... loading ...
بہادر آباد کے بھائیوں کی جانب سے دعوتیں تو انہیں اس وقت سے مل رہی تھیں جب سے وہ ایک اجلاس کا بائیکاٹ کرکے چلے گئے تھے اور ان کے حامیوں کے پی آئی بی کالونی میں اجلاس ہونے لگے تھے لیکن شاید ڈاکٹر فاروق ستار چاہتے تھے کہ وہ ایک فاتح کی حیثیت سے واپس بہادر آباد جائیں، اب وہ پچاس دن بعد وہاں گئے ہیں تو صورت یہ ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے انہیں ایم کیو ایم پاکستان کی کنوینرشپ پر بحال کر دیا ہے جس سے الیکشن کمیشن نے انہیں ہٹا دیا تھا اور اس سلسلے میں ہونے والے الیکشن بھی کالعدم کر دیئے تھے۔
فاروق ستار کو کنوینر کے عہدے سے ہٹا کر خالد مقبول صدیقی کو کیوں اس منصب پر بٹھایا گیا، اس کے لیے ان دنوں میں واپس جانا پڑے گا، جب سینیٹ کے الیکشن کی تیاریاں ہو رہی تھیں اور پارٹی ٹکٹوں کے فیصلے ہو رہے تھے۔ فاروق ستار نے کامران ٹیسوری کے لیے ٹکٹ کا اعلان کیا تو پارٹی میں اس کا ردعمل ہوا جس کے جواب میں فاروق ستار ٹیسوری کی حمایت میں ڈٹ گئے، پھر معاملات بگڑنا شروع ہوئے تو بگڑتے چلے گئے اور اتنا نقصان ہوا کہ ایم کیو ایم کو سینیٹ کی تین نشستوں کی صورت میں قیمت ادا کرنا پڑی، پارٹی کے دو دھڑے بن گئے، سینیٹ الیکشن کے بعد فاروق ستار نے الزام لگایا کہ ان کی پارٹی کے بہت سے ارکان اسمبلی نے پیسے لے کر پیپلزپارٹی کو ووٹ دیئے ہیں۔ ان کے اس الزام میں کوئی صداقت تھی یا نہیں لیکن کسی نے اس کا اثر نہیں لیا، اگر پیسوں کا کھیل کھیلا گیا تھا تو پیسے لینے والے جانتے ہیں یا دینے والے، اب تو کھیل ختم ہے۔
اب تو کوئی کسی کو پارٹی سے نکالنے کی بات کرتا ہے نہ کسی دوسرے اقدام کی، اس دوران یہ ہوا کہ الیکشن کمیشن نے ڈاکٹر فاروق ستار کا پتہ ہی صاف کر دیا، جب یہ مقدمہ کمیشن میں زیر سماعت تھا تو ڈاکٹر فاروق ستار نے سینہ تان کر اعلان کیا تھا کہ فیصلہ ان کے خلاف آئے یا حق میں وہ اسے قبول کریں گے لیکن جب فیصلہ آیا تو انہوں نے اپنے اعلان، دعوے یا قول و قرار جو بھی کہہ لیں کا پاس کرنے کی بجائے اس کے خلاف ہائی کورٹ میں جانے کا فیصلہ کیا۔ وہ وعدہ توڑ کر صادق یا امین رہے کہ نہیں یہ تو وہ جانیں لیکن انہیں کنوینر کا عہدہ ضرور واپس مل گیا، اس لیے اب وہ کشاں کشاں بہادر آباد پہنچ گئے اور اعلان کر دیا کہ اختلافات کے باوجود بہادر آباد ان کا مشترکہ گھر ہے۔ میڈیا پر ہونے والی گفتگوپر جائیں تو کہا جا سکتا ہے، ابھی پٹڑی کے دونوں کنارے متوازی چل رہے ہیں اور مقام اتصال کس ا سٹیشن پر آئے گا یہ معلوم نہیں لیکن اس دوران شاید بہادر آباد آنے کا راستہ فاروق ستار کے لیے کھل گیا ہے۔جہاں تک خالد مقبول صدیقی اور ان کے ساتھیوں کا تعلق ہے ان کے لیے پی آئی بی کا راستہ تو پہلے بھی اجنبی نہیں تھا اور وہ کہتے رہتے تھے کہ اختلافات بیٹھ کر طے کر لینے چاہئیں لیکن ابھی یہ سلسلہ جاری ہے۔
یہ بات معلوم رہنی چاہئے کہ ایم کیو ایم کے اندر اختلافات یا اتفاق کی نوعیت اپنی ہی نوعیت کے ہیں۔ یہاں اختلافات کے باوجود ایک نظریاتی بندھن کی موجودگی کا اعتراف بہرحال موجود ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس صورت حال کا فائدہ اٹھا کر صوبائی اسمبلی کی دو اور قومی اسمبلی کی ایک خاتون رکن دوسری جماعتوں میں چلی گئی ہیں۔ ڈاکٹر فاروق ستار کی پرانی تقریروں کے جو کلپس اس وقت ٹی وی چینلوں پر چل رہے ہیں ان میں ڈاکٹر فاروق ستار بڑے طمطراق سے اعلان کر رہے تھے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ جو بھی ہوگا، وہ اسے مانیں گے، لیکن فیصلے کے بعد وہ اسلام آباد ہائی کورٹ چلے گئے جو ظاہر ہے قانون کے مطابق درست راستہ ہے اور انہیں اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ انصاف کے لیے ہر دستیاب فورم پر جائیں لیکن ہمارے خیال میں جذباتی انداز میں یہ کہنے کی ضرورت نہ تھی کہ بہادر آباد والے مانیں یا نہ مانیں، میں تو فیصلہ مانوں گا۔ کہا جاتا ہے کہ کوئی بات کہنا اور کہہ کر مکر جانا سیاست دان کا استحقاق ہے لیکن اب الیکٹرانک میڈیا کے دور میں سیاست دانوں کے لیے اپنا بیان بدل لینا یا اگر مگر لگا کر اس کا سیاق و سباق بدلنے کی کوشش کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔
گزشتہ روز وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کی موجودگی میں تحریک انصاف کے چیئرمین نے یہ حیران کن بات کہہ دی کہ اگلا وزیراعظم بلوچستان سے ہو سکتا ہے، معلوم نہیں یہ بات ان کے منہ سے بے دھیانی میں نکل گئی یا ماحول کا اثر تھا کیونکہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں ایک نئی سیاسی جماعت کی تشکیل کا اعلان کیا جا رہا تھا۔ اس جماعت کے وابستگان کئی دفعہ کہہ چکے ہیں کہ اگلا وزیراعظم بلوچستان سے ہونا چاہئے اگرچہ اس کا انحصار تو انتخابات کے نتیجے پر ہے تاہم لگتا ہے اس کے لیے فضا ہموار کی جا رہی ہے چونکہ عمران خان نئی سیاسی جماعت کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے وزیراعلیٰ ہاؤس میں موجود تھے۔ اس لیے انہوں نے یہ بات تکلفاً کہہ دی یا ان کے منہ سے نکل گئی لیکن ہے حیران کن، کیونکہ وہ خود کہہ چکے ہیں کہ اگلی حکومت تحریک انصاف بنائے گی، ظاہر ہے ایسا انتخاب جیت کر ہی ممکن ہوگا جس کا انہیں پورا یقین ہے بلکہ وہ تو اپنی جیت کو 2014ء کے دھرنے سے نوشتہ دیوار سمجھے بیٹھے ہیں اسی لیے وہ اس وقت سے نئے انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں اب انہوں نے بلوچستان سے وزیراعظم کی بات نہ جانے کس کیفیت میں کر دی ہے یہ وزیراعلیٰ بلوچستان سے اظہار یکجہتی کا کرشمہ بھی ہو سکتا ہے۔ ممکن ہے کل کلاں وہ ڈاکٹر فاروق ستار کی طرح اپنے اس اعلان کو بھول ہی جائیں۔
خودکش حملہ آور نے گیٹ پر روکے جانے پر دھماکا کیا، متعدد زخمیوں کی حالت نازک، اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ،صدروزیراعظم کی مذمت،تحقیقات کا حکم وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ...
جس نے خودکش دھماکا کیا اس کی معلومات مل گئی ہیں، ہوسکتا 72 گھنٹوں میں انجام تک پہنچائیں، وزیرمملکت داخلہ وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ امام بارگارہ دھماکا خودکش تھا، حملہ آور کی معلومات مل گئی ہیں اور افغانستان کا کتنی دفعہ سفر کیا اس کی تفصیلات بھی آگئی ہیں۔وزیر ...
عمران خان نے دائیں آنکھ میں نظر کی کمی کی شکایت کی اور ان کی رضامندی سے علاج کیا گیا،پمز اسلام آباد کے سینئر اور مستند ماہر امراض چشم نے اڈیالہ جیل میں آنکھوں کا مکمل معائنہ کیا،ایگزیکٹو ڈائریکٹر معائنے میں سلٹ لیمپ معائنہ، فنڈواسکوپی، آنکھ کے اندرونی دباؤ کی پیمائش، ضروری ...
قوم کو نفرت، انتہاپسندی، اور دہشتگردی کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا، چیئرمین حکومت عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات کو یقینی بنائے،شدیدمذمت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں امام بارگاہ و مسجد میں دہشتگردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذ...
9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، بند کمروں میں فیصلوں سے بہت نقصانات ہوئے غلط پالیسیوں سے یہاں امن قائم نہیں ہو رہا اور ہم دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پولیس پر 9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، پولیس کو سیاست میں مت گھ...
معرکہ حق میں شاندار فتح سے کشمیر کا مسئلہ پوری دنیا میں اجاگر ہوا،وزیراعظم جلد کشمیر کی آزادی ممکن ہوگی ، کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا، معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت پراکی...
آزادی اظہاررائے کی آڑ میںعوام کو تکلیف پہنچانے نہیںدیں گے،سیدمراد علی شاہ احتجاج کیلئے کئی مقامات ہیں، مرکزی سڑکوں پر احتجاج نہیں کیا جاسکتا، میڈیا سے گفتگو وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہر شخص کو احتجاج اور جلسے جلوسوں کی اجازت ہے لیکن آزادی اظہار رائے کی آڑ میں ک...
کسی کو بھی کراچی بند کرنے کی اجازت نہیں، شہر قائد ملک کا معاشی مرکز ہے اس کا پہیہ چلتا ہے تو ملک چلتا ہے،ضیا لنجار پیر محمد شاہ پر لگے الزامات کی انکوائری جاری ہے، رپورٹ آنے سے پہلے کچھ کہنا مناسب نہیں ہے،میڈیا سے گفتگو وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے پاکستان تحریک انصاف (...
ملک بھر میںکشمیریوں سے غیر متزلزل حمایت کا عہد، شہدا کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی آزاد کشمیر اور پاکستان کو ملانے والے مختلف مقامات پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بھی بنائی گئی پاکستان ، آزاد کشمیر ، گلگت بلتستان اور دنیا بھر میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے جدوجہد آزادی میں مصروف ...
پاکستان اور جموں وکشمیر کے اٹوٹ رشتے کی تجدید، دنیا کشمیریوں کی پکار سنے گی پاکستان اور آزاد کشمیر میںجوش و خروش سے جلسے ، جلوسوں ، ریلیوں کا انعقادکیا جائیگا پاکستان، آزاد جموں وکشمیر اور دنیا بھر میںآج یوم یکجہتی کشمیر جوش و خروش سے منایا جائے گا جسکا مقصد بھارتی ظلم ستم...
ہر شہر میں جلسے منعقد کیے جائیں اور ریلیاں نکالی جائیں، مولانا عبدالغفور حیدری 8 فروری کا الیکشن قوم کیلئے ناقابل قبول ، عوامی مینڈیٹ پر کھلا ڈاکا ہے،بات چیت جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ایف) نے 8 فروی کو یوم سیاہ منانے کا اعلان کر دیا۔ اس حوالے سے مرکزی سیکریٹری جنرل جمعیت...
آٹا، چکن، مصالحے،بیکری آئٹمز، دودھ سمیت بیشتر اشیاء مزید مہنگی کر دی گئیں پھلوں کی 2۔28 اور مصالحہ جات کی 2 فیصدقیمتوں میں اضافہ ریکارڈکیا گیا رمضان المبارک کی آمدسے قبل مہنگائی میں اضافہ، آٹا، چکن، مصالحے،بیکری آئٹمز، دودھ سمیت بیشتر اشیاء مزید مہنگی کر دی گئیں۔ تفصیلات...