... loading ...
احتساب عدالت نے شریف خاندان کے خلاف ریفرنسز میں نیب کی درخواست پر ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے واجد ضیاء کو ریکارڈ سمیت طلب کرلیا۔ دوسری جانب سابق وزیراعظم اوران کی صاحبزاد ی کے عدلیہ مخالف تقاریرکاسلسلہ بھی جاری ہے ۔ گزشتہ روز اسلام آباد کی احتساب عدالت کی جانب سے پاناما لیکس کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سربراہ واجد ضیاء کو اصل ریکارڈ کے ساتھ 22 فروری کو پیش ہونے کا نوٹس جاری کردیا گیا ہے۔نیب نے درخواست میں استدعا کی کہ ویڈیو لنک کے ذریعے دو غیرملکی گواہوں کے بیانات قلمبند کرنے کے لیے اصل ریکارڈ ضروری ہے اس لیے آئندہ سماعت پر جے آئی ٹی کے سربراہ کو اصل ریکارڈ سمیت طلب کیا جائے۔جس پر عدالت نے جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء کو ریکارڈ سمیت طلب کرتے ہوئے ریفرنسز میں نامزد ملزمان سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کو بھی حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔ اس حوالے سے یادرہے کہ نیب کی جانب سے 22 جنوری کو نواز شریف سمیت ان کے خاندان کے 5 افراد کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز سے متعلق ضمنی ریفرنس دائر کیا گیا جس میں استغاثہ کی جانب سے دو غیر ملکی گواہ شامل ہیں۔غیرملکی گواہوں میں رابرٹ ریڈلی اور اختر راجہ شامل ہیں جن کے بیانات آئندہ سماعت پر بذریعہ ویڈیو لنک قلمبند کیے جائیں گے۔یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی 2017 کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کیے، جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق تھے۔نیب کی جانب سے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس (لندن فلیٹس) ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف ان کے بچوں حسن اور حسین نواز، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا۔العزیزیہ اسٹیل ملز جدہ اور 15 آف شور کمپنیوں سے متعلق فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں نواز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کو ملزم نامزد کیا گیا۔نیب کی جانب سے ان تینوں ریفرنسز کے ضمنی ریفرنس بھی احتساب عدالت میں دائر کیے جاچکے ہیں۔
سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں گواہوں کے بیان ریکارڈ کرنے کے لیے نیب کی ٹیم لندن پہنچ چکی ہے۔نیب حکام کے مطابق ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر سرکاری دورے پر لندن کے لیے روانہ ہو گئے ہیں جہاں وہ 22 فروری کو لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن جائیں گے۔نیب حکام کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں سردار مظفر کی موجودگی میں استغاثہ کے 2 گواہوں کا ویڈیو لنک پر بیان ریکارڈ کیا جائے گا۔لندن سے ویڈیو لنک پر گواہوں رابرٹ ریڈلے اور راجہ اختر کا بیان رکارڈ کیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ استغاثہ کے گواہان کا ویڈیو لنک پر بیان ریکارڈ کرنے کے لیے احتساب عدالت میں دو اسکرینیں لگائی جا رہی ہیں۔ادھر احتساب عدالت نے 22 فروری کو جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء کو بھی ریکارڈ سمیت طلب کر رکھا ہے۔
ایک جانب احتساب عدالت میں مختلف ریفرنسزمیں سابق وزیراعظم اوران کے خاندان کے خلا ف گھیراتنگ ہورہاہے تودوسر ی جانب مسلم لیگ ن کے سربراہ ملک کے مختلف شہروں میں جلسہ عام کرکے اعلی عدلیہ ججز پرتنقیدکے ڈونگرے برسارہے ہیں اورسیاست میں نواردان کی صاحبزادی بھی اس سارے معاملے میں ان کابھرپورساتھ نبھارہی ہیںگزشتہ روز، اپنی صاحبزادی مریم نواز کے ہمراہ شیخوپورہ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے نوازشریف نے کہا کہ ووٹ کا احترام سب کو کرنا ہوگا، عوام مجھے نااہل کرنیوالوں سے بدلہ لیں گے۔ انہوں نے چیلنج کیا کہ 10 روپے کی رشوت ثابت کر دیں،سیاست چھوڑ دوں گا۔ میاں صاحب نے مخالفین کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور پوچھا کوئی ایک منصوبہ بتائیں جسے آپ نے مکمل کیا ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ منظور نہیں کہ 22 کروڑ عوام منتخب کریں اور چند لوگ گھر بھیج دیں۔
میاں صاحب نے عوام کے اس جم غفیر کے سامنے بھی تقریباً وہی باتیں کہیں، جو وہ اپنی وزارت عظمیٰ سے علیحدگی کے بعد سے کہتے چلے آ رہے ہیں۔ جب وہ اسلام آباد سے لاہور سے آنے لگے، تو انکے بعض بہی خواہوں اور محتاط ساتھیوں نے انہیں جی ٹی روڈ کی بجائے موٹر وے سے جانے کا مشورہ دیا مگر انہوں نے جی ٹی روڈ کو ترجیح دی۔ چنانچہ راہ میں جہاں بھی استقبال کرنے والوں سے خطاب کیا۔ ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کی تکرار کی۔ بعض خیر خواہوں کو انکے بیانات میں توہین عدالت کا پہلو نظر آیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ، نوازشریف کے لہجے میں تلخی بڑھتی گئی مگر حیرت کی بات کہ ان کے بیانیئے کی عوامی حلقوں میں پذیرائی تیزی سے بڑھی۔ لودھراں کے انتخابات میں بڑے مارجن سے کامیابی نے انکی رفتار مزید تیز کر دی۔ ہوسکتا ہے جماعت کو عام انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل ہو جائے کیونکہ پانامہ لیکس کیس کے فیصلے کے باوجود ان کی پنجاب میں مقبولیت کم نہیں ہورہی اورلوگ ابھی بھی ان پراعتماد کرتے ہوئے محسوس ہورہے ہیں۔لیکن یہ محض ضمنی انتخابات کی کامیابی ہے ۔آئندہ کیا ہو گا یہ آنیوالے انتخابات کے نتائج ہی بتا سکیں گے۔
لیکن یہ حقیقت بڑی واضح ہے کہ انہیں ملک کی سب سے بڑی عدالت نے نا اہل کیا ہے اس لیے وہ محض عوامی سپورٹ سے نہیں عدلیہ سے سرخرو ہو کر ہی انتخابی سیاست کے لیے دوبارہ اہل ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ ہوشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے انہیں بڑی محتاط زبان استعمال کرنی چاہئے۔ اداروں کے ساتھ ٹکرائو کی پالیسی ملک و قوم کے مفاد میں نہیں۔ اگرچہ عوام کے سامنے اپنا م¶قف بیان کرنے اور انہیں ہم نوا بنانے اور قائل کرنے کی کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن عوام میں ایسے لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے جو فاضل جج صاحبان کی طرح آئین و قانون اور انصاف کے تقاضوں کی باریکیاں سمجھنے والے ہوں۔
18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...
27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...
صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...
داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...
گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...
پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...
پہلی منزل کی تلاش مکمل، دوسری منزل پر لوگوں کی تلاش جاری تھی کہ اس دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی، اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری لاپتا افراد میں کئی خواتین بھی شامل ہیں،غلطی ہوگئی ہو تو معاف کردینا' گل پلازہ میں پھنسے دکاندار کا آخ...
اپوزیشن لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی ہی تقریر میں ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا مشروط ساتھ دینے کا عندیہ دے دیا، ہمیں اپنی چادر چار دیواری کا تحفظ کرنا ہوگا بھارت نے پارلیمان کو مضبوط کیا وہ کہاں سے کہاں چلے گئے، ہم نے جمہوریت کو کمزور کیا تو کہاں پہنچ گئے، وینزو...
گل پلازہ واقعے کے بعد ریسکیو کا کام اور امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آگ کس وجہ سے لگی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ریسکیو گل پلازہ کو آگ ...
واقعے کی تحقیقات کروائی جائیں، ذمے داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیے، اپوزیشن لیڈر یہاں سیکڑوں شہری قتل ہورہے ہیں کسی نے اپنا ناشتہ تک نہیں چھوڑا، سیمینار سے خطاب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ گل پلازا میں آگ لگی، کیوں باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا؟ ...
عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، لاپتا افراد میں خواتین اور بچے شامل، 30 افراد زخمی،18 کی حالت تشویش ناک، گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں،چیف فائر آفیسر ایک ہزار سے زائد دکانیں شدید متاثر ، آگ پر 90 فیصد تک قابو پالیا،فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے ح...
حکومت ڈنڈے کے زور پر بلڈنگ سیفٹی کے قوانین نافذ نہیں کرواسکتی، صوبائی وزیر اس حادثے سے ہم نے سبق سیکھا ہے، حکومت ذمہ داری ادا کرے گی،سعید غنی کی گفتگو سندھ حکومت نے گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ...