وجود

... loading ...

وجود

شام میں خون کی ہولی ایک المیہ،عالمی امن کے ٹھیکیدارخاموش

منگل 06 مارچ 2018 شام میں خون کی ہولی ایک المیہ،عالمی امن کے ٹھیکیدارخاموش

شام میں باغیوں یابشارالاسدکے مخالفین کے زیر تسلط مغربی علاقے غوطہ میں مسلسل فورسز کی فضائی کارروائیاں جاری ہیں جس کے نتیجے میں سینکڑوں شہری جاں بحق اورلاتعدادزخمی ہوچکے ہیں جن میں بڑی تعدادخواتین اوربچوں کی ہے ۔جن کی تصدیق عالمی میڈیاوخبررساں ادارے کرتھے رہے ہیں ۔یاد رہے کہ مغربی غوطہ کا علاقہ 2012 سے باغیوں کے قبضے میں ہے جو دمشق کے قریب اپوزیشن کا آخری مورچہ ہے جبکہ صدر بشارالاسد اس علاقے کا قبضہ شدید کارروائی کے بعد دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔شام کے لیے اقوام متحدہ کے کوارڈی نیٹر پانوس مومتزیز نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے کو اب روک دینا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘مغربی غوطہ میں شہریوں کی صورت حال قابو سے باہر ہورہی ہے اس لیے اب اس ناقابل فہم کارروائی کو ختم کردینا ہوگا۔خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے پورے شام میں مغربی غوطہ سے لے کر کردوں کے مقبوضہ علاقے عفرین تک ایک ماہ کی جنگ بندی کی اپیل جاتی رہی ہے جہاں ترکی کی جانب سے آنے والے دنوں میں کارروائی کی دھمکی دی جاچکی ہے۔قطع نظراس بات کے کہ غوطہ پرشامی حکومت کے باغی یامخالفین کاقبضہ ہے وہاں اتنی بڑی تعدادمیں بمباری سے خواتین اوربچوں کی ہلاکت انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورز ی ہے ۔اطلاعات کے مطابقشام میں ہزاروں افراد اب تک بے گھر ہوچکے ہیں، سیکڑوں لاپتا ہیں، 500 سے زائد بچے لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ شام کی صورت حال دن بدن بگڑتی جارہی ہے، بشار الاسد اور اتحادی افواج کی بمباری سے اب تک سینکڑوں بچے لقمہ اجل بن چکے ہیں، جو بچ گئے ہیں وہ انتہائی تکلیف دہ زندگی گزار رہے ہیں۔ ان تمام تر صورت حال سے نہ صرف امت مسلمہ واقف ہے بلکہ پوری دنیا میں اس پر احتجاج بھی کیا جا رہا ہے۔ تاہم اقوام متحدہ اور او آئی سی اس بربریت پر تاحال ایسا کوئی بھی قدم اٹھانے میں ناکام رہے ہیں جس سے وہاں کے لوگوں کی داد رسی ہوسکے۔یہ واقعات جس تسلسل سے پیش آرہے ہیں اور جس طرح سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا تک پہنچ رہے ہیں، انہی میں سے ایک واقعہ ایسا بھی نظروں کے سامنے سے گزرا جسے پڑھ کر دل خون کے آنسو رونے لگا۔ امداد کے بدلے خواتین کی عزتیں تار تار کی جارہی ہیں اور اس میں کوئی اور نہیں بلکہ وہ لوگ ملوث ہیں جنہیں اقوام متحدہ نے ہی تعینات کر رکھا ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اقوام متحدہ اس مسئلے پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہا ہے۔اقوام متحدہ اور اس کی ذیلی افواج پر اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ ایسے سنگین الزامات لگتے رہے ہیں جن سے وہ ہمیشہ سے ہی آنکھیں چراتا رہا ہے۔

سوڈان، نمیبیا، اور افریقی ریاست نائجیریا سمیت دیگر غربت اور جنگ زدہ ممالک میں اقوام متحدہ کی افواج ایسے کاموں میں ملوث پائی گئی ہیں۔ شام میں ان واقعات کا ہونا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جہاں وہ اپنے من پسند مقاصد کے حصول کے لیے ایسے گھناؤنے کام پر پردہ ڈالنے کی روایت برقرار رکھے ہوئے ہے۔اقوام متحدہ موجودہ دور میں صرف ایک کٹھ پتلی کا کردار ادا کررہا ہے، جب کہ اس کی تمام تر ڈوریں اسرائیل، امریکا اور روس کے ہاتھوں میں ہیں۔ ان کا جیسا دل چاہتا ہے، یہ ویسے ہی اپنے مقاصد کے لیے اقوام متحدہ کو استعمال کرتے ہیں۔ اس کی تازہ مثال اسرائیل کا بیت المقدس میں یہودی آباد کاری کا منصوبہ ہے جسے اقوام متحدہ نے بظاہر تو مسترد کردیا لیکن امریکی ایما پر اسے کنٹرول نہ کرسکا۔ اسی طرح کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر بھارتی افواج کے مظالم بھی اقوام متحدہ کو نظرنہیں آرہے۔ دیکھا جائے تو اقوام متحدہ کی پاور صرف مسلم ممالک کی حد تک رہ گئی ہے جب کہ بھارت بھی امریکا کی گود میں بیٹھ کر اقوام متحدہ کو اب آنکھیں دکھانے لگا ہے۔ایسے میں اقوام متحدہ سے کسی خیر کی توقع کرنا فضول ہی ہے۔دمشق میں جس طرح خواتین کی آبروریزی کی جارہی ہے اور بے گناہ لوگوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے، کیا ہم اس بات کی توقع کریں کہ وہاں امن ہوجائے گا اور جو لوگ اس ظلم و بربریت کا نشانہ بنے ہیں، اور جو بن رہے ہیں، وہ ان کا بدلہ نہیں لیں گے؟ اگر ایسی کوئی سوچ اقوام متحدہ، او آئی سی یا پھر امریکا و روس نے اپنے دل ودماغ میں بٹھا رکھی ہے تو ان سے بڑا بے وقوف کوئی نہیں کیونکہ جن گھروں سے جنازے اٹھ رہے ہیں وہ لازمی بات ہے اب ان قوتوں کا ساتھ دیں گے جو اقوام متحدہ، او آئی سی، امریکا اور روس کی دشمن ہیں؛ اور اگر یہ قوتیں آپس میں مل گئیں تو پھر وہاں امن کی مشعل کا جلنا تقریباً ناممکن ہوجائے گا۔

سوشل میڈیا کے ذریعے جو خبریں آرہی ہیں ان کے مطابق ہزاروں افراد اب تک بے گھر ہوچکے ہیں، سینکڑوں لاپتا ہیں، پانچ سو سے زائد بچے لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ غذائی قلت عروج پر پہنچ چکی ہے جس سے اموات میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ صحت کے مراکز تباہ ہونے سے زخمیوں اور بیماروں کی اموات بھی روزانہ کی بنیاد پر ہورہی ہیں۔ ایسے میں دنیا کو دکھانے کے لیے روزانہ پانچ گھنٹے کی جنگ بندی صرف اور صرف آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ باقی 19 گھنٹوں میں یہ لوگ جدھر چاہیں بمباری کرکے عوام کا قتل عام کرتے رہیں اور انہیں کوئی روکنے والا بھی نہیں۔

اس تمام صورت حال میں صرف یہ کہا جاسکتا ہے کہ اقوام متحدہ اور او آئی سی کو اپنی دکان بند کردینی چاہیے کیونکہ ان کے ہوتے ہوئے معاملات مزید بگاڑ کی طرف ہی جارہے ہیں۔ اقوام متحدہ سے اب تک فلسطین اور کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوسکا تو وہ شام، افغانستان، اور عراق میں کس طرح امن کا خواہش مند ہوسکتا ہے؟ امریکا، اسرائیل اور روس اگر یہ سوچ کر بیٹھے ہیں کہ دنیا میں تباہی و بربادی کرکے وہ اپنے ملکوں میں امن کی صورت حال برقرار رکھے ہوئے ہیں تو یہ ان کی بھول ہے۔ آج جو آگ ان لوگوں نے دنیا میں لگائی ہے، کل وہ خود بھی اس کی لپیٹ میں ہوں گے۔ صرف انتظار کیجیے کہ آج نہیں تو کل یہ بھی اسی آگ میں جلتے نظرآئیں گے۔پھر اقوام متحدہ اور او آئی سی اپنی آنکھیں کھولیں گے تو وہ کسی کام نہ آئے گی۔


متعلقہ خبریں


آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی وجود - بدھ 10 جون 2026

گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...

آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم وجود - بدھ 10 جون 2026

28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات وجود - بدھ 10 جون 2026

خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید وجود - بدھ 10 جون 2026

طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات وجود - پیر 08 جون 2026

تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی وجود - پیر 08 جون 2026

حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو وجود - هفته 06 جون 2026

گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ وجود - هفته 06 جون 2026

یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی وجود - هفته 06 جون 2026

ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ وجود - هفته 06 جون 2026

اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 06 جون 2026

سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف وجود - جمعه 05 جون 2026

جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف

مضامین
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے! وجود بدھ 10 جون 2026
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے!

بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز وجود بدھ 10 جون 2026
بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز

سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی وجود بدھ 10 جون 2026
سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی

دل کا رستہ بھول گیا! وجود منگل 09 جون 2026
دل کا رستہ بھول گیا!

سب سے مشکل سچ وجود پیر 08 جون 2026
سب سے مشکل سچ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر