وجود

... loading ...

وجود

نوازشریف کے خلاف غداری کے مقدمے کے لیے درخواست دائر

منگل 15 مئی 2018 نوازشریف کے خلاف غداری کے مقدمے کے لیے درخواست دائر

سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے ایک انٹرویو میں ممبئی حملوں کا ذمہ دار کالعدم پاکستانی تنظیموں کو قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف مقدمے کی کارروائی مکمل نہ ہونے کا جو بیان دیا اس پر سیاسی قیادت نے نہایت سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملک دشمن بیان بھی قرار دیا ہے۔ سابق وزیرداخلہ چودھری نثار نے وضاحتی بیان میں کہا کہ کیس بھارتی ہٹ دھرمی اور عدم تعاون کی وجہ سے ہنوز زیرالتوا ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ ممبئی حملوں کے فوراً بعد بھارت نے اس کا الزام پاکستان پر لگا کر اسے عالمی سطح پر بدنام کرنے کی بھرپور کوشش کی اور اس میں کامیاب بھی رہا۔ پاکستانی حکومت نے ان حملوں کی تحقیقات کے لیے بھارتی حکومت سے ہرممکن تعاون کی پیشکش کی جو بھارتی ہٹ دھرمی اور عدم تعاون کی وجہ سے ممکن نہیں ہو سکی۔ بھارت نے پاکستانی تحقیقاتی ٹیم کو بھارت آکر مرکزی کردار اجمل قصاب سے ملاقات اور پوچھ گچھ کی اجازت نہیں دی۔ ان حملوں کے حوالے سے کوئی ثبوت اور شواہد پاکستان کے سپرد نہیں کیے گئے۔ الٹا ان حملوں میں ملوث اجمل قصاب کو فوری طورپر پھانسی دیدی گئی حالانکہ بھارت میں ہزاروں پھانسی کے مقدمات برسوں سے زیرسماعت ہیں۔ یوں بھارت نے اہم مرکزی کردار کو پھانسی دیکر تمام ثبوت ضائع کر دیئے۔ اب سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی طرف سے ممبئی حملوں پر ان کے بیان کو لیکر بھارتی میڈیا ایک بار پھر پاکستان کے خلاف زہر اگل رہا ہے اور شور مچا رہا ہے کہ سابق پاکستانی وزیراعظم نے بھی ان حملوں میں پاکستانی کالعدم تنظیموں کا کردار تسلیم کر لیا ہے حالانکہ خود بھارت نے پٹھان کوٹ اور اوڑی پر حملوں کے الزام پاکستان پر عائد کر کے بعدازاں خفت مٹانے کے لیے واپس لیے تھے۔

پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین نے بھی سابق وزیراعظم کے بیان کو ملک دشمنی سے تعبیر کیا ہے۔ میاں نوازشریف پاکستانی سیاست کا ایک اہم اور معتبر نام ہیں۔ وہ تین مرتبہ وزیراعظم رہ چکے ہیں۔ ان کی طرف سے ایسے غیر ذمہ دارانہ بیان کی توقع نہیں تھی۔ اس طرح پاکستان دشمنوںکو انگلیاں اٹھانے کا موقع مل گیا ہے۔ پاکستان اس وقت پہلے ہی سیاسی تنہائی کا شکار ہے۔ سفارتی محاذ پر ہم بھارتی چالاکیوں اور الزام تراشیوں کا مقابلہ کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں ۔ ان حالات میں میاں وازشریف کے اس غیر ذمہ دارانہ بیان کو بھارت جس طرح اچھال رہا ہے اس سے بیرون ملک پاکستان کی ساکھ متاثر ہوگی۔ صرف یہی نہیں خود پاکستان میں ان کی پارٹی مسلم لیگ (ن) کی ساکھ اور مقبولیت متاثر ہوسکتی۔

سابق نااہل وزیراعظم کی جانب سے دیئے گئے بیان پرعسکری قیادت کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیاہے۔اس حوالے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کے 22ویں اجلاس میں ممبئی حملے سے متعلق سابق وزیراعظم نواز شریف کا بیان گمراہ کن قرار دے دیا گیا۔وزیرِاعظم ہاؤس میں ہونے والے اس اجلاس میں وزیرِ دفاع اور خارجہ خرم دستگیر، وزیرِ خزانہ مفتاح اسمٰعیل اور مشیرِ قومی سلامتی امور لیفٹننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ سمیت اعلیٰ عسکری قیادت بھی شریک ہوئی۔

اجلاس میں جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان اور چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل ظفر محمود عباسی موجود تھے۔اس کے علاوہ اجلاس میں پاکستان کی سیکیورٹی ایجنسیز انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) سمیت دیگر اداروں کے سربراہان بھی شریک تھے۔ اجلاس کے کچھ دیر بعد اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں سابق وزیرِاعظم نواز شریف کی جانب سے ممبئی حملوں سے متعلق بیان کو متفقہ طور پر گمراہ کن اور بے بنیاد قرار دیا۔اعلامیے کے مطابق شرکا نے الزامات کو متفقہ طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیرِ اعظم کے بیان سے جو رائے پیدا ہوئی ہے وہ حقائق کے بالکل برعکس ہے۔

اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ ممبئی حملہ کیس کی تاخیر کی وجہ پاکستان نہیں بلکہ خود بھارت ہے جس نے نہ صرف ٹرائل کو حتمی شکل دیے بغیر غیر ضروری طور پر ملزم کو پھانسی دے دی، بلکہ پاکستان کو اجمل قصاب تک رسائی دینے کی درخواست بھی مسترد کردی تھی۔اجلاس میں یہ عزم دہرایا گیا کہ پاکستان تمام سطح پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان مسلسل کلبھوشن یادیو اور سمجھوتہ ایکسپریس واقعے پر بھارت کے تعاون کا انتظار کررہا ہے۔

دوسری جانب پاکستان عوامی تحریک نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کے لیے ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی۔پاکستان عوامی تحریک کے رہنما خرم نواز گنڈا پور کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں نواز شریف کے خلاف غداری کے مقدمے کے لئے درخواست جمع کرائی گئی۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ نواز شریف نے پاکستان اور قومی اداروں کو بدنام کیا اور ممبئی حملوں سے متعلق ان کا حالیہ بیان غداری کے مترادف ہے۔ درخواست گزار نے استدعا کی کہ نواز شریف کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے۔

دوسری جانب سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کی جانب سے 2 قراردادیں بھی جمع کرادی گئیں۔قراردادیں اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید اور ڈاکٹر مراد راس کی جانب سے جمع کرائی گئیں جس میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف کلبھوشن اور مقبوضہ کشمیر میں مظالم پر خاموش اور ریاست کے خلاف زہر اگل رہے ہیں۔میاں محمود الرشیدکے مطابق نواز شریف کا بیانیہ پاکستان کو عالمی دبائو میں لانے کی مکروہ کوشش ہے، ریاستی ادارے قابل احترام اور ملکی تحفظ کے ضامن ہیں۔تحریک انصاف نے مطالبہ کیا کہ نواز شریف غداری کے مرتکب ہوئے ہیں اس لیے ان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت ٹرائل کیا جائے۔


متعلقہ خبریں


مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا بل ترک پارلیمنٹ میں پیش وجود - جمعرات 22 اکتوبر 2026

ترکیہ، پاکستان اور سعودیہ میں سے کسی پربھی حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، ذرائع ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا بل ترک پارلیمنٹ میں پیش کردیا گیا۔ذرائع کے مطابق معاہدے کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ اتحاد مستقل نوعیت کا ہوگا اور کوئی...

مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا بل ترک پارلیمنٹ میں پیش

سعودی عرب میں آئل فیلڈ پر ڈرون حملے میں 2 غیر ملکی ہلاک ،2زخمی وجود - جمعرات 22 اکتوبر 2026

سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں چار ڈرونز کو تباہ کر دیا،ترجمان اتحادی فوج سعودی عرب میں تعینات امریکی حکومت کے غیرہنگامی عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم سعودی عرب نے حوثیوں کی جانب سے آئل فیلڈ پر داغے گئے ڈرونز کو فضا میں تباہ کرنے کا دعوی کیا ہے۔ جبکہ سعودی ف...

سعودی عرب میں آئل فیلڈ پر ڈرون حملے میں 2 غیر ملکی ہلاک ،2زخمی

شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود - جمعرات 22 اکتوبر 2026

افغانستان میں لیتھیم، نایاب ارضی عناصر، تانبا، کوبالٹوسمیت 30 سے زائد معدنیات موجودہیں، رپورٹ  شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پر کنٹرول،آمدنی کی تقسیم اور مقامی حقوق سے متعلق تنازعات بدامنی اور تشدد کو ہوا دے رہے ہیں،جبکہ کان کنی کے شعبے میں شفافیت اور مالی نگرانی کا فقد...

شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

سائبیریا کے مہمان پرندوں کی کراچی آمد شروع، ساحلوں اور جھیلوں کی رونقیں بڑھ گئیں وجود - جمعرات 22 اکتوبر 2026

ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کرکے آنے والے مہمان پرندوں نے سی ویو، ہاکس بے اور رشین بیچ سمیت سندھ کی جھیلوں کا رخ کرلیا سرد ترین علاقے سائبیریا سے ہجرت کرکے آنے والے مہمان پرندوں کی کراچی سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا، جس سے ساحلی علاقوں اور آبی ذخائر کی رو...

سائبیریا کے مہمان پرندوں کی کراچی آمد شروع، ساحلوں اور جھیلوں کی رونقیں بڑھ گئیں

ہر تیسرا گریجویٹ بے روزگار، مجموعی تعداد 80 لاکھ، 24 سالوں کے نوجوانوں کی تعداد زیادہ وجود - جمعرات 22 اکتوبر 2026

ملک میں ہر سال 4 لاکھ 50 ہزار سے 8 لاکھ ڈگری ہولڈرز فارغ التحصیل ہوتے ہیں، پی آئی ڈی ای ملک میں نوجوان گریجویٹس کے لیے روزگار کا حصول سنگین چیلنج بن چکا ہے۔ ہر سال تقریباً 4 لاکھ 50 ہزار سے 8 لاکھ ڈگری ہولڈرز تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں، جن میں سے 31 سے 33 فیصد تک ب...

ہر تیسرا گریجویٹ بے روزگار، مجموعی تعداد 80 لاکھ، 24 سالوں کے نوجوانوں کی تعداد زیادہ

راجن پور میں تیز رفتار مسافر بس کو حادثہ، 10 افراد جاں بحق،37 زخمی وجود - بدھ 21 اکتوبر 2026

واقعہ راجن پور میں انڈس ہائی وے بنگلہ ہدایت کے قریب پیش آیا جہاں تیز رفتار بس ڈیوائیڈر سے ٹکرا کر الٹ گئی، ریسکیووزیرِ اعلیٰ مریم نواز کا بس حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار،زخمی مسافروں کے بہترین علاج کا حکم راجن پور میں صبح سویرے سویرے انڈس ہائی وے پر س...

راجن پور میں تیز رفتار مسافر بس کو حادثہ، 10 افراد جاں بحق،37 زخمی

بے نامی اکاؤنٹس ، ضمیر عباسی کی درخواست پر فریقین کو نوٹس وجود - بدھ 21 اکتوبر 2026

ایک مقدمے میں ضمانت کے بعد دوسرے کیس میں گرفتار کیا گیا، درخواست گزار کے وکیل کا مؤقف سندھ ہائی کورٹ نے بے نامی اکاؤنٹس کے ذریعے خورد برد کے مقدمے میں سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کی درخواست پر تفتیشی افسر اور سرکاری وکیل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین سے 2 نومبر تک جواب طل...

بے نامی اکاؤنٹس ، ضمیر عباسی کی درخواست پر فریقین کو نوٹس

اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے رات گئے ایران کی جانب پرواز کی، امریکی میڈیا وجود - بدھ 21 اکتوبر 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایرانی حکومت کے خاتمے کی اہمیت پر گفتگو ہوئی، اسرائیلی وزیراعظم اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے رات گئے ایک فوجی مشق کے دوران ایران کی جانب پرواز کی ہے۔ امریکی میڈیا فوکس نیوز کے چیف فارن کوریسپونڈنٹ ٹری ینگسٹ نے کہا ہے کہ اسرائیلیوں نے رات گئے فوجی مشق کی، ج...

اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے رات گئے ایران کی جانب پرواز کی، امریکی میڈیا

امریکا کے لیے پاکستان کے ساتھ تعلقات قائم رکھنا ضروری ہے،مارکوروبیو وجود - بدھ 21 اکتوبر 2026

دہشت گردی کے خلاف ہیں،،ایران کے ساتھ امن معاہدہ طے کرنا انتہائی مشکل ہے، گفتگو امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ طے کرنا انتہائی مشکل ہے۔ امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک تہران آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نش...

امریکا کے لیے پاکستان کے ساتھ تعلقات قائم رکھنا ضروری ہے،مارکوروبیو

خیبر پختونخوا میں گورنر راج و ایمرجنسی کیخلاف کیس، اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری، جواب طلب وجود - منگل 20 اکتوبر 2026

صوبائی حکومت کی اجازت کے بغیر گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ نہیں کی جا سکتی، سلمان اکر م راجہ کے ریمارکس وزیرِ اعلیٰ کے پی کی گرفتاری کے خلاف ہر جگہ آواز اٹھائیں گے، ہماری لیڈرشپ کو رہا کیا جائے، بیرسٹر گوہر ہمارے اراکین کو اٹھایا جا رہا ہے، صوبے کے اندر بے امنی کا کہا گیا او...

خیبر پختونخوا میں گورنر راج و ایمرجنسی کیخلاف کیس، اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری، جواب طلب

چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچ گئے وجود - منگل 20 اکتوبر 2026

مقصد پاکستان اور ایران کے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا اور تعاون میں اضافہ کرنا ہے، ایرانی حکام پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران دورے پر پہنچے ہیں۔ایرانی حکام کے مطابق ان کے دورے کا تعلق ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات سے بھی ہے...

چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچ گئے

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت کے سمری پر دستخط وجود - اتوار 11 اکتوبر 2026

 مولانا فضل الرحمان کے ذریعے مذاکرات کی آخری کوشش بھی ناکام ہوگئی وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کردیا گیا، صدر مملکت آصف علی زرداری نے سمری پر دستخط کردیے ہیں۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں سلامتی کی صورتح...

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت کے سمری پر دستخط

مضامین
ریاستیں یوں بھی تباہ ہوئیں! وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
ریاستیں یوں بھی تباہ ہوئیں!

جین زی انقلاب کی دستک، مودی حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
جین زی انقلاب کی دستک، مودی حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی

عالمی سیاست میں مفاد کی اہمیت وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
عالمی سیاست میں مفاد کی اہمیت

افغانستان، عالمی امن کیلئے مستقل خطرہ وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
افغانستان، عالمی امن کیلئے مستقل خطرہ

مہنگائی کا جن قابو سے باہر، غریب محنت کش خاندانوں کا کڑا امتحان وجود پیر 12 اکتوبر 2026
مہنگائی کا جن قابو سے باہر، غریب محنت کش خاندانوں کا کڑا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر