وجود

... loading ...

وجود

مصنوعی بارش،فائدہ یا نقصان

جمعرات 07 جون 2018 مصنوعی بارش،فائدہ یا نقصان

بلوچستان حکومت نے بڑھتی ہوئی خشک سالی اور پانی کی قلت کو دور کرنے کے لیے مصنوعی بارش برسانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں صوبائی حکومت نے ایک روسی کمپنی کی خدمات حاصل کی ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ بارش نہ ہونے کی وجہ سے صوبے میں مویشیوں اور زراعت کا شعبہ تنزلی کا شکار ہے۔ انہوں نے اسمبلی کو بتایا کہ روسی کمپنی بلوچستان میں سالانہ 300 ملی میٹر مصنوعی بارش برسانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ کمپنی کے سربراہ میکسم لاروف سے ملاقات کے بعد وزیراعلیٰ نے کمپنی کو گوادر میں تجربہ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ مصنوعی بارش کا تجربہ کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ دنیا بھر میں جہاں گرمی اور خشک سالی بڑھ رہی ہے، وہاں مصنوعی بارش برسانے کے تجربات میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ اسپین، آسٹریلیا، امریکا، فرانس اور متحدہ عرب امارات میں اس کے کامیاب تجربے کیے جاچکے ہیں۔ اس سلسلے میں ابوظبی میں ایک لق ودق صحرا میں موسلا دھار بارش برسا کر کامیاب تجربہ کیا جاچکا ہے۔

چین اس طرح کے تجربات میں سرفہرست ہے، جو باقاعدگی سے کھیتوں کو سیراب کرنے اور فضائی آلودگی کو ختم کرنے کے لیے مصنوعی بار ش کا اہتمام کرتا ہے۔ اس عمل کو cloud seeding کہا جاتا ہے۔ مصنوعی بارش کے لیے ہوائی جہاز کے ذریعے بادلوں کے اوپری حصے پر خشک برف، سوڈیم کلورائیڈ، سلور آئیوڈائیڈ اور دیگر کیمیکل چھڑکے جاتے ہیں، جو بادلوں میں برفیلے کرسٹلز بنا کر انہیں بھاری کردیتے ہیں۔ اس کے لیے ایک دوسرا طریقہ بھی استعمال کیا جاتا ہے، جس میں بادلوں کو کنٹرول کرکے مطلوبہ علاقے پر برسایا جاتا ہے۔ لیکن ان دونوں طریقوں کے لیے بہت زیادہ مہارت، خطیر رقم اور ٹیکنالوجی کی ضرورت ہوتی ہے۔ مصنوعی طریقوں سے برسات کا عمل بہت مہنگا ہوتا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2003 میں بھارت نے بنگلور کی اگنی ایوی ایشن کنسلٹنٹ فرم کو آندھرا پردیش میں مصنوعی بارش کرانے کا ٹھیکا دیا۔ 2ماہ تک یہ تجربہ کیا گیا، جس میں 8 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ اس کے بعد 2009 میں اسی فرم کو ٹھیکا دیا گیا۔ اس دوران 45 دن تک تجربہ کیا گیا، جس میں 48 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی بارش کے تجربے کے لیے ماحول کا سازگار ہونا انتہائی ضروری ہے۔ یہ تجربہ اسی وقت کامیاب ہو سکتا ہے جب آسمان میں بادلوں کی تہ 7 سے 10 ہزار فٹ موٹی ہو۔ فضا میں گرمی 5 ڈگری سیلسیس ہو، جب کہ رطوبت کا تناسب 70 سے 75 فی صد ہو۔ اس دوران ضروری ہے کہ ہوا کی رفتار 30 سے 50 کلو میٹر فی گھنٹہ ہو۔ مصنوعی بارش یا cloud seeding کے فوائد اپنی جگہ لیکن اس کے نقصانات سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔ دنیا میں جب بھی کوئی تجربہ کیا جاتا ہے تو اس کو آزمانے سے پہلے اس کا اینٹی ڈوٹ یا توڑ تیار کیا جاتا ہے۔ کلاؤڈ سیڈنگ کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ بادلوں کو کنٹرول کرکے برسایا تو جاسکتا ہے۔ لیکن جب وہ ایک دفعہ برسنا شروع ہوجائیں تو سیلاب آئے یا دریا میں طغیانی، ان کو روکنے کے لیے کوئی آلہ وضع نہیں کیا گیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان ہی میں اس طرح کا واقعہ پیش آچکا ہے۔ جون 1977ء میں کراچی میں شدید گرمی چھائی ہوئی تھی اور بادل برسنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ اس وقت کے صوبائی وزیر عبدالوحید کی ہدایات پر محکمہ زراعت کے 2 چھوٹے جہازوں کے ذریعے 28 اور 29 جون کو بادلوں پر کیمیکل چھڑکے گئے۔ اس کے بعد بارش کا سلسلہ شروع ہوا تو اگلے دن تک تھمنے کا نام نہیں لیا۔ اس بارش کے نتیجے میں ملیر اور لیاری ندی میں طغیانی آگئی اور کراچی کے مرکز کا اپنے ہی مضافاتی علاقوں سے رابطہ ختم ہوگیا تھا۔ جب کہ بارشوں کے نتیجے میں 400 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

اس عمل میں بہت سے کیمیکلز استعمال ہوتے ہیں، جن میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، کیلشیم کلورائیڈ، پوٹاشیم کلورائیڈ، سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ، ایلومینیم آکسائیڈ اور زنک شامل ہیں۔ تاہم ان میں سب سے زیادہ مہلک سلور آیوڈائیڈ ہے۔ تنزانیہ میں پانی اور انسانی مسائل پر تحقیق کرنے والی ڈاکٹر وکٹوریہ نگومو کا کہنا ہے کہ مصنوعی بارش سے بہت سے بیماریاں جنم لیتی ہیں، جن میں ایڈز، ملیریا، کینسر جیسے مہلک امراض شامل ہیں۔ یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کی تحقیق کے مطابق پانی میں حل نہ ہونے والا سلور آیوڈائیڈ ایک زہریلا مادہ ہے جو پانی کو آلودہ کردیتا ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ یہ کیمیکل انسانوں، مچھلیوں اور دیگر جانداروں کے لیے زہر کا درجہ رکھتا ہے۔ یہ کیمیکل جلد، سانس اور منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے۔ اس کی کم مقدار بھی نظام انہضام کی خرابی، گردوں اور پھیپھڑوں میں زخم کا سبب بنتی ہے، جب کہ اس کے ذریعے جلد پر سیاہ اور نیلے رنگ کے دھبے بھی پڑ جاتے ہیں۔ اگر اس کی مقدار بڑھ جائے تو اس سے معدے اور پیٹ میں شدید قسم کا انفیکشن ہوسکتا ہے جس کے بعد ہیضے جیسی علامات سامنے آتی ہیں۔ اس کے علاوہ دل کا بڑھنا اور نظام تنفس کا فیل ہونا اس کے اثرات میں شامل ہے۔ ان بیماریوں میں سب سے مہلک جلد کی ایک بیماری ہے، جسے argyria کہا جاتا ہے۔ اس بیماری میں جلد کا رنگ نیلا پڑتے پڑتے جامنی رنگ اختیار کرجاتا ہے اور انسان کسی اور سیارے کی مخلوق دکھائی دینے لگتا ہے۔

دوسری جانب جب یہی کیمیکلز زمین میں جاتے ہیں تو مٹی کو آلودہ کردیتے ہیں، جس کے بعد زمین کی پیداوار میں بھی بیماریاں سرایت کرجاتی ہیں۔ انہی وجوہ کی بنا پر آسٹریلیا میں کلاؤڈ سیڈنگ کا خیال یکسر مسترد کیا جاچکا ہے۔ ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ جھیلوں اور تالابوں میں سلور آیوڈائیڈ اور دیگر کیمیکلز کی وجہ سے آبی حیات algae تیزی سے بڑھ رہیں۔ اسے اردو میں کائی بھی کہا جاتا ہے۔صوبہ سندھ کا جائزہ لیا جائے تو 2000ء میں تھر کے علاقے میں مصنوعی بارش کا تجربہ کیا گیا تھا جو کامیاب رہا۔ اس کے بعد کئی تجربے کیے گئے جو ناکام رہے اور اس کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ مطلوبہ فضائی ماحول میسر نہ تھا۔ غور کیجیے کہ وہ کیمیکلز جو پانی کے ساتھ مل کر اتنے مہلک ہوتے ہیں، تجربہ ناکام ہونے کی صورت میں وہ براہ راست آب و ہوا پر اثر انداز ہوں گے تو بیماریوں کے پھیلنے کی رفتار کیا ہوگی۔ کراچی تو ویسے بھی گزشتہ دو سال سے گرین لائن اور دیگر رنگوں کے منصوبوں کی وجہ سے گرد وغبار سے اٹا پڑا ہے۔ جس کے سبب ہر دوسرا شخص سانس اور جلد کے امراض میں مبتلا نظر آتا ہے۔ اس کے ساتھ اگر فضا میں بکھرے ہوئے کیمیکلز بھی اپنا اثر دکھانا شروع کردیں تو خدشہ ہے کہ آنے والے وقتوں میں سانس کے امراض شرح اموات کی سب سے بڑی وجہ بن جائیں گے۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر