وجود

... loading ...

وجود

شام کی بگڑتی صورت حال اور مسلم امہ کی بے بسی

جمعرات 19 اپریل 2018 شام کی بگڑتی صورت حال اور مسلم امہ کی بے بسی

دنیا کے تمام امن پسند لوگوں کے لیے شام میں لاکھوں انسانوں کی ہلاکت اور خانہ بربادی کا سبب بننے والی برسوں سے جاری خانہ جنگی و خوں ریزی بجا طور پر شدید تشویش و اضطراب کا باعث ہے۔ اس معاملے میں بتدریج متعدد علاقائی اور عالمی طاقتیں بھی شامل ہوچکی ہیں لیکن اس کے نتیجے میں حالات سلجھنے کے بجائے مزید الجھتے چلے جارہے ہیں۔ اس مسلسل بگڑتی ہوئی صورت حال میں امریکا کی جانب سے برطانیا اور فرانس کے اشتراک کے ساتھ ہفتے کی رات شامی حکومت کے مبینہ کیمیائی ہتھیاروں کی تنصیبات پر کیے جانے والے میزائیل حملوں نے تنازع کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے اور یہ مظلوم سرزمین ایک بین الاقوامی جنگ کا میدان بنتی نظر آرہی ہے۔ تازہ ترین حالات یہ ہیں کہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے ایک روزقبل اس حوالے سے اپنے اعلان میں کہا کہ ’’میں امریکا کی مسلح افواج کو حکم دیتا ہوں کہ وہ شامی آمر بشارالاسد کی کیمیائی ہتھیاروں کی تنصیبات کو نشانہ بنائیں۔‘‘اس حکم کے بعد رات گئے شام کا دارالحکومت دمشق کروز میزائیلوں کے دھماکوں سے گونج اٹھا۔شامی مسلح افواج کے ترجمان کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’ہفتے کی رات مقامی وقت کے مطابق تین بج کر پچپن منٹ پر امریکا فرانس اور برطانیا کی جانب سے دمشق پر110 میزائیل حملے کیے گئے۔‘‘شامی مسلح افواج کے مطابق ملک کے دفاعی نظام نے بیشتر میزائیلو ںکوفضاہی میں تباہ کردیا لیکن چند میزائیلوں نے برزاہ میں ریسرچ سینٹر سمیت کئی مقامات کو نشانہ بنایا۔صدر ٹرمپ کے مطابق’’ امریکا بشار الاسد پر اس وقت تک معاشی، سفارتی اور فوجی دباو ڈالتا رہے گا جب تک شامی حکومت کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال بند نہ کردے۔‘‘انہوں نے مزید کہا ہے کہ شامی حکومت نے اپنے شہریوں پر مزید کیمیائی حملے کیے تو امریکا شام پر دوبارہ حملے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ جبکہ دمشق کی جانب سے کیمیائی حملوں کی مسلسل تردید کی جاتی رہی ہے اور دوہفتے پہلے دوما میں ہونے والے کیمیائی حملوں کی اطلاعات کو جعلی قرار دیا گیا ہے۔

امریکا، برطانیا اور فرانس کے میزائیل حملوں کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میںروس کی جانب سے مذمتی قرارداد پیش کیے جانے پر ماحول نہایت کشیدہ ہوگیا۔روسی سفیر نے صدر پیوٹن کا پیغام پڑھ کر سنایا جس میں ان کا کہنا تھا کہ کیمیائی ہتھیاروں کا معائنہ کرنے والی ٹیم کی دوما میں ہونے والے واقعے کی تفتیش مکمل ہونے سے پہلے ہی شام پر حملہ کردیا گیا جبکہ کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کی عالمی تنظیم او پی سی ڈبلیو کے نمائندوں کو ابھی دمشق سے دوما جانا تھا۔روسی سفیر نے امریکا، برطانیا اور فرانس پر ’’غنڈہ گردی‘‘ کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ شام پر حملے کے معاملے میں ان ملکوں نے عالمی قوانین کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا ہے۔ جبکہ سلامتی کونسل میں امریکی سفیر نے ان حملوں کو’’بالکل جائز، قوانین کے مطابق اور متناسب‘‘ قرار دیا۔انہوں نے بتایا کہ اس بارے میں ان کی صدر ٹرمپ سے بات ہوئی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ شام نے دوبارہ کیمیائی ہتھیار استعمال کیے تو ہم بھی دوبارہ حملے کے لیے تیار ہیں۔

امریکی سفیر کا موقف تھا کہ شام میں حالات کو بہتر بنانے کے لیے امریکا اور اس کے اتحادی ملکوں نے سفارت کاری کے مسلسل مواقع دیے مگر روس اقوام متحدہ کی قرارداوں کو ویٹو کرتا چلا گیا لیکن اب ہم مزید ایسا نہیں ہونے دیں گے کہ روس تمام عالمی قوانین کی دھجیاں اڑاتا رہے اور کیمیائی ہتھیار وں کا بے دریغ استعمال جاری رہے۔ حالات جس رخ پر جارہے ہیں اس کے پیش نظر یہ خدشہ بہت واضح ہے کہ بشار الاسد کا شام صدام حسین کے عراق جیسے انجام سے دوچار ہوجائے۔عراق کے خلاف مہلک ہتھیاروں کی موجودگی کا الزام کبھی ثابت نہیں ہوسکا اور امریکی و برطانوی قیادتوں نے بعد میںا س کا اعتراف بھی کرلیا لیکن اس وقت تک اس بدنصیب ملک کی اینٹ سے اینٹ بجائی جاچکی تھی۔ عالمی طاقتوں کے اپنے مفادات ہوتے ہیں اور حق و ناحق سے ماوراء ان کی پالیسیاں ان ہی مفادات کے تابع ہوتی ہیں، لہٰذا ان سے معاملات کو سلجھانے کی امید رکھنے کو انتہائے سادگی کے سوا کوئی اور نام نہیں دیا جاسکتا۔شام میں حکومت اور عوام کے اختلافات جو رفتہ رفتہ ہولناک خانہ جنگی میں بدل گئے، فی الحقیقت امت مسلمہ کا اپنا معاملہ تھا۔ عالم اسلام کو صاحب بصیرت ، باصلاحیت اور دردمند قائدین میسر ہوتے تو اس تنازع کا کوئی قابل عمل حل حالات کے بہت زیادہ بگڑنے سے پہلے ہی تلاش کیا جاسکتا تھا۔ لیکن افسوس کہ او ا?ئی سی اور عرب لیگ دونوں ہی قطعی ناکارہ ثابت ہوئیں اور تنازع کو حل کرنے کے بجائے مختلف مسلم ملکوں نے شام کی خانہ جنگی میں فریق بن کر معاملات کو مزید خراب کرنے میں حصہ لیا۔

شام پر امریکی میزائیل حملوں کے معاملے میں بھی مسلم ملکوں میں اختلافات موجود ہیں۔ یورپی یونین اور جرمنی کے ساتھ ساتھ سعودی عرب اور ترکی نے بھی شام پر امریکی میزائیل حملوں کی حمایت کی ہے جبکہ پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ڈھائی ارب مسلمان عوام اس ساری صورت حال کو انتہائی بے بسی سے دیکھ رہے ہیں۔ تاہم پاکستان نے اس تنازع میں نہایت متوازن اور معقول موقف اختیار کیا ہے جس میں شامی عوام کی سلامتی کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ پاکستان دنیا کے کسی بھی حصے میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی مذمت کرتا ہے، تاہم کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق حقائق کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کے لیے کام کرنے والے ادارے (او پی سی ڈبلیو) کے ذریعے تحقیقات سے سامنے لانا انتہائی ضروری ہیں۔پاکستان نے فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’او پی سی ڈبلیو‘ کے فریم ورک کے تحت معاہدے کی کوشش کریں اور ادارے سے ہر ممکن تعاون کریں۔ترجمان کا کہنا تھا کہ’ ’اس وقت ہم شام کے عوام کے لیے فکر مند ہیں جو ملک میں جاری خانہ جنگی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں،ہمیں امید ہے کہ تمام فریق شامی عوام کی تکالیف کو دور کرنے کے لیے صورتحال کا ہنگامی حل نکالیں گے۔‘‘ فی الواقع فوری طور پر ضرورت اسی بات کی ہے کہ شامی عوام کو مزید بربادی سے بچایا جائے اور اس کے لیے جو اقدامات بھی ضروری ہیں ان سب کو عمل میں لایا جائے۔ شام میں ہر سطح پر فوری جنگ بندی کو یقینی بنانا ، اقوام متحدہ، او آئی سی ، عرب لیگ تمام عالمی طاقتوں اور پوری عالمی برادری کی ناگزیر ذمہ داری ہے اور سب کو اس مقصد کے لیے مشترکہ طور پر نتیجہ خیز تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔


متعلقہ خبریں


پاک-افغان سرحد پر دراندازی کی 2کوششیں ناکام، 13 دہشت گرد ہلاک وجود - جمعه 01 مئی 2026

سیکیورٹی فورسز نے سرحد کے راستے دراندازی کی کوشش کرنیوالے دہشت گردوں کے ایک گروہ کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے خوارج کو نشانہ بنایا 28 اور 29 اپریل کوخیبر پختونخوا میں شدید فائرنگ کے تبادلے میںضلع مہمند میں 8 اور شمالی وزیرستان میں 5 فتنۃ الخوارج کے دہ...

پاک-افغان سرحد پر دراندازی کی 2کوششیں ناکام، 13 دہشت گرد ہلاک

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،پیٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے ہو گئی وجود - جمعه 01 مئی 2026

ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ، نئی قیمت 399 روپے 58 پیسے مقرر،آبنائے ہرمز کا معاملہ فوری حل نہ ہوا تو 9 مئی کو قیمتوں میں مزید بڑا اضافہ ہوگا، ذرائع وزیراعظم کاموٹر سائیکل سواروں، پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو ملنے والی سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع کا فیصل...

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،پیٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے ہو گئی

پی ٹی آئی سینیٹ گروپ میں اختلافات ،شدیدتلخ کلامی وجود - جمعه 01 مئی 2026

سینیٹر مشعال یوسفزئی کے مبینہ وائس نوٹ نے گروپ میں ہلچل مچا دی فلک ناز چترالی سمیت خواتین سینیٹرز نے مشعال کو آڑے ہاتھوں لے لیا اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹ گروپ کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے اورسینیٹرز کے درمیان شدید تلخ کلامی دیکھنے میں آئی ہے۔ذرائع...

پی ٹی آئی سینیٹ گروپ میں اختلافات ،شدیدتلخ کلامی

امریکا آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کیلئے سرگرم وجود - جمعه 01 مئی 2026

متعلقہ ممالک کو نئے معاہدے کیلئے راغب کریں،محکمہ خار جہ کا امریکی سفارتخانوں کو پیغام معاہدے کا نام میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ رکھا گیا ہے،ہرمز کاروبار کیلئے تیار ، ٹرمپ کا دعویٰ امریکہ نے آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کی کوششیں تیز کر دیں۔غیرملکی میڈیارپورٹ ک...

امریکا آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کیلئے سرگرم

ملک ریاض،علی ریاض کے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ جاری وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

بحریہ ٹاؤن کراچی منی لانڈرنگ کیس میںدونوں ملزمان کوواپس لانے کیلئے امارات کی حکومت سے رابطہ کر لیا، جلد گرفتار کر کے پاکستان لاکرمقدمات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، چیئرمین نیب ریڈ وارنٹ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کرپشن کے مقدمات پر جاری ہوئے، 900 ارب سے زائد کے مقدمات کی تحقیقات م...

ملک ریاض،علی ریاض کے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ جاری

امریکی فوج کا ایران کیخلاف مختصر، طاقتورحملوں کا منصوبہ تیار وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

ممکنہ حملوں میں ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، امریکا ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور زیادہ لچک دکھانے پر زور دے گا، سینٹرل کمانڈ ٹرمپ نے ایران کی پیشکش مسترد کردی، امریکا کے خدشات دور کیے جائیں اس وقت تک ایران پر بحری ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی،...

امریکی فوج کا ایران کیخلاف مختصر، طاقتورحملوں کا منصوبہ تیار

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاک فوج کا بھرپورجواب وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

چمن سیکٹر میں بلا اشتعال جارحیت پرافغان طالبان کی متعدد چوکیاں،گاڑیوں کو درستگی سے نشانہ بنا کر تباہ پاک فوج کی موثر کارروائیوں نے افغان طالبان اور دہشتگردوںکو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے،سکیورٹی ذرائع پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کا پاک فوج نے بھرپور جوا...

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاک فوج کا بھرپورجواب

امن مشن جاری، معاشی چیلنجز پر قابو پانے کا عزم( وزیراعظم) وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

کابینہ اجلاس سے خطاب میں کفایت شعاری اقدامات جاری رکھنے کا اعلان مسائل پہاڑ بن کر سامنے کھڑے ہیں لیکن مشکل وقت سے سرخرو ہوکر نکلیں گے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور قیام امن کیلئے متواتر کوششیں کیں جو ہنوز جاری ہیں، جنگ کی وجہ سے...

امن مشن جاری، معاشی چیلنجز پر قابو پانے کا عزم( وزیراعظم)

سندھ پولیس پروفیشنل فورس ،بد نامی برداشت نہیں کرینگے ،جاوید عالم اوڈھو وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

جو اہلکار مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہوا اسے B کمپنی کا مکین بنایا جائے گا، آئی جی سندھ اسٹریٹ کرائم اور آرگنائز کرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں کی جا رہی ہیں (کرائم رپورٹر؍ اسد رضا) جو اہلکار و افسران ڈیپارٹمنٹ کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں ان تمام عناصر کے خلاف ...

سندھ پولیس پروفیشنل فورس ،بد نامی برداشت نہیں کرینگے ،جاوید عالم اوڈھو

جوڈیشل کمیشن کا اجلاس،تین ججوں کے تبادلوں کی منظوری وجود - بدھ 29 اپریل 2026

جسٹس محسن اختر کیانی لاہور،جسٹس بابر ستار پشاور ہائیکورٹ ،جسٹس ثمن رفعت امتیاز کا سندھ ہائیکورٹ تبادلہ 9 ارکان نے حق میں ووٹ دیاجبکہ تبادلے کیخلاف 3 ووٹ سامنے آئے،ذرائع چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں ہائیکورٹ کورٹ ججوں ک...

جوڈیشل کمیشن کا اجلاس،تین ججوں کے تبادلوں کی منظوری

ججز تبادلے ،پی ٹی آئی کی شدید تنقید، آزاد عدلیہ پر حملہ قرار وجود - بدھ 29 اپریل 2026

آزاد عدلیہ کیلئے افسوس ناک دن ، ججوں کے تبادلے کی کوئی وجہ ہونا چاہیے(سینیٹر علی ظفر) عدلیہ پر تیز وارکیا گیا، ججز کا تبادلہ کسی فرد کا کام نہیں، فیصلہ عدلیہ کو تقسیم کرنے کے مترادف ، بیرسٹر گوہر پاکستان تحریک انصاف کے چیٔرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور رہنما بیرسٹر علی ظفر نے ...

ججز تبادلے ،پی ٹی آئی کی شدید تنقید، آزاد عدلیہ پر حملہ قرار

متحدہ عرب امارات کا تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک سے علیحدگی کا اعلان وجود - بدھ 29 اپریل 2026

امارات کا اوپیک سے نکلنے کا فیصلہ رکن ملکوں اور سعودی عرب کیلئے بڑا دھچکا، پالیسی فیصلہ تیل کی پیداوار کی موجودہ اور مستقبل کی ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر کیا،اماراتی وزیرتوانائی کا جاری بیان یکم مئی سے اوپیک اور اوپیک پلس جس میں روس جیسے اتحادی شامل ہیں دونوں کو چھوڑ دے گا، یو اے ا...

متحدہ عرب امارات کا تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک سے علیحدگی کا اعلان

مضامین
گمشدہ مسافر وجود جمعه 01 مئی 2026
گمشدہ مسافر

دنیا کا نظام پلٹ رہا ہے ! وجود جمعه 01 مئی 2026
دنیا کا نظام پلٹ رہا ہے !

سوگ وجود جمعه 01 مئی 2026
سوگ

مزدور کے حقوق اور سماجی انصاف وجود جمعه 01 مئی 2026
مزدور کے حقوق اور سماجی انصاف

پاکستانی سماج کا بڑا لمیہ احساس کا مرجانا ہے! وجود جمعرات 30 اپریل 2026
پاکستانی سماج کا بڑا لمیہ احساس کا مرجانا ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر