... loading ...
پندرہ برسوں میں دہشت گردوں کا 75 فیصد ہدف 25مسلم ممالک بنے، نائن الیون کے بعد دہشت گردوں کے حملوں میں صرف دو فیصد ہلاکتیں امریکا اور مغربی یورپ میں ہوئیں،پاکستان ہو، امریکا یا دنیا کا کوئی دوسرا خطہ، دہشت گردوں کا تو کوئی مذہب توہو سکتا ہے لیکن دہشت گردی کا نہیں۔ مگر اسے حالات کی ستم ظریفی کہیے یا تاریخ کا جبر کہ فلسطین پراسرائیلی اور افغانستان پر روسی غاضبانہ قبضے کے رد عمل میں شروع ہونے والی تحریکوں کو زیادہ تر ایسے عناصر نے ہائی جیک کر لیا جن کے مقاصدآزادی سے زیادہ سیاسی تھے ، جن کے حصول کے لیے انہوں نے مذہب کا لبادہ بھی اوڑھ رکھا تھا یا ہے۔ دوسری جانب عالمی طاقتوں نے مسلمانوں کے جذبات اور بعض عناصر کے لالچ کو اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کیا جس سے اسلام کو بدنام کیا گیا۔ یوں مسلمانوں کو دہشت گرد کے طور پر پیش کیا گیا حالانکہ اس عفریت کا سب سے بڑا شکار وہ خود ہیں۔
9/11کے بعد صرف 2فیصد ہلاکتیں امریکا اورمغربی یورپ میں ہوئیں جبکہ 75فیصد معصوم 25مسلم اکثریتی ممالک میں نا کردہ گناہوں کی بھینٹ چڑھ گئے۔جنگ ڈیولپمنٹ رپورٹنگ سیل نے ورلڈ ٹریڈ سینٹرپر 9/11کے دہشت گرد حملے کے بعد دنیا میں ہونے والی دہشت گردی کے حوالے سے امریکی یونیورسٹی آف میری لینڈ کے دہشت گردی کے حوالے سے اب تک کے سب سے بڑے اعدادوشمار کی بنیاد پر تیار کی گئی رپورٹ ’’گلوبل ٹیررازم ڈیٹا بیس ‘‘ اور انسٹی ٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس سے حاصل شدہ معلومات پر مشتمل جو رپورٹ تیار کی ہے اس کے مطابق 2001-15کے دوران دنیا بھر میں دہشت گردی سے ایک لاکھ 67ہزار 221ہلاکتیں ہوئیں جن میں سے 98فیصد (ایک لاکھ 63ہزار 532)امریکا اور مغربی یورپ سے باہر ہوئیں جبکہ 3ہزار689ہلاکتیں امریکا اور مغربی یورپ میں ہوئیں جن میں سے 2ہزار 977توصرف 9/11کے دہشت گرد حملے میں ہوئیں۔ انسٹی ٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس کے مطابق گزشتہ 25سال میں دہشت گردی کے 92فیصد واقعات ان ممالک میں ہوئے جہاں ریاستیں سیاسی تشدد کو فروغ دینے کی ذمہ دار ہیں۔
دہشت گردوں نے بازاروں ، سیکورٹی فورسز کے علاوہ افغان اساتذہ و بس ڈرائیور ، ترک کرد ، عراقی یزدی ، نائجیرین مساجد و ریسٹ ہائوسز اور پاکستانی طالب علموں ومزاروں کو بھی نشانہ بنایا تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ دہشت گردی تمام اسلامی ممالک کا مسئلہ نہیں ہے۔ اسلامی ممالک میں سے بھی انہی میں ہی دہشت گردی پنجے گاڑ سکی جو سیاسی عدم استحکام کا شکار یا آمریت کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں جس کا ثبوت یہ ہے کہ دہائیوں تک صدام کی آمریت سے آج سیاسی و فرقہ ورانہ تقسیم کے شکار ،عراق میں2001-15ء کے دوران 50ہزار اور ملائیشیا میں صرف 6افراد دہشت گردوں کا نشانہ بنے۔2016ء کے دوران اس سے گزشتہ برس کی نسبت 40فیصد زیادہ عراقی ہلاک ہوئے۔ دوسری جانب بہت سے مسائل لیکن سیاسی استحکام کی منازل طے کرتے نائجیریا میں 15ء کی نسبت 16ء میں ہلاکتوں میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ63فیصد کمی آئی۔مارچ 2011ء میں سیاسی اصلاحات کے لیے کیے جانے والے پر امن مظاہرین پر بشارحکومت کی وحشیانہ کاروائیوں کے بعد فرقہ ورانہ و مخصوص مفادات کے لیے حمایت و مخالف میں اٹھ کھڑے ہونے والے ایران ، سعودی عرب ، قطر ، ترکی، امریکااور روس کی پس پردہ اور کھلی جارحیت نے 2017ء میں شام کو مقتل ہی نہیں دہشت گردی میں ہلاکتوں والے ممالک کی فہرست میں ہالینڈ سے بھی زیادہ پر امن ملک سے ہٹا کر تیسرے نمبر پر لا کھڑا کیا ہے۔
پاکستان1999ء میں منتخب حکومت پر شب خون مارنے، آمر کی کنگز پارٹی اور بعد ازاں کمزور حکومت کے بعد 2013ء میں مضبوط حکومت کے قیام اور آرمی پبلک اسکول میں معصوم طالب علموں کی ہلاکت کے بعددہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی پر قومی اتفاق رائے و عملدر آمدکی وجہ سے پاکستان میں 2016ء میں مسلسل تیسرے سال دہشت گرد حملوں میں کمی دیکھنے میں آئی،گزشتہ 10 برس میں سب سے کم956 ہلاکتیں بھی اسی سال میں ہوئیں جو 2015ء کی نسبت 12فیصد اور 2013ء کی نسبت 59فیصد کم تھیں۔انسٹی ٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس کی 2017کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں بالترتیب دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں عراق پہلے ، افغانستان دوسرے ، نائجیریا تیسرے ، شام چوتھے ، پاکستان پانچویں اور بھارت آٹھویں نمبر پر ہیں۔ عراق میں دہشت گردی سے ہونے والی ہلاکتوں میں سے 90فیصد داعش کے حملوں میں ہوئیں۔ عراق میں دہشت گردی کے 13برسوں(2003-16ء )میں 16ء بد ترین سال تھا۔ 2016ء میں عراق میں دہشت گردی کے2965واقعات میں 9765ہلاکتیں، افغانستان1342واقعات میں 4574، شام366واقعات میں 2106،نائجریا466واقعات میں 1822اور پاکستان736واقعات میں 956 اور بھارت میں 929واقعات میں 340ہلاکتیں ہو ئیں۔نائجیریا میں 16ء میں15ء کے مقابلے میں ہلاکتیں 4940سے کم ہو کر 1822ہلاکتوں تک آگئیں جس کی وجہ دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن اور مقامی طور پر مذہب کا لبادہ اوڑھے دہشت گردوں کی مقامی کی حمایت میں کمی تھی، 14ء میں ہلاکتیں 7500تک پہنچ گئیں تھیں۔ 2016ء میں سب سے زیادہ ہلاکتوں والے 5ممالک میں19229ہلاکتیں ہوئیں جس میں سے نصف سے زائد عراق اور 3چوتھائی عراق اور افغانستان میں(بالترتیب 51اور 24فیصد ) ہوئیں 11فیصد شام، 10فیصد نائجیریا اور 5فیصد پاکستان میں ہوئیں۔
ₖ
وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...
میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...
چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...
وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...
ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...
خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...
گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...
نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...
ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...
تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...
ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...
بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...