وجود

... loading ...

وجود

شام کی بگڑتی صورت حال اور مسلم امہ کی بے بسی

جمعرات 19 اپریل 2018 شام کی بگڑتی صورت حال اور مسلم امہ کی بے بسی

دنیا کے تمام امن پسند لوگوں کے لیے شام میں لاکھوں انسانوں کی ہلاکت اور خانہ بربادی کا سبب بننے والی برسوں سے جاری خانہ جنگی و خوں ریزی بجا طور پر شدید تشویش و اضطراب کا باعث ہے۔ اس معاملے میں بتدریج متعدد علاقائی اور عالمی طاقتیں بھی شامل ہوچکی ہیں لیکن اس کے نتیجے میں حالات سلجھنے کے بجائے مزید الجھتے چلے جارہے ہیں۔ اس مسلسل بگڑتی ہوئی صورت حال میں امریکا کی جانب سے برطانیا اور فرانس کے اشتراک کے ساتھ ہفتے کی رات شامی حکومت کے مبینہ کیمیائی ہتھیاروں کی تنصیبات پر کیے جانے والے میزائیل حملوں نے تنازع کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے اور یہ مظلوم سرزمین ایک بین الاقوامی جنگ کا میدان بنتی نظر آرہی ہے۔ تازہ ترین حالات یہ ہیں کہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے ایک روزقبل اس حوالے سے اپنے اعلان میں کہا کہ ’’میں امریکا کی مسلح افواج کو حکم دیتا ہوں کہ وہ شامی آمر بشارالاسد کی کیمیائی ہتھیاروں کی تنصیبات کو نشانہ بنائیں۔‘‘اس حکم کے بعد رات گئے شام کا دارالحکومت دمشق کروز میزائیلوں کے دھماکوں سے گونج اٹھا۔شامی مسلح افواج کے ترجمان کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’ہفتے کی رات مقامی وقت کے مطابق تین بج کر پچپن منٹ پر امریکا فرانس اور برطانیا کی جانب سے دمشق پر110 میزائیل حملے کیے گئے۔‘‘شامی مسلح افواج کے مطابق ملک کے دفاعی نظام نے بیشتر میزائیلو ںکوفضاہی میں تباہ کردیا لیکن چند میزائیلوں نے برزاہ میں ریسرچ سینٹر سمیت کئی مقامات کو نشانہ بنایا۔صدر ٹرمپ کے مطابق’’ امریکا بشار الاسد پر اس وقت تک معاشی، سفارتی اور فوجی دباو ڈالتا رہے گا جب تک شامی حکومت کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال بند نہ کردے۔‘‘انہوں نے مزید کہا ہے کہ شامی حکومت نے اپنے شہریوں پر مزید کیمیائی حملے کیے تو امریکا شام پر دوبارہ حملے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ جبکہ دمشق کی جانب سے کیمیائی حملوں کی مسلسل تردید کی جاتی رہی ہے اور دوہفتے پہلے دوما میں ہونے والے کیمیائی حملوں کی اطلاعات کو جعلی قرار دیا گیا ہے۔

امریکا، برطانیا اور فرانس کے میزائیل حملوں کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میںروس کی جانب سے مذمتی قرارداد پیش کیے جانے پر ماحول نہایت کشیدہ ہوگیا۔روسی سفیر نے صدر پیوٹن کا پیغام پڑھ کر سنایا جس میں ان کا کہنا تھا کہ کیمیائی ہتھیاروں کا معائنہ کرنے والی ٹیم کی دوما میں ہونے والے واقعے کی تفتیش مکمل ہونے سے پہلے ہی شام پر حملہ کردیا گیا جبکہ کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کی عالمی تنظیم او پی سی ڈبلیو کے نمائندوں کو ابھی دمشق سے دوما جانا تھا۔روسی سفیر نے امریکا، برطانیا اور فرانس پر ’’غنڈہ گردی‘‘ کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ شام پر حملے کے معاملے میں ان ملکوں نے عالمی قوانین کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا ہے۔ جبکہ سلامتی کونسل میں امریکی سفیر نے ان حملوں کو’’بالکل جائز، قوانین کے مطابق اور متناسب‘‘ قرار دیا۔انہوں نے بتایا کہ اس بارے میں ان کی صدر ٹرمپ سے بات ہوئی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ شام نے دوبارہ کیمیائی ہتھیار استعمال کیے تو ہم بھی دوبارہ حملے کے لیے تیار ہیں۔

امریکی سفیر کا موقف تھا کہ شام میں حالات کو بہتر بنانے کے لیے امریکا اور اس کے اتحادی ملکوں نے سفارت کاری کے مسلسل مواقع دیے مگر روس اقوام متحدہ کی قرارداوں کو ویٹو کرتا چلا گیا لیکن اب ہم مزید ایسا نہیں ہونے دیں گے کہ روس تمام عالمی قوانین کی دھجیاں اڑاتا رہے اور کیمیائی ہتھیار وں کا بے دریغ استعمال جاری رہے۔ حالات جس رخ پر جارہے ہیں اس کے پیش نظر یہ خدشہ بہت واضح ہے کہ بشار الاسد کا شام صدام حسین کے عراق جیسے انجام سے دوچار ہوجائے۔عراق کے خلاف مہلک ہتھیاروں کی موجودگی کا الزام کبھی ثابت نہیں ہوسکا اور امریکی و برطانوی قیادتوں نے بعد میںا س کا اعتراف بھی کرلیا لیکن اس وقت تک اس بدنصیب ملک کی اینٹ سے اینٹ بجائی جاچکی تھی۔ عالمی طاقتوں کے اپنے مفادات ہوتے ہیں اور حق و ناحق سے ماوراء ان کی پالیسیاں ان ہی مفادات کے تابع ہوتی ہیں، لہٰذا ان سے معاملات کو سلجھانے کی امید رکھنے کو انتہائے سادگی کے سوا کوئی اور نام نہیں دیا جاسکتا۔شام میں حکومت اور عوام کے اختلافات جو رفتہ رفتہ ہولناک خانہ جنگی میں بدل گئے، فی الحقیقت امت مسلمہ کا اپنا معاملہ تھا۔ عالم اسلام کو صاحب بصیرت ، باصلاحیت اور دردمند قائدین میسر ہوتے تو اس تنازع کا کوئی قابل عمل حل حالات کے بہت زیادہ بگڑنے سے پہلے ہی تلاش کیا جاسکتا تھا۔ لیکن افسوس کہ او ا?ئی سی اور عرب لیگ دونوں ہی قطعی ناکارہ ثابت ہوئیں اور تنازع کو حل کرنے کے بجائے مختلف مسلم ملکوں نے شام کی خانہ جنگی میں فریق بن کر معاملات کو مزید خراب کرنے میں حصہ لیا۔

شام پر امریکی میزائیل حملوں کے معاملے میں بھی مسلم ملکوں میں اختلافات موجود ہیں۔ یورپی یونین اور جرمنی کے ساتھ ساتھ سعودی عرب اور ترکی نے بھی شام پر امریکی میزائیل حملوں کی حمایت کی ہے جبکہ پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ڈھائی ارب مسلمان عوام اس ساری صورت حال کو انتہائی بے بسی سے دیکھ رہے ہیں۔ تاہم پاکستان نے اس تنازع میں نہایت متوازن اور معقول موقف اختیار کیا ہے جس میں شامی عوام کی سلامتی کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ پاکستان دنیا کے کسی بھی حصے میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی مذمت کرتا ہے، تاہم کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق حقائق کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کے لیے کام کرنے والے ادارے (او پی سی ڈبلیو) کے ذریعے تحقیقات سے سامنے لانا انتہائی ضروری ہیں۔پاکستان نے فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’او پی سی ڈبلیو‘ کے فریم ورک کے تحت معاہدے کی کوشش کریں اور ادارے سے ہر ممکن تعاون کریں۔ترجمان کا کہنا تھا کہ’ ’اس وقت ہم شام کے عوام کے لیے فکر مند ہیں جو ملک میں جاری خانہ جنگی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں،ہمیں امید ہے کہ تمام فریق شامی عوام کی تکالیف کو دور کرنے کے لیے صورتحال کا ہنگامی حل نکالیں گے۔‘‘ فی الواقع فوری طور پر ضرورت اسی بات کی ہے کہ شامی عوام کو مزید بربادی سے بچایا جائے اور اس کے لیے جو اقدامات بھی ضروری ہیں ان سب کو عمل میں لایا جائے۔ شام میں ہر سطح پر فوری جنگ بندی کو یقینی بنانا ، اقوام متحدہ، او آئی سی ، عرب لیگ تمام عالمی طاقتوں اور پوری عالمی برادری کی ناگزیر ذمہ داری ہے اور سب کو اس مقصد کے لیے مشترکہ طور پر نتیجہ خیز تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔


متعلقہ خبریں


قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد وجود - جمعه 30 جنوری 2026

بانی پی ٹی آئی کی صحت پر خدشات،طبی معاملے میں کسی بھی غفلت یا تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا، طبی حالت فورا فیملی کے سامنے لائی جائے ، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی فیملی اور ذاتی معالجین کے علم کے بغیر اسپتال منتقل کرنا مجرمانہ غفلت ، صحت سے متعلق تمام حقائق فوری طور پر سامنے...

قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 30 جنوری 2026

پاک فوج بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے، جدید جنگ کی نوعیت میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہیں،مستقبل کے میدانِ جنگ کے تقاضوں کیلئے ہر سطح پر اعلیٰ درجے کی تیاری ناگزیر ، چیف آف ڈیفنس فورس سید عاصم منیر کی بہاولپور گیریژن آمد، کور کمانڈرنے استقبال کیا، جوانوں کے بلند حوصلے، پیشہ وران...

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان وجود - جمعه 30 جنوری 2026

عدالتی تحقیقات کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھ رہے ہیں،شرجیل میمن کسی سیاسی جماعت کے دبائو میں نہیں آئیں گے، سینئر صوبائی وزیر کی پریس کانفرنس حکومت سندھ نے کراچی میں پیش آئے سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان کردیا۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سن...

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان

غزہ میں اقتدار کی منتقلی کے انتظامات مکمل، فائلیں تیار، کمیٹیاں تشکیل وجود - جمعه 30 جنوری 2026

حماس غزہ میں انتظامی ذمہ داریاںفلسطینی ٹیکنو کریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کیلئے تیار صدرٹرمپ کی سربراہی میںکمیٹی جنگ کے بعد غزہ کے روزمرہ انتظامی امور چلائے گی فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کی انتظامی ذمہ داریاں ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کے ...

غزہ میں اقتدار کی منتقلی کے انتظامات مکمل، فائلیں تیار، کمیٹیاں تشکیل

وادی تیراہ میں نقل مکانی ہے فوجی آپریشن نہیں،خواجہ آصف وجود - بدھ 28 جنوری 2026

خیبر پختونخوا حکومت فوج پر ملبہ ڈالنا چاہتی ہے، جرگہ کے بعد صوبائی حکومت کی طرف سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا صوبائی حکومت کے مفادات ٹی ٹی پی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں،وزیر دفاع کی پریس کانفرنس وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وادی تیراہ میں نقل مکانی معمول کی بات ہے، خیبر پختو...

وادی تیراہ میں نقل مکانی ہے فوجی آپریشن نہیں،خواجہ آصف

لوگ ازخود نہیں جارہے مجبور کیاگیا ، سہیل آفریدی وجود - بدھ 28 جنوری 2026

وادی تیراہ کے جس علاقے میں آپریشن کیا جا رہا ہے وہاں برفباری کے باعث جانور زندہ نہیں رہ سکتے آفریدی قوم نے کمیٹی ممبران سے اتفاق نہیں کیا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی فوجی آپریشن کی سختی سے مخالفت خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے وادی تیراہ میں فوجی آپریشن کی س...

لوگ ازخود نہیں جارہے مجبور کیاگیا ، سہیل آفریدی

سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن ،ملبہ اٹھانے کا کام بند وجود - بدھ 28 جنوری 2026

متاثرہ عمارت کے اطراف میں پولیس اور رینجرز اہلکار تعینات کر دیے گئے دکانداروں کو بھی حفاظتی اقدامات کے ساتھ اندر لے کر جائیں گے،ڈی سی (رپورٹ: افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن اور ملبہ اٹھانے کا کام مکمل بند کردیا گیاہے، انتظامیہ نے متاثرہ عمارت کو کراچی بلڈنگ کن...

سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن ،ملبہ اٹھانے کا کام بند

جماعت اسلامی کاوزیر اعلیٰ مراد شاہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ وجود - بدھ 28 جنوری 2026

کراچی مسائل کا حل صوبائی یا وفاقی کنٹرول نہیں، بااختیار کراچی سٹی گورنمنٹ ہے، حافظ نعیم یکم فروری کو شاہراہ فیصل پر جینے دو کراچی مارچ کیا جائے گا، پریس کانفرنس سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے منگل کے روز ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ک...

جماعت اسلامی کاوزیر اعلیٰ مراد شاہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

پشین میں آپریشن، 6 دہشت گرد ہلاک، 10 سی ٹی ڈی اہلکار زخمی وجود - بدھ 28 جنوری 2026

دہشت گرد ثناء اللہ کو سرنڈر کرنے کا موقع دیا مگر اس نے انکار کر کے فائرنگ شروع کر دی راکٹ لانچر، کلاشنکوف،ہینڈ گرنیڈز، ایس ایم جیز اور بھاری مقدار میں گولہ بارود برآمد بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے کلی کربلا میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے پیر کی رات ایک طویل اور...

پشین میں آپریشن، 6 دہشت گرد ہلاک، 10 سی ٹی ڈی اہلکار زخمی

اسرائیل کی بربریت بدستور جاری ، 3فلسطینی شہید( 20 زخمی) وجود - بدھ 28 جنوری 2026

اسرائیلی ڈرون حملوں میںسیکڑوں افراد تاحال ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے متعددا سکولوں کو خالی کروا لیا اسرائیلی فورسز کی غزہ میں جارحیت کا سلسلہ بدستور جاری ، تازہ حملوں میں مزید 3فلسطینی شہید جبکہ اسرائیلی ڈرون حملوں میں 20افراد زخمی بھی ہوئے۔غی...

اسرائیل کی بربریت بدستور جاری ، 3فلسطینی شہید( 20 زخمی)

اپوزیشن اتحادکا جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا عندیہ وجود - منگل 27 جنوری 2026

کسی صورت 8 فروری کے احتجاج کی کال واپس نہیں لیں گے، محمود خان اچکزئی کی شیریں مزاری سے ملاقات، بیٹی ایمان مزاری اور ان کے شوہرکے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ان کے گھر آمد لوگوں کے لئے آواز اٹھانے والے اس ملک میں محفوظ نہیں ہیں(مصطفیٰ نواز کھوکھر ) ایمان اور ہادی کو جس انداز سے سزا...

اپوزیشن اتحادکا جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا عندیہ

2 ماہ میں متاثرین کو دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان وجود - منگل 27 جنوری 2026

5 لاکھ گل پلازہ کے ہردکاندار کو دیں گے تاکہ 2 ماہ تک گھر کا کچن چلا سکے، وزیراعلیٰ سندھ ایک کروڑ کا قرضہ دینگے جس کا سود سندھ حکومت ادا کرے گی،مراد علی شاہ میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کو 2 ماہ میں دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان کردی...

2 ماہ میں متاثرین کو دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان

مضامین
بسنت تہوار ثقافت، حفاظت، اور اخلاقی ذمہ داری وجود جمعه 30 جنوری 2026
بسنت تہوار ثقافت، حفاظت، اور اخلاقی ذمہ داری

بھارت کی کمزور معاشی اصلاحات وجود جمعه 30 جنوری 2026
بھارت کی کمزور معاشی اصلاحات

بیداری وجود جمعه 30 جنوری 2026
بیداری

افراد، نظام اورادارے وجود جمعرات 29 جنوری 2026
افراد، نظام اورادارے

بھارتی سپریم کورٹ کا مقدمہ کشمیر سننے سے انکار وجود جمعرات 29 جنوری 2026
بھارتی سپریم کورٹ کا مقدمہ کشمیر سننے سے انکار

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر