وجود

... loading ...

وجود

ساز بازکرنے والوں کے طریقے!

پیر 14 مئی 2018 ساز بازکرنے والوں کے طریقے!

زندگی میں ایسے افراد سے واسطہ پڑتارہتا ہے جو ساز باز اور جوڑ توڑ کے عادی ہوتے ہیں۔ وہ اپنے مقاصد جن میں طاقت، اختیار، کنٹرول ، سرمایہ یا مراعات کا حصول شامل ہیں، دوسروں کے ذہنوں اور جذبات سے کھیلتے رہتے ہیں۔ موجودہ دور میں مسابقت بہت زیادہ ہے۔ ایک دوسرے سے ا?گے نکلنے کی دوڑ جاری ہے۔ تاہم جوڑ توڑ اور ساز باز کرنے والوں کے ساتھ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ سبقت لینے کے لیے وہ زیادہ تر منفی طریقے ا?زماتے ہیں۔ کامیاب سازشی وقت کے ساتھ اس کام میں خاصے ماہر ہو جاتے ہیں۔ وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ اس سے دوسرے کا نقصان چاہے ہو جائے لیکن انہیں فائدہ پہنچے گا۔ ساز باز سے ملنے والی ابتدائی کامیابیاں ان کے رویے کو پختہ بنا دیتی ہیں۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ دوسروں کے ذہنوں کو متاثر کرنے اور اپنا مفاد پانے کے لیے وہ کون سے طریقے آزماتے ہیں۔ ذیل میں جو طریقے بیان کیے گئے ہیں ان میں سے کبھی ایک دو اور کبھی بیشتر آزمائے جاتے ہیں۔ ساز باز کرنے والے اپنے ہدف کو احساس کمتری میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ وہ انہیں باورکراتے ہیں ا?پ تو ہیں ہی نالائق!یوں دوسرا اپنی ذات کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اگر کسی فرد کے بارے میں مسلسل منفی رائے دی جائے اور اس پر تنقید کی جائے اور وہ بھی سرعام، تو وہ شرمندہ ہو گا یا بے عزتی محسوس کرے گا۔ دوسرے کی مذاق میں بھی تذلیل کی جاتی ہے اور اس کے دوستوں یا ملنے جلنے والوں کی نظروں میں بھی اسے گرایا جاتا ہے۔ ایسے اشارے بھی دیے جاتے ہیں جن سے وہ غیر محفوظ محسوس کرے۔ مثال کے طور پر ملازمت کے بارے میں عدم تحفظ کا احساس دلانا۔ ساز باز کا ’’فن‘‘ صرف یہاں تک محدود نہیں، یہ خاصا وسیع ہے۔ دوسرے کے جذبات سے ’’مثبت‘‘ انداز میں بھی کھیلا جاتا ہے تاکہ اپنے مفادات کے حصول کے لیے اس سے رشتہ قائم کیا جا سکے۔ مثال کے طور پر اس کی انا کو بہت زیادہ تکریم دے کر تسکین پہنچائی جاتی ہے۔ جھوٹی موٹی تعریفیں کی جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ فلرٹ کیا جاتا ہے۔ یا پھر کسی کام میں مدد کرنے کی آفر کی جاتی ہے۔ چہرے سے اچھے اچھے جذبات کا اظہار کیا جاتا ہے، مثلاً مسکراہٹ کے ساتھ ملنا، گرم جوشی سے ہاتھ ملانا وغیرہ۔

ایک طریقہ ہدف بنائے گئے فرد کے بارے میں دوسروں کے ادراک پر اثر انداز ہونا ہے تاکہ اس پر کنٹرول پایا جا سکتے۔ اس مقصد کے لیے اس کے بارے میں سفید جھوٹ بولا جاتا ہے یا سچ میں جھوٹ کی ملاوٹ کر دی جاتی ہے۔ کبھی کم اہم باتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کر دیا جاتا ہے اور کبھی اہم باتوں کو گھٹا کر سامنے لایا جاتا ہے۔ یعنی حقائق بیان کرنے یا رائے دینے میں تعصب کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔ ساز باز کرنے والوں کے کچھ گْر تھوڑے مشق طلب ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر اپنی ’’دکھ بھری‘‘داستانیں سنا کر ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔ صورت حال کو ڈرامائی رنگ دے دینا جس سے دوسرا متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ اس کام کے لیے چرب زبانی اور اداکاری معاون ثابت ہوتے ہیں۔ مگر کچھ افراد سیدھا سیدھا اپنے مقام کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جارحیت کرتے ہیں۔ ان میں ذہنی دباو? میں مبتلا کر نا، غصہ ظاہر کرنا، مالی نقصان پہنچانا یا سخت قواعد و ضوابط کا پابند کرنا شامل ہے۔ دنیا میں ساز باز کرنے والے ہمیشہ کامیاب نہیں ہوتے۔ کئی بار انہیں منہ کی بھی کھانی پڑتی ہے اور وہ اپنے دام میں خود ہی آ جاتے ہیں۔

اس کی بہت سی وجوہ ہیں۔ مثال کے طور پر ان کی گفتگو اور تعلقات میں جب دوغلا پن دکھائی دینے لگتا ہے تو لوگ چوکنا ہو جاتے ہیں اور ان کے خلاف اپنے گرد ایک حصار سا بنا لیتے ہیں۔ وہ ان کے بارے میں محتاط رہنے لگتے ہیں۔اس پر کم اعتماد کیا جانے لگتا ہے اور اس کی ساکھ خراب ہو جاتی ہے۔ اردگرد کے افراد اس سے کم دوستیاں بناتے ہیں اور انہیں صحت مندانہ تعلقات استوار کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ اس طرح وہ معاشرے سے کٹے رہتے ہیں اور ذہنی و جذباتی دبائو کا وقتاً فوقتاً شکار ہوتے رہتے ہیں۔ ان میں احساس ندامت بھی جنم لیتا رہتا ہے کیونکہ ہر شے چھپی نہیں رہ پاتی اور ساز باز سامنے ا?ہی جاتے ہیں جس پر انہیں ملامت بھی کی جاتی ہے۔ ساز باز کرنے والے افراد میں بہتری کی گنجائش ہوتی ہے۔ لیکن اس کے لیے انہیں قوت ارادی، فیصلے اور معاونت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر وہ ارادہ کر لیں تو انہیں اپنی ذات میں پائے جانے والی اخلاقی بحران اور ضمیر کی خلش سے نجات مل سکتی ہے۔


متعلقہ خبریں


حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار وجود - بدھ 17 جون 2026

حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...

حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا وجود - بدھ 17 جون 2026

میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات وجود - بدھ 17 جون 2026

ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب وجود - بدھ 17 جون 2026

منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان وجود - بدھ 17 جون 2026

رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت وجود - منگل 16 جون 2026

ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ وجود - منگل 16 جون 2026

81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن وجود - منگل 16 جون 2026

عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان وجود - پیر 15 جون 2026

تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے وجود - پیر 15 جون 2026

پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم وجود - اتوار 14 جون 2026

حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران وجود - اتوار 14 جون 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران

مضامین
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش وجود بدھ 17 جون 2026
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش

علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب وجود بدھ 17 جون 2026
علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب

ایک تقریب ملتوی ہوگئی!! وجود منگل 16 جون 2026
ایک تقریب ملتوی ہوگئی!!

جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے! وجود منگل 16 جون 2026
جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے!

کب تک ؟ وجود منگل 16 جون 2026
کب تک ؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر