وجود

... loading ...

وجود

متحدہ کاشیرازہ بکھرگیا،ایک اور22اگست یاحقیقی ٹوکی جانب پیش قدمی

منگل 13 فروری 2018 متحدہ کاشیرازہ بکھرگیا،ایک اور22اگست یاحقیقی ٹوکی جانب پیش قدمی

22اگست کوبانی کی پاکستان مخالف تقریرکے بعد سے تاحال ایم کیوایم جواب ایم کیوایم پاکستان ہوچکی ہے کی کشتی منجدھارمیں اوربری بری طرح ہچکولے کھارہی ہے ۔ ایم کیوایم سے راہیں جداکرکے الگ سیاسی جماعت بنانے والے مصطفی کمال نے جوزخم اس پارٹی کولگائے وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں لیکن پارٹی کے اندربھی اختلافات اورقیادت کے حصول کی جنگ بھی پور ی شدت سے جار ی رہی ۔پارٹی کوکسی حدتک مسائل سے نکالنے اوراسے دوبارہ قدموں پرکھڑے کرنے کی کوشش میں باربارفاروق ستارکے قدم لڑکھڑائے لیکن وہ اپنی کوششوں میں مصروف رہے لیکن ان ٹانگ کھینچنے کاعمل بھی رکا نہیں ۔ بانی سے راہیں جداکرنے کے بعد ہر سینئر خود کو لیڈر تصورکرنے لگا۔فاروق ستاربظاہرتوسربراہ رہے لیکن ان کامخالف گروپ مظبوط ہوتا چلا گیا، اورسینیٹ الیکشن کے لیے ٹکٹوں کااعلان ایم کیوایم پاکستا ن میں موجوددراڑنمایاں کرنے کاسبب بناتوبعدازاں معاملات ادھر تم ادھرہم کی مصداق بہادرآباد اورپی آئی بی کالونی تک تقسیم ہوگئے ۔ قصہ مختصرباربارکی کوششوںکے باوجوداختلافات کسی طورختم نہیں ہوسکے اورنوبت مکمل طورپرراہیں جداکرنے تک آپہنچی ۔

ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار اور رابطہ کمیٹی کے درمیان اختلاف 6 فروری کو اس وقت شروع ہوئے تھے جب فاروق ستار کی جانب سے سینیٹ انتخابات کے لیے کامران ٹیسوری کا نام سامنے آیا تھا، جس کی رابطہ کمیٹی نے مخالفت کی تھی۔رابطہ کمیٹی کی مخالفت کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کے عارضی مرکز بہادر آباد میں اراکین رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا جس میں 6 ماہ کے لیے کامران ٹیسوری کی رکنیت معطل کرتے ہوئے انھیں رابطہ کمیٹی سے بھی نکال دیا گیا تھا۔ڈاکٹر فاروق ستار کی جانب سے اس اعلان کو غیر آئینی قرار دیا گیا تھا اور کچھ دیر کے لیے ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی کے ارکان کی رکنیت بھی معطل کی تھی۔بعد ازاں رابطہ کمیٹی کی جانب سے ایک وفد مذاکرات کے لیے فاروق ستار کے گھر بھی بھیجا گیا تھا لیکن مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے تھے۔اس حوالے سے 8 فروری کی شب کو ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی اور ڈاکٹر فاروق ستار کے درمیان بات چیت ہوئی لیکن وہ بے سود رہی تھی اور رابطہ کمیٹی کی جانب سے سینیٹ انتخابات کے لیے امیدواروں کے نام سامنے لائے گئے تھے۔جس کے بعد سربراہ ایم کیو ایم ڈاکٹر فاروق ستار نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ گھر کے مسئلے کو چوراہے پر نہیں لانا چاہیے تھا، اگر پارٹی میں انھیں تقسیم کرنی ہوتی تو وہ پہلے ہی رابطہ کمیٹی کو تحلیل کردیتے۔

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی رابطہ کمیٹی پارٹی کی جانب سے کنوینر کے عہدے سے الگ کرنے کے اعلان کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار رابطہ کمیٹی کے اختیارات اور رکنیت کو ختم کر کے 17 فروری کو پارٹی کے نئے انتخابات کرنے کا اعلان کردیا۔پی آئی بی میں کارکنان سے خطاب کے دوران فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کے اراکین اور اختیارات کو بھی معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے چند قرار دادیں پیش کیں اور کارکنان سے اس کی تائید کرواتے رہے ۔ انھوں نے رابطہ کمیٹی کو معطل کرکے 17 فروری کو پارٹی انتخابات کروانے کا اعلان کیا اور کہا کہ پہلے پارٹی کے انتخابات ہوں گے جس کے بعد عام انتخابات میں جائیں گے ۔کارکنان سے خطاب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ جنرل ورکرز اجلاس، جنرل باڈی اور کارکنان کی عدالت میں بدل گیا، جنرل ورکرز اجلاس عوامی عدالت کی شکل اختیار کرگیا ہے۔

جنرل ورکرزاجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹرفاروق ستارکاکہناتھا کہ اللہ تعالیٰ 22 اگست کروانے والوں کو نیک ہدایت دے، کیا 22 اگست سے پہلے ایم کیوایم میں دودھ کی نہریں بہہ رہی تھیں۔فاروق ستار نے کہا کہ پہلے بھی غیرآئینی اقدام ہوئے، کوئی شوکاز نوٹس جاری نہیں کیاجاتا تھا،جس کوجب دل چاہا پارٹی میں عہدوں سے فارغ کردیا جاتا تھا لیکن یہاں مسئلہ کامران ٹیسوری کا نہیں ہے اگر ہوتا تو شب خون نہ ماراجاتا۔انھوں نے کہا کہ مسئلہ ٹکٹ دینے کا نہیں ہے بلکہ ٹکٹ دینے کے اختیار کا مسئلہ ہے کیونکہ خالد مقبول نے اپنے دستخط سے کامران ٹیسوری کوٹکٹ دیا اور دوسری طرف قول اور فعل میں تضاد ہے۔رہنما ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ پارٹی میں احتساب اور اصلاحات کے عمل کا قائل ہوں، بانی ایم کیو ایم والے اختیارات نہیں مانگے لیکن ممنون حسین بھی نہیں بنوں گا، اگر آمر کنوینر کے ساتھ رویہ ایسا ہے تو عوام کے ساتھ کیسا رویہ ہوگا۔پارٹی میں تبدیلی لانے کا وعدہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایم کیوایم پا کستان کو 1986 کی نظریاتی پارٹی بنائیں گے۔

اس سے قبل ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے الیکشن کمیشن میں سینیٹ کے انتخابات کے لیے امیدواروں کو ٹکٹ جاری کرنے کا اختیار واپس لینے کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار کو کنوینر کے عہدے سے بھی سبک دوش کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔کنور نوید جمیل نے کہا کہ فاروق ستار پر کئی الزامات ہیں اور ان کی غفلت کے باعث حالات اس نہج پر پہنچے ہیں۔انھوں نے کہا کہ پوری رابطہ کمیٹی نے مل کر فاروق ستار کو پارٹی رہنما بنایا تھا اور وہ 22 اگست سے پہلے بھی پارٹی کے رہنما تھے لیکن انھوں نے رابطہ کمیٹی کو اعتماد میں لیے بغیر پارٹی آئین میں تبدیلی کی۔فاروق ستار کو عہدے سے ہٹانے کا اعلان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ فاروق ستارنے دھوکے سے پارٹی آئین تبدیل کرکے خود کو سربراہ بنایا اور اب فاروق ستار ایم کیوایم پاکستان کے کنوینر نہیں رہے کیونکہ فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کیاعتماد کو ٹھیس پہنچایا ہے۔ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینر نے کہا کہ فاروق ستار اب ہماری پارٹی کے کارکن ہیں، عہدے آتے اور جاتے رہتے ہیں جس طرح میں اس وقت پارٹی کا ڈپٹی کنوینر بھی ہوں اور کارکن بھی ہوں اور اگر فاروق ستار اپنی اصلاح کرتے ہیں تو وہ دوبارہ کنوینر بن سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے صورت حال کی بہتری کے لیے کوشش کرتے رہے، ہماری کوشش تھی گھر کی بات گھر میں رہے۔

کنورنوید جمیل نے کہا کہ فاروق ستار پر بہت سارے الزامات ہیں، ان کی غفلت کی وجہ سے ایم کیو ایم کی الیکشن کمیشن میں رجسٹریشن منسوخ ہوئی، باربار توجہ دلانے کے باوجود فاروق ستار نے گوشوارے جمع نہیں کروائے۔ایم کیوایم کے رہنما کا کہنا تھا کہ ہم سب فاروق ستار سے محبت کرتے تھے اور کرتے ہیں، رابطہ کمیٹی کے اراکین پارٹی کا درد رکھنے والے لوگ ہیں لیکن ان کی تمام تر توجہ این جی او بنانے پر رہی ہے۔فاروق ستار سے اختلافات کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کامران ٹیسوری ہراہم اجلاس میں فاروق ستارکیساتھ شامل ہوتے تھے، سینیٹ کے ٹکٹ سے متعلق رابطہ کمیٹی میں ووٹنگ ہوئی اور کامران ٹیسوری ووٹنگ کے لحاظ سے چھٹے نمبر پر آئے۔ان کا کہنا تھا کہ جب کامران ٹیسوری پر تنقید ہوتی تو فاروق ستار برا مان جاتے تھے، انھوں نے دوست نوازی، پسند ناپسند پر فیصلے کیے۔کنورنوید نے کہا کہ کامران ٹیسوری کی رابطہ کمیٹی میں شمولیت پرتمام اراکین نے اعتراض کیا تھا۔

ڈپٹی کنوینر خالد مقبول صدیقی نے اس موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ بڑی مشکل سے کیا گیا ہے اور اگر اس وقت یہ فیصلہ نہ کیا ہوتا تو پھر اگلے انتخابات کے بعد ایوان ٹیسوریوں سے بھرا ہوتا۔ان کا کہنا تھا کہ کل ہماری ملاقات فاروق ستار ہوئی اور تقسیم کو روکنے کے لیے ہم نے اپنی شرائط بھی واپس لیں کیونکہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ سینٹ ٹکٹ کی خاطر پارٹی تقسیم ہو اور تاریخ یہ رقم کرتی کی یہ پارٹی سینیٹ ٹکٹ پر تقسیم ہوئی لیکن آج تاریخ بتائے گی کہ ایسا نہیں ہوا۔خالد مقبول صدیقی نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ساتھیوں نے صاف کہا ہے کہ ہم 2018 کے انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے، عامر خان نے کل ہی کنوینر نہ بننے کا اعلان کیا اور دیگر ساتھی بھی یہی موقف رکھتے ہیں۔

رابطہ کمیٹی کی جانب سے اعلان سامنے آنے کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار کی صدارت میں پی آئی بی میں ہنگامی اجلاس ہوا اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم حقیقی ٹو کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔سبکدوش کنوینر کا کہنا تھا کہ سازش بے نقاب ہوگئی ہے اور بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے۔انھوں نے کہا کہ بالآخر میرے نادان ساتھیوں نے یہ اپنے فیصلے سے یہ ثابت کردیا کہ یہ کسی ایک فرد کا معاملہ نہیں تھا بلکہ یہ ایم کیو ایم پر قبضے اور پارٹی کی سربراہی کا معاملہ تھا۔فاروق ستار نے ازرا مذاق کہا کہ میں یہ نہیں کہوں گا کہ مجھے کیوں نکالا کیونکہ آج صرف مجھے نہیں نکالا گیا بلکہ ایم کیو ایم کا ایک، ایک کارکن کو نکال دیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آج شہیدوں کے خون سے سودا کیا گیا۔انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر فاروق ستار ایم کیو ایم کے سربراہ مفاد پرست ٹولے، گروہوں کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ تھا، کراچی کے قبضوں اور کراچی کو بیچنے میں سب سے بڑی رکاوٹ تھا۔ردعمل میں انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے کارکنان، اسیروں اور گم شدہ کارکنوں اور میرے ساتھ برادران یوسف جیسا سلوک کیا ہے لیکن میں انھیں خبر دار کرتا ہوں کہ جب مکافات عمل ہوا تو جو برادران یوسف کے ساتھ ہوا تھا وہی انجام تمہارے ساتھ ہوگا۔

ایم کیوایم پاکستان میں شدیدترین اختلافا ت رابطہ کمیٹی و کنوینر میں راہیں جداہوجانے کے باعث جہاں ایک جانب جگ ہنسائی اورمخالفین کے الزام تراشیوں کاسلسلہ جاری ہے وہیں دوسری جانب ایم کیوایم پاکستان کے مخلص کارکن اورہمدردہیجانی کیفیت کاشکارہے ۔وہ کس جانب رجو ع کریں ۔ڈاکٹرفاروق ستارکی جانب سے انٹرپارٹی الیکشن کااعلان کسی حدتک کارکنوںکومطمئن کرنے کاباعث ضروربناہے لیکن دوسری جانب سے بھی تیاریاں جاری ہیں اور رابطہ اوراس کے منتخب کردہ نئے کنوینر ڈاکٹرخالد مقبول صدیقی کی جانب سے 18 فروری کوطاقت کے مظاہرے کااعلان کیا گیاہے جس سے واضح ہوتاہے ایم کیوایم کے مزید ہوجانے والے دھڑوں میں مصالحت کافی الحال کوئی امکان نہیں۔


متعلقہ خبریں


نیتن یاہو باہر، اسرائیلی صدر کی آئزن کوٹ کو حکومت بنانے کی دعوت وجود - اتوار 08 نومبر 2026

حکومت بنانے کی کوششیں ناکام ہوئیں تو کینیسٹ کو توڑ دیا جائے گا اور دوبارہ الیکشن کرائے جائیں گے، صدر اسرائیل کے صدر ہرزوگ نے نیتن یاہو کے حریف آئزن کوٹ کو حکومت بنانے کی دعوت دیدی۔ غزہ میں نسل کشی اور ایران جنگ چھیڑنے والے نیتن یاہو حکومت بنانے کی دوڑ سے باہر ہوگئے۔ اسرائیلی ا...

نیتن یاہو باہر، اسرائیلی صدر کی آئزن کوٹ کو حکومت بنانے کی دعوت

نیتن یاہو کا ایران پر دوبارہ حملوں کیلئے دباؤ، ٹرمپ کے مشیر منقسم وجود - هفته 07 نومبر 2026

قطری حکام نے نئی امریکی فوجی کارروائی روکنے کیلئے سفارتی کوششیں شروع کر دیں، رپورٹ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو ایران کے خلاف امریکا کی جانب سے دوبارہ حملے شروع کرنے پر مسلسل زور دے رہے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اس معاملے پر تقسیم ہو گئے ہیں کہ آیا جنگ ختم کی جائ...

نیتن یاہو کا ایران پر دوبارہ حملوں کیلئے دباؤ، ٹرمپ کے مشیر منقسم

شہزادہ ہیری کا بھائی شہزادہ ولیم سے صلح کیلئے بھابھی کیٹ مڈلٹن کی مدد لینے کا فیصلہ وجود - هفته 07 نومبر 2026

شاہی خاندان میں صلح کروانے کے حوالے سے شہرت رکھنے والی کیٹ مڈلٹن نے ہیری سے مطالبہ کردیا برطانوی شاہی خاندان کے منحرف رکن شہزادہ ہیری اپنے ناراض بھائی شہزادہ ولیم سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنی بھابھی کیٹ مڈلٹن سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہ...

شہزادہ ہیری کا بھائی شہزادہ ولیم سے صلح کیلئے بھابھی کیٹ مڈلٹن کی مدد لینے کا فیصلہ

صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا، ٹرمپ وجود - هفته 07 نومبر 2026

ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے نہ روکا ہوتا تو آج اسرائیل ،مشرق وسطی موجود نہ ہوتے، امریکی صدر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈ ٹرم الیکشن کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈی سپیس سینٹر میں ...

صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا، ٹرمپ

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلیاں،2کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا گیا وجود - هفته 07 نومبر 2026

عبداللہ فضل کی جگہ طیب عارف، علی عثمان کی جگہ عامر جمال کی شمولیت کا امکان پاکستان ٹیسٹ ٹیم مینجمنٹ وسلیکشن کمیٹی نے اسکواڈ سے 2 کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا۔ ذرائع کے مطابق عبداللہ فضل اورعلی عثمان کو اسکواڈ جوائن کرنے سے قبل ہی ریلیز کردیا گیا، عبداللہ فضل کی جگہ طیب عارف، علی عث...

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلیاں،2کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا گیا

عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپرنگ سکینڈل کو پھر زندہ کر دیا وجود - هفته 07 نومبر 2026

آسٹریلوی ٹیم کے تمام کھلاڑی بال ٹیمپرنگ منصوبے سے آگاہ تھے، صرف تین کرکٹرز کو سزا ہوگئی، سابق کرکٹر کا دعویٰ 8 برسوں میں بہت کچھ کہا بہت افواہیں سامنے آئیں، ہم اپنی انٹیگریٹی تحقیقات کے نتائج سے مطمئن ہیں،کرکٹ آسٹریلیا سابق آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپ...

عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپرنگ سکینڈل کو پھر زندہ کر دیا

ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس سینئرز کی بھی ذمے داری ہے، سعود شکیل وجود - هفته 07 نومبر 2026

ہوم سیریز نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بہترین موقع ہے، اپنی پرفارمنس میں بہتری سے مطمئن ہوں، میڈیا سے گفتگو پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے نائب کپتان سعود شکیل نے کہا ہے کہ ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس میں تسلسل نہیں سینئرز کی بھی ذمے داری ہے۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں سعود شکیل نے کہا کہ پاک...

ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس سینئرز کی بھی ذمے داری ہے، سعود شکیل

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر