور جموں وکشمیر کے اٹوٹ رشتے کی تجدید، دنیا کشمیریوں کی پکار سنے گی پاکستان اور آزاد کشمیر میںجوش و خروش سے جلسے ، جلوسوں ، ریلیوں کا انعقادکیا جائیگا پاکستان، آزاد جموں وکشمیر اور دنیا بھر میںآج یوم یکجہتی کشمیر جوش و خروش سے منایا جائے گا جسکا مقصد بھارتی ظلم ستم...

آج دنیا بھر میں یومِ یکجہتی کشمیر کی گونج سنائی دے گی، تیاریاں مکمل

جے یو آئی کا 8 فروی کو یوم سیاہ منانے کا اعلان وجود - جمعرات 05 فروری 2026

ہر شہر میں جلسے منعقد کیے جائیں اور ریلیاں نکالی جائیں، مولانا عبدالغفور حیدری 8 فروری کا الیکشن قوم کیلئے ناقابل قبول ، عوامی مینڈیٹ پر کھلا ڈاکا ہے،بات چیت جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ایف) نے 8 فروی کو یوم سیاہ منانے کا اعلان کر دیا۔ اس حوالے سے مرکزی سیکریٹری جنرل جمعیت...

جے یو آئی کا 8 فروی کو یوم سیاہ منانے کا اعلان

رمضان المبارک کی آمدسے قبل مہنگائی میں اضافہ وجود - جمعرات 05 فروری 2026

آٹا، چکن، مصالحے،بیکری آئٹمز، دودھ سمیت بیشتر اشیاء مزید مہنگی کر دی گئیں پھلوں کی 2۔28 اور مصالحہ جات کی 2 فیصدقیمتوں میں اضافہ ریکارڈکیا گیا رمضان المبارک کی آمدسے قبل مہنگائی میں اضافہ، آٹا، چکن، مصالحے،بیکری آئٹمز، دودھ سمیت بیشتر اشیاء مزید مہنگی کر دی گئیں۔ تفصیلات...

رمضان المبارک کی آمدسے قبل مہنگائی میں اضافہ

ایران امریکا مذاکرات، پاکستان کو شرکت کی دعوت،دفتر خارجہ کی تصدیق وجود - بدھ 04 فروری 2026

پاکستان استنبول میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں شرکت کرے گا، جن کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور بات چیت کے ذریعے تنازعے کے حل کی راہ ہموار کرنا ہے، ترجمان طاہر اندرابی امریکا کے نمائندہ خصوصی اور ایرانی وزیرخارجہ اپنے ممالک کی نمائندگی کریں گے،خطے کی طاقتوںسعودی...

ایران امریکا مذاکرات، پاکستان کو شرکت کی دعوت،دفتر خارجہ کی تصدیق

محمود اچکزئی کا شہباز شریف کو خط، عمران خان کا طبی معائنہ ذاتی معالجین سے کرانے کامطالبہ وجود - بدھ 04 فروری 2026

اڈیالہ جیل میں قیدبانی پی ٹی آئی کی صحت بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے، طبی معائنہ شوکت خانم اور شفا اسپتال کے ڈاکٹروں سے کرایا جائے، قائدِ حزبِ اختلاف نے صحت کا معاملہ اٹھا دیا وزیراعظم سے فوری ذاتی مداخلت کا مطالبہ ،خط میں اپوزیشن لیڈرنے ذاتی ڈاکٹروں کے نام تجویز ڈاکٹر محمد ...

محمود اچکزئی کا شہباز شریف کو خط، عمران خان کا طبی معائنہ ذاتی معالجین سے کرانے کامطالبہ

فائر سیفٹی کی خلاف ورزی ، صدر ہاشو سینٹر،الیکٹرک مارکیٹ سیل وجود - بدھ 04 فروری 2026

صدر میں 200سے زائد دکانیں سیل،مارکیٹ میں حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے دکانداروں کو سات روز قبل نوٹس جاری ، انتظامات کیے جانے تک مارکیٹیں سیل رہیں گی صدر ہاشو سینٹر اور الیکٹرک مارکیٹ سیل کر دی گئی، دونوں مارکیٹوں میں دو سو سے زائد دکانیں موجود ہیں۔تفصیلات کے مطابق فائر سیفٹی ک...

فائر سیفٹی کی خلاف ورزی ، صدر ہاشو سینٹر،الیکٹرک مارکیٹ سیل

ملک بھر میں 195,000قومی شناختی کارڈز بلاک وجود - بدھ 04 فروری 2026

خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ 72,703قومی شناختی کارڈز بلاک کیے گئے سندھ 49,666، پنجاب میں 29,852شناختی کارڈز بلاک ہوئے،نادراحکام پاکستانی حکام نے گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک بھر میں تقریبا 195,000 کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (CNICs) بلاک کیے، جو شہری ڈیٹا بیس میں موجود مخت...

ملک بھر میں 195,000قومی شناختی کارڈز بلاک

8فروری کو پہیہ جام ہڑتال ،تحریک انصاف کا اسٹریٹ موومنٹ کو تیز کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 03 فروری 2026

ملک بھر کے عوام ناانصافی کیخلاف رضاکارانہ طور پر دکانیں بند اور احتجاج ریکارڈ کرائیں گے،سندھ اور پنجاب میں پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاریوں اور ان کے گھروں پر چھاپوں کی شدید مذمت بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت،دہشتگردی کیخلاف جدوجہد میں قوم متحد، مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں م...

8فروری کو پہیہ جام ہڑتال ،تحریک انصاف کا اسٹریٹ موومنٹ کو تیز کرنے کا فیصلہ

وزیراعظماور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات، امن کیلئے تعاون پر تیار وجود - منگل 03 فروری 2026

سیکیورٹی صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال ،امن کیلئے صوبائی حکومت کو کوششیں مزید بڑھانا ہوں گی، صوبائی حکومت با اختیار ،خیبر پختونخوا وفاق کی اہم اکائی ،صوبائی اداروں کو مضبوط کرے،شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات ہوئ...

وزیراعظماور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات، امن کیلئے تعاون پر تیار

وزیراعظم سے ہماری کوئی سیاسی بات چیت نہیں ہوئی ،سہیل آفریدی وجود - منگل 03 فروری 2026

دہشت گردی کے حوالے سے گفتگو ہوئی، ایک دو ملاقاتیں مزید ہوں گی، میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی اور میں نے بانی سے ملاقات کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔وزیراعظم...

وزیراعظم سے ہماری کوئی سیاسی بات چیت نہیں ہوئی ،سہیل آفریدی

تاجرکواغوا کروانے کا الزام ، پیر محمد شاہ جواب دینے میں ناکامی پربے نقاب وجود - منگل 03 فروری 2026

14 روز انتظار کے بعد 30 جنوری کو جواب دینے میں ناکامی پرعہدے سے ہاتھ دھونا پڑا سابق ڈی آئی جی ٹریفک کوعہدے سے ہٹانے پر مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں (رپورٹ : افتخار چوہدری)ڈی آئی جی پیر محمد شاہ پرمبینہ طور پر ذاتی اثرورسوخ استعمال کرکے تاجرکومبینہ طورپراغوا کروانے کا ا...

تاجرکواغوا کروانے کا الزام ، پیر محمد شاہ جواب دینے میں ناکامی پربے نقاب

عمران خان کیلئے فارن فنڈنگ کیس میں نئی مشکل تیار وجود - منگل 03 فروری 2026

عدالت نے ایف آئی اے کو چالان مکمل کرنے کیلئے 2 دن کی مہلت دے دی معاملہ 2022 سے چل رہا ہے ، آپ نے دلچسپی ہی نہیں لی، پراسیکیوٹر سے مکالمہ فارن فنڈنگ کسی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے نئی مشکل تیار ہوگئی۔بینکنگ کورٹ اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف غیر...

عمران خان کیلئے فارن فنڈنگ کیس میں نئی مشکل تیار

مضامین
5 فروری یومِ یکجہتی ٔکشمیر:عہدِ وفا کا دن وجود جمعرات 05 فروری 2026
5 فروری یومِ یکجہتی ٔکشمیر:عہدِ وفا کا دن

بلوچستان حملے اورسازشیں وجود جمعرات 05 فروری 2026
بلوچستان حملے اورسازشیں

سوال ہمیشہ طاقت کے لیے خطرہ ہوتا ہے ! وجود جمعرات 05 فروری 2026
سوال ہمیشہ طاقت کے لیے خطرہ ہوتا ہے !

صحافت کے نام پر ایک سیاہ دھبہ وجود بدھ 04 فروری 2026
صحافت کے نام پر ایک سیاہ دھبہ

ناقابل شکست وجود بدھ 04 فروری 2026
ناقابل شکست

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر