وجود

... loading ...

وجود

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان پرنظریں گاڑھ لیں

پیر 05 مارچ 2018 فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان پرنظریں گاڑھ لیں

کسی بھی جرم سے کمائی گئی دولت پہلے چھپائی جاتی ہے اور پھر اس کو صاف کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، تاکہ عام استعمال میں لایا جا سکے۔ ترقی پذیر ممالک سے اس طرح کی دولت ترقی یافتہ ممالک میں خفیہ کھاتوں میں جمع کرادی جاتی تھی۔ بعد ازاں ان کھاتوں سے اس دولت کو مختلف ممالک اور کھاتوں میں منتقل کیا جاتا تھا تاکہ کسی کو ابتدائی صورت تک پہنچنا ناممکن ہو جائے۔ متعدد چکّروں کے بعد دولت کو صاف اور محفوظ سمجھا جاتا ہے اور عام استعمال میں لایا جاتا ہے۔ لانڈری کا لفظ صفائی کے عنوان سے آیا ہے کیونکہ ابتدائی صورت میں یہ دولت گندی اور ناپاک شکل میں ہوتی ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے بینک باہمی طور پر ایک دوسرے سے اس بات میں مقابلہ کرتے تھے کہ کون اس قسم کے اثاثوں کو چھپانے، محفوظ اور خفیہ رکھنے اور انتقال کی آسانیوں اور سہولتوں سے بھرپور خدمات مہیا کرسکتا ہے۔ یہاں یہ بھی سمجھنے میں مشکل نہیں ہونی چاہیے کہ یہ دولت ٹیکس نظام سے بھی باہر ہوتی تھی لہذا ان ممالک کو اپنی ترقی کے لیے درکار وسائل کی کمی کا بھی سامنا رہتا تھا۔

80 کی دہائی میں جب یہ بیماری اتنی پھیل گئی کہ خود ترقی یافتہ ممالک کے شہریوں نے اسطرح کی خفیہ اور ٹیکس سے مستثنیٰ آمدنی اور دولت والے کھاتے کھولنا شروع کر دئیے اور ان کی ٹیکس وصولیوں میں کمی ہونے لگی تو اس کے تدارک کے لیے قانون سازی کا عمل شروع ہوا۔ امریکا نے سب سے پہلے 1986 میں اینٹی منی لانڈرنگ (Anti-Money Laundering) کا قانون بنایا اور بینکوں پر کھاتہ داروں کے لین دین کو خفیہ رکھنے کی سختی کو بھی کم کردیا۔ اس عمل کو وسیع کرنے کے لیے G-7 ممالک کے وزرائے خزانہ نے 1989 میں ایک نئی تنظیم کی بنیاد ڈالی جسے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF)کہا جاتا ہے۔ یہ 34 ممالک پر مشتمل ہے اور اس کی ذیلی تنظیمیں علاقائی بنیادوں پر بنائی گئی ہیں۔ پاکستان ایشیا پیسفک گروپ (Asia Pacific Group(APG) کا ممبر ہے، جس میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ وغیرہ شامل ہیں۔ دنیا کے بیشتر بین الاقوامی ادارے بھی‘ فیٹف کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں‘ خصوصاً آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک، فیٹف شروع میں منی لانڈرنگ کو روکنے کے لیے اقدامات تجویز کرتی رہی اور ممبر ممالک ان پر عملدرآمد کے پابند ہوتے تھے۔ اس کی وضع کردہ تجاویز (Recommendations) وہ معیار بن چکے ہیں جن سے کسی بھی ملک کی اینٹی منی لانڈرنگ کی اہلیت کو پرکھا جاتا ہے، اور ان کی عدم موجودگی میں کسی بھی ملک کو بین الاقوامی مالی معاملات میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ اس ضمن میں فیٹف نے ایک ماڈل قانون بنایا ہے جس میں منی لانڈرنگ کو نہ صرف ایک جرم قرار دیا گیا ہے بلکہ وہ تمام جرائم جن میں مالی منفعت (proceeeds of crime) شامل ہو، اس منفعت پر منی لانڈرنگ کا اضافی جرم بھی لگایا جائے گا۔ علاوہ ازیں یہ بھی اہتمام ضروری ہے کہ بینکنگ اور مالی نظام منی لانڈرنگ کے لیے استعمال نہ ہوسکے۔ لہٰذا ان تمام اداروں پر یہ قانونی پابندی ہے کہ نہ صرف اپنے کھاتہ داروں کے پس منظر کی اچھی طرح چھان بین کریں بلکہ ان کے لین دین پر کڑی نظر رکہیں اور اگر کوئی مشتبہ لین دین نظر آئے تو اس کی اطلاع ایک رپورٹ (STR) suspicious transaction reportکی شکل میں اس ادارے کو بھیجیں جسے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (financial monitoring unit (FMU)کہا جاتا ہے کو ارسال کریں۔ یہ ادارہ اس رپورٹ کو ان متعلقہ اداروں کو بھیجتا ہے جو ممکنہ جرم کی تحقیقات کرنے اور مقدمے قائم کرنے کے مجاز ہیں۔

9/11کے بعد فیٹف کو یہ ذمے داری بھی مل گئی کہ وہ دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کا سدباب کرے۔ بعدازاں اس میں وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں میں مالی معاونت کا بھی سدِباب کرنے کے اقدامات تجویز کرے۔ ایف اے ٹی ایف نے اپنے دائرے کو آہستہ آہستہ ساری دنیا میں پھیلا دیا ہے جو ایک مثبت تبدیلی ہے کیونکہ ترقی پذیر ممالک میں منی لانڈرنگ کی لعنت بہت نقصان دہ شکل اختیار کرتی جا رہی تھی۔ پاکستان نے اس کام کا آغاز نسبتاً تاخیر سے 2007 میں کیا جب ایک آرڈینینس کے ذریعے ماڈل قانون بنایا گیا، جو ایکٹ کی صورت میں 2010 میں نافذ ہوا۔ لہذا اس ابتدائی قانون میں کچھ خامیاں رہ گئی تھیں اور فیٹف ہم سے اس کی اصلاح کے تقاضے کرتا رہا۔ قانون میں فراہم کردہ جو فریم ورک بننا تھا اس میں بھی تاخیر ہوئی۔ علاوہ ازیں بہت سے جرائم کو منی لانڈرنگ کی فہرست میں شامل ہونا تھا اس میں بھی لیت و لعل سے کام لیا جا رہا تھا، خصوصاً ٹیکس قوانین کے جرائم میں منی لانڈرنگ کو شامل کرنے کے کی سخت مخالفت ہوتی رہی۔

سچی بات یہ ہے کہ اس قانون کی سیاسی اور انتظامی مخالفت بھی پْر زور تھی کیونکہ اس کے تحت جرائم کی نئی تعریفیں اور ان کی سزائیں تجویز ہو رہی تھیں اور ایسے کاموں پر جو کاروباری اور سماجی زندگی میں عموماً کرتے رہتے ہیں۔ ایک اور علاقہ جس میں ہم نے مطلوبہ سرعت سے کام نہیں کیا وہ دہشت گردی میں استعمال ہونے والے وسائل کو روکنا اور دہشت گردی کے واقعات میں مالی معاونت منی لانڈرنگ کے جرائم کی شمولیت۔ ان کوتاہیوں کا بالآخر یہ نتیجہ نکلا کہ 2012 میں پاکستان کو ان ممالک کی فہرست (واچ لسٹ) میں شامل کردیا گیا جن کیساتھ معاملات میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی معاونت کے خطرات موجود ہیں۔ یہ ایک افسوسناک صورتحال تھی اور اس کا تدارک ضروری تھا۔ موجودہ حکومت نے اپنی مدت کے آغاز میں ان معاملات کو سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش کی۔ سب سے پہلے دہشت گردی کے قانون میں ترمیم کرکے مالی معاونت کا جرم شامل کرنا لازمی کردیا۔ پھر سلامتی کونسل کی قرارداد میں جن تنظیموں اور افراد کو دہشت گرد قرار دیا گیا ہے ان کے کھاتوں کو ضبط کرنا لازمی کردیا اور مالی نظام میں ان کی شرکت پر پابندی لگادی۔ جرائم کی فہرست، جن میں منی لانڈرنگ کا جرم بھی شامل ہوگا، اس کو مزید وسیع کردیا۔ سب سے اہم بات یہ کہ ٹیکس نظام سے وابستہ جرائم جن کو استثنیٰ حاصل تھا وہ بھی ختم کردیا گیا۔ ان اصلاحات کے بعد قانون اور فریم ورک سے متعلق کمزوریاں بھی دور کردی گئیں اور اب بات ان کے موثر نفاذ اور مستقل نگرانی کی طرف منتقل ہوگئی۔ لہذا 2015 میں پاکستان کو واچ لسٹ سے نکال دیا گیا اس تاکید کیساتھ کہ کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔

ان کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے دو اہم اقدامات ضروری تھے۔ ایک یہ کہ دہشت گرد تنظیموں اور افراد کے مالی نظام سے باہر اثاثوں کو ضبط کرنا، ان کے چندہ جمع کرنے پر پابندی لگانا اور دیگر فلاحی کاموں کی سختی سے نگرانی اور روک تھام کرنا، ان پر سفری پابندیوں کا اطلاق اور ان کو غیر مسلح کرنا۔ دوسرا اندرونی صلاحیتوں کو پیدا کرنا تاکہ ھمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اس قابل ہوجائیں کہ وہ دہشت گردی کی مالی معاونت کرنے والے جرم کی تحقیقات کرسکیں اور اس پر سزا دلواسکیں۔ یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے کیونکہ ہماری پولیس عموماً دہشت گرد اور اس کی معاونت تک تحقیق کرتے ہیں لیکن کس طرح اس نے وسائل حاصل کیے اور کیونکر مالی نظام کو اس کی خبر نہ ہوئی، ان سوالات کو جاننے کی صلاحیت ان میں نہیں ہے۔ پاکستان میں اب یہ صلاحیت پیدا ہونا شروع ہوگئی ہے اور ایک مرکزی مقام پر اس سے متعلق معلومات بھی جمع کی جا رہی ہیں۔ NECTA نہ صرف ان دہشت گرد تنظیموں اور افراد سے متعلق معلومات اکٹھی کر رہا ہے بلکہ ان پر قائم مقدمات اور ان میں پیشرفت پر بھی نظر رکھ رہا ہے۔

APG نے بھی تحقیقاتی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے ٹریننگ کی سہولتیں فراہم کی ہیں۔ لیکن ہمارا مسئلہ پہلا قدم رہا ہے، جہاں صوبائی اور وفاقی اختیارات کی تقسیم آڑے آتی ہے۔ مالی نظام کیونکہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے لہٰذا یہاں دہشت گرد قرار دی گئی تنظیموں اور افراد کے اثاثے منجمد کرنا اور ان کو اس نظام تک رسائی سے روکنا کچھ مشکل نہ تھا اور یہ بہت پہلے کردیا گیا تھا۔ لیکن ان کے دیگر اثاثوں تک پہنچنا، ان کو غیر مسلح کرنا، سفری پابندیاں لگانا اور چندہ جمع کرنے سے روکنا، صوبائی حکومتوں کے اختیار میں تھا۔ یہاں بھی اصل مسئلہ صرف ایک تنظیم اور اس سے وابستہ ایک ذیلی تنظیم کا ہے اور وہ جماعت الدعوہ اور فلاح انسانیت فائونڈیشن ہے۔ ان کے خلاف اقدامات اٹھانے کے باوجود ان کی سرگرمیاں جاری رہیں اور ہمارے خلاف فیٹف میں منفی رجحانات بڑھنے لگے۔

بالآخر فیٹف کے حالیہ اجلاس سے پہلے دہشت گردی کے قانون میں ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ترمیم کرکے صوبائی حکومتوں کو پابند کردیا گیا کہ ان کیخلاف متعلقہ اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔ اس ترمیم نے مخالفین کے عزم و حوصلے کو یقیناً پست کیا ہوگا اور ان کی یہ کوشش کہ پاکستان کا نام حالیہ اجلاس میں واچ لسٹ میں دوبارہ شامل ہوجائے وہ فوری طور پر نہیں ہو سکا۔ لیکن جو خبریں موصول ہو رہی ہیں اور خصوصاً مشیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے ایک انٹرویو میں جو باتیں بتائی ہیں، ان سے لگتا ہے کہ خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔ دوسری جانب گزشتہ روزترجمان دفترخارجہ ڈاکٹرنے بھی ہفتہ واربریفننگ کے دوران اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ جون میں پاکستان کانام گرے لسٹ میں شامل ہونے کاامکان ہے۔ لہٰذا ہمیں کسی غفلت کا شکار نہیں ہونا چاہیے اور اپنے نظام کو مزید موثر بنانا چاہیے۔ لیکن ہمیں اس حقیقت کو بھی سمجھنا ہوگا کہ ہم پر جو دباو ڈالا جا رہا ہے وہ صرف اس نظام کی اصلاح سے وابستہ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے دیگر مقاصد کا حصول بھی کارفرما ہے۔ امریکا نے جس انداز میں فیٹف کے اجلاس سے پہلے واشنگٹن میں پریس کانفرنس کرکے یہ اعلان کیا کہ وہ پاکستان کیخلاف اجلاس میں قرارداد لائے گا اور اس کے بعد بھارت میں ایک ہیجانی کیفیت پیدا کی گئی کہ پاکستان پر کوئی تباہی آنے والی ہے، وہ اس اسکیم کو واضح کر دیتے ہیں کہ ہم پر جو دبائو بڑھایا جا رہا ہے اس کا آغاز صدر ٹرمپ کی صدارت سے شروع ہوا ہے اور یہ کہ اس سے بھارت کی خوشنودی بھی مطلوب ہے۔ اس دفعہ خوف و ہراس کی فضا پیدا کرنے کی کوشش بھی ہو رہی ہے، حالانکہ اگر ایسا ہو بھی جاتا ہے تو ہم ماضی میں بھی اس امتحان سے گزر چکے ہیں اور اس دفعہ بھی دنیا کو ثابت کرکے دکھائیں گے کہ پاکستان بین الاقوامی برادری کا ایک ذمہ دار ملک ہے جہاں آئین اور قانون کی حکمرانی ہے نہ کہ دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کی کوئی آماجگاہ۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کو اس آزمائش میں سرخرو فرمائیں۔


متعلقہ خبریں


پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پاکستان کیخلاف سرگرم دہشتگردوں اور ان کے نیٹ ورکس کا جہاں وجود ہوگا، انہیں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے ذریعے ختم کیا جائے گا، خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے فعال سفارتکاری کر رہا ہے چیف آف ڈیفنس فورس سے اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علماء کی ملاقات ، گمراہ کن پروپیگنڈا اور فرقہ...

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

رپورٹ میں پاکستانی میزائل پروگرام اور پالیسیاں امریکی سلامتی کیلئے ممکنہ خطرہ قرار،پاکستانی میزائل امریکا تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں، پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ایٹمی تصادم کا خطرہ پاکستان مسلسل جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو جنوبی ایشیا سے با...

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت تذبذب کا شکار ،عالیہ حمزہ اور سینٹرل پنجاب کے صدر سزا کے باعث روپوش لاہور کے صدر کسی سے رابطہ ہی نہیں کرتیپنجاب میں تتر بتر تنظیم کو دوبارہ فعال بنانا چیلنج ہوگا، ذرائع عید کے بعد عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک شروع کرنے کے معاملے پر پی ٹی آئی کے ا...

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، ایران کی طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ،اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی علی لاریجانی کی ہلاکت ایرانی حکومت کے خاتمے کے ہمارے منصوبے کا حصہ ہے، ہم ہارڈ لائنر کو نشانہ بنا ...

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

بس کردیں اور بانی کاعلاج کرائیں، جب ملاقات ہو گی تو انھیں بتائیں گے کتنے لوگوں نے ان سے اظہار یکجہتی کیا،اعتزاز احسن کے شکر گزار وہ آئے اور ہمارے ساتھ بیٹھے ،جدوجہد جاری رکھیں گے اگر عید کے بعد علاج نہ کروایا اور ملاقات نہیں ہونے دی تو حالات بدلیں گے، چیف کمشنر کی بات پر کیسے ی...

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

امریکہ، اسرائیل طاغوت، شیعہ سنی تفریق پیدا کرنیوالے ان کے آلہ کار ہیں، امیر جماعت اسلامی جماعت اسلامی اسٹیبلشمنٹ نہیں عوامی تائید سے اقتدار چاہتی ہے، حلقہ خواتین کی تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم بے اختیار، فارم سنتالیس سے آئے...

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ملک کی پیٹرولیم درآمدات کی سپلائی چین بہتر بنانے کیلئے وزیر پیٹرولیم مزید متحرک ہوں شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس،کفایت شعاری کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ حالات کی بہتری تک تمام متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں، ملک کی پیٹرولیم...

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم

تہران پر بمباری، عراق ودبئی میں ڈرون حملہ،10امریکی فوجی ہلاک وجود - منگل 17 مارچ 2026

بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب وکٹوریہ بیس پر ڈرونز اور راکٹوں سے حملہ، آگ بھڑک اٹھی ،8 افراد زخمی ،عراقی مزاحمتی تنظیم کی امریکی سفارتخانے کو نشانہ بنانے کی کوشش،روسی ٹی وی کا دعویٰ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے17 ویں روز ایران پر حملوں کا سلسلہ جاری ، اسرائیل کے وسطی علاقوں...

تہران پر بمباری، عراق ودبئی میں ڈرون حملہ،10امریکی فوجی ہلاک

بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام، ادائیگی مرکز کی چھت گرنے سے 8 خواتین جاں بحق، 70سے زائد زخمی وجود - منگل 17 مارچ 2026

رقم کی وصولی کے سلسلہ میںخواتین دوکان کی چھت پرچڑھ گئیں جس سے کمزورچھت اچانک زمین بوس ہوگئی،ضلعی انتظامیہ متعدد کی حالت تشویشناک علاقہ بھرکی فضاسوگوار،وزیراعلیٰ پنجاب کانوٹس، رپورٹ طلب کرلی، لواحقین سے اظہارتعزیت بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کی رقم وصولی کے دوران دوکان کی چھت گر...

بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام، ادائیگی مرکز کی چھت گرنے سے 8 خواتین جاں بحق، 70سے زائد زخمی

عالمی سطح پر جاری کشیدگی، کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں(وزیر اعظم) وجود - منگل 17 مارچ 2026

بروقت فیصلوں کی بدولت اس وقت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مناسب مقدار موجود ہے،شہباز شریف ملکی معیشت کے استحکام اور عوام کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس میں بات چیت وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے پیش نظر کسی بھی ق...

عالمی سطح پر جاری کشیدگی، کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں(وزیر اعظم)

کراچی کے موٹر سائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرا دیا وجود - منگل 17 مارچ 2026

سروے میں 100فیصد موٹرسائیکل سوار دھوکا دینے میں ملوث نکلے ،ڈی آئی جی ٹریفک آئی جی سندھ کے احکامات پر عید کے بعد بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا شہر قائد کے موٹرسائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرادیا ، ڈی آئی جی ٹریفک نے انکشاف کیا سروے میں 100 فیصد موٹرسائیکل س...

کراچی کے موٹر سائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرا دیا

اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں وجود - پیر 16 مارچ 2026

اصفہان میں15 افراد شہید، کئی زخمی ہو گئے،لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ،ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے موجودہ شرائط امریکا کیلئے قابل قبول نہیں ہیں، امریکی صدر ٹرمپ اسرائیل میںایرانی پاسداران انقلاب کے میزائل حملے سے بڑے پیمانے تباہی ، متعدد مقامات پر آگ...

اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں

مضامین
ٹرمپ کیوں کر پاگل نہ ہو! وجود جمعه 20 مارچ 2026
ٹرمپ کیوں کر پاگل نہ ہو!

''را''کے خلاف امریکی پابندی وجود جمعه 20 مارچ 2026
''را''کے خلاف امریکی پابندی

امریکی دباؤ اور ایران امن گیس پائپ لائن کی کہانی وجود جمعه 20 مارچ 2026
امریکی دباؤ اور ایران امن گیس پائپ لائن کی کہانی

چاہ بہار پر بھارتی سرمایہ کاری وجود جمعرات 19 مارچ 2026
چاہ بہار پر بھارتی سرمایہ کاری

خلیجی لڑائی کے کچھ حیران کُن پہلو وجود جمعرات 19 مارچ 2026
خلیجی لڑائی کے کچھ حیران کُن پہلو

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر