وجود

... loading ...

وجود

سماجی اقدار پر سوشل میڈیا کے اثرات

هفته 17 فروری 2018 سماجی اقدار پر سوشل میڈیا کے اثرات

عصر حاضر میں ایک طرف سے ٹی وی نے مشاہدین کو پوری طرح اپنی گرفت میں لیا ہے تو دوسری طرف انٹرنیٹ نے پوری طرح نوجوان نسل کو جذب کرلیا ہے۔ ایک مشاہد (Browser )اپنی ساری صلاحیت اسی کی طرف مبذول کرتا ہے اور دیگرکاموں میں دلچسپی لینے سے قاصر ہوتا ہے۔ چوبیس گھنٹے چلنے والے ملکی وغیرملکی نشریاتی چینلز کے ذریعے مغربی تہذیب و ثقافت کی تشہیر سے ہماری نوجوان نسل کے کردارو سیرت پر جو منفی اثرات ظاہر ہوگئے ہیں وہ اظہر من الشمس ہیں ،ماہرین نفسیات آئے دن جدید تحقیقات کے ساتھ اپنے تاثرات پیش کرتے ہیں۔ ایک ماہر نفسیات لکھتے ہے کہ ’’ ٹی وی بچوں میں پڑھنے کی مہارت میں انحطاط کا پوری طرح ذمہ دار ہے وہ کم علم، زیادہ بے چین اور پڑھائی میں کمزورپائے جاتے ہیں‘‘۔ بچے جتنا ٹی ویکھتے ہیں اتنا ہی لکھنے کی قدرت کمزور ہوتی ہے۔ ٹی وی کے اثرات براہ راست جسمانی و نفسیاتی صحت پر پڑتے ہیں منفی کردار سازی کے لیے بھی ٹی وی کے مہلک اثرات ذمہ دار ہیں۔ امریکہ کے زیادہ ترما ہر نفسیات اس بات کو تحقیق سے ثابت کرچکے ہیں کہ معاشرے میں پھیلے جرائم کے پس پردہ ٹی وی اور انٹرنیٹ کا بے جا استعمال ہے۔ معاشرے کے اعلیٰ ، متوسط وادنیٰ طبقوں پر میڈیا کے یہ رکن اچھے سے اپنی جگہ بنا چکے ہیں۔ تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ ٹی وی مشاہدین ساری باتوں کو بھول جاتے ہیں لیکن جوجرائم ٹی وی میں عملی طور پر دِکھائے جاتے ہیں وہ بچوں کے دل و دماغ پر عکس پذیرہوتے ہیں۔ بچوں کا دماغ تو کورے کاغذ کی مانند ہوتا ہے۔ پچھلے تین سالوں سے تو میڈیا اتنافحش ہوا ہے کہ اب لوگ انہی معیاروں پر کھڑے ہونا اپنا معیار سمجھتے ہیں۔

بڑی اسکرین پرمشاہدین کے ایک زمانے میں پیسے لگتے تھے لیکن جدید دور میں وہ سارے مسئلے چھو ٹی اسکرین سے حل ہوگئے۔ اب ایک دو یا تین چینل نہیں بلکہ سینکڑوں چینل سامنے ہیں اور انسان کو اب چینل سلیکشن کے لیے وقت ہی نہیں ہوتا۔ نو خیز نسل سے متعلق کارٹونز میں جانوروں کو اشرف المخلوقات کی شکل میں پیش کیا جارہا ہے۔ان میں دیوی، دیوتائوں، جنوں، ستاروں، پہاڑوں کو طاقت کا مرکز دکھایا جاتا ہے۔ اور بچوں کی تربیت اسی انداز سے کی جاتی ہے۔ ایسے کارٹونز میں اخلاقیات نام و نشان کو بھی نہیں ہوتیں بلکہ ایک سوچی سمجھی ترکیب سے بچوں کی ذہن سازی کا کام کارٹونز ہی کرتے ہیں۔ نئی نسل کے لیے بھی ایسے پروگرام پیش ہوتے ہیں جن سے بچے کے دماغ پر خاص اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ایسے بچے پھر کوئی دینی بات ، نماز، پردہ وغیرہ سے بالکل بے خبر رہتے ہیں۔ ہماری بہنیں جو کہ ماں کے مرتبے پر فائز ہیں اس بات کو نظر انداز کرتی ہیں کہ بچوں کو ٹی وی سے صرف منفی اثرات ہی حاصل ہوتے ہیں۔ میں جب بھی کسی ماں سے سوال کرتی ہوں کہ بچے کیسے دن گزارتے ہیں تو سادگی سے جواب دیتی ہیں ’’ ان کا تو نصف دن کارٹونز دیکھنے میں گزر جاتا ہے‘‘۔ وہ یہ بالکل نہیں سمجھتیں کہ یہ بچے کی دماغی صحت کے لیے کتنے نقصان دہ ہیں۔ ایسا بچہ آہستہ آہستہ عادی ہوجا تا ہے اور ایک وقت کے بعد اسے صرف فضولیات میں دلچسپی ہوتی ہے اور اصل کی طرف اسے کوئی چاہت ہی نہیں اور والدین پھر کہتے پھرتے ہیں ہمارے بچے ہماری ایک بھی نہیں سنتے۔

ٹی وی نے اگر چہ بہت ہی معلوماتی پروگرام بھی رکھے ہوئے ہیں لیکن کیا یہ سارے پروگرام صاف و شفاف ہوسکتے ہیں (بے حیائی اور عریانیت کے بغیر)۔ کیا ہم انہیں اپنے گھر کے افراد کے درمیان بیٹھ کر دیکھ سکتے ہیں۔ نہیں ہرگز نہیں۔ سیل فون سے جتنے رابطے بڑ ھ چکے ہیں کہ اب گھر میں سبھی افراد کی جیبوں میں فون موجود ہوتے ہیں اور اسی انٹر نیٹ اور فو ن کا بے جا استعمال ہورہا ہے اور اب انہی چیزوں کے پیدا کردہ فتنے ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے۔

تین سال پہلے جب ایک نوجوان کا قتل ہوا تو وجہ انٹر نیٹ کا غلط استعمال تھی اور تین سال کی تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ ایک دوست نے دوسرے دوست کو قتل کیا کیونکہ وہ اس کی دوست سے گپ شپ کرتا تھا جو اس کے لیے ناقابل برداشت تھا حالانکہ جو قتل ہوا اس نے بھی اس لڑکی کو نہیں دیکھا تھا اور جس نے قتل کیا اس نے بھی کبھی اس لڑکی کو نہیں دیکھا تھا اور والدین سارے معاملے سے بے خبر تھے سوشل نیٹ ورکنگ Teenagers کے لیے زیادہ ہی سِم قاتل ثابت ہورہا ہے۔اور اس سے صاف عیاں ہوتا ہے کہ والدین کی نہ کوئی تربیت ہے اور نہ ہی کوئی نظم و ضبط۔ Carriarism کے لیے اتنی کھلی چھوٹ تو جانوروں کے مالک بھی انہیں نہیں دیتے ہیں۔ والدین تفکر سے کام لیں کہ بچوں کو کھلی چھوٹ دینے سے کہیں لینے کے دینے نہ پڑ جائیں۔

کتنا اچھا تھا کہ ہم بچوں سے غیر ضروری فون واپس لیتے۔ اب اگر انٹر نیٹ کے استعمال پر ایک نظر ڈالیں تو اسکا بھی حد سے زیادہ استعمال ہورہا ہے اب تو نیٹ پیکج، اعلیٰ و ادنیٰ درجے کے پیشے کے لوگوں کے پاس رہتا ہے۔ ہرقسم کے نیٹ پیکج کی بازار میں بہتات ہے۔ بچے دس سال سے کم بھی اور زیادہ بھی انٹر نیٹ کا استعمال کرتے ہیں سیل فون میں نیٹ بچوں کے لیے کسی زہریلے وائرس سے کم نہیں۔ والدین سوچیں اگر بچوں کو جسمانی بیماری لگی ہے تو علاج ممکن ہے لیکن اگر کوئی ذہنی بیماری میں مبتلا ہو تو علاج مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن بن جاتا ہے۔ انٹرنیٹ پر قابل اعتراض پوسٹ اور عجیب خیالات پیش ہورہے ہیں دنیا بھر کے فتنے ، فساد، جرائم، بے حیائی، عریاں تصویریں، اسلام کے خلاف تصویر یں، ویڈیوزکی سرکولیشن نے بے نام طوفان برپا کردیا ہیں۔ اور اس طوفان میں ہمارا معاشرہ ڈوبتا جارہا ہے۔ یادرہے جب بھی کسی ضرورت کا بے جا استعمال ہوتا ہے تو نتائج برعکس ہوتے ہیں۔ ہمارے طلباء و طالبات صبح کے ناشتے سے لیکر رات کے کھانے تک نیٹ کے ساتھ ہی چپکے رہتے ہیں۔ اور اب طلباء کتب بینی کی عادت سے بے خبر ہورہے ہیں۔ کاش والدین اپنے بچوں سے سیل فون چھین لیتے اور انہیں غیر ضروری استعمال نہ کرنے دیتے اگر ہم تھوڑی کوشش کریں تو اب بھی اس سیلاب کو روکا جاسکتا ہے۔
٭ ٭ ٭


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر