... loading ...
جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد اجمل خان نے کہا کہ ایک مثبت اور انصاف پسند معاشرہ کی تشکیل کی صورت میںہی ہمارا ملک مہذب اورترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہوسکتاہے۔ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قومی سوچ کو پروان چڑھانا ہوگا اور فرقہ واریت، دہشت گردی، معاشرتی ناانصافی اور تعصبات کا قلع قمع کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ہم سب اسی معاشرے کا حصہ ہیں ،ہمیں کسی کی شکایت کرنے سے پہلے یہ سوچناچاہیئے کہ ہم خود کیا کررہے ہیں اور ہم چیزوں کو کس تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ اس طرح کے سیمینارز کا انعقاد وقتاًفوقتاً ہونا چاہیئے تاکہ عوام کو بنیادی حقوق کا تحفظ اور بہتر زندگی گزارنے کے بارے شعور وآگاہی حاصل ہوسکے۔ان خیالاتا کا اظہار انہوں نے جامعہ کراچی ،مینجمنٹ کنسلٹنسی اینڈ ٹریننگ سروسز اور آل پاکستان سیکیورٹی ایجنسیز ایسوسی ایشن(اے پی ایس اے اے) کے اشتراک سے جامعہ کراچی کے کلیہ فنون وسماجی علوم کی سماعت گاہ میں منعقدہ سیمینار بعنوان: ’’ اپنے حقوق سے آگاہی‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر بلقیس گل ،پروفیسر ڈاکٹر محمد احمد قادری ،ڈاکٹر محمد زبیراور دیگر اساتذہ بھی موجود تھے۔تقریب کے آغاز پر شہداء کشمیر کے لیے اجتماعی دعاکی گئی ۔
سابق آئی جی سندھ نیاز احمدصدیقی نے کہا کہ تبدیلی اقلیت لاتی ہے اکثریت نہیں اکثریت اس کی پیروی کرتی ہے ،ہمیں حق کا ساتھ دینے کی ضرورت ہے۔اگر کوئی کسی پر الزام لگائے توالزام لگانے والے کا کام ہے کہ وہ اس الزام کو ثابت کرے ملزم کو صفائی دینے کی کوئی ضرورت نہیں، المیہ یہ ہے کہ یہاں شکایت موصول ہونے پرتحقیقات شروع ہوجاتی ہیں جو غلط ہے جبکہ شکایت درج کرنے والے کا پتہ ہی نہیں ہوتا۔کسی بھی مجرم پر آپ زورزبردستی اور جبر نہیں کرسکتے کہ وہ اپنے خلاف گواہ بنے اور قبول جرم کرے۔آپ دیکھتے ہوں گے ہمارے یہاں جیسے ہی کوئی پکڑاجاتاہے اگلے دن پتہ چلتاہے کہ اس نے اتنے جرم تسلیم کرلیے ہیں ،سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کس کے سامنے کیے ہیں ،اس کے ثبوت کیا ہیں کورٹ میں بات ثبوت کی ہوتی ہے انفارمیشن کی نہیں۔کسی کو ایک جرم کی دومرتبہ سزانہیں دی جاسکتی ،تفتیش تو کئی ایجنسیاں کرسکتی ہیں لیکن سزا ایک ہی ہوگی ڈبل نہیں ہوسکتی ۔کوئی بھی شخص کسی کی بے حرمتی نہیں کرسکتا جس میں تمام ادارے بھی شامل ہیں۔ہر شخص کو پورے پاکستان بلکہ پوری دنیا میں جانے کی آزادی ہے لیکن قانون کی پاسداری کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
ماہر انسانی حقوق فوزیہ طارقنے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر اجمل خان اور ڈائریکٹرانسٹی ٹیوٹ آف سسٹین ایبل ہیلوفائٹ یوٹیلائزیشن پروفیسر ڈاکٹر بلقیس گل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے طلبہ و طالبات میں انسانی حقوق کے متعلق آگہی اور شعور اجاگر کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایک اچھا شہری ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ نہ صرف ہمیں اپنے حقوق کا علم ہو بلکہ دوسرے لوگوں کے حقوق کا بھی احترام کریں اور قانون کی خلاف ورزی نہ کریں۔گھریلو تشدد ، غیرت کے نام پر قتل، کم عمری میں شادی، اور جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف قوانین پاکستان کے آئین کا حصہ بن چکے ہیں اور ان کے لیے سزائیں بھی موجود ہیں۔ ایک انسان ہونے کے ناتے ہم سب کا فرض ہے کہ نہ صرف خود کو اور اپنے گھر والوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں بلکہ ان کمزور اور مجبور لوگوں کا سہارا بھی بنیں جنھیں اپنے حقوق کا مکمل طرح سے علم نہیں ہے اور وہ خود اپنے حق کے لیے آواز نہیں اٹھا سکتے۔اس کے لیے ہمیں ہر سطح پر لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے، میڈیا بالخصوص سوشل میڈیا اس معاملے میں بے حد معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ انھوں نے قصور اور سیالکوٹ جیسے معاملات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم سوشل میڈیا کو انسانی حقوق کی پاسداری کے لیے استعمال کریں تو ایسے گھنائونے جرائم کے مرتکب ہونے والے افراد کو کیفر کردار تک پہنچانا ممکن ہو جاتا ہے۔ تبدیلی کا عمل ایک انسان سے شروع ہوتا ہے اور ہمارے چھوٹے چھوٹے اچھے کام جن سے ہم دوسرے انسانوں کے جائز حقوق کی حفاظت کر سکیں بہت بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ڈی آئی جی سی آئی اے کراچی ڈاکٹر امین یوسفزئی نے کہا کہ 1861 ء میں انگریزوں نے پولیس کے لیے جو قواعد بنائے تھے ،1861 ء میں بھی اس کو انسانی حقوق کے مطابق نہیں سمجھا گیا اور پھر یہی قوانین 1947 ء میں ہمیں ورثے میں مل گئے اور ہمارے مختلف مسائل کی وجہ سے اس میں تبدیلی نہیں ہوسکی۔بعض اوقات پولیس والے آپ کی بات نہیں سنتے اور ہمیں اکثر یہ شکایات سننے کو ملتی ہیں لیکن آپ اپنی بات پہنچانے کے لیے کوشش جاری رکھیں اور اپنے حقوق کے حوالے سے مکمل آگاہی حاصل کریں۔چیئر مین آل پاکستان سیکیورٹی ایجنسیز ایسوسی ایشن میجر(ر) منیر احمد نے کہا کہ پرائیوٹ سیکیورٹی گارڈ مختلف جگہوں پر خدمات انجام دیتے ہیں،وہ بنیادی طورپر آپ کے حقوق کے تحفظ اور جرائم کوروکنے کے لیے موجود رہتے ہیں۔پرائیوٹ سیکیورٹی گارڈز میں کچھ کمیاں ضرورہیں لیکن ہم اس کو مزید بہتر کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔پرائیوٹ سیکیورٹی کمپنی ایک باقاعدہ طریقہ کار کے بعد عمل میں آتی ہے ،ہمارے نوجوان ہی ہمارامستقبل ہیں ان کو معاشرے کی ترقی کے لیے آگے بڑھنا ہوگا۔
عوام مشکل میں ہیں، آئندہ بجٹ مشکل ہو گا، 28 ویں ترمیم پر کوئی بات نہیں ہوئی،امریکا ایران جنگ اور مذاکرات سے متعلق مجھے کوئی پیشکش نہیں کی گئی،چیئرمین پیپلز پارٹی حکومت سے بجٹ مذاکرات کے لیے پیپلزپارٹی کی 4 رکنی کمیٹی بنادی،پیٹرول سے متعلق موٹر سائیکل سواروں کو ریلیف دیا جا رہا ...
وزیرداخلہ کا بارکھان میںجامِ شہادت نوش کرنے والے میجر توصیف احمد بھٹی اور دیگر کو سلام عقیدت پیش قوم بہادر شہداء اور غازیوں کی قربانیوں کو یاد رکھے گی، شہداء کی بلندی درجات اور اہل خانہ کیلئے صبر کی دعا صدرِ مملکت آصف علی زرداری،وزیراعظم شہبازشریف اوروفاقی وزیر داخلہ محسن نق...
علیمہ خانم نے بیرسٹر سلمان صفدر اور سلمان اکرم راجہ کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میںنئی درخواست دائرکردی کسی بھی عدالت نے بانی کو تنہائی میں قید کی سزا نہیں سنائی،بشریٰ بی بی کو روزانہ 24 گھنٹے تنہائی میں رکھا جاتا ہے بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھنے کے خلاف اسلام آ...
ایرانی عوام کے خلاف دشمنی اختیار کرنا ایک احمقانہ جوا ہے،ایرانی وزیر خارجہ مذاکرات کے حامی ہیں،قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،بیان ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف سازش کرنے والوں کا احتساب...
حکومتی پالیسیوں سے بلوچستان میں علیحدگی کا نعرہ لگ چکا،نواز شریف، زرداری اور فضل الرحمن آئین بچانے کے لیے آگے آئیں اگر نہیں آئے تو حالات خطرناک ہوتے جائیں گے، اپوزیشن لیڈر ملک خطرناک حالات کی طرف جارہا ہے، طاقت اور پیسے کی بنیاد پر7 پارٹیوں کو اکٹھا کیا گیا، اسرائیلی جیلوں س...
بحریہ ٹاؤن ہلز میں واقع 67ایکڑ پر مشتمل علی ولا کو منجمد کر دیا ، جو مبینہ طور پر علی ریاض ملک کے نام پر تعمیر کی گئی تھی، رہائش گاہ میں جدید سہولیات جیسے ہیلی پیڈ، منی چڑیا گھر اور سوئمنگ پولز شامل ہیں،ذرائع حکومت سندھ اور محکمہ جنگلات کی ملکیت1338ایکڑ اراضی بھی منجمد،مبینہ طو...
پاکستان کی مؤثر سفارت کاری کے باعث یہود و ہنود کی گمراہ کن پروپیگنڈا مہم متحرک ہوگئی ثالثی کے دوران ایرانی طیاروں کو پاکستانی ایئربیس پر جگہ دی گئی، ترجمان دفتر خارجہ کا ردعمل ایران امریکا کشیدگی میں پاکستان کی موثر سفارت کاری کے باعث یہود و ہنود کی گمراہ کن پروپیگنڈا مہم مت...
اجلاس ختم ہونے کے بعداقبال آفریدی اور جنید اکبر میں تلخ کلامی ، ہاتھا پائی ہوتے ہوتے رہ گئی اقبال آفریدی کی جانب سے کورم کی نشاندہی کی کوشش ، جنید اکبر کے روکنے پر سیخ پا ہوگئے،ذرائع قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی اراکین آپس میں گتھم گتھا ہوگئے جب کہ اجلاس ختم ہونے کے بعد پی ٹ...
یکم جنوری 2027 سے ماہانہ 300 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کیلئے بلوں میں اضافے کا خدشہ گیس اور بجلی پر دی جانے والی رعایتیں صارف کے استعمال کے بجائے اس کی آمدنی کی بنیاد پر دی جائیں گی حکومت نے آئندہ بجٹ میں آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کرنے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔ ی...
فیلڈ مارشل اورشہباز شریف نے ایران جنگ بندی پر بہترین کردار ادا کیا، امریکی صدر پاکستان غیر جانبدار ثالث نہیں رہ سکتا، مجھے پاکستان پر بالکل اعتماد نہیں، لنڈسے گراہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے لیے پاکستان پر ایک بار پھر اعتماد کا اظہار کرتے ہو...
عالمی مالیاتی ادارے کامشکوک مالی ٹرانزیکشن پر اظہار تشویش، آئندہ مالی سال کے بجٹ سے قبل حکومت کو منی لانڈرنگ کیخلاف سخت اقدامات کی ہدایت کردی،ذرائع کالے دھن، غیر ٹیکس شدہ سرمایہ کاری کی نشاندہی،بینی فیشل اونرشپ کی معلومات کے تبادلے میں خامیاں دور کرنے اور مالیاتی نگرانی کا نظام...
سی بی ایس نیوز کی رپورٹ پر سخت ردِعمل، امریکی میڈیا رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹس خطے میں امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے، دفتر خارجہ پاکستان کے دفترِ خارجہ نے امریکی میڈیا ادارے سی بی ایس نیوز کی اس رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ ...