وجود

... loading ...

وجود

شہید بھٹو سے گمنام بھٹوتک

بدھ 04 اپریل 2018 شہید بھٹو سے گمنام بھٹوتک

تم کتنے بھٹو ما رو گے، ،گھر گھر سے بھٹو نکلے گا،،کل بھی بھٹو زندہ تھا،،آج بھی بھٹو زندہ ہے ، ، ’’جئے بھٹو صدا جئے ،،یہ تما م نعرے صرف نعرے ہیں یا پھر کو ئی حقیقت یافلسفہ یہ جا ننے کے لیے میں تا ریخ کے اور اق میںگم ہو گیا اور جیسے ہی میں نے شہداء کی تا ریخ کا پہلا ورق پلٹا تو مجھے ؓ سقراط،منصور، سرمد،میکو ،الانڈے،چی گویرا ، سی کا رنو ، جما ل عبد لنا صر،عمر مختا رکے نا م کے سا تھ ذوالفقار علی بھٹو کا نا م بھی جگمگا تا نظر آیا یہ سب بڑے لو گ تھے جنہوں نے اپنے اصولوں،مظلو موں ، لا چا روں کے لیے سر جھکا نے کے بجا ئے سڑکٹانے کو تر جیح دی او ر ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے۔ذوالفقار علی بھٹو جو کہ اسلامی دنیا کے ایک عظیم ہیرو تھے ۔اور جنہوں نے اپنے دور اقتدار میںاسلامی سربرا ہی کا نفرنس کر کے مسلم دنیا کو یکجا کرنے کی کو شش کی کے جرم کی پا داش میں اپریل کے اس مہینے جب اللہ تعا لیٰ پنجا ب کو دلہن کی طرح حسن سے نوازتا ہے محنت کشوں، دہقانوںکی محنت کی بدولت فصلیں اپنے حسن کی انتہا کو پہنچ جا تی ہیں با غات میں نئے نئے پھول اور کونپلیںبہار کے موسم کا جھومر بنتی ہیں پرندے نئی تو انا ئیوںکے سا تھ اپنی مو جو دگی کا احساس دلا تے ہیں پہا ڑوں کی برف پگھل کر در یا ئو ں کو روانی بخشتی ہے ۔ دہقان اپنی فصل کاٹنے اور اپنی محنت کا ثمر پانے کے منتظر ہو تے ہیں ایسے میںایک آمر جنرل ضیا ء الحق نے ملک کو ایک عظیم ہستی اور عظیم لیڈر سے محروم کردیا۔

اس عظیم ہستی اورعظیم لیڈر ذوالفقار علی بھٹو جسے جنرل ضیا ء الحق کے حکم پر را ولپنڈی ڈسٹرکٹ جیل کی قید میں رکھا گیا تھا اور اسے طرح طرح کی اذیتیںدے کر اس کے حوصلے کو شکستہ کرنے کی کو شش کی جا رہی تھی مگر اس کے حوصلے بلند تھے جس کے با عث فوجی حکام نے انہیں اچانک پھانسی دئیے جانے کی خبر سنا ئی مگراس بلند ہمت انسا ن نے اپنے حوصلے بلند رکھتے ہو ئی اپنی بیوی نصرت بھٹو اور بیٹی بینظیر بھٹو سے آخری ملا قات کی خوا ہش ظاہر کی بیگم نصرت بھٹو اور بینظیر بھٹو جو کہ اس وقت سہا لہ ریسٹ ہا ئوس میں نظر بند تھیں 3 اپریل کو شہید بھٹو سے ملا قات کرا ئی گئی جو کہ نصف گھنٹے سے زا ئد جا ری رہی اور اس دوران بھی بھٹو شہید انتہائی پر عزم حوصلے کے سا تھ اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ اہم امور پر تبا دلہ خیال کرتے رہے بلکہ انہیں دلاسے بھی دیتے رہے ملاقات کا وقت ختم ہوا دونوں ماں بیٹیاں انتہائی غمزدہ انداز میں با ہر آئیںمگر ذوالفقار علی بھٹوکے ما تھے پر کو ئی شکن تک نہیں آئی انہوں نے حسب معمول شیو اور غسل کیا کپڑے پہننے اور پھانسی کے وقت کا انتظار کرنے لگے اور کیونکہ بہار کے مو سم میںپھانسی کا وقت صبح 4متعین ہے لہٰذا وہ عبا دت میں مشغول ہو گئے ۔

اچانک را ت کے دو بجے سپر نٹنڈنٹ جیل چو ہدری یار محمد ، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سید مہدی، مجسٹریٹ درجہ اول بشیر احمد خان سینئر سپر نٹنڈ نٹ پولیس را ولپنڈی جہاں زیب برکی دبے قدموں کال کو ٹھری میں آئے اور انہیں پھانسی گھاٹ کی جا نب لے گئے اور پھر ٹھیک را ت کے دو بجے میڈیکل افسراصغر حسین کی مو جو دگی میں جلادتارا مسیح نے صرف دس روپے کے معاوضے پر اس عظیم شخص کو تختہ دار پر لٹکا دیا پھانسی کی خبر کو خفیہ رکھا گیا اور پھر فوجی حکام نے تدفین کی تیاریاں شروع کردیں میت کو جیل میں غسل دیا گیا اور اسے تابوت میں بند کر کے ائیر فورس کے میڈیم رینج طیارے سے 130 کے ذریعے میت سکھر ائیر پورٹ روانہ کی گئی پا ئلٹ اس بات سے بے خبر تھا کہ اس کے جہا ز میں ذوالفقار علی بھٹو کی میت ہے لیکن اسے جیسے ہی اس بات کا پتہ چلا اس نے میت کو آگے لے جانے سے انکار کر تے ہو ئے جہا زکوسر گودھامیں لینڈ کر دیا جہاں سے ایک دوسرے پائلٹ نے جہاز کو سکھر پہنچا یا پھر سکھر ائیر پورٹ سے اس عظیم ہیرو کی میت دو ہیلی کا پٹروں کے ذریعے جس میں ایک پر فو جی حکام سوار تھے اور دوسرے پر میت تھی گڑھی خدا بخش روانہ کی گئی اور چونکہ گڑھی خدا بخش جہاں فوج نے پہلے ہی غیر اعلانیہ کرفیو نا فذکر رکھا تھادونوں ہیلی کاپٹر صبح ساتھ بجے پہنچے میت کے ہمراہ سب ما رشل لا ء ایڈ منسٹریٹر بریگیڈئیر سلیم تھے جنہوں نے بھٹو خاندان کے اہم رکن مظفر علی بھٹو سے میت کی تصدیق کرا وا کر صرف دس منٹ میں میت کی تد فین کا حکم دیا۔

بھٹوشہید کی پھانسی اور میت آنے کی خبر گا ئو ں بھر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکی تھی لہٰذا لوگ تمام پا بندیاں توڑ کر گھروں سے با ہر نکل آئے اور انہوں نے فوجی حکام پر زور دیاکے ہم میت کو اپنی روایت کے مطا بق دفن کریں گے ۔ با لا آخر فوجی حکام گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گئے جس کے با عث جسد خاکی کو زنان خانے میں لے جایا گیاجہاں شیریں۔امیر بیگم ، مظفر علی بھٹو ، مولا بخش بھٹو اور بھٹو شہید کے منیجرعبدالقیوم خان نے میت کا آخری دیدار کیا اور بقول عبدالقیوم خان کے بھٹو شہید کی گردن پر پھانسی کے آثار کے بجا ئے سینے اور گردن پر زخم کے نشان تھے، پھر زنانہ خانے میں آخری دیدار کے بعد مولانا محمود علی بھٹو نے نما ز جنازہ پڑھائی اور با وجود پابندیوں کے جنازے جس میں لگ بھگ1500 افراد نے شرکت کی اورٹھیک سا ڑھے دس بجے دن شہید بھٹو کو لحد میںاتار دیا گیا، ملک کے عوام اس با ت سے بے خبر تھے کے اچانک آل انڈیا ریڈیو سے بھٹو کی پھانسی کی خبر نشر ہو ئی اور ایک مقامی اخبا رکاضمیمہ ما رکیٹ میں آگیا جس کے بعد ملک کے کونے کونے میں آگ لگ گئی فسادات پھوٹ پڑے جبکہ ملک کے ہر شہر ، قصبے میں غائبا نا نماز جنا زہ اداکی جانے لگی ۔ لوگ شہید بھٹو کے عشق میں خود سوزیا ںکرنے لگے حالا ت فو ج کے کنٹرول سے با ہر ہو گئے ،جس کے با عث فوج نے بڑے پیمانے پر گرفتا ریاں شروع کردیںاور صرف ایک ہی روز میں ملک کے مختلف حصوں سے 5000 سے زا ئد پیپلز پا رٹی ، سپاف، پیپلز اسٹو ڈنٹس فیڈریشن کے کا رکنوں کو گرفتا ر کر کے ان پر جبر و تشدد کا نہ رکنے کا والا سلسلہ شروع کر دیا مگر چونکہ بھٹو شہید نے اپنے کا رکنا ن کو سر جھکانے کے بجا ئے سر کٹانے کا درس دیا تھالہٰذا کا رکنان ننگی پیٹھوں پر کو ڑے کھا کر جئے بھٹو کے نعرے بلند کرتے رہے جبکہ وہ کا رکنا ن جنہیں ما رشل لا ء کورٹ نے پھا نسی کی سزا ئیں سنا ئی تھیں جئے بھٹو کے نعرے لگا لگا کر تختہ دار پر جھولنے لگے اور اس طر ح شہیدوں کایہ کا روا ں چلتا رہا قا فلہ بنتا رہا کے تحت ملک میں صرف پیپلز پا رٹی کو یہ اعزازحاصل ہوا کہ جمہو ریت کی را ہ میں سب سے زیا دہ اس کے کا رکنا ن نے اپنے جانوں کی قربا نی پیش کیں۔

ذوالفقار علی بھٹو کے بعد جب قیا دت بیگم نصرت بھٹو اور بینظیر بھٹو نے سنبھالی جب بھی پا رٹی کے قائدین اور کا رکنان کی جانب سے ملک کے غریب عوام اورجمہو ریت کے لیے شہا دت کے نذرا نے پیش کر نے کا سلسلہ جا ری رہا اور اب تک ذوالفقار علی بھٹو شہید ، شاہنواز بھٹو شہید ، میر مر تضیٰ بھٹو شہید ، محترمہ بینظیر بھٹو شہید سمیت ہزاروں معلوم اور نا معلوم شہداء نے شہید بھٹو کے مشن پر چلتے ہو ئے اپنی جا نوں کے نذرانے پیش کیے اور ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے آج ان اور ان جیسے سینکڑںنہیں بلکہ ہزاروںشہداء کی بدو لت پیپلز پا رٹی کو شہداء کی سب سے بڑی جما عت کا درجہ دیا جا ئے تو قطعی طو رپر بیجا نہ ہو گا ۔ پیپلز پا رٹی ملک کی وہ سیا سی قوت ہے جہا ں کوئی بھی کا ر کن کبھی گمنام شہید نہیں ہو ا اگر کارکنوں کے نام نہیںمعلوم توانہیں میں بھٹو ہوں کا نام دے کر پورے اعزازکے ساتھ دفن کیا جاتاہے، جس کی زندہ مثال 12 مارچ کو پو رے اعزازکے ساتھ دفن کیے جانے والے وہ شہداء جو کہ سانحہ18اکتوبر میںشہید ہو ئے تھے اور جوکہ اعضاء کی صورت میں نا قابل شا خت تھے گڑھی خدا بخش میںاعزاز کے ساتھ میں بھٹو ہو ں کا نام دے کردفن کیا گیا۔پھر میری سمجھ میں وہ نعرہ آگیا کے آخر لوگ طویل عر صہ گزر جا نے کہ با وجود زندہ ہے بھٹو ، زندہ ہے اور جئے بھٹو کے نعرے کیوں بلند کرتے ہیں کیونکہ ذوالفقارعلی بھٹو پا کستان کی تا ریخ میں وہ وا حد رہنما ہیںجنہوں نے پا کستان کے لیے وہ سب کچھ کیا جو کہ صدیوںتک کوئی نہیں کر سکتا۔


متعلقہ خبریں


ایران، اسرائیل و امریکا جنگ،دنیا کی 20 بڑی ایئر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان وجود - منگل 24 مارچ 2026

جنگ نے خلیج کے ہوائی اڈوں اور پروازوں کو متاثر کیا، ایندھن کی ممکنہ قلت کا خطرہ جیٹ فیول کی قیمت میں اضافے سے ایٔرلائن ٹکٹوں میں اضافے کا خدشہ ہے ایران پر اسرائیلی و امریکی جنگ کے نتیجے میں دنیا کی 20 بڑی ایٔر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق...

ایران، اسرائیل و امریکا جنگ،دنیا کی 20 بڑی ایئر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان

اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی وجود - پیر 23 مارچ 2026

دیمونا اور عراد میں ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں متعدد عمارتیں تباہ ،شہر کے مشرقی حصے میں دھماکوں کی اطلاعات،پاسداران انقلاب کا اسرائیلی لڑاکا طیارہ گرانے کا دعویٰ، اسرائیل نے تصدیق نہیں کی نیتن یاہو نے صورتحال کو انتہائی مشکل قرار دے دیا، ریسکیو اداروں کو مزید مضبوط کرنے کی...

اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ وجود - پیر 23 مارچ 2026

ایران تیل و گیس کی تنصیبات ، پانی صاف کرنیوالے پلانٹس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نظام کو نشانہ بنا سکتا ہے،ابرہیم ذوالفقاری ایران نے 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنیکیلئے اقدامات نہ کیے تو پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے،صدر ٹرمپ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر...

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم) وجود - پیر 23 مارچ 2026

حکمران طبقہ عیاشیوں میں مصروف ہے جبکہ عوام پر مہنگائی کے بم برسائے جا رہے ہیں غزہ کے بچے اور مجاہدین ملبے کے ڈھیروں میں عید منارہے ہیںاور ا ن کے حوصلے بلند ہیں جماعت اسلامی کراچی کے تحت یکم شوال کو مقامی ہال میں روایتی عید ملن کا انعقاد ہوا جس میں مرکزی ،صوبائی اور کراچی کے ذ...

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم)

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ) وجود - پیر 23 مارچ 2026

تیل کی مسلسل فراہمی کیلئے پرعزم ہیں، ہم ٹارگٹڈریلیف کی طرف جائیں گے، محمد اورنگزیب علاقائی کشیدگی اور جنگی حالات سے توانائی انفرااسٹرکچر متاثر ہونے کا خدشہ ہے،میڈیا سے گفتگو وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عیدالفطر کے موقع پر اہل وطن کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ملک میں استحکا...

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ)

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند وجود - پیر 23 مارچ 2026

سکیورٹی وجوہات کے باعث بانی پی ٹی آئی نمازعید ادا نہیں کر سکے،جیل ذرائع عید کی نماز کے دوران اپنے سیل میں ہی قیام کیا، بچوں سے ٹیلی فون پربات کی ملک بھر کی طرح اڈیالہ جیل میں بھی عید الفطر کی نماز ادا کی گئی۔جیل ذرائع کے مطابق عام قیدیوں نے عید نماز جیل کی جامع مسجد اور امام...

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پاکستان کیخلاف سرگرم دہشتگردوں اور ان کے نیٹ ورکس کا جہاں وجود ہوگا، انہیں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے ذریعے ختم کیا جائے گا، خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے فعال سفارتکاری کر رہا ہے چیف آف ڈیفنس فورس سے اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علماء کی ملاقات ، گمراہ کن پروپیگنڈا اور فرقہ...

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

رپورٹ میں پاکستانی میزائل پروگرام اور پالیسیاں امریکی سلامتی کیلئے ممکنہ خطرہ قرار،پاکستانی میزائل امریکا تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں، پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ایٹمی تصادم کا خطرہ پاکستان مسلسل جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو جنوبی ایشیا سے با...

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت تذبذب کا شکار ،عالیہ حمزہ اور سینٹرل پنجاب کے صدر سزا کے باعث روپوش لاہور کے صدر کسی سے رابطہ ہی نہیں کرتیپنجاب میں تتر بتر تنظیم کو دوبارہ فعال بنانا چیلنج ہوگا، ذرائع عید کے بعد عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک شروع کرنے کے معاملے پر پی ٹی آئی کے ا...

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، ایران کی طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ،اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی علی لاریجانی کی ہلاکت ایرانی حکومت کے خاتمے کے ہمارے منصوبے کا حصہ ہے، ہم ہارڈ لائنر کو نشانہ بنا ...

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

بس کردیں اور بانی کاعلاج کرائیں، جب ملاقات ہو گی تو انھیں بتائیں گے کتنے لوگوں نے ان سے اظہار یکجہتی کیا،اعتزاز احسن کے شکر گزار وہ آئے اور ہمارے ساتھ بیٹھے ،جدوجہد جاری رکھیں گے اگر عید کے بعد علاج نہ کروایا اور ملاقات نہیں ہونے دی تو حالات بدلیں گے، چیف کمشنر کی بات پر کیسے ی...

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

امریکہ، اسرائیل طاغوت، شیعہ سنی تفریق پیدا کرنیوالے ان کے آلہ کار ہیں، امیر جماعت اسلامی جماعت اسلامی اسٹیبلشمنٹ نہیں عوامی تائید سے اقتدار چاہتی ہے، حلقہ خواتین کی تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم بے اختیار، فارم سنتالیس سے آئے...

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم

مضامین
مظلوم کی للکاراور مسلم اُمہ کی ذمہ داری وجود منگل 24 مارچ 2026
مظلوم کی للکاراور مسلم اُمہ کی ذمہ داری

یوم پاکستان، مقبوضہ وادی میں سبز ہلالی پرچم وجود منگل 24 مارچ 2026
یوم پاکستان، مقبوضہ وادی میں سبز ہلالی پرچم

زوال پزیری۔۔۔ جس کا اندازہ لگانا مشکل ہے! وجود منگل 24 مارچ 2026
زوال پزیری۔۔۔ جس کا اندازہ لگانا مشکل ہے!

لیٹر بکس خاموش، عید کارڈ غائب ۔۔۔۔ ایک روایت کا زوال وجود پیر 23 مارچ 2026
لیٹر بکس خاموش، عید کارڈ غائب ۔۔۔۔ ایک روایت کا زوال

آئی ہے عید ہر سال کی طرح وجود پیر 23 مارچ 2026
آئی ہے عید ہر سال کی طرح

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر