وجود

... loading ...

وجود

آپ کا بچہ بھی ذہین ہے

بدھ 11 اپریل 2018 آپ کا بچہ بھی ذہین ہے

حضرت علی کرم اللہ وجہہ نماز کے لیے روانہ ہوئے تو ایک یہودی ان کی گھات میں تھا۔ آج اس کا ارادہ حضرت علی ؓ کا امتحان لینے کا تھا۔ اس کا سوال بھی بڑا دلچسپ تھا۔ حضرت علیؓ جیسے ہی گھر سے مسجد روانہ ہونے کے لیے باہر آئے، وہ فوراً حضرت علی ؓکے سامنے آیا اور پوچھا: ’’علی ؓ ذرا یہ تو بتاؤ کہ کونسے جانور انڈے دیتے ہیں اور کونسے بچے؟‘‘وہ اس انتظار میں تھا کہ علی ؓ جب جانوروں کے نام لینے کھڑے ہونگے تو ان کی نماز نکل جائیگی۔ حضرت علی ؓنے مسکراتے ہوئے جواب دیا ’’جن کے کان اندر ہوتے ہیں وہ انڈے دیتے ہیں اور جن کے کان باہر ہوتے ہیں وہ بچے دیتے ہیں۔‘‘ یہ سوشل اور ایموشنل انٹیلی جنس کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔

ہمارے پاس اپنے بچوں کی عقل ناپنے کا واحد ذریعہ چھ پرچے اور 100 نمبرز ہیں۔ جو بچہ ان چھ پرچوں اور 100 نمبروں میں زیادہ سے زیادہ آگے نکل جائیگا وہ ذہین ’’ڈکلئیر‘‘ ہو جائے گا، اور جو ان پرچوں میں رہ جائیگا وہ ’’کند ذہن‘‘کہلائے گا۔ بچپن میں کہا جاتا تھا کہ ’’پڑھوگے لکھوگے بنو گے نواب، کھیلوگے کودو گے تو ہوگے خراب۔‘‘ لیکن ایک طرف کرکٹرز، فٹ بالرز کا عالیشان لائف اسٹائل اور دوسری طرف انجئینرز اور ڈاکٹرز کی حالت زار دیکھ کر بچے خود کو ’’خراب‘‘ کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔لڑکی کے ابا نے اپنی بیٹی کے رشتے کے لیے آئے لڑکے سے پوچھا کہ بیٹا کیا کرتے ہو؟ لڑکے نے فخر سے جواب دیا کہ جی انجینئیر ہوں۔ لڑکی کے ابا نے حیرت سے کہا میں سمجھا کچھ کام دھندہ کرتے ہوگے۔

عظیم پریم جی ہندوستان کے بہت بڑے بزنس ٹائیکون ہیں، انھوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’اگر مجھے کبھی پڑھائی کرنے کا موقع ملا بھی تو پاکستان اور ہندوستان کی یونیورسٹیز سے کبھی نہیں پڑھونگا۔‘‘ ہمارے ملک کی یونیورسٹیز ’’توہین انسانیت‘‘ کی ڈگریاں دیتی ہیں۔ جس کو حاصل کرنے کے بعد نوجوانوں کے پاس ڈگری ضرور ہوتی ہے لیکن خود پر اعتماد اور یقین ختم ہوچکا ہوتا ہے۔ ہمارے دماغ کے دو حصے ہوتے ہیں۔ ایک دایاں حصہ جو سوچنے سمجھنے کا کام کرتا ہے اور دوسرا بایاں جو روایتی کام کرنے کا عادی ہوتا ہے۔ اسکول سے کالج اور کالج سے یونیورسٹی تک ’’نوٹس‘‘ کامیابی کی واحد کنجی ہوتے ہیں۔ کبھی دماغ کے دائیں حصے کو استعمال کرنے کی نوبت ہی نہیں آتی ہے۔

1983 میں پہلی دفعہ ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ہاورڈ گاڈنر نے یہ تھیوری دی کہ ذہانت تو 9 اقسام کی ہوتی ہیں۔ آپ تمام بچوں کو ایک ہی ڈیسک اور ایک ہی کتاب کے ذریعے سے سب کچھ نہیں سکھا سکتے ہیں۔آپ ذرا تصور کریں کہ ہاتھی اور بندر کو ایک ہی کلاس میں بٹھا دیں۔ بندر سے کہیں کہ ’’تم تمیز سے ایک ہی جگہ بیٹھ کر ہاتھی کی طرح شرافت سے پڑھو،‘‘ اور ہاتھی کو کہیں کہ ’’چلو ایک درخت سے دوسرے درخت پر چھلانگیں لگاؤ۔‘‘

آپ یقین کریں ہمارا تعلیمی نظام سوائے اس کے اور کچھ نہیں ہے۔ جب خدا کی اس عظیم الشان دنیا میں دو جانور ایک جیسی جبلت کے نہیں ہیں تو اس حیرت انگیز ’’ڈیوائس‘‘دماغ رکھنے والی مخلوق ایک جیسی کیسے ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالی کی اس رنگ برنگی دنیا میں سارے دماغ ایک جیسا کیسے سوچ سکتے ہیں؟ کسی چیز کو جلدی یاد کرلینا یا دیر تک یاد رکھنا یہ ایک ’’ٹیلنٹ‘‘ہے۔ ایک ہی ٹیلنٹ ہر انسان کے پاس نہیں ہوسکتا۔ ہاں لیکن دماغ ہر کسی کے پاس ہے اور اس کا استعمال بھی ہر کوئی کرسکتا ہے۔ دماغ کا استعمال ایک ہنر ہے۔ اور یہ مشق کرنے سے آتا ہے۔ بچپن میں دوران تعلیم اس ہنر کے لوہے کو جتنا منوایا جائے گا، دنیا میں حیرت انگیز کارنامے اور ایجادات وقوع پزیر ہوتی چلی جائینگی۔

جب تک اس ’’ڈوائس‘‘کا استعمال مسلمانوں کے پاس تھا، اس وقت تک یہ کارنامے اور ایجادات مسلمانوں کی طرف سے ہوتی تھیں۔ ہم نے اس کو زنگ آلود کرلیا ہے۔ ہمارا ’’رٹا اسکولنگ سسٹم‘‘ اور ہماری جامعات کی شاندار عمارتوں میں پرانے دماغوں سے کسی نئی سوچ کی امید رکھنا احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔ آپ ذرا تصور کریں کہ دس لاکھ مسلمانوں میں محض ایک سائنسدان ہے اور مجھے یقین ہے کہ وہ بھی ’’ناسا‘‘ ہی کے کام آرہا ہوگا۔

آپ مغرب کی علم دوستی کا اندازہ اس بات سے کریں کہ قرآن و حدیث پر تحقیق کرنے والے ڈاکٹر حمید اللہ کو فرانس نے ان کی علمی خدمات پر اپنی ’’شہریت‘‘ دے دی۔ ان کو سرکاری خرچ پر ساری دنیا میں گھومنے پھرنے کا خصوصی ‘‘ اجازت نامہ ‘‘ تک دے دیا۔ اور دوسری طرف عرب ممالک میں کاغذ تک کا کوٹہ مقرر ہے۔ آپ ذرا خلیجی ممالک کی جامعات کا حسن دیکھیں اور ان میں سناٹا بھی خود ہی دیکھ لیں۔ اس زمین سے بھلا کیا تخلیقی و تحقیقی کام ہوگا جہاں آپ کچھ لکھ اور پڑھ تک حکومت کی اجازت کے بغیر نہیں سکتے۔ جہاں لائبریری میں کتابیں تک حکومتی اجازت کے بعد آتی ہیں۔

بہرحال، 2016 میں ڈونلڈ او کلفٹن نے اس تھیوری میں مزید اضافہ کیا اور کہا کہ ہر شخص ذہین ہوتا ہے، لیکن اس کی استعداد مختلف ہوتی ہیں؛ اور یہ ’’اسٹرینتھ‘‘ 34 اقسام کی ہوتی ہیں۔ کلفٹن نے باقاعدہ اسکیل تک بنا دیا تاکہ اس کے ذریعے سے آپ اپنی ذہنی استعداد کا اندازہ لگا لیں۔

اکیسویں صدی سماجی و جذباتی ذہانت کا دور ہے۔ آئی-کیو کا زمانہ ختم ہوچکا، دنیا نے اس کو مسترد کردیا ہے۔ آپ کے بچے میں لوگوں سے تعلقات بنانے اور قائم رکھنے کی صلاحیت کتنی ہے، بروقت اور صیح فیصلہ لینے کی ذہانت ہے یا نہیں ؟ لوگوں کو اپنی بات سمجھانا اور ان کی صلاحیت کے مطابق اپنی مرضی کا کام لینا، یہ ہے اس دور کی اصل ذہانت۔ اپنا مافی الضمیر بیان کرنا اور لوگوں کو اپنی بات پر قائل کرلینا۔ اگر یہ ذہانت، خود اعتمادی اور اپنی صلاحیتوں پر یقین آپ کے بچے میں نہیں ہے تو وہ سارے مضامین میں پورے نمبر لے کر بھی‘‘فیل‘‘ ہوجائے گا۔کارپوریٹ نظام کا اصل مسئلہ لوگوں کی قابلیت نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ ایموشنل اور سوشل انٹیلی جینس کی کمی ہے۔ آپ یقین کریں، آپ کا بچہ بہت ذہین ہے۔ اتنا ذہین کہ اس جیسی ذہانت دنیا میں کسی کے پاس بھی نہیں ہے۔ بس آپ اس کی ذہانت کو پہچانیں، اور ایک ہی لاٹھی سے سب کو نہ ہانکیں۔


متعلقہ خبریں


مینڈیٹ چوری کیخلاف عوام کا بھرپور احتجاج، اپوزیشن اتحاد کی کامیاب ہڑتال پر مبارکباد وجود - پیر 09 فروری 2026

8 فروری الیکشن کو 2 سال مکمل،پی ٹی آئی کا احتجاج، مختلف شہروں میں شٹر ڈاؤن، آواز بلند کرنے کا مقصد انتخابات میں بے ضابطگیوں کیخلاف عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کا مطالبہ ہے، پارٹی ترجمان پاکستانی قوم کی سیاسی پختگی اور جمہوری شعور کا منہ بولتا ثبوت ہے، آئیے مل کر اس گرتے ہوئے نظام ک...

مینڈیٹ چوری کیخلاف عوام کا بھرپور احتجاج، اپوزیشن اتحاد کی کامیاب ہڑتال پر مبارکباد

ملک بھرمیں تحریک انصاف کی پہیہ جام کال مسترد(مراد علی شاہ) وجود - پیر 09 فروری 2026

اتوارکے روز شہریوں نے دکانیں کھولی،سانحہ گل پلازہ متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں، وزیر اعلیٰ کی میڈیا سے گفتگو وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں۔شہرِ قائد میں ...

ملک بھرمیں تحریک انصاف کی پہیہ جام کال مسترد(مراد علی شاہ)

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان وجود - پیر 09 فروری 2026

دہشت گرد آرہے ہیں تو ماردیں کس نے روکا ہے،نیتن یاہو کے ساتھ امن بورڈ میں بیٹھنے پر شرم آنی چاہیے، سربراہ جے یو آئی ہم نے روش بھانپ کر عمران خان سے اختلاف کیا تھا تو آپ اس سے دو قدم آگے ہیں، ہم بھی دو قدم آگے ہوں گے، خطاب جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل ا...

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان

8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال وجود - اتوار 08 فروری 2026

محمود اچکزئی کی وزیراعظم کو شریک ہونے کی پیشکش، عوام سے جذباتی نہ ہونے کی اپیل،شہباز شریف سے کہتا ہوں وہ عوام کے سوگ میں شامل ہوجائیں، ملکی حالات ایسے نہیں عوام کو جذباتی کیا جائے، پیغام مریم نواز کو ہمارے ساتھ ہونا چاہیے، ناانصافی سے گھر اور رشتے نہیں چلتے تو ملک کیسے چلے گا،مل...

8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار وجود - اتوار 08 فروری 2026

داعش افغانی خودکش حملہ آور کا نام یاسر، پشاور کا رہائشی ، حملے سے قبل مسجد کی ریکی کی، ایک ہفتہ پہلے مسجد سے ہوکر گیا،شواہد جمع کرنے کیلئے نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد لی گئی، ابتدائی تفتیش حملے کی منصوبہ بندی، تربیت اور ذہن سازی افغانستان میں داعش نے کی، افغان طالبان ک...

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند وجود - اتوار 08 فروری 2026

ڈالرز کی منی لانڈرنگ اور اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے ہیں،گورنر اسٹیٹ بینک ٹریڈ بیس منی لانڈرنگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، سینئر صحافیوں سے ملاقات و گفتگو گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے دو ارب ڈالر کے رول اوور میں کوئی مسئ...

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت وجود - اتوار 08 فروری 2026

کسٹمز کے اینٹی اسمگلنگ یونٹ کا نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی سکھر کے سرکاری دفتر پر چھاپہ نان کسٹم پیڈ اور ٹمپرڈ گاڑی قبضے میں لے لی،جبکہ حیران کن طور پر ڈپٹی ڈائریکٹر مقدمے میں نامزد دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ کھل کر سامنے آگئی، پاکستان کسٹمز کے اینٹی ...

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی وجود - هفته 07 فروری 2026

خودکش حملہ آور نے گیٹ پر روکے جانے پر دھماکا کیا، متعدد زخمیوں کی حالت نازک، اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ،صدروزیراعظم کی مذمت،تحقیقات کا حکم وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ...

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری وجود - هفته 07 فروری 2026

جس نے خودکش دھماکا کیا اس کی معلومات مل گئی ہیں، ہوسکتا 72 گھنٹوں میں انجام تک پہنچائیں، وزیرمملکت داخلہ وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ امام بارگارہ دھماکا خودکش تھا، حملہ آور کی معلومات مل گئی ہیں اور افغانستان کا کتنی دفعہ سفر کیا اس کی تفصیلات بھی آگئی ہیں۔وزیر ...

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول وجود - هفته 07 فروری 2026

عمران خان نے دائیں آنکھ میں نظر کی کمی کی شکایت کی اور ان کی رضامندی سے علاج کیا گیا،پمز اسلام آباد کے سینئر اور مستند ماہر امراض چشم نے اڈیالہ جیل میں آنکھوں کا مکمل معائنہ کیا،ایگزیکٹو ڈائریکٹر معائنے میں سلٹ لیمپ معائنہ، فنڈواسکوپی، آنکھ کے اندرونی دباؤ کی پیمائش، ضروری ...

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو وجود - هفته 07 فروری 2026

قوم کو نفرت، انتہاپسندی، اور دہشتگردی کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا، چیئرمین حکومت عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات کو یقینی بنائے،شدیدمذمت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں امام بارگاہ و مسجد میں دہشتگردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذ...

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی وجود - هفته 07 فروری 2026

9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، بند کمروں میں فیصلوں سے بہت نقصانات ہوئے غلط پالیسیوں سے یہاں امن قائم نہیں ہو رہا اور ہم دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پولیس پر 9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، پولیس کو سیاست میں مت گھ...

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی

مضامین
مولانا کی ''میں'' وجود منگل 10 فروری 2026
مولانا کی ''میں''

سندھ کا تعلیمی بحران مصنوعی ذہانت کے تناظر میں مسائل کا تجزیہ وجود منگل 10 فروری 2026
سندھ کا تعلیمی بحران مصنوعی ذہانت کے تناظر میں مسائل کا تجزیہ

دنیا کا بڑا بحران وسائل کی کمی نہیں ! وجود منگل 10 فروری 2026
دنیا کا بڑا بحران وسائل کی کمی نہیں !

شکسگام ، چین کا حصہ ہے! وجود پیر 09 فروری 2026
شکسگام ، چین کا حصہ ہے!

پروفیسر شاداب احمد صدیقی وجود پیر 09 فروری 2026
پروفیسر شاداب احمد صدیقی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر