وجود

... loading ...

وجود

سینیٹ الیکشن کے حیران کن نتائج، بدترین ہارس ٹریڈنگ کے الزامات

منگل 06 مارچ 2018 سینیٹ الیکشن کے حیران کن نتائج، بدترین ہارس ٹریڈنگ کے الزامات

سینیٹ کی 52 نشستوں پر انتخابات کے نتائج آنے پر مسلم لیگ (ن) کے حامی امیدواروں کی سینیٹ میں تعداد 32 ہوگئی اور قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ میں بھی مسلم لیگ (ن) سب سے بڑی پارٹی بن گئی۔ گزشتہ روز سینیٹ کے الیکشن میں مسلم لیگ (ن) نے پنجاب سے 11‘ اسلام آباد سے 2‘ خیبر پی کے سے 2 نشستیں حاصل کر لیں جبکہ سینیٹ میں ان کے 17 ارکان پہلے سے موجود ہیں۔ پیپلز پارٹی سینیٹ کی دوسری بڑی سیاسی جماعت ہے جن کے سینیٹ میں پہلے سے موجود ارکان کی تعداد 8 تھی جبکہ اس الیکشن میں پیپلزپارٹی نے سندھ سے 10 اور خیبر پی کے سے 2 نشستیں جیتی ہیں جس سے ان کے کل ممبران کی تعداد 20 ہوگئی۔ سینیٹ میں آزاد سینیٹرز کی نشستیں تیسرے نمبر پر ہیں۔ پہلے سے 5 آزاد سینیٹر موجود تھے اور بلوچستان سے 6مزید آزاد امیدواروں کی جیت سمیت فاٹا سے 4 آزاد امیدواروں کی جیت سے آزاد سینیٹروں کی تعداد 15 ہوگئی۔ پاکستان تحریک انصاف کی سینیٹ میں پہلے 6 نشستیں تھیں جبکہ پنجاب سے 1 نشست اور خیبر پی کے سے 5 نشستیں جیتنے کے بعد ان کے سینیٹ میں کل ارکان کی تعداد 12 ہوئی ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کی پہلے سینیٹ ارکان کی تعداد 4 ہے جبکہ وہ اس الیکشن میں محض 1 نشست حاصل کرکے 5 ارکان کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہے۔ سینیٹ میں چھٹے نمبر پر مسلم لیگ(ن) کی حلیف جماعت نیشنل پارٹی کے پہلے سے 4ارکان تھے۔ انہوں نے بلوچستان سے 2 نشستیں مزید جیت کر اپنے کل ارکان کی تعداد 6 تک پہنچا دی ہے۔ جبکہ ساتویں نمبر پر پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کے سینیٹ میں اس وقت 3ارکان ہیں۔ جمعیت علماء اسلام(ف) کے پہلے سے سینیٹ میں 2 ارکان ہیں جبکہ بلوچستان اور خیبر پی کے سے انہوں نے ایک ایک نشست مزید جیت کر اپنے کل ارکان کی تعداد 4تک پہنچا دی ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان کا سینیٹ میں پہلے ایک رکن ہے ایک اور امیدوار کی کامیابی سے جماعت اسلامی کے سینیٹروں کی تعداد 2 ہوگئی جبکہ عوامی نیشنل پارٹی‘ بلوچستان نیشنل پارٹی دیہی سندھ سے مسلم لیگ فنکشنل کا ایک امیدوار جیتنے سے ان تینوں جماعتوں کا سینیٹ میں ایک ایک رکن ہوگا۔ جنرل(ر) پرویز مشرف کی کنگزپارٹی مسلم لیگ(ق) کا سینیٹ میں اب کوئی رکن باقی نہیں رہا۔

کچھ لوگوں کی طرف سے سینیٹ کے الیکشن کے حوالے سے سوالیہ نشان لگا دیا گیا تھا۔ دو سال سے یہ افواہیں مسلسل پھیلائی جاتی رہیں کہ سینیٹ کے انتخابات بروقت نہیں ہونگے۔ افواہ ساز فیکٹریوں سے اسمبلیوں کی آئینی مدت پوری نہ کرنے کی تاویلیں بھی سامنے آتی رہیں۔ کہا جاتا رہا کہ سینیٹ کے انتخابات سے قبل اسمبلیاں ختم ہو جائیگی‘ اب بھی اسمبلیوں کی آئینی مدت پوری نہ ہونے کا واویلا دیکھنے اور سننے میں آرہا ہے۔ سینیٹ کے بروقت انتخابات کے انعقاد سے ایک جمہوری سنگ میل عبور ہوا ہے۔ عام انتخابات کی راہ میں نہ پہلے کوئی رکاوٹ تھی نہ آئندہ ہونے کا کوئی خدشہ ہے۔ سینیٹ الیکشن کے کم و بیش وہی نتائج سامنے آئے ہیں جن کی توقع کی جارہی تھی۔

سینیٹ انتخابات میں سب سے زیادہ توجہ پنجاب پر تھی‘ جہاں ایک طرف مسلم لیگ (ن) کے امیدوار آزاد حیثیت میں الیکشن لڑ رہے تھے‘ دوسرے مسلم لیگ (ن) کے اندر انتشار کی افواہیں بھی تھیں۔ مسلم لیگ (ن) نے 12 میں سے 11 نشستوں پر کامیابی حاصل کرکے جہاں پارٹی اتحاد اور مضبوطی کا اظہار کیا‘ وہیں 38 ارکان کی طرف سے ڈسپلن کی خلاف ورزی بھی سامنے آئی تاہم پارٹی کو بڑا ڈینٹ نہیں پڑا۔ چودھری سرور کی کامیابی پنجاب میں ایک طرح کا اپ سیٹ ضرور ہے مگر خیبر پی کے میں تحریک انصاف کو اس سے بڑے اپ سیٹ کا سامنا کرنا پڑا جہاں پی ٹی آئی دو سیٹوں سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ عمران خان اسی پر برہم دکھائی دیتے ہیں۔

سینیٹ میں برتری حاصل کرنے پر مریم نواز اور حمزہ شہباز نے کہا کہ روک سکو تو روک لو‘ جمہوریت کی فتح ہوئی ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف کا کہنا ہے کہ طوطا فال والوں کو مایوسی ہوئی‘ واضح ہوگیا کہ مسلم لیگ سب سے بڑی جماعت ہے‘ عام انتخابات بھی جیتیں گے۔ اب تک ہونیوالے بیشتر ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کو کامیابی حاصل ہوئی‘ سینیٹ الیکشن کو آئندہ کے انتخابات کے لیے بیرومیٹر قرار دیا جا سکتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے پارٹی صدارت کے لیے ایک دانشمندانہ فیصلہ سامنے آیا۔ لیگی قیادت نے کئی ماہ نفع و نقصان کا حساب لگانے کے بعد شہبازشریف کو پارٹی صدر بنانے کا فیصلہ کیا۔ مسلم لیگ (ن) کی مضبوطی اور اتحاد کے لیے بھی مناسب فیصلہ ہے۔ قیادت اسکے علاوہ جو بھی فیصلہ کرتی‘ وہ مہم جوئی ثابت ہو سکتی تھی۔ ایک بڑی پارٹی کو سنبھالنے کے لیے شہبازشریف جیسے منتظم کی ہی ضرورت تھی ورنہ تو متحدہ قومی موومنٹ کی حالت سب کے سامنے ہے۔ وہ بمشکل ایک سینیٹر کو منتخب کراسکی ہے۔ جب تک متحدہ قائد کے آہنی اور بے رحم پنجوں میں تھی‘ کسی کو ڈسپلن کی خلاف ورزی کی ہمت نہیں تھی۔ قائد کا کردار ختم ہوا تو سامنے آنیوالی قیادت اپنی اہلیت ثابت نہ کرسکی۔ کمزور لیڈرشپ سے کوئی بھی پارٹی بکھر سکتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کو عدالتی فیصلوںکے باعث نامساعد حالات کا سامنا ہے مگر پارٹی چونکہ مضبوط ہاتھوں میں ہے‘ اس لیے پہلے سے بھی مضبوط نظر آرہی ہے۔ یکم مئی کو نہال ہاشمی کی خالی ہونیوالی نشست پر سینیٹ الیکشن ہوا جس میں پارٹی ارکان کی کمٹمنٹ سامنے آئی جو بہتر لیڈر شپ کی ایک مثال ہے۔

سینیٹ الیکشن پرامن ماحول میں ہوئے‘ اس کا کریڈٹ الیکشن کمیشن کو جاتا ہے۔ ارکان الیکشن کمیشن پولنگ کی نگرانی کرتے رہے۔ طاہرالقادری اس پر بھی اشتعال میں نظر آئے‘ کہتے ہیں الیکشن کمیشن نے واضح کردیا کہ اس سے شفاف انتخابات کی توقع نہ رکھی جائے۔ طاہرالقادری پورے پاکستانی بن کر اپنے امیدوار انتخابات میں اتاریں الیکشن جیت کر الیکشن کمیشن کی بھی اصلاح کریں۔

سینیٹ انتخابات سے قبل اگر کوئی بے ضابطگیاں ہوئی ہیں تو وہ الیکشن کمیشن کے علم میں لائی جا سکتی ہیں۔ الیکشن کمیشن کے اوپر عدالتیں بھی موجود ہیں۔ سینیٹ الیکشن کے دوران الیکشن کمیشن بجا طور پر مستعد رہا مگر ہارس ٹریڈنگ جس سطح پر ہوئی وہ اسکی مجموعی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ بادی النظر میں بلوچستان میں ہارس ٹریڈنگ کی انتہاء ہوگئی جہاں مسلم لیگ (ن) کو سینیٹ سے باہر کردیا گیا۔ آصف زرداری نے بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی کو اپنی کامیابی قرار دیا اور مزید کامیابی کی نوید سنائی تھی۔ خیبر پی کے میں پیپلزپارٹی دو سیٹیں لے گئی۔ سندھ میں متحدہ کو کارنر کردیا گیا۔ پنجاب میں پی پی پی کے امیدوار کو 26 ووٹ مل گئے۔ اگر یہی جمہوریت ہے تو پھر قوم و ملک اور جمہوریت کا اللہ ہی حافظ ہے۔

ہارس ٹریڈنگ پر عمومی شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ا سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے بھی کہا ہے کہ سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ ہوئی ہے۔ عمران خان تو باقاعدہ اشتعال میں ہیںانھو ں اپنے دورہ کراچی کے دوران واضح الفاظ میں کہہ دیاہے کہ ہمارے اراکین اسمبلی بھی سینیٹ الیکشن کے دوران بکے اس کی تحقیقات کی جائے گی۔لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ عمران خان صاحب اوران کے دیرینہ ساتھی شیخ رشید اسمبلی اپنا ووٹ تک کاسٹ کرنے نہیں گئے ۔ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹرفاروق ستارنے بھی سینیٹ الیکشن میں بدترین ہارس ٹریڈنگ کاالزام لگایاانھوں نے پریس کانفرنس کے دووران دعوی کیاکہ ان کے 14سے زیادہ اراکین اسمبلی فروخت ہوگئے ۔کم وپیش اسی قسم کے الزامات پنجاب میں بھی ن لیگ کی جانب سے سامنے آرہے ہیں ۔سیاسی جماعتوں کی جانب سے چیف جسٹس سے سینیٹ الیکشن میں بدترین ہارس ٹریڈنگ کاسوموٹولینے کامطالبہ کیاجارہاہے ۔اس حوالے سے عوام وخواص کوضرور سوچنا ہو گا کہ آیاخصوصاعوام کوضروراپنے منتخب کردہ اراکین اسمبلی سے یہ سوال کرناچاہیے کہ آیاانھوںنے اپنے ضمیرکاسوداکیوں کیا۔

عام انتخابات اب زیادہ دور نہیں‘ اس میں جو نتائج آئینگے سو آئینگے‘ جیتنے والی پارٹی یا پارٹیاں حکومت بنائیں گی مگر اب سینیٹ الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کو کامیابی حاصل ہوچکی ہے۔ اگلے مرحلے میں چیئرمین سینیٹ کے الیکشن ہونے ہیں‘ مسلم لیگ (ن) اتحادی جماعتوں سے مل کر آسانی سے اپنا چیئرمین منتخب کراسکتی ہے۔ مگر پاکستان پیپلزپارٹی اپنا چیئرمین بنوانے کے لیے سرگرم ہوگئی ہے۔ خورشید شاہ کہتے ہیں کہ چیئرمین انکی پارٹی کا ہوگا۔ اسکے ساتھ ہی پی پی پی کا وفد جوڑ توڑ کے لیے کوئٹہ پہنچ گیا ہے۔ ہارس ٹریڈنگ چیئرمین کے الیکشن میں بھی ہو سکتی ہے۔ پی پی بلوچستان میں جیتنے والے سینیٹرز کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کریگی۔ سینیٹ میں آزاد امیدواروں کی تعداد 15 ہے جبکہ پنجاب سے کامیاب ہونیوالے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار بھی بوجوہ آزاد حیثیت میں ایوان میں جائینگے۔ یوں ہارس ٹریڈنگ کا ایک کھلا میدان موجود ہے۔ سینیٹ الیکشن میں کروڑوں روپے کی ادائیگیوں کی باتیں ہورہی ہیں۔ شفاف جمہوری عمل میں ہارس ٹریڈنگ کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ الیکشن کمیشن ہارس ٹریڈنگ کی خبروں کا سختی سے نوٹس لے۔ متحدہ کے سربراہ فاروق ستار نے برملا کہا ہے کہ انکے 14 ارکان نے پی پی پی کے امیدوار کو ووٹ دیئے‘ دیگر پارٹیاں بھی ارکان کی خریدوفروخت کے ثبوت متعلقہ اداروں کے سامنے رکھیں۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ اگر سیکرٹ کے بجائے اوپن ووٹنگ ہوتی تو کیا پھر بھی اسی طرح ہارس ٹریڈنگ ہوتی؟ سیاسی پارٹیاں اوپن ووٹنگ پر غور کریں۔ چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں بھی ہارس ٹریڈنگ سے بچنے کے لیے سیکرٹ کے بجائے اوپن بیلٹ کا طریقہ کار اختیار کیا جا سکتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کو سینیٹ میں برتری حاصل ہے‘ پیپلزپارٹی اور دیگر پارٹیاں اس حقیقت کو تسلیم کریں۔ اسکے چیئرمین کے انتخاب کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی نہ کی جائیں۔ جمہوریت میں ارکان اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دینے میں آزاد ہیں۔ ضمیر خریدنا کوئی جمہوریت نہیں ہے۔ انجینئرڈ طریقے سے کسی کی بھی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی کوشش جمہوریت کی خدمت نہیں ہے۔


متعلقہ خبریں


نیتن یاہو کا ایران پر دوبارہ حملوں کیلئے دباؤ، ٹرمپ کے مشیر منقسم وجود - هفته 07 نومبر 2026

قطری حکام نے نئی امریکی فوجی کارروائی روکنے کیلئے سفارتی کوششیں شروع کر دیں، رپورٹ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو ایران کے خلاف امریکا کی جانب سے دوبارہ حملے شروع کرنے پر مسلسل زور دے رہے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اس معاملے پر تقسیم ہو گئے ہیں کہ آیا جنگ ختم کی جائ...

نیتن یاہو کا ایران پر دوبارہ حملوں کیلئے دباؤ، ٹرمپ کے مشیر منقسم

شہزادہ ہیری کا بھائی شہزادہ ولیم سے صلح کیلئے بھابھی کیٹ مڈلٹن کی مدد لینے کا فیصلہ وجود - هفته 07 نومبر 2026

شاہی خاندان میں صلح کروانے کے حوالے سے شہرت رکھنے والی کیٹ مڈلٹن نے ہیری سے مطالبہ کردیا برطانوی شاہی خاندان کے منحرف رکن شہزادہ ہیری اپنے ناراض بھائی شہزادہ ولیم سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنی بھابھی کیٹ مڈلٹن سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہ...

شہزادہ ہیری کا بھائی شہزادہ ولیم سے صلح کیلئے بھابھی کیٹ مڈلٹن کی مدد لینے کا فیصلہ

صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا، ٹرمپ وجود - هفته 07 نومبر 2026

ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے نہ روکا ہوتا تو آج اسرائیل ،مشرق وسطی موجود نہ ہوتے، امریکی صدر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈ ٹرم الیکشن کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈی سپیس سینٹر میں ...

صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا، ٹرمپ

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلیاں،2کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا گیا وجود - هفته 07 نومبر 2026

عبداللہ فضل کی جگہ طیب عارف، علی عثمان کی جگہ عامر جمال کی شمولیت کا امکان پاکستان ٹیسٹ ٹیم مینجمنٹ وسلیکشن کمیٹی نے اسکواڈ سے 2 کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا۔ ذرائع کے مطابق عبداللہ فضل اورعلی عثمان کو اسکواڈ جوائن کرنے سے قبل ہی ریلیز کردیا گیا، عبداللہ فضل کی جگہ طیب عارف، علی عث...

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلیاں،2کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا گیا

عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپرنگ سکینڈل کو پھر زندہ کر دیا وجود - هفته 07 نومبر 2026

آسٹریلوی ٹیم کے تمام کھلاڑی بال ٹیمپرنگ منصوبے سے آگاہ تھے، صرف تین کرکٹرز کو سزا ہوگئی، سابق کرکٹر کا دعویٰ 8 برسوں میں بہت کچھ کہا بہت افواہیں سامنے آئیں، ہم اپنی انٹیگریٹی تحقیقات کے نتائج سے مطمئن ہیں،کرکٹ آسٹریلیا سابق آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپ...

عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپرنگ سکینڈل کو پھر زندہ کر دیا

ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس سینئرز کی بھی ذمے داری ہے، سعود شکیل وجود - هفته 07 نومبر 2026

ہوم سیریز نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بہترین موقع ہے، اپنی پرفارمنس میں بہتری سے مطمئن ہوں، میڈیا سے گفتگو پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے نائب کپتان سعود شکیل نے کہا ہے کہ ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس میں تسلسل نہیں سینئرز کی بھی ذمے داری ہے۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں سعود شکیل نے کہا کہ پاک...

ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس سینئرز کی بھی ذمے داری ہے، سعود شکیل

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر