... loading ...
رمضان المبارک میں طرح طرح کی برکات نظر آتی ہیں۔ ہر روزہ دار کے اندر ایک ایمانی جوش و ولولہ نظر آتا ہے، مرد حضرات ہوں تو وہ اپنی ملازمت اور کاروبار کے معمولات کے بعد افطاری اور سحری کی تیاری کیلیے خریداری کرتے ہیں، مسجد میں جا کر عبادات میں وقت صرف کرتے ہیں، درس و تدریس کی محافل میں بھی بیٹھتے ہیں ، پھر گھر میں بھی تلاوتِ کلامِ پاک کرتے ہیں۔ اسی طرح خواتین پر بھی گھرکے کام کاج کا بوجھ بڑھ جاتا ہے انہیں سحری افطاری کے اہتمام کے ساتھ عبادات بھی کرنی ہوتی ہیں اور اگر وقت ملے تو ٹی وی پر دینی معلومات کے پروگرام بھی دیکھ لیتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عید کی تیاری بھی کرتی ہیں۔ بھوک و پیاس کی تکلیف برداشت کرتے ہوئے ان سب اضافی کاموں کو لوگ بخوشی سر انجام دیتے ہیں اور ہر شخص کے چہرے پر ایک رونق نظر آتی ہے اسے رمضان المبارک کی برکات نہیں تو اور کیا کہا جا سکتا ہے۔ ان سب کاموں کے ساتھ رمضان المبارک گزارتے ہوئے ہمیں چند کام اور بھی کرنے ہیں۔ بس ہمیں اپنے شب و روز میں سے روزانہ دس سے پندرہ منٹ نکالنے ہوں گے اور تنہائی میں بیٹھ کر اپنا احتساب کرنا ہو گا بے شک آپ اس کیلیے اپنے ساتھ ایک ڈائری بھی رکھ لیں۔ اپنے آپ سے چند سوالات پوچھیں اور لکھتے بھی جائیں۔
سب سے پہلے یہ سوال لکھیں کہ آپ کیسی زندگی گزار رہے ہیں یعنی اپنے وقت کو کن کاموں پر صرف کرتے ہیں؟ پھر جواب تحریر کریں اسی طرح یہ سوال کہ حقوق اللہ میں فرائض ، واجبات اور سنتوں کی ادائیگی آپ کس حد تک کر رہے ہیں؟ کیاآپ دین کے دیگر احکامات کے مطابق اپنی زندگی گزار رہے ہیں؟ مثلاً روزگار میں حرام اور حلال کا خیال رکھتے ہیں؟ کہیں کوئی برا فعل آپ کی روزی کو حرام تو نہیں کر رہا؟آ پ نے کسی کے مال و جائیداد پر ناجائز قبضہ تو نہیں کیا ہوا؟ حقوق العباد کے حوالے سے سوچیں کہ کہیں آپ اپنے کسی عزیز، رشتہ داریا محبت کرنے والے سے تعلق توڑے ہوئے تو نہیں؟ کسی سے حسد کینہ اور بغض میں مبتلا تو نہیں؟ آپ کے اندر انسانی ہمدردی کس حد تک موجود ہے؟ لوگوں کی تکلیف آپ کو کتنا غمزدہ کر دیتی ہے؟ کہیں آپ نرمی کی صفت سے محروم تو نہیں؟ اس بات پہ بھی غو ر کریں کہ آپ نے کہیں رشتہ داروں کی تخصیص تو نہیں کر رکھی ؟ کیا آپ سب کے ساتھ برابری کا سلوک کرتے ہیں؟آپ اپنے طرزِعمل سے کسی کی تذلیل تو نہیں کرتے؟ آفس ،گھر یا خاندان میں لوگوں کی بے عزتی کرنے میں آپ تسکین تو محسوس نہیں کرتے؟ اگر آپ خاتون ہیں تو اس بات پر بھی اپنا احتساب کریں کہ اپنے گھر یا خاندان میں ساس، بہو یا نند کے رشتے میں آپ کسی سے زیادتی تو نہیں کرتیں؟ آپ کا وجود کسی کے لیے تکلیف کا باعث تو نہیں ہے یا آپ سے کسی کی حق تلفی تو نہیں ہو رہی؟ روز انہ اپنا احتساب کریں۔ اپنا سارا طرزعمل نوٹ کریں۔ پھر اپنے اس طرز عمل کے حوالے سے دین کی تعلیمات پر نظر ڈالیں۔
اگر آپ دین کی تعلیمات سے زیادہ واقف نہیں ہیں تو دین کو جاننے والوں سے پوچھیں یعنی مستند علماء مشائخ سے پوچھیں اور اگر آپ کا ایسے کسی شخص سے رابطہ نہ ہو سکے تو کم از کم انٹرنیٹ پر مستند علما ء کا انسانی طرزعمل کے حوالے سے درس سنیں اور پھر غور کریں کہ آپ اپنی عملی زندگی میں دین سے کتنا قریب یا دور ہیں؟آپ نے کتنا کچھ غلط کیا؟ جب آپ اچھی طرح یہ جان لیں تو پھر اپنی اصلاح کرنا شروع کر دیں اور سارا سال اس کی کوشش کرتے رہیں، اگر آپ حقوق اللہ میں کمی کوتاہی کر رہے ہیں تو اسے پوری کرنے کی بھرپور کوشش کریں۔ اسی طرح اگر لوگوں کے ساتھ معاملات میں آپ درست نہیں ہیں اورآپ نے لوگوں سے بہت زیادتیاں کیں ہیں توفوراً دو کام کرنے کا پکا ارادہ کریں ایک یہ کہ پہلے اس غلطی کی تلافی کریں اور پھر صدق دل سے ندامت کے ساتھ متعلقہ شخص سے معافی مانگیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ سے بھی معافی طلب کریں۔ حقوق العباد کے بارے میں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اگر آپ نے اس میں کو ئی کمی یا کوتاہی کی ہے تو پھر یہ صرف سوری، توبہ اور اپنی اصلاح کر لینے سے معاف نہیں ہوتے بلکہ آپ کو اس کے لیے اس شخص سے معافی مانگنی ہوتی ہے اور تلافی کرنا ہوتی ہے۔ اگر وہ شخص دل سے معاف کردے تو اللہ تعالیٰ رحیم و کریم ذات ہے اس سے امید ہے کہ وہ معاف کر دے گا۔ رمضان المبارک گزارنے میں اس خود احتسابی کے عمل پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...
میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...
ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...
منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...
رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...
ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...
81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...
عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...
تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...
پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...
حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...
امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...