وجود

... loading ...

وجود

دودھ کادودھ اورپانی کاپانی ہونے کوہے

بدھ 14 مارچ 2018 دودھ کادودھ اورپانی کاپانی ہونے کوہے

الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے غیر ملکی فنڈنگ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دے دیا۔چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران تحریک انصاف کے وکیل امور منصور پیش نہ ہوئے تاہم ان کی جگہ پی ٹی آئی کے فنانس سیکریٹری سردار اظہر الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے جبکہ درخواست گزار اکبر ایس بابر بھی سماعت کے دوران موجود تھے۔الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کی غیر ملکی فنڈنگ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا جو ایک ماہ میں پی ٹی آئی کی غیر ملکی فنڈنگ کی جانچ پڑتال کے بعد ایک ماہ میں رپورٹ کمیشن کو پیش کرے گی۔

کمیشن کی جانب سے قائم کی جانے والی 3 رکنی کمیٹی کی سربراہی الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) برائے قانون محمد ارشد کریں گے، تاہم کمیٹی کے دیگر افراد کے ناموں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

کمیٹی کے سامنے دونوں فریق اور ان کے وکلا پیش ہوں گے جہاں وہ تمام ثبوت اور دستاویزات کمیٹی کے سامنے پیش کریں گے جبکہ کمیٹی وکلا اور فریقین کی موجودگی میں ہی دستاویزات کی جانچ پڑتال کرے گی۔

الیکشن کمیشن نے دونوں فریقین کو غیر ملکی فنڈنگ کی جانچ پڑتال کے لیے قائم کی جانے والی کمیٹی کے سامنے 19 مارچ کو پیش ہونے کا حکم بھی دیا۔الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سابق بانی رہنما اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ آج الیکشن کمیشن میں فارن فنڈنگ کیس پر اہم پیش رفت ہوئی۔انہوں نے کہا کہ توقع کرتا ہوں پی ٹی آئی اس حکم کے خلاف ہائی کورٹ میں نہ جائے کیونکہ تحریک انصاف کا رویہ رہا ہے کہ وہ اپنے خلاف آنے والے ہر حکم کے کے لیے عدالتِ عالیہ کے حکمِ امتناع کے پیچھے جاتے ہیں۔اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ توقع ہے کہ باقی سیاسی جماعتوں کے اکاؤنٹس کی چھان بین کا بھی یہی طریقہ اپنایا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ سینیٹ کے انتخابات میں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے تسلیم کیا تھا کہ انہوں نے 80 کروڑ سے ایک ارب روپے تک لگائے تھے۔یاد رہے کہ اکبر ایس بابر نے ہی نومبر 2014 میں پاکستان تحریک انصاف کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ لینے کے معاملے پر درخواست الیکشن کمیشن میں دائر کی تھی۔اور 8 فروری کو ہونے والی سماعت کے دوران درخواست گزار اکبر ایس بابر کے وکیل نے پی ٹی آئی کے تاخیری حربوں پر نقطہ اعتراض اٹھایا کہ ای سی پی کے پاس متعدد ٹھوس ثبوت موجود ہیں کہ پی ٹی آئی نے بیرون ملک سے فنڈنگ جمع کی اور کمیشن کے سامنے پیش نہیں کی اس لیے پی ٹی آئی کو شوکاز نوٹس جاری کیا جائے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف پر غیر ملکی فنڈنگ کیس میں مزید تاخیری حربے استعمال کرنے پر برہمی کا اظہار کیا تھا۔

یاردرہے کہ عمران خان کی نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں دائرحنیف عباسی کی درخواست کے دوران تحریک انصاف فارن فنڈنگ سمیت دیگر معاملات کی تحقیقات کے لیے کمیشن کے قیام پرآمادگی ظاہرکرچکی ہے ۔ اس دوران دلائل دیتے ہوئے تحریک انصاف کے وکیل انورمنصورکاکہناتھاکہ اگر کسی سیاسی جماعت کا بیرون ممالک یا ملٹی نیشنل کمپنیوں سے فنڈنگ لینا ثابت ہو جائے تو وفاقی حکومت اس کے خلاف 15 دن کے اندر ریفرنس سپریم کورٹ بھیجوانے کی پابند ہے۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا تھا کہ ’کیا غیر ملکی فنڈنگ سے متعلق تحقیقات کے لیے الیکشن کمیشن کو اختیار حاصل ہے؟ کیا آپ اس بات سے متفق ہیں کہ غیر ملکی فنڈنگ کا تعین کرنے کے لیے الیکشن کمیشن ہی مجاز اتھارٹی ہے؟‘چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کے وکیل سے یہ بھی پوچھا کہ ’کیا آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن کو انتخابات کے بعد فارن فنڈنگ کی تحقیقات کا اختیار نہیں رہتا؟ ہر پانچ سال بعد انتخابات ہوتے ہیں، کیا ساڑھے چار سال کے دوران شکایت کی صورت میں الیکشن کمیشن تحقیقات کا اختیار نہیں رکھتا؟‘پی ٹی آئی کے وکیل نے جواب دیا کہ اکاؤنٹس کی تفصیلات ہر سال جمع ہوتی ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سال گزرنے کے بعد الیکشن کمشن سابقہ فارن فنڈنگ سے متعلق سوال نہیں اٹھا سکتی؟‘بینچ میں شامل جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ الیکشن کمیشن انتخابات کے انعقاد کا اختیار رکھتی ہے اسے تحقیقات کا بھی مکمل اختیار ہے۔

اس دوران تحریک انصاف کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ معاملے کی جانچ پڑتال کے لیے کمیشن بنادیا جائے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’کمیشن کیوں بنائیں، الیکشن کمیشن کو کیوں نہ بھجوا دیں۔وکیل تحریک انصاف نے کہا کہ سپریم کورٹ تحقیقات کے لیے کمیشن بنائے ہم تیار ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’آپ سیاسی جماعت کی نمائندگی کر رہے ہیں، اس طرح کا بیان ہدایات لے کر دیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن کو ہی کمیشن کا درجہ دے دیں تو شاید آپ کو تب بھی اعتراض نہیں ہو گا۔

علاوہ ازیں عمران خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں 35 صفحات پر مشتمل جواب بھی جمع کرادیا گیا جس میں لندن فلیٹ سے متعلق خریدو فروخت کے معاہدے کی بیان حلفی بھی شامل ہے۔اس کے علاوہ دستاویز میں جمائما خان کے ساتھ شادی اور طلاق تک کے واقعات پر بیان حلفی، آف شور کمپنی نیازی لمیٹڈ سروس کے بینک اکائونٹس کی تفصیلات،عمران خان اور جمائما خان کے درمیان بینک اکائونٹس کے ذریعے سیٹلمنٹ پر بیان حلفی اور تفصیلات شامل ہیں۔

9 صفحات پر مشتمل بیان حلفی میں عمران خان نے موقف اپنایا کہ 1971 سے 1982 تک کمائی گئی رقم کرکٹ کے کھیل سے حاصل کی اور اس پر تمام ٹیکس ادا کیے۔انہوں نے کہا کہ غیر ملکی کرکٹ سے کمائی گئی رقم کے ذریعے 1983 میں ایک بیڈروم پر مشتمل فلیٹ خریدا اور نیازی سروسز لمیٹد کا صرف ایک فلیٹ ہے۔عمران خان نے یہ بھی کہا کہ جب برطانوی فلیٹ بیچا گیا تو وہ وہاں کے رہائشی نہیں تھے اسی لیے ٹیکس ادا نہیں کیا۔عمران خان کے مطابق انہوں نے 1995 میں جمائمہ سے شادی کی، طلاق کے وقت برطانوی قانون کے مطابق مشترکہ اثاثے برابر تقسیم ہوتے ہیں جبکہ شرعی قانون کے تحت سابقہ شوہر سابقہ بیوی کے اثاثوں کا حق نہیں رکھتا۔چیئرمین پی ٹی آئی نے بتایا کہ جمائمہ سے طلاق کے بعد انہوں نے بیوی سے اثاثے لینے سے انکار کیا جبکہ جمائمہ نے بنی گالہ کی جائیداد اپنے اور بچوں کے لیے لی تھی۔بیان حلفی میں چیئرمین تحریک انصاف نے بتایا کہ 2002 کے انتخابات میں انہوں نے کاغذات نامزدگی میں 65 لاکھ ایڈوانس ٹیکس ظاہر کیا۔

ᐁDzంǧ䰬솰羅¶š騀٬


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر