وجود

... loading ...

وجود

ولی عہدشہزادہ سلمان سعودی عرب میں انقلابی تبدیلیوں کے لیے سرگرم

پیر 23 اپریل 2018 ولی عہدشہزادہ سلمان سعودی عرب میں انقلابی تبدیلیوں کے لیے سرگرم

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود نے برطانیا کا دورہ کیا۔ دورہ برطانیا کا مقصد شاہ سلمان اور شہزادہ محمد بن سلمان کے بنائے ہوئے ’وژن2030‘ کے حوالے سے مشاورت اور اہم اقدامات کرنے تھے۔ اس موقع پر وہاں دونوں ملکوں کے سرکاری اور کاروباری اداروں کے لیڈرز کے لیے ایک خصوصی فورم کا انعقاد کیا گیا، جس میں تجارتی معاملات اور دیگر امور زیر بحث آئے۔ وژن2030 کے حوالے سے سعودی مملکت نے جو رپورٹیں شائع کی ہیں، ان کی رو سے اس منصوبے کا بنیادی مقصد سعودی عرب کی معیشت تیل کے ذخائر پر تکیہ کرنے کے بجائے نجی شعبوں میں ترقی کرتے ہوئے ملک کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہے۔ اس سلسلے میں شہزادہ محمد بن سلمان بین الاقوامی دوروں میں مصروف ہیں۔ دیگر منصوبوں کے ساتھ آزادء نسواں بھی اس وژنکا ایک خاص حصہ ہے۔ سعودی ولی عہدکے دوروں اور مملکت میں وژن2030 کے تحت کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ روشن خیالی کے نام پر عورتوں کی آزادی کو بہت زیادہ اہمیت دی جارہی ہے۔ پچھلی کچھ دہائیوں تک سعودی عرب دنیا بھر میں اسلامی قوانین اور خاص طور پر خواتین کے معاملے میں قدامت پسند اور سخت گیر موقف کا حامل ملک قرار دیا جاتا تھا۔ لیکن وژن2030 کا لبادہ اوڑھ کر اب یہ اسلامی مملکت مغرب کے طرزکو اپنانے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ یہ وژنمغرب ہی کی جانب سے بنا کر بھیجا گیا ہے اور سعودی شہزادے کے حالیہ دورے بھی اس سلسلے میں ڈکٹیشن لینے اور شاباشی کے حصول کی ایک کڑی ہیں۔

شہزادہ سلمان کے دورہ لندن کے دوران خصوصی فورم میں خواتین کے حوالے سے تجاویز پیش کی گئیں۔ ریاض حکام کے مطابق برطانیا میں ہونے والے سیشن کا مقصد سعودی عرب کو سماجی اور اقتصادی اصلاحات کے لیے ایک خاکا تیار کر کے دینا تھا تاکہ معاشرے میں خواتین کے کردار کے لیے ایک سازگار ماحول پیدا کیا جاسکے۔ اس کے تحت جو موضوع زیر بحث آئے ان کے صرف عنوانات پڑھ کر ہی اندازہ ہوجاتا ہے کہ سعودی عرب کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے مملکت کا بوجھ صنف نازک کے ناتواں کندھوں پر ڈالنے کی تیاری کی جارہی ہے۔

سعودی ولی عہد اب تک خواتین کے حوالے سے بہت کچھ کرچکے ہیں اور اسی کی رپورٹ دینے کے واسطے لندن کی پرواز بھری گئی۔ شہزادہ محمد کے بقول صرف موت ہی ان کو اقتدار سے دور کرسکتی ہے۔ لیکن جس جوش وجذبے سے وہ خواتین کے لیے سرگرداں ہیں، اس کے پیش نظر خدشہ ہے کہ یہ وژنوقت سے پہلے ہی مکمل ہوجائے گا اور پھر باقی عمر انہیں خواتین کو دیکھ کر خوش ہونے کے سوا اور کوئی کام نہیں رہے گا۔ گزشتہ چند مہینوں میں جس تیزی سے حقوق نسواں کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں، ان پر طائرانہ نظر ڈالی جائے تو احساس ہوتا ہے وہ کہ اس فرض سے سبک دوش ہونے کے لیے کس قدر بے تاب ہیں۔

سعودی عرب میں ایک عرصے سے خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت نہ دیے جانے کو دنیا بھر میں ایک بڑا ایشو بنا کر پیش کیا جاتا رہا، لہٰذا ریاض حکومت نے آزادء نسواں کی ابتدا اسی سے کی اور اب تو اطلاعات ہیں کہ عن قریب خواتین کو ٹرک، ٹرالر اور دیگر ہیوی مشنری چلانے کی اجازت بھی مرحمت کردی جائے گی۔ اس کے بعد خواتین کو فٹبال میچ اسٹیڈیم میں جاکر دیکھنے کی اجازت دی گئی۔ پھر وہاں خواتین کی میراتھن ریس کا انعقاد کیا گیا۔ 3کلو میٹر ریس میں 1500 خواتین نے حصہ لیا۔ جب ساری تیاریاں مکمل ہوگئیں اور آخری انتہا پر پہنچنے کی راہیں ہموار ہوگئیں تو ریاض میں فیشن ویک کا اعلان کیا گیا۔ فیشن شو کی تصاویر دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ وہ ملک جہاں گھر سے باہر جاتے ہوئے عبایا خواتین کے لباس کا لازمی جز تھا، وہاں اب جسم پر چند کپڑے بھی بوجھ بنے ہوئے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سعودی عرب کی خواتین بھی اس عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔ اس بات کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ دنوں ایک سعودی پٹرول کمپنی نے خواتین کے لیے چند خالی اسامیوں کا اعلان کیا۔ لیکن کمپنی کے ذمے دار اس وقت سر پکڑ کر بیٹھ گئے، جب ملک بھر سے ایک لاکھ کے لگ بھگ درخواستیں موصول ہوئیں۔ اس سے انکار نہیں کہ وہاں چند سنجیدہ طبقے موجود ہیں اور ممکن ہے کہ ان کی تعدا د بھی زیادہ ہو، لیکن افسوس سعودی حکومت کے سامنے سب خاموش ہیں۔

یوں تو سعودی عرب اور ایران نظریاتی اعتبار سے ایک دوسرے کے حریف ہیں۔ ان دنوں وہ ایک دوسرے کے دشمن بنے ہوئے ہیں اور تباہ کرنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ البتہ ان ممالک کے درمیان ایک قدر مشترک ہے کہ دونوں ملکوں میں اسلامی قوانین اور شعائر کا اہتما م کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہاں کے لوگوں کے بارے میں عمومی خیال ہے کہ وہ دین سے قریب ہوتے ہیں۔ لیکن چند مہینوں قبل ایران میں احتجاج کی لہر میں وہاں کی خواتین کے حجاب کے خلاف مظاہروں نے قلعی کھول دی۔ سعودی عرب میں جیسے ہی خواتین کو ڈرائیونگ ا ور اسٹیڈیم جانے کی اجازت ملی ایران کے سوشل میڈیا میں بھونچال سا آگیا۔ خواتین نے تمام تر اختلافات بالائے طاق رکھ کر سعودی حکومت کے گن گانے شروع کردیے اور اس کی مثالیں دی جانے لگیں۔ ان کے خیال میں ریاض حکومت کے اقدامات سے سعودی خواتین کو ایرانیوں پر فوقیت حاصل ہوگئی ہے۔ اور بالآخر ایرانی حکومت کو دباؤ میں آکر انہیں اسٹیڈیم جانے کی اجازت دینی ہی پڑی۔

اس موقع پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ عرب ممالک کے حکام سے لے کر عوام تک، سب ہی مادر پدر آزادی کے حصول کے لیے مغرب کی تقلید میں سبقت لے جانے کی کوشش میں لگے ہیں۔ عربی میں ایک ضرب المثل ہے ’’الزنجی اذا شبع فزنا‘‘ یعنی گھٹیا شخص جب شکم سیر ہوجا تا ہے تو اسے زنا کا خیال ستانے لگتا ہے۔ 1952ء میں تیل کی دریافت سے پہلے تک جہاں بھوک و افلاس کا دور دورہ تھا، وہاں اب مال ودولت کی ریل پیل کے بعد ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ دنیا بھر میں سیر سپاٹے اور عیاشیوں کے بعد اب انہیں کچھ نیا چاہیے۔ اور یہی ’کچھ نیا‘ اب وژن2030 کی صورت میں پیش کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ ایک اہم وجہ وہاں دین کی تبلیغ کے لیے ناکافی اقدامت ہیں۔ اسلام میں جہاں کسی پہلو پر سخت احکامات دیے گئے ہیں، وہیں لوگوں کے مزاج کو اس کے مطابق ڈھالنے کا انتظام بھی کیا گیاہے۔ سعودی حکومت کی جانب سے قوانین تو سخت کیے گئے، لیکن صرف احکامات سنانے اور عمل کرانے زور دیا گیا۔ حالاں کہ ضرورت اس چیز کی تھی کہ لوگوں کے مزاج کو اس پر ڈھالا جاتا یہاں تک کہ وہ ان کی طبیعت ثانیہ بن جاتا۔ دوسری طرف سعودی وزارت سے لے کر ائمہ حرم کے بیانوں تک، سب ہی حکومت کی طرف سے دیے گئے ’پیپرز‘ پڑھ کر تعریف میں رطب اللسان رہتے ہیں۔ معلوم نہیں بادشاہ وقت کے سامنے اظہار حق کا حوصلہ نہیں رہا یاوہ بھی وژن2030 کے سحر میں گرفتار ہو چلے ہیں۔


متعلقہ خبریں


ایرانی حملے جاری،امریکی ڈرون مار گرایا،اسرائیلی بمباری سے شہادتیں 1332 ہو گئیں وجود - هفته 07 مارچ 2026

7 اسرائیلی ڈرونز مار گرائے، دشمن پر 500 سے زیادہ میزائل اور 2 ہزار ڈرونز فائر کیے،ڈرون ایرانی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے جنہیں ایئر ڈیفنس سسٹم کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، ایران لبنان پر اسرائیلی بمباری جاری، 123 شہادتیں، ہزاروں افراد گھر چھوڑنے پر مجبور ہوگئے،تل ا...

ایرانی حملے جاری،امریکی ڈرون مار گرایا،اسرائیلی بمباری سے شہادتیں 1332 ہو گئیں

سبسڈی ختم کریں، آئی ایم ایف کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں فوری بڑھانے کا مطالبہ وجود - هفته 07 مارچ 2026

قیمتوں میں اضافے کا اثر براہِ راست صارفین تک منتقل کیا جائے بجٹ ، مالیاتی ہدف متاثر نہ ہو، پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کے 30 جون تک 1468 ارب کے ہدف کو متاثر نہیں ہونا چاہیے، عالمی مالیاتی فنڈ مذاکرات میں اسکول اور کالجز کو آن لائن کلاسز پر منتقل کرنے، دکانوں اور مارکیٹس کے اوقات مقر...

سبسڈی ختم کریں، آئی ایم ایف کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں فوری بڑھانے کا مطالبہ

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہر ہفتے مقرر ہوں گی، سرکاری ملازم گھر پر رہ کر ڈیوٹی کرینگے،وزیراعظم وجود - هفته 07 مارچ 2026

آبنائے ہرمز کی بندش:پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے ہفتہ وار تعین کی منظوری، دفاتر کیلئے کام کے دنوں میں کمی پر غور توانائی بحران کے سبب دفاتر و تعلیمی اداروں کیلئے کوڈ 19 والی تعطیلات اپنانے، ورک فراہم ہوم کی تجاویز سامنے آئی ہیں آبنائے ہرمز کی بندش اور توانائی بحران کے خدش...

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہر ہفتے مقرر ہوں گی، سرکاری ملازم گھر پر رہ کر ڈیوٹی کرینگے،وزیراعظم

ایرانی بحری جہاز پرامریکی حملے سے 87اموات وجود - جمعرات 05 مارچ 2026

امریکی آبدوز نے بحیرہ ہند میں’کوایٹ ڈیتھ‘ نامی حملے میں ایرانی جنگی بحری جہاز کو غرق کر دیا ہے یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلا موقع ہے کہ امریکہ نے کسی دشمن جہاز کو ٹارپیڈو سے ڈبویا ، امریکی وزیر دفاع امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کا دائرہ اس وقت وسیع ہو گیا جب بدھ کو پینٹاگو...

ایرانی بحری جہاز پرامریکی حملے سے 87اموات

جنگی صورت حال پاکستان دباؤ میں،آئی ایم ایف کا پاکستان سے ہنگامی معاشی پلان طلب وجود - جمعرات 05 مارچ 2026

ایف بی آر نے نظرثانی شدہ 13 ہزار 979ارب روپے کا ٹیکس ہدف حاصل کرنا مشکل قرار دے دیا، آئی ایم ایف کا اصلاحات کو تیز کرنے ٹیکس وصولی بڑھانے کے لیے مزید مؤثر اقدامات پر زور 2025کے اختتام تک 54 ہزار سرکاری نوکریاں ختم کی جا چکیں، سالانہ 56ارب روپے کی بچت متوقع ، آئی ایم ایف وفد کے...

جنگی صورت حال پاکستان دباؤ میں،آئی ایم ایف کا پاکستان سے ہنگامی معاشی پلان طلب

پیپلزپارٹی کا وزیر اعظم سے حکومتی قانون سازی پرتحفظات کا اظہار وجود - جمعرات 05 مارچ 2026

شہباز شریف سے پیپلزپارٹی وفد کی ملاقات، پارلیمان میں قانون سازی سے متعلق امور زیرِ غور آئے وزیرِ اعظم نے حکومتی رہنماؤں کو قانون سازی میں اتحادی جماعت کو اعتماد میں لینے کی ہدایت کی،ذرائع وزیرِ اعظم شہباز شریف سے پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد نے ملاقات کی ہے۔ذرائع کے مطابق ملاقا...

پیپلزپارٹی کا وزیر اعظم سے حکومتی قانون سازی پرتحفظات کا اظہار

خامنہ ای کے ہر جانشین کو نشانہ بنائیں گے، اسرائیل کی نئی دھمکی وجود - جمعرات 05 مارچ 2026

جو شخص بھی ایران کی قیادت سنبھالے گا اسے بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے،اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل ایران کے خلاف اپنی حکمت عملی میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتے گا،یسرائیل کاٹز فضائی حملے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو شہید کرنے کے بعد اسرائیل نے تمام عالمی قوانین اور اخل...

خامنہ ای کے ہر جانشین کو نشانہ بنائیں گے، اسرائیل کی نئی دھمکی

ایران حملہ،فوجی اڈے نہ دینے پر ٹرمپ کی اسپین کو دھمکی وجود - جمعرات 05 مارچ 2026

امریکی صدر کی اسپین کو تجارتی، معاشی دھمکیوں پر یورپی یونین کا بڑا بیان سامنے آگیا یورپی یونین اپنے رکن ممالک کے مفادات کے مکمل تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائے گی صدر ٹرمپ نے اسپین کو تجارتی تعلقات منقطع کرنے کی دھمکی دی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسپین کو تجارتی اور معاشی دھمکیوں...

ایران حملہ،فوجی اڈے نہ دینے پر ٹرمپ کی اسپین کو دھمکی

ایران کا ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون حملہ،تہران اور تل ابیب میںفضائی بمباری وجود - بدھ 04 مارچ 2026

ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں میں شہید افراد کی تعدادا 787 ہوگئی،176 بچے شامل،آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے، پاسداران انقلاب نے خبردار کردیا ایران کے ساتھ بات چیت کیلئے اب بہت دیر ہو چکی، فوجی مہم چار ہفتے جاری رہ سکتی ہے(ٹرمپ)ایران کی وزارت...

ایران کا ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون حملہ،تہران اور تل ابیب میںفضائی بمباری

خطے کی کشیدہ صورت حال،وزیراعظم بریفنگ مخصوص ارکان کو نہیں پوری پارلیمنٹ کو دیں،اپوزیشن اتحاد کا مطالبہ وجود - بدھ 04 مارچ 2026

ہمیں کہا گیا یہ بات آپ وزیراعظم کے سامنے کر دیں تو میں نے کہا ہے کہ ساتھیوں سے مشورہ کریں گے،خطے کے حالات خطرناک ہیں لہٰذا پارلیمنٹ کواعتماد میں لیا جائے،قائد حزب اختلاف آج صبح تک حکومت کو فیصلے سے آگاہ کر دیں گے(محمود خان اچکزئی)خطے کی صورت حال اور ایران پر حملے پر بریفنگ کی...

خطے کی کشیدہ صورت حال،وزیراعظم بریفنگ مخصوص ارکان کو نہیں پوری پارلیمنٹ کو دیں،اپوزیشن اتحاد کا مطالبہ

کراچی قونصلیٹ کے باہر مظاہرین پر فائرنگ امریکی میرینز نے کی وجود - بدھ 04 مارچ 2026

واضح نہیں میرینزکی فائرکی گئی گولیاں لگیں یا ہلاکت کاسبب بنیں، سکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ کی یا نہیں،امریکی حکام امریکی فوج نے معاملہ محکمہ خارجہ کے سپرد کر دیا ،گولیاں قونصل خانے کے احاطے کے اندر سے چلائی گئیں، پولیس حکام (رپورٹ:افتخار چوہدری)امریکی حکام کے مطابق کراچی قونصل...

کراچی قونصلیٹ کے باہر مظاہرین پر فائرنگ امریکی میرینز نے کی

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای شہید،تباہ کن کارروائی جلد شروع ہوگی،صدر کا بدلہ لینے کا اعلان وجود - پیر 02 مارچ 2026

سپریم لیڈرکی بیٹی، نواسی، داماد اور بہو شہید ، علی شمخانی اور کمانڈر پاکپور کی شہادت کی تصدیق ، سات روز کیلئے چھٹی ، چالیس روزہ سوگ کا اعلان،مقدس روضوں پر انقلاب کی علامت سرخ لائٹیں روشن کردی گئیں مشہد میں حرم امام رضا کے گنبد پر سیاہ پرچم لہرایا دیا گیا، ویڈیو جاری ،کئی افراد غ...

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای شہید،تباہ کن کارروائی جلد شروع ہوگی،صدر کا بدلہ لینے کا اعلان

مضامین
نئے حاکم ۔۔۔ وجود هفته 07 مارچ 2026
نئے حاکم ۔۔۔

ماسکو اور بیجنگ ایران کے ساتھ کھڑے ہوں گے! وجود هفته 07 مارچ 2026
ماسکو اور بیجنگ ایران کے ساتھ کھڑے ہوں گے!

بھارتی تعلیمی اداروں میں مسلم طلبہ سے امتیازی سلوک وجود هفته 07 مارچ 2026
بھارتی تعلیمی اداروں میں مسلم طلبہ سے امتیازی سلوک

غنڈہ ریاست وجود جمعه 06 مارچ 2026
غنڈہ ریاست

بھارت کی عالمی دہشت گردی وجود جمعه 06 مارچ 2026
بھارت کی عالمی دہشت گردی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر