وجود

... loading ...

وجود

برطانیا پاکستان سے منی لانڈرنگ کاپسندیدہ مرکز

بدھ 06 جون 2018 برطانیا پاکستان سے منی لانڈرنگ کاپسندیدہ مرکز

برطانوی قومی کرائم ایجنسی (این سی اے) نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیاہے کہ برطانیا پاکستان سے منی لانڈرنگ کرنے والے کرپٹ سیاستدانوں اور تاجروں اور صنعت کار وں کاپسندیدہ مرکز بن چکاہے۔این سی اے اپنی رپورٹ میں منی لانڈرنگ کے ذریعہ ناجائرز دولت برطانیا منتقل کرنے والے دیگر نمایاں ملکوں میں روس اور نائجیریا کانام بھی سرفہرست قرار دیاہے۔

این سی اے نے سنگین اورمنظم جرائم کے حوالے سے اپنے سالانہ تجزیئے میں انکشاف کیاہے کہ بریگزٹ یعنی یورپی یونین سے علیحدگی کے فیصلے کے بعدبرطانیا میں سرمایہ کاری کے مواقع میں اضافہ ہواہے جس کی وجہ سے پاکستان کے کرپٹ سیاستدانوں اور تاجروں وصنعت کاروں کو اپنا کالا دھن منی لانڈرنگ کے ذریعہ برطانیا منتقل کرکے اسے منفعت بخش کاروبار میں لگانے کا ایک سنہر ا موقع مل گیا ہے۔

برطانیا کی قومی کرائم ایجنسی (این سی اے) نے سنگین اورمنظم جرائم کے حوالے سے اپنی سالانہ جائزہ رپورٹ میںلکھاہے کہ برطانیا اور خاص طورپر برطانیا میں پراپرٹی میں سرمایہ کاری لوٹی ہوئی دولت اور منی لانڈرنگ کا ایک پرکشش ذریعہ ہے ، رپورٹ کے مطابق برطانیا مارچ میں یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد برطانیا کے کاروبار میں تجارت کاحجم بڑھ جائے گا جس کے لیے سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی اور ہمارے خیال میں اس اضافی سرمایہ کاری کے لیے برطانوی تجارتی اداروں کو کرپٹ مارکیٹ خاص طورپر ترقی پذیر ممالک سے رابطے کرنا پڑسکتے ہیں جس سے یہ خطرہ بڑھ جاتاہے کہ وہ کرپٹ طریقہ کار اختیار کرکے کرپٹ ذرائع سے حاصل کی ہوئی دولت منی لانڈرنگ کے ذریعہ برطانیا منتقل کرنے کی کوشش کریں گے۔

برطانیا کی قومی کرائم ایجنسی (این سی اے) کی سالانہ رپورٹ بعنوان’’ سنگین اور منظم جرائم کا قومی تجزیہ برائے 2018 ‘‘
میںاین سی اے نے لکھاہے کہ ’’ برطانیا کرپٹ سیاسی افراد اور ان کی فیملی کے ارکان کی جانب سے منی لانڈرنگ کے لیے مقبول جگہ ہے جس کے ذریعے یہ لوگ برطانیا خاص طورپر لندن میں پراپرٹی میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔تاہم رپورٹ میں یہ نہیں بتایاگیاہے کہ برطانیا میں اس طرح کی سرمایہ کاری کاحجم کیا ہے،رپورٹ میں برطانیا میں کرپٹ عناصر کی جانب سے بھیجی گئی رقوم کا حجم نہیں بتایاگیا،رپورٹ میںمنی لانڈرنگ کرنے والے عناصر میں سے بیشتر کاتعلق روس ،پاکستان اورنائجیریا سے بتایا گیاہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایاگیاہے کہ بینکنگ، اکائونٹنگ اور قانون کے ایسے ماہرین موجود ہیں جو مجرمانہ طریقہ سے کمائی اور منی لانڈرنگ کے ذریعے منتقل کی گئی رقوم کو جائز بنانے کے راستے نکالتے ہیں ،جس کی وجہ سے یہ رقم دوبارہ مجرمانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ وکلا اور اکائونٹنٹس کی ایک ایسی پوری ٹیم بلکہ انڈسٹری موجود ہے جو ناجائز دولت کو چھپانے کے لیے اپنی خدمات پیش کرتے ہیں ،رپورٹ میں ناجائز دولت چھپانے کے لیے کام کرنے والی موزاک فون سیکا کو اس حوالے سے ایک تازہ مثال قرار دیاگیاہے۔

موزاک فونسیکا کی لیک ہونے والی ایک کروڑ15 لاکھ فائلوں میں 2 لاکھ14 ہزار ایسی آف شور کمپنیوں کی نشاندہی ہوئی جن کے مالکان میں پاکستان کے نااہل قرار دئے گئے سابق وزیر اعظم نواز شریف سمیت 12 موجودہ اور سابق سربراہان مملکت اورحکومت شامل ہیں ،ان میں سے آئس لینڈ کے وزیر اعظم نے رضاکارانہ طورپر استعفیٰ دیدیاتھا لیکن نواز شریف کو سپریم کورٹ پاکستان کے حکم پر زبردستی اقتدار سے بیدخل کیاگیا۔

رپورٹ میں تجارت کو منی لانڈرنگ کا سب سے بڑا ذریعہ قرار دیاگیاہے ،رپورٹ میں کہاگیاہے کہ تجارت کے ذریعہ منی لانڈرنگ ایک پیچیدہ عالمی مسئلہ اور برطانیا میں منی لانڈرنگ کا کلیدی طریقہ کار ہے۔ رپورٹ میں کہاگیاہے کہ صرف لالچی سیاستداں ہی نہیں بلکہ ترقی پذیر ممالک کے کرپٹ سرکاری افسران،منشیات فروش، دہشت گرد اور ہر طرح کے جرائم پیشہ عناصر اور تاجر بھی تجارتی انوائس میں ہیر پھیر اور جعلسازی کے ذریعہ منی لانڈرنگ کرتے ہیں۔

امریکا کے سابق انٹیلی جنس افسر جون اے کاسرا نے جو منی لانڈرنگ کے حوالے سے ماہر سمجھے جاتے ہیں امریکی کانگریس کی کمیٹی کو گزشتہ دنوں دشمن کے ساتھ تجارت کے موضوع پرسماعت کے دوران ایک تحریری بیان میں بتایاتھا کہ تجارت کے ذریعہ منی لانڈرنگ کا دہشت گردوں کی فنانسنگ یعنی مالی مدد فراہم کرنے کے لیے استعمال بڑھ گیاہے۔ ایوان کی مالیاتی سروسز سے متعلق کمیٹی میں بیان دیتے ہوئے اس نے بتایا تھا کہ 11 ستمبر کے حملوں کے بعد میں نے ایک پاکستانی تاجر سے ملاقات کی جس کے بارے میں کالے دھن کی بین الاقوامی منڈی اورغیر قانونی فنانس میں ملوث ہونے کی اطلاعات عام تھیں ،اس ملاقات کے دوران ہم نے مختلف امورپر بات چیت کی جس میں تجارت کے ذریعے منی لانڈرنگ ،دہشت گردوں کی مالی مدد ، رقم کی منتقلی، حوالہ ،جعلی انوائسنگ ، اور اشیا کی غلط مالیت کا اظہار شامل ہے ۔ بات چیت کے آخر میں اس نے مجھے دیکھا اور سوال کیا کہ مسٹر جون کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کے مخالفین آپ کے سامنے رقم منتقل کررہے ہیں، لیکن مغربی ممالک کو یہ نظر نہیں آتا اور آپ کے مخالفین اس پر آپ کامذاق اڑاتے ہیں۔

گلوبل فنانشیل انٹیگریٹی (جی ایف آئی) نے تجارتی غلط انوائسنگ، دھوکہ دہی کے ذریعہ اشیا کی قیمتوں میں ہیر پھیر ،یا اشیا کے معیار یا سروس کو غلط انوائسنگ اوررقم کی جلد ازجلد منتقلی کاذریعہ قرار دیاتھا۔ جون اے کاسرا نے غلط انوائسنگ کے طریقہ کار کے حوالے سے مثال دیتے ہوئے بتایا تھا کہ مثال کے طورپر پاکستان کاایک ایکسپورٹر 10 لاکھ ڈالر مالیت کی اشیا برآمد کرتاہے اور آف شور کے ایک درمیانی فرد کے ذریعہ اس کی مالیت 5لاکھ ڈالر ظاہر کرتاہے،درمیانی افسر خریدار سے 10لاکھ ڈالر وصول کرلیتاہے اور 5لاکھ ڈالر پاکستان بھیج دیتاہے اور بقیہ 5لاکھ ڈالر آف شور اکائونٹ میں جمع کرادیتاہے ۔ تاجر کے اس عمل سے پاکستان 5لاکھ ڈالر کے زرمبادلے سے محروم ہوجاتاہے۔ اسی طرح کوئی تاجر 10لاکھ ڈالر مالیت کی اشیا درآمد کرتاہے اور آف شور کے درمیانی فرد کے ذریعہ اس کی قیمت 15لاکھ ڈالر ظاہر کرتاہے اور اس طرح 5لاکھ ڈالر آف شور اکائونٹ میں جمع کرادئے جاتے ہیں،اور پاکستان 5لاکھ ڈالر کے زرمبادلے سے محروم ہوجاتاہے۔ اس طرح پاکستانی تاجر اور سرکاری افسر ملک کو دوطرفہ تجارت میں غلط انوائس کے ذریعے 10لاکھ ڈالر کے زرمبادلے سے محروم کردیتے ہیں۔ پاکستان کے کرپٹ تاجروں اورسرکاری افسروں کی اس کارستانی کے نتیجے میں پاکستان کا تجارتی خسارہ بڑھتا جارہاہے اور زرمبادلے کے ذخائر کم ہوتے جارہے ہیں اورپاکستان کو ایک دفعہ پھر کڑی شرائط پر بیل آئوٹ کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف کے پاس جانے پر مجبور ہونا پڑرہاہے۔

او ای سی ڈی کے تحت ٹیکس کے معاملات کی معلومات کے تبادلے کے تحت آف شور میں لوگوں کی جمع کردہ دولت کاسراغ ان کے اپنے وطن کے حوالے سے لگایا جاتاہے اگر کسی نے اقامہ لے رکھا ہے تو پھر اس کی دولت کاسراغ اس کو اقامہ دینے والے ملک کے شہری کے حوالے سے لگایاجائے گا یعنی اگر کسی پاکستانی نے دبئی کااقامہ حاصل کیاہوا ہے تو اس کی جمع کردہ دولت دبئی کے شہری کی دولت شمار کی جائے گی اور پاکستان کو اس کی دولت کی کوئی تفصیل نہیں مل سکے گی اس طرح اقامہ رکھنے والا حکومت کی گرفت سے صاف بچ نکلے گا۔قانون میں اس سقم کی وجہ سے دیگر ملکوں کااقامہ رکھنے والے کرپٹ سیاستداں اورسرکاری افسران کی چھپی ہوئی دولت کاسراغ لگاکر ان کی لوٹی ہوئی دولت واپس لاناممکن نہیں ہوگا،یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے بہت سے معروف سیاستدانوں ،بیوروکریٹس اورتاجروں نے مشرق وسطیٰ ،شمالی امریکا اوریورپ کے مختلف ممالک کی شہریت حاصل کی ہوئی ہے۔

ترقی پذیر ممالک کی آمدنی کابڑا ذریعہ ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی رقم ہوتی ہے ،لیکن تجارتی غلط انوائسنگ سے تجارتی خسارہ بڑھتا چلاجاتاہے اور جس کی وجہ سے بجٹ خسارے میں اضافہ ہوتا ہے اور حکومت کو ٹیکسوں میں چھوٹ کی رعایت کم یا ختم کرنا پڑتی ہے ۔سرمایہ دارانہ نظام کے بارے میں ایک کتاب کے مصنف ریمنڈ بیکر لکھتے ہیں کہ حکومت پاکستان کی آمدنی کابڑا ذریعہ کسٹمز ڈیوٹی ہے،جبکہ ڈیوٹی کی ادائیگی سے گریز یا ڈیوٹی کی چوری ایک قومی المیہ بناہواہے۔ ان ٹیکس چوروں کو آمدنی کے دائرے میں لانے کے لیے کسٹمز میں موجود کرپشن کامقابلہ کرنا ضروری ہے کیونکہ اسی طرح دولت مندوں کو ٹیکس کے دائرے میںلایاجاسکتاہے۔فی الوقت حقیقت یہ ہے کہ ملک کی معیشت کومستحکم کرنے کے دعویدار سپریم کورٹ سے نااہل قرار دئے گئے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے برسراقتدار آنے کے بعد پاکستان کی برآمدات میں نمایاں کمی ہوئی ہے جس کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ 2013 میں پاکستان میں نواز شریف کے برسراقتدار آنے سے قبل پاکستان کی برآمدی آمدنی 25ارب ڈالر کے مساوی تھی جو کہ نواز شریف کے دور میں کم ہوکر 2016-17 میں 20 ارب ڈالر رہ گئی تھی۔جس کی بڑی وجہ برسراقتدار سیاستدانوں کی مدد سے برآمد کنندگان کی جانب سے بڑے پیمانے پر انڈر انوائسنگ تصور کی جاتی ہے۔

سرمایہ کاری اورجی ڈی پی میں گہرا اور براہ راست تعلق ہے ،پاکستان سے دولت کی بیرون ملک منتقلی سے ملک مین سرمایہ کاری کم ہورہی ہے اور اقتصادی ترقی کی شرح کم ہوتی ہے، یہی صورتحال کم وبیش تمام غریب اور کم وسیلہ ممالک کے ساتھ ہے،ٹیکسوں سے ہونے والی آمدنی میں کمی سے تعلیم، صحت اور انفرااسٹرکچر پر اخراجات کم ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں سوشو اکنامک انڈیکیٹرز میں کمی ہوتی ہے ۔ مثال کے طورپر پاکستان میں سرمایہ کاری کی شرح جی ڈی پی کے 4فیصد کے مساوی ہے جو کہ معیشت کی شرح نمو سے ایک فیصد کم ہے ،سرمایہ کاری میں اس کمی کی وجہ سے پاکستان کی جی ڈی پی جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک سے کم ہے ،پاکستان سے آف شور کو دولت کی منتقلی میں کمی کی صورت میں پاکستان میں اقتصادی شرح نمو میں اضافہ ہوگا اور پڑوسی ممالک خاص طورپر بھارت اور بنگلہ دیش اور پاکستان کی شرح نمو میں فرق کم ہوجائے گا۔


متعلقہ خبریں


اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی وجود - هفته 07 فروری 2026

خودکش حملہ آور نے گیٹ پر روکے جانے پر دھماکا کیا، متعدد زخمیوں کی حالت نازک، اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ،صدروزیراعظم کی مذمت،تحقیقات کا حکم وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ...

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری وجود - هفته 07 فروری 2026

جس نے خودکش دھماکا کیا اس کی معلومات مل گئی ہیں، ہوسکتا 72 گھنٹوں میں انجام تک پہنچائیں، وزیرمملکت داخلہ وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ امام بارگارہ دھماکا خودکش تھا، حملہ آور کی معلومات مل گئی ہیں اور افغانستان کا کتنی دفعہ سفر کیا اس کی تفصیلات بھی آگئی ہیں۔وزیر ...

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول وجود - هفته 07 فروری 2026

عمران خان نے دائیں آنکھ میں نظر کی کمی کی شکایت کی اور ان کی رضامندی سے علاج کیا گیا،پمز اسلام آباد کے سینئر اور مستند ماہر امراض چشم نے اڈیالہ جیل میں آنکھوں کا مکمل معائنہ کیا،ایگزیکٹو ڈائریکٹر معائنے میں سلٹ لیمپ معائنہ، فنڈواسکوپی، آنکھ کے اندرونی دباؤ کی پیمائش، ضروری ...

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو وجود - هفته 07 فروری 2026

قوم کو نفرت، انتہاپسندی، اور دہشتگردی کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا، چیئرمین حکومت عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات کو یقینی بنائے،شدیدمذمت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں امام بارگاہ و مسجد میں دہشتگردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذ...

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی وجود - هفته 07 فروری 2026

9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، بند کمروں میں فیصلوں سے بہت نقصانات ہوئے غلط پالیسیوں سے یہاں امن قائم نہیں ہو رہا اور ہم دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پولیس پر 9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، پولیس کو سیاست میں مت گھ...

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی

بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا،شہبازشریف وجود - جمعه 06 فروری 2026

معرکہ حق میں شاندار فتح سے کشمیر کا مسئلہ پوری دنیا میں اجاگر ہوا،وزیراعظم جلد کشمیر کی آزادی ممکن ہوگی ، کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا، معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت پراکی...

بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا،شہبازشریف

احتجاج اور جلسے کی اجازت، سڑکیں بند کرنے نہیں دینگے، وزیراعلیٰ سندھ وجود - جمعه 06 فروری 2026

آزادی اظہاررائے کی آڑ میںعوام کو تکلیف پہنچانے نہیںدیں گے،سیدمراد علی شاہ احتجاج کیلئے کئی مقامات ہیں، مرکزی سڑکوں پر احتجاج نہیں کیا جاسکتا، میڈیا سے گفتگو وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہر شخص کو احتجاج اور جلسے جلوسوں کی اجازت ہے لیکن آزادی اظہار رائے کی آڑ میں ک...

احتجاج اور جلسے کی اجازت، سڑکیں بند کرنے نہیں دینگے، وزیراعلیٰ سندھ

8فروری کے دن پی ٹی آئی کو کوئی حرکت نہیں کرنے دیں گے ،وزیر داخلہ سندھ وجود - جمعه 06 فروری 2026

کسی کو بھی کراچی بند کرنے کی اجازت نہیں، شہر قائد ملک کا معاشی مرکز ہے اس کا پہیہ چلتا ہے تو ملک چلتا ہے،ضیا لنجار پیر محمد شاہ پر لگے الزامات کی انکوائری جاری ہے، رپورٹ آنے سے پہلے کچھ کہنا مناسب نہیں ہے،میڈیا سے گفتگو وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے پاکستان تحریک انصاف (...

8فروری کے دن پی ٹی آئی کو کوئی حرکت نہیں کرنے دیں گے ،وزیر داخلہ سندھ

پاکستان اورآزاد کشمیر سمیت دنیا بھرمیںیومِ یکجہتی کشمیر کی گونج وجود - جمعه 06 فروری 2026

ملک بھر میںکشمیریوں سے غیر متزلزل حمایت کا عہد، شہدا کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی آزاد کشمیر اور پاکستان کو ملانے والے مختلف مقامات پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بھی بنائی گئی پاکستان ، آزاد کشمیر ، گلگت بلتستان اور دنیا بھر میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے جدوجہد آزادی میں مصروف ...

پاکستان اورآزاد کشمیر سمیت دنیا بھرمیںیومِ یکجہتی کشمیر کی گونج

آج دنیا بھر میں یومِ یکجہتی کشمیر کی گونج سنائی دے گی، تیاریاں مکمل وجود - جمعرات 05 فروری 2026

پاکستان اور جموں وکشمیر کے اٹوٹ رشتے کی تجدید، دنیا کشمیریوں کی پکار سنے گی پاکستان اور آزاد کشمیر میںجوش و خروش سے جلسے ، جلوسوں ، ریلیوں کا انعقادکیا جائیگا پاکستان، آزاد جموں وکشمیر اور دنیا بھر میںآج یوم یکجہتی کشمیر جوش و خروش سے منایا جائے گا جسکا مقصد بھارتی ظلم ستم...

آج دنیا بھر میں یومِ یکجہتی کشمیر کی گونج سنائی دے گی، تیاریاں مکمل

جے یو آئی کا 8 فروی کو یوم سیاہ منانے کا اعلان وجود - جمعرات 05 فروری 2026

ہر شہر میں جلسے منعقد کیے جائیں اور ریلیاں نکالی جائیں، مولانا عبدالغفور حیدری 8 فروری کا الیکشن قوم کیلئے ناقابل قبول ، عوامی مینڈیٹ پر کھلا ڈاکا ہے،بات چیت جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ایف) نے 8 فروی کو یوم سیاہ منانے کا اعلان کر دیا۔ اس حوالے سے مرکزی سیکریٹری جنرل جمعیت...

جے یو آئی کا 8 فروی کو یوم سیاہ منانے کا اعلان

رمضان المبارک کی آمدسے قبل مہنگائی میں اضافہ وجود - جمعرات 05 فروری 2026

آٹا، چکن، مصالحے،بیکری آئٹمز، دودھ سمیت بیشتر اشیاء مزید مہنگی کر دی گئیں پھلوں کی 2۔28 اور مصالحہ جات کی 2 فیصدقیمتوں میں اضافہ ریکارڈکیا گیا رمضان المبارک کی آمدسے قبل مہنگائی میں اضافہ، آٹا، چکن، مصالحے،بیکری آئٹمز، دودھ سمیت بیشتر اشیاء مزید مہنگی کر دی گئیں۔ تفصیلات...

رمضان المبارک کی آمدسے قبل مہنگائی میں اضافہ

مضامین
مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈا وجود هفته 07 فروری 2026
مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈا

روٹی یا شعور۔۔۔؟ وجود هفته 07 فروری 2026
روٹی یا شعور۔۔۔؟

8فروری کی کال اور پی ٹی آئی کے مفاد پرست وجود هفته 07 فروری 2026
8فروری کی کال اور پی ٹی آئی کے مفاد پرست

دہشت گرد تنظیم بجرنگ دل مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندی کی منظم قوت وجود هفته 07 فروری 2026
دہشت گرد تنظیم بجرنگ دل مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندی کی منظم قوت

جنوبی ہندوستان کے مسلمان شاہراہ ترقی پر کیسے ؟ وجود هفته 07 فروری 2026
جنوبی ہندوستان کے مسلمان شاہراہ ترقی پر کیسے ؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر