وجود

... loading ...

وجود

تفتان اہم سرحدی گزرگاہ، حکومتی توجہ کی منتظر

پیر 26 فروری 2018 تفتان اہم سرحدی گزرگاہ، حکومتی توجہ کی منتظر

بلوچستان کے علاقے چاغی کا ایرانی سرحد سے ملحق شہر تفتان کئی حوالوں سے اہمیت کا حامل ہے جہاں روزانہ نہ صرف بڑے پیمانے پر دو طرفہ رسمی و غیر رسمی تجارت ہوتی ہے بلکہ یہ علاقہ غیرملکی سیاحوں، تاجروں اور مقدس مقامات کی زیارت کیلیے طویل سفر کرنے والے ہزاروں زائرین کی گزر گاہ بھی ہے۔ پاک ایران دو طرفہ روابط کا ذریعہ بھی تفتان ہی ہے جہاں نہ صرف پاک ایران سرحدی حکام مل کر دونوں ممالک کے سرحدی معاملات طے کرتے ہیں بلکہ تفتان کے راستے ہی ایرانی حکام ہر سال دس سے بارہ ہزار ایسے پاکستانی شہریوں کو ڈی پورٹ کرتے ہیں جو روزگار کی تلاش میں غیر قانونی طور پر ایران کے راستے یورپی ممالک جانا چاہتے ہیں۔

تفتان میں انگریز دور کی بچھائی گئی پٹڑی پر ایک مال بردار ٹرین ہفتے میں ایک مرتبہ تین دنوں کی مسافت کے دوران چٹیل میدانوں، پہاڑی سلسلوں اور تپتے ریگستانوں سے گزرکر کوئٹہ تا زاہدان کا سفر طے کرتی ہے جس کی وجہ کوئٹہ تا زاہدان ریلوے ٹریک کی خستہ حالی ہے۔ تفتان کو کوئٹہ سے ملانے والی 628 کلومیٹر طویل قومی شاہراہ بھی متعدد مقامات پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جس پر کئی جان لیوا حادثات پیش آئے۔ کہا جاتا ہے کہ قدیم زمانے میں تفتان ایشیا سے یورپ جانے والے تجارتی قافلوں کی اہم گزرگاہ ہوا کرتا تھا جس کے شمال میں 41 کلومیٹر دور سیندک اور مشرق میں 85 کلومیٹر کے فاصلے پر ریکوڈک واقع ہیں جہاں سونے اور تانبے کے بڑے ذخائر پائے جاتے ہیں۔ خیر معدنی وسائل تو تفتان کی قسمت نہ بدل سکے لیکن اس شہر کی اپنی منفرد جغرافیائی اہمیت بھی تاحال کارگر ثابت نہیں ہو پا رہی۔

تفتان کو ڈرائی پورٹ کا درجہ حاصل ہے جہاں یورپی ممالک اور ایران سے تجارتی اشیاء پاکستان درآمد اور وہاں برآمد کی جاتی ہیں جن پر ٹیکسز کی مد میں رواں سال ہر مہینے پاکستان کسٹمز نے اوسطاً 8 ارب روپے قومی خزانے میں جمع کیے جو کسٹم کے مقرر کردہ ہدف سے کئی گنا زیادہ ہیں۔ لیکن یہ جان کر سب کو حیرانی ہوگی کہ ابھی تک وہاں کوئی سرکاری اسپتال نہیں بلکہ اسپتال تو کجا، کوئی رورل ہیلتھ سینٹربھی نہیں۔ اگر ہے تو وہاں کے 30 ہزار نفوس کے لیے محض ایک بنیادی مرکز صحت ہے جو عام طور پر دیہی علاقوں کی قلیل آبادی کے لیے قائم کی جاتی ہے جبکہ تعلیمی اداروں کی ابتری، پانی، گیس اور دیگر بنیادی سہولیات کا فقدان ایک الگ داستان بیان کرتے ہیں۔

گزشتہ سال پاکستان کسٹمز نے فرنٹیئر کور کی معاونت سے تفتان سرحد پر 2 کروڑ روپے کی لاگت سے پاکستان گیٹ قائم کیا جس کے متعلق حکام کا کہنا تھا کہ اس گیٹ کے ذریعے نہ صرف دو طرفہ تجارت اور آمدورفت مربوط ہوگی بلکہ بیرون ممالک سے پاکستان آنے والوں کو مملکت خداداد کے متعلق اچھا تاثر بھی ملے گا۔ لیکن جب آپ پاکستان گیٹ سے ایک فرلانگ کے فاصلے پر تفتان بازار پہنچیں گے تو وہاں آپ کو بوسیدہ سڑکیں اور خستہ حال دکانیں ایسی حالت میں ملیں گی جیسے یہ علاقہ کسی طویل جنگ کے بعد امن کے دور میں واپس لوٹ رہا ہو۔

ایران اور پاکستان کے درمیان 6 فروری 1958 کے سرحدی معاہدے کے تحت تفتان کے زیروپوائنٹ گیٹ سے دونوں جانب کے مقامی لوگ غیر رسمی تجارت کرتے ہیں جہاں سے روزانہ زیادہ تر اشیائے خوردونوش و روزمرہ ضروریات کی اشیاء ہزاروں مزدور اپنے کاندھوں پر لاد کر پاکستانی سرحد تک پہنچاتے ہیں جو ٹیکس سے بھی مستثنیٰ ہے۔ لیکن جس طرح باقاعدہ تجارت میں پاکستانی اشیاء کی برآمد کم ہے اسی طرح زیروپوائنٹ گیٹ سے بھی ایرانی حکام نے پاکستانی اشیاء کی برآمدات رفتہ رفتہ کم کرتے کرتے اب مکمل طور پر بند کردی ہے جس کی وجہ سے کئی مقامی تاجر بے روزگار ہوگئے ہیں۔

معاہدے کے تحت زیروپوائنٹ سے ہفتے میں تین دن تک ایرانی اشیاء درآمد کی جائیں گی جبکہ تین دن پاکستانی اشیاء برآمد ہوں گی لیکن ایرانی حکام معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صرف اپنی باری لے کر باقی تین دنوں تک زیروپوائنٹ گیٹ اپنی طرف سے بند رکھتے ہیں۔ یہ معاملہ کئی بار پاکستانی حکام نے دو طرفہ اجلاسوں کے دوران ایرانی حکام کے سامنے اٹھایا لیکن محض یقین دہانیاں ہی ملیں، کوئی عملی صورت ابھی تک نظر نہیں آتی۔

تفتان میں زائرین کے قیام و طعام کے لیے حکومت نے گزشتہ سال 4 ایکڑ پر مشتمل پاکستان ہاؤس کی تعمیر مکمل کی جہاں دو بڑے ہالز، درجنوں باتھ روم اور دو کینٹین بنائے گئے جن میں محض ڈھائی ہزار زائرین کے لیے گنجائش موجود ہے لیکن چہلم، محرم اور دیگر مذہبی تقریبات کے دوران بیک وقت 30 سے 40 ہزار زائرین کی آمد کے موقع پر وہاں تل دھرنے کو جگہ نہیں ملتی جس کے سبب ہزاروں لوگ پاکستان ہاؤس کے اندر اور باہر کھلے آسمان تلے رہنے اور سونے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ مقامی انتظامیہ کی ایک افسر کے مطابق قلیل وسائل کے سبب بعض اوقات وہ زائرین کے قیام و طعام اور ٹرانسپورٹیشن میں اتنے مگن ہوجاتے ہیں کہ ان کو شہر کے انتظامی معاملات اور حکومتی امور نمٹانے کی فرصت ہی نہیں ملتی۔2004 کے بعد جب سے ایرانی فورسز پر مسلح حملوں کا سلسلہ شروع ہوا، تب سے ایرانی فورسز کی جانب سے نہ صرف تفتان اور دیگر سرحدی علاقوں پر راکٹ بازی اور مارٹر حملوں کا سلسلہ بھی چل نکلا ہے بلکہ 1958 کے معاہدے کے تحت سرحدی علاقوں کے جو لوگ 15 روزہ اجازت نامے ’’راہداری‘‘ کے تحت ایران جاتے ہیں، انہیں بھی وہاں بڑی سخت شرائط اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گو کہ ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات بہتر ہیں لیکن ایرانی فورسز کی رویّے کے متعلق پاکستانی شہری شکایات کا انبار لیے پھرتے ہیں جنہیں زائل کرنے کے لیے پاک ایران سرحدی حکام نے مشترکہ اجلاسوں میں کئی بار کوششیں کیں لیکن کچھ عرصے بعد کوئی نہ کوئی اخوشگوار واقعہ ان کوششوں کو بے اثر کردیتا ہے۔ایرانی حکام کی بیجا سختیوں، ٹیکسز کی بھرمار، سہولیات کے فقدان اور مقامی سطح پر کاروبار کے مواقع معدوم ہوجانے کے سبب تفتان کے کئی علاقے ویران ہوگئے ہیں جہاں سے لوگوں نے دیگر علاقوں میں نقل مکانی کی۔ رہی سہی کسرجون 2014 میں تفتان کے دو مقامی ہوٹلز میں شیعہ زائرین پر ہونے والے دو خودکش حملوں نے پوری کردی جس کے سبب پورا شہر سیکیورٹی چیک پوسٹوں، خندقوں اور رکاوٹوں کا الگ منظر پیش کرتا ہے۔

کوئٹہ سے تفتان تک قومی شاہراہ پر قائم دو درجن سے زائد سیکیورٹی چیک پوسٹیں بھی کسی عذاب سے کم نہیں۔ ان تمام حالات نے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو منشیات، ایرانی پیٹرول اور انسانی اسمگلنگ کے گھناؤنے کاروبار کی طرف دھکیل دیا ہے جو کسی بھی طرح نیک شگون نہیں۔ ضرورت اس مر کی ہے کہ حکومت تفتان جیسی اہم سرحدی گزرگاہ کی ترقی و خوشحالی کے لیے ضروری اقدامات کرتے ہوئے اسے ایک مثالی شہر بنادے تاکہ نہ صرف اہم سرحدی علاقے کے عوام جدید سہولیات سے آراستہ ہوں بلکہ بیرون ممالک سے پاکستان آنے والے بھی ہمارے ملک کے متعلق اچھا تاثر لے سکیں۔


متعلقہ خبریں


عمران خان حکم کریں پورا پاکستان بند کردیں گے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا وجود - جمعرات 07 مئی 2026

180 نشستیں جیتنے والے شخص کو قید کیا گیا، 17 نشستیں جیتنے والوں کو ہم پر مسلط کیا گیا، ہم نے متحد ہوکر اپنے حقوق کی جنگ لڑنی ہے، میں تیار ہوں، قوم بھی تیار ہے ،سہیل آفریدی کل شیخ ادریس صاحب کو شہید کیا گیا، ہم دہشت گردی کے خلاف بولیں تو کہا جاتا جھوٹ بول رہے ہیں، معصوم لوگ شہید...

عمران خان حکم کریں پورا پاکستان بند کردیں گے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

ایران امریکا جنگ کے خاتمے کا 14 نکاتی فارمولا تیار،معاہدہ نہ کیا تو پہلے سے زیادہ شدید بمباری ہوگی،امریکی صدر وجود - جمعرات 07 مئی 2026

ایران کیخلاف جارحانہ فوجی مرحلہ ختم ہو چکا، امریکا کا مذاکرات میں پیش رفت کا دعویٰ،ضرورت پڑنے پر کارروائی دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی گفتگو ایران شرائط مان لیتا ہے تو امریکا اور اسرائیل کی تہران کیخلاف جنگ ختم ہو سکتی ہے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھ...

ایران امریکا جنگ کے خاتمے کا 14 نکاتی فارمولا تیار،معاہدہ نہ کیا تو پہلے سے زیادہ شدید بمباری ہوگی،امریکی صدر

شیخ الحدیث مولانا ادریس قاتلانہ حملے میں شہید وجود - بدھ 06 مئی 2026

موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ ، مولاناادریس کے دو گارڈز بھی زخمی ،مولانا کو زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا راستے میں ہی دم توڑ گئے،ہسپتال کے باہر ہزاروں عقیدت مند پہنچ گئے،علاقہ میںکہرام مچ گیا ضلع چارسدہ میں ممتاز عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس قاتلانہ حملے میں شہید ہ...

شیخ الحدیث مولانا ادریس قاتلانہ حملے میں شہید

دہشت گرد بزدلانہ حملوںسے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے،صدر مملکت ، وزیراعظم وجود - بدھ 06 مئی 2026

چارسدہ میں مولانا ادریس کی شہادت پر آصف زرداری اورشہباز شریف کا اظہارِ افسوس دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قومی عزم غیر متزلزل، زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئیدعا کی چارسدہ میں جے یو آئی کے سابق رکن صوبائی اسمبلی اور ممتاز عالم دین مولانا محمد ادریس ترنگزئی پر حملے کے نتیجے میں ان ک...

دہشت گرد بزدلانہ حملوںسے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے،صدر مملکت ، وزیراعظم

فیلڈ مارشل کو نوبل امن انعام کیلئے نامزدگی کی سفارش ،سندھ اسمبلی میں قرارداد جمع وجود - بدھ 06 مئی 2026

عاصم منیر نے خطے میں امن و استحکام کیلئے بھرپور کردار ادا کیا ہے، ایم کیو ایم ارکان اسمبلی ایران امریکا جنگ رکوانے کیلئے بھی فیلڈ مارشل کی کاوشیں قابل ستائش ہیں، قرارداد کا متن فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو نوبیل امن انعام کے لئے سفارش کی جائے، سندھ اسمبلی میں قرارداد جمع کرا د...

فیلڈ مارشل کو نوبل امن انعام کیلئے نامزدگی کی سفارش ،سندھ اسمبلی میں قرارداد جمع

اسرائیل نے ایران پر نئے حملوں کی تیاری شروع کردی وجود - بدھ 06 مئی 2026

تیاری ایرانی انرجی انفرااسٹرکچر اور سینئر ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کی ہے جنگ امریکا کا انتخاب تھی، اثرات دنیا محسوس کررہی ہے، سی این این رپورٹ اسرائیل نے آبنائے ہُرمُز سے متعلق کشیدگی بڑھنے پر ایران پر نئے حملوں کی تیاری شروع کردی۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق...

اسرائیل نے ایران پر نئے حملوں کی تیاری شروع کردی

ایران کا امریکی جہاز پر حملے کا دعویٰ وجود - منگل 05 مئی 2026

یو ایس نیول ڈسٹرائر جہاز پسپائی پر مجبور،امریکی بحری جہاز کو رکنے کی وارننگ دی گئی تھی ہدایات نظر انداز کرنے پر دو میزائل داغے گئے جو ہدف پر جا لگے، پاسدارانِ انقلاب ایران کی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں اصول و ضوابط کی خلاف ورزی اور انتباہ کے باوجود اپنی سمت تبدیل نہ ...

ایران کا امریکی جہاز پر حملے کا دعویٰ

حکومت پر دبائو بڑھائیں،ارکان اسمبلی آج اڈیالہ جیل پہنچیں،علیمہ خانم کی پارٹی رہنمائوں کو ہدایت وجود - منگل 05 مئی 2026

بانی سے وکلاء اور اہل خانہ کی فوری ملاقات ممکن بنائی جا سکے،عمران خان کے ذاتی معالج، ماہر ڈاکٹروں اور اہل خانہ کی موجودگی میں علاج کا مطالبہ، شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے ضمانت کی درخواستوں پر فوری سماعت مقرر کی جائے، عمران اور بشریٰ کی رہائی کا مطالبہ، تنہائی میں قید رکھ...

حکومت پر دبائو بڑھائیں،ارکان اسمبلی آج اڈیالہ جیل پہنچیں،علیمہ خانم کی پارٹی رہنمائوں کو ہدایت

جماعت اسلامی، آئی پی پیز، پیٹرول مافیا کیخلاف تحریک چلانے کا اعلان وجود - منگل 05 مئی 2026

سرکاری اسکولوں کا بیڑہ غرق کردیا، سولرپربھی ٹیکس لگا دیا گیا،اب نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے باہرنکلنا پڑے گا، خاندانوں کی بنیاد پر نظام چل رہا ہے، حکومت بیوروکریسی چلا رہی ہے، خطاب امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے بعد آئی پی پیز،پٹرول مافیا کیخلاف...

جماعت اسلامی، آئی پی پیز، پیٹرول مافیا کیخلاف تحریک چلانے کا اعلان

ایران پر دوبارہ حملہ کرسکتے ہیں،امریکی صدر وجود - پیر 04 مئی 2026

مجھے ایران کی تازہ ترین تجاویز پیش کر دی گئی ہیں، تہران سے ہماری مذاکرات کی صلاحیت لامحدود ہے ہرمز کی ناکا بندی دوستانہ ہے، نہیں چاہتے ان کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں،ٹرمپ کا ٹروتھ سوشل پر بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے جو کچھ کیا ہے اب تک ایران نے اس کی زیادہ بڑ...

ایران پر دوبارہ حملہ کرسکتے ہیں،امریکی صدر

ابدالی میزائل کے کامیاب تجربے نے دشمن کی نیندیں اڑا دیں وجود - پیر 04 مئی 2026

میزائل زمین سے زمین تک 450 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے،حکام پاکستان نے دفاعی نظام کی جانچ سے بھارتی فالس فلیگ ہتھکنڈوں کامنہ توڑجواب دیا،ماہرین پاکستان نے ابدالی میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ کرتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیت اور تکنیکی مہارت کا عملی مظاہرہ کیا ہ...

ابدالی میزائل کے کامیاب تجربے نے دشمن کی نیندیں اڑا دیں

کرپشن،مافیا کلچر نے ملک کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، حافظ نعیم وجود - پیر 04 مئی 2026

25 کروڑ عوام پر آئی پی پیز، گیس، چینی اور آٹا مافیانے اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے چند خاندان مختلف ناموں، جماعتوں، نعروں کیساتھ بار بار اقتدار میں آتے ہیں،خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ کرپشن اور مافیا کلچر پاکستان کے مسائل کی جڑ ہیں، جنہ...

کرپشن،مافیا کلچر نے ملک کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، حافظ نعیم

مضامین
بھارت کاجنگی جنونبھارت کاجنگی جنون وجود جمعرات 07 مئی 2026
بھارت کاجنگی جنونبھارت کاجنگی جنون

شعور تک درد کے بغیرپہنچنا ممکن نہیں! وجود جمعرات 07 مئی 2026
شعور تک درد کے بغیرپہنچنا ممکن نہیں!

کیا ریڈ لائن منصوبہ واقعی مقررہ معیار اور وقت پر مکمل ہوگا؟ وجود جمعرات 07 مئی 2026
کیا ریڈ لائن منصوبہ واقعی مقررہ معیار اور وقت پر مکمل ہوگا؟

بنگال میں الیکشن ہورہا تھا یا جنگ؟ وجود بدھ 06 مئی 2026
بنگال میں الیکشن ہورہا تھا یا جنگ؟

پاک افغان تعلقات کا مستقبل وجود بدھ 06 مئی 2026
پاک افغان تعلقات کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر