وجود

... loading ...

وجود

بلیک فرائی ڈے کیاہے؟؟

بدھ 14 مارچ 2018 بلیک فرائی ڈے کیاہے؟؟

نومبر کے چوتھے جمعے کو امریکا میں بلیک فرائی ڈے کہا جاتا ہے۔ یا دوسرے لفظوں میںآپ اسے کالا جمعہ کہہ سکتے ہیں۔ کالا اس لیے کہ لوگ نصف شب ہی اسٹوروں کے سامنے قطار بنا کرکھڑے ہو جاتے ہیں اور اسٹور کھلنے کاانتظار کرنے لگتے ہیں تاکہ اپنی پسند کی چیزاس قیمت پر حاصل کرسکیں جو انہیں سال بھر دوبارہ شاید پھر اس قیمت پر نہ ملے۔ معاشی ماہرین بلیک فرائی ڈے یا کالے جمعے کی یہ توجیح پیش کرتے ہیں کہ یہ سال کا وہ دن ہے جب تاجروں کے کھاتے کالی سیاسی روشنائی سے لکھے جاتے ہیں۔ اکائونٹس کے شعبے میں، جب کاروباری کھاتے ہاتھ سے لکھنے کا رواج تھا (پاکستان اور اکثر ترقی پذیر ملکوں میں زیادہ تر کھاتے اب بھی منشی ہاتھ سے ہی لکھتے ہیں)، منافع کا اندراج کالی روشنائی سے جب کہ نقصان کو سرخ رنگ سے لکھا جاتا تھا۔ بلیک فرائی ڈے کی تاریخ کچھ زیادہ پرانی نہیں ہے۔ تاریخ دان اس کی کڑیاں 1924ء سے جوڑتے ہیں جب امریکا میں گھریلو ضرورت کی مصنوعات فروخت کرنے والی اسٹوروں کی ایک بڑی چین’’مے سی‘‘ نے تھینکس گوونگ کے موقع پر نیویارک میں ایک بڑی پریڈ کا ا?غاز کیاتھا۔ یہ پریڈ تب سے ہر سال بڑے جوش و خروش ہوتی ہے، جسے لاکھوں لوگ سڑکوں کے کنارے کھڑے ہوکر اور کروڑوں اپنے گھروں میں ٹیلی ویڑن پر دیکھتے ہیں۔ اسی دوران کسی موقع پر’’ مے سی‘‘نے پریڈ کا اگلے دن، یعنی جمعے پر بڑے پیمانے کی سیل کا اعلان کیا۔ اکثر اس سے متفق ہیں کہ یہی بلیک فرائی ڈے کا ا?غاز تھا اور پھر بھلا پیسہ کمانے کی دوڑ میں دوسرے اسٹور اور تاجر بھی کہاں پیچھے رہنے والے تھے، چنانچہ چند ہی برسوں میں تھینکس گوونگ کے بعد کا جمعہ امریکا میں ارزاں نرخوں پر چیزوں کی خریدو فروخت کا سب سے بڑا دن بن گیا۔

بلیک فرائی ڈے کو باضابطہ طور پر کرسمس کی خریداری کا نقطہ آغاز بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ اس دن کی لوٹ سیل کے بعد کرسمس کی روایتی سیل شروع ہو جاتی ہے جو کرسمس ختم ہونے کے بعد بھی جاری رہتی ہے۔ کیونکہ اکثر لوگوں کو نئے سال کے تحفے تحائف کی خریداری بھی کرنی ہوتی ہے۔ سیل کا یہ سلسلہ یکم جنوری گذرنے پر ختم نہیں ہوتا بلکہ اس کے بعد دکاندار ان بچی کچی چیزوں کو اونے پونے داموں نکالنے کی کوشش کرتے ہیں جنہیں وہ کرسمس اور سال نو کی سیل میں بیچ نہیں سکے تھے۔ جنوری گذرنے کے ساتھ ہی بازاروں اور مارکیٹوں کی رونقیں ماند پڑنے لگتی ہیں۔ اسٹوروں میں سیل کے دنوں میں بھرتی کیے جانے اضافی ملازموں کو فارغ کردیاجاتا ہے اور لوگ بھی اپنی خریداریوں کو سامنے رکھ کر جمع تفریق کرکے اآنے والے مہینوں میں بچت کے منصوبے بنانے لگے ہیں اور پھر گویا امریکا میں زندگی اپنے معمول پر ا?جاتی ہے۔ بلیک فرائی ڈے کے موقع پر اکثر اسٹور اپنے معمول کے وقت یعنی صبح نو بجے کی بجائے اس سے چار گھنٹے قبل پانچ بجے ہی کھل جاتے ہیں۔ بلکہ کئی اسٹور تو اس سے بھی پہلے اپنے دروازے صارفین کے لیے کھول دیتے ہیں۔ اکثر اسٹور اس موقع پر پہلے آنے والے کچھ گاہکوں کے لیے تحائف اور انعامات بھی رکھتے ہیں۔ کچھ اسٹور پہلے 10 یا 15 یا کچھ زیادہ گاہکوں کو الیکٹرانک کی مقبول چیزیں نصف قیمت پر یا بعض اوقات کوڑیوں کے مول دیتے ہیں۔ اور بعض مشہور برانڈ اپنی نئی مصنوعات بھی بلیک فرائی ڈے پر فروخت کے لیے پیش کرتے ہیں۔ بلیک فرائی ڈے کے یہی پہلو لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں اور وہ سردی اور موسم کی پروا کیے بغیر اسٹور کھلنے سے گھنٹوں پہلے قظاروں میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔
صارفین کے لیے بعض چیزوں میں اتنی کشش ہوتی ہے، کہ ان کی خرید کے لیے اسٹوروں کے سامنے دو دو تین تین دن پہلے قطاریں لگ جاتی ہیں۔ اس دوران چاہے بارش ہو یا برف باری یا بھلے سے طوفان ہی کیوں نہ آجائے۔ مجال ہے کہ قطار میں کھڑا کوئی شخص اپنی جگہ چھوڑے۔ ایسی صورت حال سے نمٹنے کے لییوہ چھوٹے سائز کے خیمے ، برساتیاں، کھانے پینے اور ضرورت کی دوسری چیزیں اپنے ساتھ لاتے ہیں۔ لمبے دنوں کی قطاروں میں کھڑے ہونے والے بالعموم اکیلے نہیں ہوتے بلکہ انہیں ضرورت کی چیزوں کی فراہمی اور دلجوئی کے لیے دوست یا خاندان کے دو تین افراد بھی ساتھ ہوتے ہیں۔ گویا یہ صرف خریداری ہی نہیں ہوتی ، ایک طرح کی مہم جوئی بھی ہوتی ہے۔ بلیک فرائی ڈے پر کچھ خریدنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہوتا۔ طویل جہدوجہد کے بعد اسٹور میں داخل ہونیکیبعدبھی پریشانی کا دور ختم نہیں ہوتا، بلکہ صبر آزما لمحات اس کے بعد شروع ہوتے ہیں اور آپ کو پتا چلتا ہے کہ آپ کی پسندیدہ چیز کا سٹاک ختم ہوگیا ہے یا اگر وہ آپ کو مل بھی جائے تو اس کی قیمت چکانے کے لیے پھر ایک بڑی قطار آپ کی منتظر ہوتی ہے۔ چندبرسوں سے انٹرنیٹ بھی بلیک فرائی ڈے کی دوڑ میں شامل ہوگیا ہے۔ ایمیزان اور کئی بڑے اسٹور ویب پر محدود مقدار میں چند خاص مصنوعات فروخت کے لیے پیش کرتے ہیں۔یہ فروخت ٹھیک نصب شب شروع ہوتی ہے اور تعداد پوری ہونے پر سیل پر فروخت بند ہوجاتی ہے۔ اکثر لوگ گھنٹوں پہلے ان کی ویب سائٹ پر جاکر، مطلوبہ معلومات انٹر کرنے کے بعد بارہ بجنے کا انتظار کرنے لگتے ہیں تاکہ جیسے ہی گھڑی کی دونوں سوئیاں بارہ کے ہندسے باہم شیر و شکر ہوں، وہ کلک کردیں۔ مگر ہوتا یہ ہے کہ ایک ساتھ ہزاروں افراد کلک کرتے ہیں،اور ان کی خوش قسمتی کا فیصلہ کرتاہے کمپنی کا کمپیوٹر، جس کے اندر دل ہوتا ہے نہ جذبات۔ بلیک فرائی ڈے کا سب سے اہم اور نمایاں پہلو، جو اآپ کو ہمارے ہاں شاید کم ہی دکھائی دے، یہ ہے کہ لوگ گھنٹوں بڑے سکون کے ساتھ اسٹور کے باہر قطار میں کھڑے رہتے ہیں۔ ان میں سے اکثر کو تو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان کی باری آنے تک یا تو مطلوبہ چیز ختم ہوجائے گی یا پھر وہ انہیں پہلے 10 یا 15 گاہکوں کی خصوصی رعایتی قیمت پر نہیں ملے گی، لیکن اس کے باوجود نہ تو دھکم پیل ہوتی ہے۔ نہ گریبان پکڑے جاتے ہیں، نہ گالی گلوچ اور دھینگامشتی ہوتی ہے ، حتیٰ کہ وہاں نظم وضبط کے لیے کوئی پولیس اہل کار بھی موجود نہیں ہوتا۔ یہ ایک ایسانظارہ ہے جس کی یا توآپ خواہش کرسکتے ہیں یا جسے صرف امریکا میں بلیک فرائی ڈے پر دیکھ سکتے ہیں۔

٪Ʃܨƨ崰ߚƧ싀࢖Ʀ⡐ग़ʚ頀


متعلقہ خبریں


8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال وجود - اتوار 08 فروری 2026

محمود اچکزئی کی وزیراعظم کو شریک ہونے کی پیشکش، عوام سے جذباتی نہ ہونے کی اپیل،شہباز شریف سے کہتا ہوں وہ عوام کے سوگ میں شامل ہوجائیں، ملکی حالات ایسے نہیں عوام کو جذباتی کیا جائے، پیغام مریم نواز کو ہمارے ساتھ ہونا چاہیے، ناانصافی سے گھر اور رشتے نہیں چلتے تو ملک کیسے چلے گا،مل...

8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار وجود - اتوار 08 فروری 2026

داعش افغانی خودکش حملہ آور کا نام یاسر، پشاور کا رہائشی ، حملے سے قبل مسجد کی ریکی کی، ایک ہفتہ پہلے مسجد سے ہوکر گیا،شواہد جمع کرنے کیلئے نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد لی گئی، ابتدائی تفتیش حملے کی منصوبہ بندی، تربیت اور ذہن سازی افغانستان میں داعش نے کی، افغان طالبان ک...

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند وجود - اتوار 08 فروری 2026

ڈالرز کی منی لانڈرنگ اور اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے ہیں،گورنر اسٹیٹ بینک ٹریڈ بیس منی لانڈرنگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، سینئر صحافیوں سے ملاقات و گفتگو گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے دو ارب ڈالر کے رول اوور میں کوئی مسئ...

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت وجود - اتوار 08 فروری 2026

کسٹمز کے اینٹی اسمگلنگ یونٹ کا نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی سکھر کے سرکاری دفتر پر چھاپہ نان کسٹم پیڈ اور ٹمپرڈ گاڑی قبضے میں لے لی،جبکہ حیران کن طور پر ڈپٹی ڈائریکٹر مقدمے میں نامزد دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ کھل کر سامنے آگئی، پاکستان کسٹمز کے اینٹی ...

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی وجود - هفته 07 فروری 2026

خودکش حملہ آور نے گیٹ پر روکے جانے پر دھماکا کیا، متعدد زخمیوں کی حالت نازک، اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ،صدروزیراعظم کی مذمت،تحقیقات کا حکم وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ...

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری وجود - هفته 07 فروری 2026

جس نے خودکش دھماکا کیا اس کی معلومات مل گئی ہیں، ہوسکتا 72 گھنٹوں میں انجام تک پہنچائیں، وزیرمملکت داخلہ وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ امام بارگارہ دھماکا خودکش تھا، حملہ آور کی معلومات مل گئی ہیں اور افغانستان کا کتنی دفعہ سفر کیا اس کی تفصیلات بھی آگئی ہیں۔وزیر ...

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول وجود - هفته 07 فروری 2026

عمران خان نے دائیں آنکھ میں نظر کی کمی کی شکایت کی اور ان کی رضامندی سے علاج کیا گیا،پمز اسلام آباد کے سینئر اور مستند ماہر امراض چشم نے اڈیالہ جیل میں آنکھوں کا مکمل معائنہ کیا،ایگزیکٹو ڈائریکٹر معائنے میں سلٹ لیمپ معائنہ، فنڈواسکوپی، آنکھ کے اندرونی دباؤ کی پیمائش، ضروری ...

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو وجود - هفته 07 فروری 2026

قوم کو نفرت، انتہاپسندی، اور دہشتگردی کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا، چیئرمین حکومت عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات کو یقینی بنائے،شدیدمذمت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں امام بارگاہ و مسجد میں دہشتگردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذ...

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی وجود - هفته 07 فروری 2026

9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، بند کمروں میں فیصلوں سے بہت نقصانات ہوئے غلط پالیسیوں سے یہاں امن قائم نہیں ہو رہا اور ہم دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پولیس پر 9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، پولیس کو سیاست میں مت گھ...

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی

بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا،شہبازشریف وجود - جمعه 06 فروری 2026

معرکہ حق میں شاندار فتح سے کشمیر کا مسئلہ پوری دنیا میں اجاگر ہوا،وزیراعظم جلد کشمیر کی آزادی ممکن ہوگی ، کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا، معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت پراکی...

بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا،شہبازشریف

احتجاج اور جلسے کی اجازت، سڑکیں بند کرنے نہیں دینگے، وزیراعلیٰ سندھ وجود - جمعه 06 فروری 2026

آزادی اظہاررائے کی آڑ میںعوام کو تکلیف پہنچانے نہیںدیں گے،سیدمراد علی شاہ احتجاج کیلئے کئی مقامات ہیں، مرکزی سڑکوں پر احتجاج نہیں کیا جاسکتا، میڈیا سے گفتگو وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہر شخص کو احتجاج اور جلسے جلوسوں کی اجازت ہے لیکن آزادی اظہار رائے کی آڑ میں ک...

احتجاج اور جلسے کی اجازت، سڑکیں بند کرنے نہیں دینگے، وزیراعلیٰ سندھ

8فروری کے دن پی ٹی آئی کو کوئی حرکت نہیں کرنے دیں گے ،وزیر داخلہ سندھ وجود - جمعه 06 فروری 2026

کسی کو بھی کراچی بند کرنے کی اجازت نہیں، شہر قائد ملک کا معاشی مرکز ہے اس کا پہیہ چلتا ہے تو ملک چلتا ہے،ضیا لنجار پیر محمد شاہ پر لگے الزامات کی انکوائری جاری ہے، رپورٹ آنے سے پہلے کچھ کہنا مناسب نہیں ہے،میڈیا سے گفتگو وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے پاکستان تحریک انصاف (...

8فروری کے دن پی ٹی آئی کو کوئی حرکت نہیں کرنے دیں گے ،وزیر داخلہ سندھ

مضامین
پاکستان معاشی مواقع کھورہاہے ! وجود اتوار 08 فروری 2026
پاکستان معاشی مواقع کھورہاہے !

روٹی اور تماشا وجود اتوار 08 فروری 2026
روٹی اور تماشا

ایران۔امریکہ کشیدگی:بدلتا عالمی توازن اور جنگ و امن کی کشمکش وجود اتوار 08 فروری 2026
ایران۔امریکہ کشیدگی:بدلتا عالمی توازن اور جنگ و امن کی کشمکش

مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈا وجود هفته 07 فروری 2026
مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈا

روٹی یا شعور۔۔۔؟ وجود هفته 07 فروری 2026
روٹی یا شعور۔۔۔؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر