وجود

... loading ...

وجود

بیرون ملک جائیدادوں سے متعلق پوچھ گچھ کی راہ میں عالمی رکاوٹ حائل

پیر 19 فروری 2018 بیرون ملک جائیدادوں سے متعلق پوچھ گچھ کی راہ میں عالمی رکاوٹ حائل

حال ہی میں دبئی میں تقریباً چارہزارسے زائدپاکستانیوں کی غیرقانونی جائیدادوں کی موجودگی انکشاف ہواہے ۔ غیرقانونی جائیدادیں بنانے والوں میں سیاستدان ‘تاجربرادری ‘سرمایہ دار‘ ڈاکٹرز سمیت تمام طبقات فکرکے لوگ شامل ہیں اس حوالے سے خبریں اخبارات کی زینت اب بنی جبکہ ایف آئی اے نے ڈیڑھ سال قبل دبئی جائیدادوں پر تحقیقات شروع کی۔ حکام نے دبئی جائیدادوں کی تحقیقات دبائو میں آکر رکوا دی تھی۔ خبر نشر ہونے پر ایف آئی اے کو دوبارہ تحقیقات کا حکم ملا، دوبارہ تحقیقات ایف آئی اے کراچی اینٹی کرائم سرکل نے شروع کی ہیں۔ دبئی میں پاکستانیوں کی چار ہزار جائیدادوں کی تفصیلات ایف آئی اے کے پاس ہیں جن کی جائیدادیں بیرون ملک ہیں انکومنی ٹریل دینے کے لیے خطوط لکھ دیئے ہیں۔ انکو پیش ہونے کے لیے بھی خطوط لکھے گئے ہیں۔

قانون کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ملک میں بیرون ملک جائیدادیں بنانا کوئی جرم نہیں۔ ان جائیدادوں کو چھپانا اور ٹیکس بچانے کے لیے بیرون ممالک میں اکائونٹس کھلوانا یقیناً غیرقانونی ہے۔ جن 4 ہزار افراد کو منی ٹریل دینے اور پیش ہونے کو کہا گیا ہے انکی جائیدادیں اور اکائونٹس قانونی ہیں تو ان کو خائف ہونے کی ضرورت نہیں، وہ ایف آئی اے کے سامنے پیش ہو کر منی ٹریل دیدیں۔ دوسری صورت میں پی پی سی کی دفعہ 174 کے تحت کارروائی کا سامنا کرنا پڑیگا۔ پاکستانیوں کی جائز اور ناجائز ذرائع سے صرف دبئی ہی میں جائیدادیں اور کاروبار نہیں دیگر ممالک میں بھی ہیں جن کا سپریم کورٹ نے نوٹس بھی لیا ہے۔ مسلم لیگ ن حکومت کے سابق وزیر خزانہ سوئس اکائونٹس میں ناجائز ذرائع سے جمع 2 سو ارب ڈالر کی بات کر کے یہ خطیر رقم پاکستان لانے کے دعوے کرتے رہے ہیں اب خود ان کی جان پر بنی ہوئی ہے، ان کو اپنی جائیدادوں اور بنک اکائونٹس کا حساب دینا پڑ رہا ہے۔ 2 سو ارب ڈالر اسحاق ڈار کا ایشو نہیں تھا، یہ رقم اداروں نے واپس لانا تھی مگر کسی ادارے کی طرف سے ان دو سو ارب ڈالر کے حوالے سے کوئی سرگرمی نظر نہیں آئی۔ پاکستان سے ناجائز طریقے سے باہر جانیوالی پائی پائی ملک میں واپس لانے کے لیے متعلقہ اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ ہر کام کے لیے سپریم کورٹ کی طرف بھی نہیں دیکھنا چاہئے، ایمانداری سے آئین اور قانون کے تحت اپنا کام کریں۔ ملک کے اندر بھی سب ٹھیک نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا ہے کہ اشرافیہ نے سفارش اور سیاسی رشوت کے ذریعے کھربوں کے قرضے معاف کرائے ہیں۔ ایسے لوگ بے نقاب ہونے چاہئیں اور معاف کرائے گئے قرضوں کی ریکوری ہونی چاہئے۔ ایسے معاملات خود شہباز شریف سپریم کورٹ لے جائیں مگر بہتر ہے کہ سپریم کورٹ کھربوں روپے کے قرض معاف کرانے پر بھی ازخود نوٹس لے۔

دوسری جانب بیرون ملک جائیدادوں اور بینک اکائونٹس سے متعلق پوچھ گچھ کی راہ میں عالمی رکاوٹ حائل ہوگئی ہے۔او ای سی ڈی معاہدے کے تحت حاصل کردہ معلومات کا استعمال ٹیکس کے سوا کسی دوسرے معاملے میں نہیں کیا جاسکتا۔ذرائع کے مطابق ان معلومات کو بطور ثبوت کسی عدالت میں پیش نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اس کی بنیاد پر فوجداری مقدمات قائم کیے جاسکتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق،ادارہ برائے اقتصادی تعاون اور ترقی کے معاہدے(او ای سی ڈی) کے تحت ادارے کا کوئی بھی رکن ملک اپنے شہریوں سے بیرون ملک ان کی جائداد اور بینک اکائونٹس سے متعلق معلومات ملنے پر ان سے پوچھ گچھ نہیں کرسکتا۔ایف بی آر ذرائع کے مطابق، بحیثیت رکن او ای سی ڈی، تمام رکن ممالک قانون کیتحت پابند ہیں کہ او ای سی ڈی معاہدے کے تحت حاصل کردہ اشخاص کے نام عوامی سطح پر نہ لائے جائیں۔مزید یہ کہ ان معلومات کو بطور ثبوت کسی عدالت میں پیش بھی نہیں کیا جاسکتا۔اسی طرح اس معلومات کی بنیاد پر کسی بھی شخص/ادارے سے پوچھ گچھ نہیں کی جاسکتی۔اسی طرح او ای سی ڈی کے تحت حاصل کردہ معلومات کو اگر عوامی سطح پر لایا جائے یا اس کا استعمال عدالت یا ضابطہ فوجداری مقد ما ت میں کیا جائے تو ایسا ملک معاہدے کی پامالی کا مرتکب قرار پائے گا اور اس کی او ای سی ڈی کی رکنیت منسوخ کردی جائے گی اور مستقبل میں اس ملک کو کوئی معلومات فراہم نہیں کی جائیں گی۔

دی نیوز کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق، او ای سی ڈی کے تحت حاصل کردہ معلومات صرف ایسے فرد/ اداریجن کے بیرون ممالک اثاثے یا بینک اکائو نٹس ہوں ، سے ٹیکس کے مقاصد کے لیے استعمال کی جاسکتی ہیں۔ایف بی آر ذرائع نے اس نمائندے کو بتایا ہے کہ عدالت عظمیٰ کو بھی اس حوالے سے آگاہ کیا گیا ہے اور ایف بی آر نے او ای سی ڈے کے تحت حاصل کردہ کسی قسم کی معلومات عدالت عظمیٰ کو فراہم نہیں کی ہیں ، جب کہ عدالت عظمیٰ نے بھی ایف بی آر کے عذر کو قبول کیا ہے۔اسی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے ادارے ، ایسے افراد کے خلاف جن کے بیرون ممالک اثاثے یا بینک اکائونٹس ہیں اقدام نہیں کررہے ہیں۔پاکستان حکام کو ملنے والی زیادہ تر معلومات فوٹی کاپیوں پر مشتمل ہیں ، جو کہ عدالت میں قابل قبول نہیں۔او ای سی ڈی معاہدے کے اطلاق کا جائزہ لینے کے لیے ایک وفد جلد اسلام آباد، پاکستان کا دورہ کرے گااور ایف بی آر اوردیگر متعلقہ اداروں سے ملاقات کرکے صورتحال کا جائزہ لے گا۔ سوئٹزر لینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص بھی پاکستان کا دورہ کرنے والے وفد میں شریک ہوں گے۔

ذرائع نے اس نمائندے کو بتایا ہے کہ او ای سی ڈی سے حاصل کردہ معلومات کے استعمال سے متعلق سوئٹزر لینڈ بہت سخت موقف رکھتا ہے کہ اس کا استعمال ٹیکس مقاصد کے سوا دیگر مقاصد کے لیے نہ ہو۔معاملے کی حساسیت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ایف بی آر نے اس معاملے کو خفیہ رکھنے کے ہر ممکن اقدامات کیے ہیں۔ایف بی آر اب ہر فلور کے لیے خصوصی کارڈز جاری کررہا ہے۔جب کہ دفاتر آنے والوں کو یہ بھی بتانا پڑ رہا ہے کہ وہ کس دفتر یا کس افسر سے ملنے آئے ہیں۔ایک سینئر عہدیدار نے اس نمائندے کو بتایا ہے کہ ہم او ای سی ڈی رکن ممالک کے ساتھ اس معاہدے کی پاسداری کے پابند ہیں اور ان معلومات کا استعمال ٹیکس مقاصد کے سوا دیگر حوالوں سے نہیں کیا جائے گا۔او ای سی ڈی کے وفد کے دورے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ہم نے رازداری برقرار رکھنے کے ہر ممکن اقدامات کیے ہیں ، جو کہ ہمارے لیے بہت ضروری ہیں۔ایک سینئر عہدیدار کا کہنا تھا کہ پاکستان صرف ایک کام کرسکتا ہے ، وہ یہ کہ ایسے فرد سے انسداد منی لانڈرنگ قانون کے تحت پوچھ گچھ کرے۔تاہم ایف بی آر کی جانب سے او ای سی ڈی معاہدے سے متعلق آگاہی فراہم کیے جانے کے بعد ہمیں اندازہ ہوچکا ہے کہ ہم پاکستان سے باہر جائدادیں اور اکائونٹس بنانے والوں کے خلاف کوئی اقدام نہیں کرسکتے۔


متعلقہ خبریں


چین کا ایران کو امریکا سے مذاکرات کا مشورہ،پاکستان نے میزبانی کی پیشکش کردی وجود - بدھ 25 مارچ 2026

تنازعات کو طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے،چینی وزیر خارجہ کی ایرانی ہم منصب سے گفتگو میں جنگ کے بجائے مذاکرات پر زور چین نے ایران پر زور دیا ہے کہ جنگ کے بجائے بات چیت کو فوقیت دی جائے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی وزارت خارجہ...

چین کا ایران کو امریکا سے مذاکرات کا مشورہ،پاکستان نے میزبانی کی پیشکش کردی

شہباز شریف کی جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم وجود - بدھ 25 مارچ 2026

  وزیراعظم پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم اور حمایت کا اعلان کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان خطے کے امن و استحکام کے مفاد میں مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذ...

شہباز شریف کی جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم

جوچاہیں کرلیں ، سر نہیں جھکاؤں گا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 مارچ 2026

کوئی مذاکرات اور کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، کسی میں ہمت ہے تو جا کر عمران خان سے مذاکرات کرے، آپ پونے تین سال کسی کو جیل میں رکھ کر اب کہیں کہ ڈیل کرنا چاہتا ہوں، علیمہ خانم بانی پی ٹی آئی سے بشریٰ بی بی کی ملاقات،بہنوں اور وکلا کی ملاقات نہ ہوسکی،جیل انتظامیہ سے لیکر باتیں کرن...

جوچاہیں کرلیں ، سر نہیں جھکاؤں گا،عمران خان کا جیل سے پیغام

اسرائیلی فوج نے فلسطینی 18 ماہ کے بچے کو سگریٹ سے داغ دیا وجود - بدھ 25 مارچ 2026

مغازی پناہ گزیں کیمپ میں باپ کے سامنے بچیکے زخموں میں ناخن پیوست کیے گئے واقعے کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے غزہ کے علاقے مغازی پناہ گزیں کیمپ میں ایک نہایت افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک فلسطینی شہری ...

اسرائیلی فوج نے فلسطینی 18 ماہ کے بچے کو سگریٹ سے داغ دیا

ایران، اسرائیل و امریکا جنگ،دنیا کی 20 بڑی ایئر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان وجود - منگل 24 مارچ 2026

جنگ نے خلیج کے ہوائی اڈوں اور پروازوں کو متاثر کیا، ایندھن کی ممکنہ قلت کا خطرہ جیٹ فیول کی قیمت میں اضافے سے ایٔرلائن ٹکٹوں میں اضافے کا خدشہ ہے ایران پر اسرائیلی و امریکی جنگ کے نتیجے میں دنیا کی 20 بڑی ایٔر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق...

ایران، اسرائیل و امریکا جنگ،دنیا کی 20 بڑی ایئر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان

اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی وجود - پیر 23 مارچ 2026

دیمونا اور عراد میں ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں متعدد عمارتیں تباہ ،شہر کے مشرقی حصے میں دھماکوں کی اطلاعات،پاسداران انقلاب کا اسرائیلی لڑاکا طیارہ گرانے کا دعویٰ، اسرائیل نے تصدیق نہیں کی نیتن یاہو نے صورتحال کو انتہائی مشکل قرار دے دیا، ریسکیو اداروں کو مزید مضبوط کرنے کی...

اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ وجود - پیر 23 مارچ 2026

ایران تیل و گیس کی تنصیبات ، پانی صاف کرنیوالے پلانٹس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نظام کو نشانہ بنا سکتا ہے،ابرہیم ذوالفقاری ایران نے 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنیکیلئے اقدامات نہ کیے تو پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے،صدر ٹرمپ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر...

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم) وجود - پیر 23 مارچ 2026

حکمران طبقہ عیاشیوں میں مصروف ہے جبکہ عوام پر مہنگائی کے بم برسائے جا رہے ہیں غزہ کے بچے اور مجاہدین ملبے کے ڈھیروں میں عید منارہے ہیںاور ا ن کے حوصلے بلند ہیں جماعت اسلامی کراچی کے تحت یکم شوال کو مقامی ہال میں روایتی عید ملن کا انعقاد ہوا جس میں مرکزی ،صوبائی اور کراچی کے ذ...

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم)

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ) وجود - پیر 23 مارچ 2026

تیل کی مسلسل فراہمی کیلئے پرعزم ہیں، ہم ٹارگٹڈریلیف کی طرف جائیں گے، محمد اورنگزیب علاقائی کشیدگی اور جنگی حالات سے توانائی انفرااسٹرکچر متاثر ہونے کا خدشہ ہے،میڈیا سے گفتگو وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عیدالفطر کے موقع پر اہل وطن کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ملک میں استحکا...

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ)

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند وجود - پیر 23 مارچ 2026

سکیورٹی وجوہات کے باعث بانی پی ٹی آئی نمازعید ادا نہیں کر سکے،جیل ذرائع عید کی نماز کے دوران اپنے سیل میں ہی قیام کیا، بچوں سے ٹیلی فون پربات کی ملک بھر کی طرح اڈیالہ جیل میں بھی عید الفطر کی نماز ادا کی گئی۔جیل ذرائع کے مطابق عام قیدیوں نے عید نماز جیل کی جامع مسجد اور امام...

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پاکستان کیخلاف سرگرم دہشتگردوں اور ان کے نیٹ ورکس کا جہاں وجود ہوگا، انہیں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے ذریعے ختم کیا جائے گا، خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے فعال سفارتکاری کر رہا ہے چیف آف ڈیفنس فورس سے اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علماء کی ملاقات ، گمراہ کن پروپیگنڈا اور فرقہ...

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

رپورٹ میں پاکستانی میزائل پروگرام اور پالیسیاں امریکی سلامتی کیلئے ممکنہ خطرہ قرار،پاکستانی میزائل امریکا تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں، پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ایٹمی تصادم کا خطرہ پاکستان مسلسل جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو جنوبی ایشیا سے با...

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا

مضامین
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا آپریشن وجود بدھ 25 مارچ 2026
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا آپریشن

ایرانی صدر کے بیٹے کی ڈائری وجود بدھ 25 مارچ 2026
ایرانی صدر کے بیٹے کی ڈائری

کیا امریکہ اور اسرائیل ایران کی شرائط مان لیں گے! وجود بدھ 25 مارچ 2026
کیا امریکہ اور اسرائیل ایران کی شرائط مان لیں گے!

مظلوم کی للکاراور مسلم اُمہ کی ذمہ داری وجود منگل 24 مارچ 2026
مظلوم کی للکاراور مسلم اُمہ کی ذمہ داری

یوم پاکستان، مقبوضہ وادی میں سبز ہلالی پرچم وجود منگل 24 مارچ 2026
یوم پاکستان، مقبوضہ وادی میں سبز ہلالی پرچم

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر