وجود

... loading ...

وجود

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان پرنظریں گاڑھ لیں

پیر 05 مارچ 2018 فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان پرنظریں گاڑھ لیں

کسی بھی جرم سے کمائی گئی دولت پہلے چھپائی جاتی ہے اور پھر اس کو صاف کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، تاکہ عام استعمال میں لایا جا سکے۔ ترقی پذیر ممالک سے اس طرح کی دولت ترقی یافتہ ممالک میں خفیہ کھاتوں میں جمع کرادی جاتی تھی۔ بعد ازاں ان کھاتوں سے اس دولت کو مختلف ممالک اور کھاتوں میں منتقل کیا جاتا تھا تاکہ کسی کو ابتدائی صورت تک پہنچنا ناممکن ہو جائے۔ متعدد چکّروں کے بعد دولت کو صاف اور محفوظ سمجھا جاتا ہے اور عام استعمال میں لایا جاتا ہے۔ لانڈری کا لفظ صفائی کے عنوان سے آیا ہے کیونکہ ابتدائی صورت میں یہ دولت گندی اور ناپاک شکل میں ہوتی ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے بینک باہمی طور پر ایک دوسرے سے اس بات میں مقابلہ کرتے تھے کہ کون اس قسم کے اثاثوں کو چھپانے، محفوظ اور خفیہ رکھنے اور انتقال کی آسانیوں اور سہولتوں سے بھرپور خدمات مہیا کرسکتا ہے۔ یہاں یہ بھی سمجھنے میں مشکل نہیں ہونی چاہیے کہ یہ دولت ٹیکس نظام سے بھی باہر ہوتی تھی لہذا ان ممالک کو اپنی ترقی کے لیے درکار وسائل کی کمی کا بھی سامنا رہتا تھا۔

80 کی دہائی میں جب یہ بیماری اتنی پھیل گئی کہ خود ترقی یافتہ ممالک کے شہریوں نے اسطرح کی خفیہ اور ٹیکس سے مستثنیٰ آمدنی اور دولت والے کھاتے کھولنا شروع کر دئیے اور ان کی ٹیکس وصولیوں میں کمی ہونے لگی تو اس کے تدارک کے لیے قانون سازی کا عمل شروع ہوا۔ امریکا نے سب سے پہلے 1986 میں اینٹی منی لانڈرنگ (Anti-Money Laundering) کا قانون بنایا اور بینکوں پر کھاتہ داروں کے لین دین کو خفیہ رکھنے کی سختی کو بھی کم کردیا۔ اس عمل کو وسیع کرنے کے لیے G-7 ممالک کے وزرائے خزانہ نے 1989 میں ایک نئی تنظیم کی بنیاد ڈالی جسے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF)کہا جاتا ہے۔ یہ 34 ممالک پر مشتمل ہے اور اس کی ذیلی تنظیمیں علاقائی بنیادوں پر بنائی گئی ہیں۔ پاکستان ایشیا پیسفک گروپ (Asia Pacific Group(APG) کا ممبر ہے، جس میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ وغیرہ شامل ہیں۔ دنیا کے بیشتر بین الاقوامی ادارے بھی‘ فیٹف کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں‘ خصوصاً آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک، فیٹف شروع میں منی لانڈرنگ کو روکنے کے لیے اقدامات تجویز کرتی رہی اور ممبر ممالک ان پر عملدرآمد کے پابند ہوتے تھے۔ اس کی وضع کردہ تجاویز (Recommendations) وہ معیار بن چکے ہیں جن سے کسی بھی ملک کی اینٹی منی لانڈرنگ کی اہلیت کو پرکھا جاتا ہے، اور ان کی عدم موجودگی میں کسی بھی ملک کو بین الاقوامی مالی معاملات میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ اس ضمن میں فیٹف نے ایک ماڈل قانون بنایا ہے جس میں منی لانڈرنگ کو نہ صرف ایک جرم قرار دیا گیا ہے بلکہ وہ تمام جرائم جن میں مالی منفعت (proceeeds of crime) شامل ہو، اس منفعت پر منی لانڈرنگ کا اضافی جرم بھی لگایا جائے گا۔ علاوہ ازیں یہ بھی اہتمام ضروری ہے کہ بینکنگ اور مالی نظام منی لانڈرنگ کے لیے استعمال نہ ہوسکے۔ لہٰذا ان تمام اداروں پر یہ قانونی پابندی ہے کہ نہ صرف اپنے کھاتہ داروں کے پس منظر کی اچھی طرح چھان بین کریں بلکہ ان کے لین دین پر کڑی نظر رکہیں اور اگر کوئی مشتبہ لین دین نظر آئے تو اس کی اطلاع ایک رپورٹ (STR) suspicious transaction reportکی شکل میں اس ادارے کو بھیجیں جسے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (financial monitoring unit (FMU)کہا جاتا ہے کو ارسال کریں۔ یہ ادارہ اس رپورٹ کو ان متعلقہ اداروں کو بھیجتا ہے جو ممکنہ جرم کی تحقیقات کرنے اور مقدمے قائم کرنے کے مجاز ہیں۔

9/11کے بعد فیٹف کو یہ ذمے داری بھی مل گئی کہ وہ دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کا سدباب کرے۔ بعدازاں اس میں وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں میں مالی معاونت کا بھی سدِباب کرنے کے اقدامات تجویز کرے۔ ایف اے ٹی ایف نے اپنے دائرے کو آہستہ آہستہ ساری دنیا میں پھیلا دیا ہے جو ایک مثبت تبدیلی ہے کیونکہ ترقی پذیر ممالک میں منی لانڈرنگ کی لعنت بہت نقصان دہ شکل اختیار کرتی جا رہی تھی۔ پاکستان نے اس کام کا آغاز نسبتاً تاخیر سے 2007 میں کیا جب ایک آرڈینینس کے ذریعے ماڈل قانون بنایا گیا، جو ایکٹ کی صورت میں 2010 میں نافذ ہوا۔ لہذا اس ابتدائی قانون میں کچھ خامیاں رہ گئی تھیں اور فیٹف ہم سے اس کی اصلاح کے تقاضے کرتا رہا۔ قانون میں فراہم کردہ جو فریم ورک بننا تھا اس میں بھی تاخیر ہوئی۔ علاوہ ازیں بہت سے جرائم کو منی لانڈرنگ کی فہرست میں شامل ہونا تھا اس میں بھی لیت و لعل سے کام لیا جا رہا تھا، خصوصاً ٹیکس قوانین کے جرائم میں منی لانڈرنگ کو شامل کرنے کے کی سخت مخالفت ہوتی رہی۔

سچی بات یہ ہے کہ اس قانون کی سیاسی اور انتظامی مخالفت بھی پْر زور تھی کیونکہ اس کے تحت جرائم کی نئی تعریفیں اور ان کی سزائیں تجویز ہو رہی تھیں اور ایسے کاموں پر جو کاروباری اور سماجی زندگی میں عموماً کرتے رہتے ہیں۔ ایک اور علاقہ جس میں ہم نے مطلوبہ سرعت سے کام نہیں کیا وہ دہشت گردی میں استعمال ہونے والے وسائل کو روکنا اور دہشت گردی کے واقعات میں مالی معاونت منی لانڈرنگ کے جرائم کی شمولیت۔ ان کوتاہیوں کا بالآخر یہ نتیجہ نکلا کہ 2012 میں پاکستان کو ان ممالک کی فہرست (واچ لسٹ) میں شامل کردیا گیا جن کیساتھ معاملات میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی معاونت کے خطرات موجود ہیں۔ یہ ایک افسوسناک صورتحال تھی اور اس کا تدارک ضروری تھا۔ موجودہ حکومت نے اپنی مدت کے آغاز میں ان معاملات کو سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش کی۔ سب سے پہلے دہشت گردی کے قانون میں ترمیم کرکے مالی معاونت کا جرم شامل کرنا لازمی کردیا۔ پھر سلامتی کونسل کی قرارداد میں جن تنظیموں اور افراد کو دہشت گرد قرار دیا گیا ہے ان کے کھاتوں کو ضبط کرنا لازمی کردیا اور مالی نظام میں ان کی شرکت پر پابندی لگادی۔ جرائم کی فہرست، جن میں منی لانڈرنگ کا جرم بھی شامل ہوگا، اس کو مزید وسیع کردیا۔ سب سے اہم بات یہ کہ ٹیکس نظام سے وابستہ جرائم جن کو استثنیٰ حاصل تھا وہ بھی ختم کردیا گیا۔ ان اصلاحات کے بعد قانون اور فریم ورک سے متعلق کمزوریاں بھی دور کردی گئیں اور اب بات ان کے موثر نفاذ اور مستقل نگرانی کی طرف منتقل ہوگئی۔ لہذا 2015 میں پاکستان کو واچ لسٹ سے نکال دیا گیا اس تاکید کیساتھ کہ کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔

ان کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے دو اہم اقدامات ضروری تھے۔ ایک یہ کہ دہشت گرد تنظیموں اور افراد کے مالی نظام سے باہر اثاثوں کو ضبط کرنا، ان کے چندہ جمع کرنے پر پابندی لگانا اور دیگر فلاحی کاموں کی سختی سے نگرانی اور روک تھام کرنا، ان پر سفری پابندیوں کا اطلاق اور ان کو غیر مسلح کرنا۔ دوسرا اندرونی صلاحیتوں کو پیدا کرنا تاکہ ھمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اس قابل ہوجائیں کہ وہ دہشت گردی کی مالی معاونت کرنے والے جرم کی تحقیقات کرسکیں اور اس پر سزا دلواسکیں۔ یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے کیونکہ ہماری پولیس عموماً دہشت گرد اور اس کی معاونت تک تحقیق کرتے ہیں لیکن کس طرح اس نے وسائل حاصل کیے اور کیونکر مالی نظام کو اس کی خبر نہ ہوئی، ان سوالات کو جاننے کی صلاحیت ان میں نہیں ہے۔ پاکستان میں اب یہ صلاحیت پیدا ہونا شروع ہوگئی ہے اور ایک مرکزی مقام پر اس سے متعلق معلومات بھی جمع کی جا رہی ہیں۔ NECTA نہ صرف ان دہشت گرد تنظیموں اور افراد سے متعلق معلومات اکٹھی کر رہا ہے بلکہ ان پر قائم مقدمات اور ان میں پیشرفت پر بھی نظر رکھ رہا ہے۔

APG نے بھی تحقیقاتی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے ٹریننگ کی سہولتیں فراہم کی ہیں۔ لیکن ہمارا مسئلہ پہلا قدم رہا ہے، جہاں صوبائی اور وفاقی اختیارات کی تقسیم آڑے آتی ہے۔ مالی نظام کیونکہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے لہٰذا یہاں دہشت گرد قرار دی گئی تنظیموں اور افراد کے اثاثے منجمد کرنا اور ان کو اس نظام تک رسائی سے روکنا کچھ مشکل نہ تھا اور یہ بہت پہلے کردیا گیا تھا۔ لیکن ان کے دیگر اثاثوں تک پہنچنا، ان کو غیر مسلح کرنا، سفری پابندیاں لگانا اور چندہ جمع کرنے سے روکنا، صوبائی حکومتوں کے اختیار میں تھا۔ یہاں بھی اصل مسئلہ صرف ایک تنظیم اور اس سے وابستہ ایک ذیلی تنظیم کا ہے اور وہ جماعت الدعوہ اور فلاح انسانیت فائونڈیشن ہے۔ ان کے خلاف اقدامات اٹھانے کے باوجود ان کی سرگرمیاں جاری رہیں اور ہمارے خلاف فیٹف میں منفی رجحانات بڑھنے لگے۔

بالآخر فیٹف کے حالیہ اجلاس سے پہلے دہشت گردی کے قانون میں ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ترمیم کرکے صوبائی حکومتوں کو پابند کردیا گیا کہ ان کیخلاف متعلقہ اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔ اس ترمیم نے مخالفین کے عزم و حوصلے کو یقیناً پست کیا ہوگا اور ان کی یہ کوشش کہ پاکستان کا نام حالیہ اجلاس میں واچ لسٹ میں دوبارہ شامل ہوجائے وہ فوری طور پر نہیں ہو سکا۔ لیکن جو خبریں موصول ہو رہی ہیں اور خصوصاً مشیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے ایک انٹرویو میں جو باتیں بتائی ہیں، ان سے لگتا ہے کہ خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔ دوسری جانب گزشتہ روزترجمان دفترخارجہ ڈاکٹرنے بھی ہفتہ واربریفننگ کے دوران اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ جون میں پاکستان کانام گرے لسٹ میں شامل ہونے کاامکان ہے۔ لہٰذا ہمیں کسی غفلت کا شکار نہیں ہونا چاہیے اور اپنے نظام کو مزید موثر بنانا چاہیے۔ لیکن ہمیں اس حقیقت کو بھی سمجھنا ہوگا کہ ہم پر جو دباو ڈالا جا رہا ہے وہ صرف اس نظام کی اصلاح سے وابستہ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے دیگر مقاصد کا حصول بھی کارفرما ہے۔ امریکا نے جس انداز میں فیٹف کے اجلاس سے پہلے واشنگٹن میں پریس کانفرنس کرکے یہ اعلان کیا کہ وہ پاکستان کیخلاف اجلاس میں قرارداد لائے گا اور اس کے بعد بھارت میں ایک ہیجانی کیفیت پیدا کی گئی کہ پاکستان پر کوئی تباہی آنے والی ہے، وہ اس اسکیم کو واضح کر دیتے ہیں کہ ہم پر جو دبائو بڑھایا جا رہا ہے اس کا آغاز صدر ٹرمپ کی صدارت سے شروع ہوا ہے اور یہ کہ اس سے بھارت کی خوشنودی بھی مطلوب ہے۔ اس دفعہ خوف و ہراس کی فضا پیدا کرنے کی کوشش بھی ہو رہی ہے، حالانکہ اگر ایسا ہو بھی جاتا ہے تو ہم ماضی میں بھی اس امتحان سے گزر چکے ہیں اور اس دفعہ بھی دنیا کو ثابت کرکے دکھائیں گے کہ پاکستان بین الاقوامی برادری کا ایک ذمہ دار ملک ہے جہاں آئین اور قانون کی حکمرانی ہے نہ کہ دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کی کوئی آماجگاہ۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کو اس آزمائش میں سرخرو فرمائیں۔


متعلقہ خبریں


سندھ اسمبلی، اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا، نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید وجود - اتوار 21 جون 2026

سندھ میں پانی کی شدید قلت ہے، وفاقی حکومت کو نوٹس لینا چاہیے ،اجلاس میں حکومتی ارکان پیپلز پارٹی کے منصوبے گنواتے رہے، اپوزیشن کی جانب سے مسائل کی نشاندہی حکومتی اراکین خود مسائل کا رونا رو رہے ہیں، 18سال کے دوران سندھ میں کیا ہوا، ڈیفنس میں فحاشی کے اڈے چل رہے ہیں،باتوں سے یہ ش...

سندھ اسمبلی، اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا، نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید

9 ؍مئی مقدمے کا فیصلہ ،پی ٹی آئی رہنمائوں کو 10، 10 سال قیدکی سزا وجود - اتوار 21 جون 2026

انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے ایک اور مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے یاسمین راشد، محمود الرشید، عمر چیمہ اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قیدکی سزا اور شاہ محمود کو بری کر دیا جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میںپولیس کی گاڑیاں جلانے کا مقدمے کا محفوظ فیصلہ سنایا، جلائو گھیرائو کیس ...

9 ؍مئی مقدمے کا فیصلہ ،پی ٹی آئی رہنمائوں کو 10، 10 سال قیدکی سزا

مسلح افواج کیخلاف بغاوت ایک ناقابل معافی جرم قرار وجود - اتوار 21 جون 2026

تخریب کاروں کو چوکوں اور چوراہوں پر سرعام پھانسی جیسی عبرتناک سزائیں دی جائیں آٹا، چینی، چاول اور بجلی سے متعلق معاشی مطالبات تو بالکل جائز تھے، سردار عتیق احمد خان سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے پاکستان کی م...

مسلح افواج کیخلاف بغاوت ایک ناقابل معافی جرم قرار

گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا! اجازت نہ دینے پر 5 کروڑ جرمانہ؟حافظ نعیم وجود - اتوار 21 جون 2026

قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا یہ بل جاہلانہ اور غاصبانہ ہے، یہ بل شہریوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ہے بل کی منظوری اراکین اسمبلی کی اہلیت پر سوالیہ نشان ، ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب سے متعلق بل پر شدید ردعمل امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے قومی اسمبلی سے منظور ہونے و...

گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا! اجازت نہ دینے پر 5 کروڑ جرمانہ؟حافظ نعیم

آزاد کشمیر سے متعلق بیان ، پی ٹی آئی نے سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو شوکاز نوٹس جاری وجود - اتوار 21 جون 2026

تحریک انصاف نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا سے وضاحت طلب کرلی حساس نوعیت کے معاملات پر بیان بازی سے گریز کرنے اور 7 روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے آزاد کشمیر کے حوالے سے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو ش...

آزاد کشمیر سے متعلق بیان ، پی ٹی آئی نے سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو شوکاز نوٹس جاری

قومی اسمبلی اجلاس، 44ہزار 741ارب سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری وجود - اتوار 21 جون 2026

ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 25ہزار 992،غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 5ہزار 836ارب مختص کر دیے گئے سود کی ادائیگی کے لیے 69 کھرب 82 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں ، اپوزیشن کا تحفظات کا اظہار قومی اسمبلی نے 44ہزار 741ارب سے زائد کے غیر تصویبی لازمی اخراجات کی منظوری دیدی۔...

قومی اسمبلی اجلاس، 44ہزار 741ارب سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری

کفایت شعاری اقدامات ختم ، مارکیٹ اوقاتِ کار کی پابندیاں برقرار وجود - اتوار 21 جون 2026

شادی ہالز، تقریباتی مقامات رات 10 بجے اور ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس 11 بجے بند ہوں گے ڈپارٹمنٹل اور جنرل اسٹورز،دکانیں، بازار ،شاپنگ مالز رات 9 بجے بند ہوں گے،کابینہ ڈویژن کا نوٹیفکیشن وفاقی حکومت نے فیول بچت اور اضافی کفایت شعاری اقدامات ختم کر دیے ہیں، اس حوالے سے ...

کفایت شعاری اقدامات ختم ، مارکیٹ اوقاتِ کار کی پابندیاں برقرار

غزہ میں اسرائیل کا تازہ حملہ، 5 فلسطینی شہید وجود - اتوار 21 جون 2026

حملے میں حسین اور رانا صفادی اور ان کی دو چھوٹی بیٹیاں شہید ہوئے شمالی غزہ شہر کے الصفاوی علاقے ڈرون حملے میں ایک شخص مارا گیا غزہ پر اسرائیلی حملوں میں ایک ہی خاندان کے چار سمیت کم از کم پانچ فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق صیہونی ریاست کا یہ تازہ حملوں کا سلسلہ...

غزہ میں اسرائیل کا تازہ حملہ، 5 فلسطینی شہید

حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیش کش،تحریک انصاف میثاق جمہوریت کیلئے تیار وجود - هفته 20 جون 2026

شہباز شریف کی جانب سے کی گئی میثاق استحکام پاکستان کی پیش کش آج بھی موجود ہے اور حکومت ہر سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے، پی ٹی آئی نے مثبت جواب دیا ہے ، رانا ثنااللہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور اپوزیشن وفد کے درمیان اہم ملاقات ، فاٹا، پاٹا، این ایف سی ایوار...

حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیش کش،تحریک انصاف میثاق جمہوریت کیلئے تیار

پیٹرول کی قیمت میں 74، ڈیزل کی قیمت میں 67روپے کمی ،قوم سے کیا وعدہ پورا کر رہے ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 20 جون 2026

پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 373روپے سے کم ہو کر 299روپے پر آجائے گی، جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 378روپے سے کم ہو کر 311 روپے ہوگی عوام کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے ، عوام نے مشکل صورتحال میں صبر و تحمل کا بے مثال مظاہرہ کیا، حکومت کا ساتھ دینے پر ہم عوام کے تہہ دل سے مشکور ہیں، شہباز ...

پیٹرول کی قیمت میں 74، ڈیزل کی قیمت میں 67روپے کمی ،قوم سے کیا وعدہ پورا کر رہے ہیں،وزیراعظم

ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا عوام کی زندگی اجیرن وجود - هفته 20 جون 2026

ایک ہفتے ہیں 0.46فیصد بڑھ گئی،ادارہ شماریات کی مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری 25اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 11اشیا سستی ہوئیں جبکہ 15اشیا کی قیمتیں مستحکم ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی۔رپورٹ کے مطابق ملک میں گزشتہ 1 ہفتے کے دوران...

ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا عوام کی زندگی اجیرن

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج ٗ کراچی میں 13مقاما ت پر مظاہرے وجود - هفته 20 جون 2026

پیٹرول فی لیٹر 225روپے فکس کرنے کا مطالبہٗ عوام کے حکومت کے خلاف زبردست نعرے پیٹرول کی قیمتوں میں نام نہاد کمی مسترد ٗ موجودہ قیمتیں جنگ سے قبل والی سطح پر نہیں آئیں، خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پیٹرول کی قیمتوں میں فوری طور پر کمی کرنے ، پیٹرو...

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج ٗ کراچی میں 13مقاما ت پر مظاہرے

مضامین
موت زندگی کی دشمن نہیں! وجود پیر 22 جون 2026
موت زندگی کی دشمن نہیں!

سیدنا عمر فاروق:اسلامی ریاست، عدل و حکمرانی کا سنہرا باب وجود پیر 22 جون 2026
سیدنا عمر فاروق:اسلامی ریاست، عدل و حکمرانی کا سنہرا باب

کشمیریوں کو مذہبی استحصال وجود پیر 22 جون 2026
کشمیریوں کو مذہبی استحصال

92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ وجود اتوار 21 جون 2026
92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ

زمین کی اصل امید! وجود اتوار 21 جون 2026
زمین کی اصل امید!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر