وجود

... loading ...

وجود

وزیراعظم کے اعلان کے باوجودکراچی میں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ جاری

جمعرات 26 اپریل 2018 وزیراعظم کے اعلان کے باوجودکراچی میں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ جاری

شدیدگرمی میں لوڈشیڈنگ کے ستائے عوام کے صبرکاپیمانہ جب لبریز ہوتا ہوا نظر آیا‘ سیاسی جماعتوں نے مظاہرے شروع کیے ‘ وزیراعلی سندھ نے دھمکیاں لگائیں تووفاق کوایک ہوش آگیا۔وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے کراچی میں اجلاس بلالیاجس میں گورنر سندھ محمد زبیر، وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ، وفاقی وزیر توانائی اویس خان لغاری، مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل، وزیرمملکت عابد شیر علی، سوئی سدرن اور کے الیکٹرک کے نمائندوں سمیت دیگر اعلی حکام بھی شریک ہوئے ۔ اجلاس میں وزیراعلی سندھ نے کراچی کے عوام کاجائزہ مقدمہ پیش کیا۔ کے الیکٹر ک کی جانب سے وہی گیس کمی کارونارویاگیا۔ سوئی سدرن نے بقایاجات کی کہانی سنائی۔وزیراعظم کی موجودگی میں کسی حدتک معاملہ طے پاگیاجس کے بعد وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے کہاکہ کے الیکٹرک کی گیس بحال کردی ہے، کے الیکٹرک کو جتنی گیس کی ضرورت ہوگی وہ سوئی سدرن گیس کمپنی فراہم کریگی، اب کراچی کو بجلی ملے گی، واجبات کے معاملے پر مشیر خزانہ کو ذمہ داری سونپ دی، ملک میں طلب سے زیادہ بجلی موجود ہے، جہاں چوری ہوگی وہاں لوڈشیڈنگ کی جائیگی، نقصانات کا بوجھ نہیں اٹھاسکتے ، بجلی بحران پر وفاق اور سندھ حکومت میں کوئی تنازع نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا کے الیکٹرک کو سرکاری تحویل میں لینے کا کوئی ارادہ نہیں، اگر سندھ حکومت کہے تو وفاق گرین لائن منصوبے کو بسیں بھی دینے کے لیے تیار ہے۔

کراچی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے اسباب کا جائزہ بھی لیا گیا اور تفصیلی مشاورت کے بعد کے الیکٹرک اور سوئی گیس کے درمیان موجود مسائل کو حل کرنے کے لیے حکمت عملی بھی طے کر لی گئی۔ اجلاس میں سوئی سدرن گیس کمپنی اور کے الیکٹرک کے حکام نے اپنا اپنا موقف پیش کیا۔ اجلاس کے بعدوزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پریس کانفرنس بھی کی اور کہا کہ کے الیکٹرک اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے درمیان مسئلے کو حل کر دیا اور سوئی گیس کمپنی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کے الیکٹرک کو ضرورت کے مطابق مکمل گیس فراہم کرے گی اور اس گیس کی فراہمی کا فوری طورپرآغازکر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک نیپرا کے ٹیرف کے مطابق چلتا ہے اب کراچی والوں کو بجلی بھی ملے گی اور پانی بھی ملے گا۔ کے الیکٹرک کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کراچی کو معمول کے مطابق بجلی کی فراہمی کو یقینی بنائے اور لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کے الیکٹرک نے اجلاس میں بتایا ہے کہ ان کا کوئی پلانٹ بند نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کا وفاق سے بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ کے الیکٹرک اور دیگر اداروں کے درمیان واجبات کی ادائیگی کے مسئلے کو حل کرانے کے لیے مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی ذمہ داری لگا دی گئی ہے کہ وہ اس مسئلے کو آئندہ 25 دنوں میں حل کرائیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں جہاں 50 سے 60 فیصد بجلی چوری ہو رہی ہے وہاں بلاتعطل بجلی فراہم نہیں کر سکتے، کراچی میں بھی اگر بجلی کے بلوں کی ادائیگی موثر طریقے سے کی جائے گی تو لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کراچی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے سندھ حکومت کی بھرپور مدد کر رہی ہے اور وفاق نے کراچی کے حوالے سے جو کمنٹمنٹ کی ہے ، اسے پورا کیا ہے۔ وفاقی حکومت نے کراچی کے لیے 25 ارب کے پیکیج کا اعلان کیا ہے ، جس میں سے 8 ارب روپے جاری کر دیئے گئے ہیں۔

وزیراعظم کا صرف لوڈ شیڈنگ کے مسئلے کے حل کے لیے دورہ کراچی اس بات کا غماز ہے کہ وہ شہر قائدکے عوام کواس سنگین مسئلے سے نجات دلاناچاہتے ہیں۔ لیکن دوسری جانب متعلقہ ادارے خصوصاکے الیکٹرک انتظامیہ ان کے حکم پرکان دھرنے کوتیارنہیں ۔یاپھرسوئی سدرن گیس کمپنی اپنی ہٹ دھرمی پر بدستور قائم ہیں ۔شہرقائد میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ بدستورجاری ہے ۔شہری علاقوں میں 12سے 14گھنٹے بجلی کی بندش معمول بنی ہوئی ہے جبکہ صنعتی علاقوں کارونابھی برقرار ہے ۔ لوڈ شیڈنگ ایک جانب عوام کے لیے زندگی سوہان روح بنی ہوئی ہے تودوسری جانب صنعتوںکوبھی اربوں کانقصان اٹھانا پڑ رہاہے ۔ ابھی ابتدائے گرمی ہے مئی اورجون کے سخت ترین مہینے آنے والے ہیں ۔ جبکہ رمضان کی بھی آمد آمد ہے ۔جہاں سحروافطارکے علاوہ نمازتراویح ومحافل شبینہ کے لیے بھی لازمی بجلی کی ضرورت ہوتی ہے ۔

ایک جانب کراچی کے شہریوں کو بجلی کے بھاری بل وصو ل ہو رہے ہیں تودوسری طرف ان کو بجلی بھی نہیں مل رہی ہے ۔ وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں کے الیکٹرک ترجمان کا یہ کہناکہ اس کا کوئی پلانٹ بند نہیں سفید جھوٹ کے سواکچھ نہیں ہو سکتا ۔ حکومت وقت کوکے الیکٹرک انتظامیہ اس حوالے سے ضرورجواب طلبی کرنی چاہیے کہ و ہ اووربلنگ کی صورت میں صارفین کی جیبوں پرڈاکہ ڈال کر جو اربوں روپے بٹورتی ہے وہ کہاں جاتاہے ۔ اس سے نہ توکے الیکٹرک فیول خریدتی ہے اورنہ گیس کمپنی کوبل کی ادائیگی کی جاتی ہے ۔پاکستان کے معاشی حب کے اندھیرے دورکرنے اورصنعتوں کاپہیہ چلانے کے لیے ہرصورت کے الیکٹرک کوبجلی کی مسلسل فراہمی کا پابند بنانا ہو گا ۔


متعلقہ خبریں


عمران خان کی صحت متاثر،سینیٹ میں احتجاج وجود - جمعه 13 فروری 2026

اپوزیشن کی سڑکوں پر احتجاج کی دھمکی،ہم سینوں پر گولیاں کھائیں گے،عمران خان کی آنکھ کی 85 فیصد بینائی چلی گئی، معاملات نہ سدھرے تو سڑکوں پر آئیں گیگولیاں بھی کھائیں گے،راجا ناصر عباس سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو ایک آنکھ کی 85 فیصد ب...

عمران خان کی صحت متاثر،سینیٹ میں احتجاج

کارکنان نکل آئے تو بھاگنے نہیں دیں گے، پی ٹی آئی قیادت وجود - جمعه 13 فروری 2026

عمران اندھا ہو گا تو بہت سے لوگ اندھے ہوں گے(جنید اکبر)ہمارے پاس آپشنز ہیں غور کیا جا رہا ہے(سہیل آفریدی)ہم توقع کرتے ہیں عمران خان کو فی الفور جیل سے رہا کیا جائیگا، سلمان اکرم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں نے بانی چیٔرمین عمران خان کی صحت کے حوالے سے گہری تش...

کارکنان نکل آئے تو بھاگنے نہیں دیں گے، پی ٹی آئی قیادت

آزاد کشمیر صدارتی انتخاب،نون لیگ اور پیپلز پارٹی آمنے سامنے وجود - جمعه 13 فروری 2026

تختِ مظفرآباد کیلئے سیاسی بساط بچھ گئی، امیدواروں کے ناموں پر پراسرار خاموشی،اگلا صدر اور ڈپٹی اسپیکر پیپلز پارٹی سے ہی ہوں گے، آصف علی زرداری کی زیرِ صدارت اجلاس میں دو ٹوک فیصلہ 30 روز کے اندر صدارتی انتخاب کا عمل مکمل کیا جانا ضروری ہے،نون لیگ اپنا صدر لائے گی(راجا فاروق حی...

آزاد کشمیر صدارتی انتخاب،نون لیگ اور پیپلز پارٹی آمنے سامنے

عمران خان کی ایک آنکھ کی بینائی اچانک ختم ہونے کا انکشاف وجود - جمعه 13 فروری 2026

تین ماہ سے دائیںآنکھ کی بیماری کو سنجیدہ نہیں لیا گیا، بانی چیئرمین کی عدالتی معاون سے ملاقات دو سال سے دانتوں کا معائنہ نہیں کرایا گیا، باقاعدگی سے بلڈ ٹیسٹ بھی نہیں کیے جا رہے، رپورٹ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت بارے رپورٹ میں ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں، اس حوالے س...

عمران خان کی ایک آنکھ کی بینائی اچانک ختم ہونے کا انکشاف

کے ایم سی ہیڈ آفس میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن ٹیم کا چھاپہ وجود - جمعه 13 فروری 2026

ریکارڈ روم کاتالا لگا ہونے پر افسران کا اظہاربرہمی،تالا توڑ کر مطلوبہ دستاویزات لے گئے ریکارڈ میں گڑ بڑ کی شکایات پر تحقیقات جاری ہیں، ریٹائرڈ افسر سے رابطہ کرنے کی کوششیں کراچی میں کے ایم سی ہیڈ آفس میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل ٹیم نے چھاپہ مارا ہے۔تفصیلات کے مطابق ایف ...

کے ایم سی ہیڈ آفس میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن ٹیم کا چھاپہ

اسرائیل نے غزہ بورڈ آف پیس میں باضابطہ شمولیت اختیار کرلی وجود - جمعه 13 فروری 2026

نیتن یاہوکی صدر ٹرمپ اور امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات ،ایران کے معاملے پر گفتگو کی ٹرمپ کے غزہ منصوبے کے مطابق بورڈ عارضی انتظامی امور کی نگرانی کرے گا،رپورٹ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ بورڈ آف پیس اقدام میں...

اسرائیل نے غزہ بورڈ آف پیس میں باضابطہ شمولیت اختیار کرلی

ملک میں فوری انتخابات کرائے جائیں، مولانا فضل الرحمان کا مطالبہ وجود - جمعرات 12 فروری 2026

فیصلے بند کمروں میں نہیں پارلیمانی فورم پر کھل کر مشاورت کرنی چاہیے،قومی یکجہتی کیلئے شفاف انتخابات اور حقیقی جمہوری عمل ناگزیر ہیں، غلط فیصلوں کی مخالفت کی جائے گی، سربراہ جے یو آئی خیبر پختونخوا حکومت بے اختیار ،اہم فیصلے وفاق اور اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہیں،موجودہ حکومت دھاند...

ملک میں فوری انتخابات کرائے جائیں، مولانا فضل الرحمان کا مطالبہ

آج تمہاری کل ہماری باری ہوگی ،اقتدار مستقل نہیں ہوتا، ہرظلم کا حساب لیں گے،سہیل آفریدی وجود - جمعرات 12 فروری 2026

خیبر پختونخوا کے عوام ہر اس پالیسی سے بغاوت کرینگے جس میں ہمارا نقصان ہو، میڈیا پختونخوا کے عوام کو اپنا نہیں سمجھتا، 5 ہزار ارب روپے ہڑپ کرنے والوں کا میڈیا ٹرائل نہیں ہوتا،وزیراعلیٰ عمران خان کی صحت پر ابہام ختم کرنا ریاست اور وفاق کی ذمہ داری ،جیل میں غیرانسانی سلوک ہو رہا ہے...

آج تمہاری کل ہماری باری ہوگی ،اقتدار مستقل نہیں ہوتا، ہرظلم کا حساب لیں گے،سہیل آفریدی

اپوزیشن لیڈر کا پاک فوج پرحالیہ بیان جھوٹ پر مبنی ہے، سیکیورٹی ذرائع وجود - جمعرات 12 فروری 2026

سیاست سے فوج کا کوئی لینا دینا نہیں ہے، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پوری قوم کو متحد ہونا پڑے گا پاکستان کے اندر تمام اسپانسرڈ دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، میڈیا نمائندگان سے ملاقات سیکیورٹی ذرائع نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے پاک فوج کے حوالے سے حالیہ بیان کو ان...

اپوزیشن لیڈر کا پاک فوج پرحالیہ بیان جھوٹ پر مبنی ہے، سیکیورٹی ذرائع

سولرنیٹ میٹرنگ کے نئے قواعد،پیپلز پارٹی نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا وجود - جمعرات 12 فروری 2026

ہم حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں لیکن ان کی پالیسی کا حصہ نہیں، شازیہ مری سولرپینل صارفین کیساتھ دھوکا ، وہ کیسے اپنا نقصان پورا کریں گے؟میڈیا سے گفتگو پاکستان پیپلز پارٹی نے نیپرا کے نئے سولر نیٹ میٹرنگ قواعد پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئ...

سولرنیٹ میٹرنگ کے نئے قواعد،پیپلز پارٹی نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا

بنوںمیں پولیس فائرنگ کا تبادلہ ، 3 دہشتگرد ہلاک،9 زخمی ہوگئے وجود - جمعرات 12 فروری 2026

دہشتگردوں نے پولیس اسٹیشن احمدزالی اور پولیس چوکی فتح خیل پرحملے کیے بنوں میں پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ڈی آئی جی سجاد خان کے مطابق دہشت گردوں نے رات گئے پولیس اسٹیشن احمدزالی اور پولیس چوکی فتح خیل پرحملے کیے۔ سجاد خان نے بتایا...

بنوںمیں پولیس فائرنگ کا تبادلہ ، 3 دہشتگرد ہلاک،9 زخمی ہوگئے

خود ساختہ مہنگائی عروج پر،مٹن، بیف،چکن کی قیمتیں بے قابو وجود - جمعرات 12 فروری 2026

شہری خود پریشان ، شہر بھر میں گوشت فروشوں کی من مانے نرخ وصولی انتظامیہ کی کارروائیاں بے سود، سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد نہیں ہو رہا شہری خود ساختہ مہنگائی سے پریشان ہیں، دکانوں پر مٹن، بیف اور چکن کی قیمتیں بے قابو ہو گئیں جبکہ ضلعی انتظامیہ کی کارروائیاں مؤثر دکھائی نہیں ...

خود ساختہ مہنگائی عروج پر،مٹن، بیف،چکن کی قیمتیں بے قابو

مضامین
قوم کب آزاد ہوگی۔۔۔؟ وجود هفته 14 فروری 2026
قوم کب آزاد ہوگی۔۔۔؟

کشمیری جھکنے والی قوم نہیں! وجود هفته 14 فروری 2026
کشمیری جھکنے والی قوم نہیں!

پاکستان ازبکستان تعلقات ۔۔۔ ابھرتی ہوئی شراکت داری وجود جمعه 13 فروری 2026
پاکستان ازبکستان تعلقات ۔۔۔ ابھرتی ہوئی شراکت داری

ورلڈ بینک کی رپورٹ اور افغان معیشت وجود جمعه 13 فروری 2026
ورلڈ بینک کی رپورٹ اور افغان معیشت

ہمارا سماج اندر سے مر رہا ہے! وجود جمعه 13 فروری 2026
ہمارا سماج اندر سے مر رہا ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر