وجود

... loading ...

وجود

استقبال کتب

اتوار 11 فروری 2018 استقبال کتب

کتاب:چوٹیں (افسانے)
افسانہ نگار:عصمت چغتائی
قیمت:۳۰۰؍روپے
ناشر:علم و ادب پبلشرز اینڈ بک سیلرز،کراچی
اُردو کی مشہور ومعروف افسانہ نگار عصمت چغتائی کے بہترین افسانوں کا انتخاب ’’چوٹیں‘‘ کے عنوان سے جناب نواز فتح بلوچ نے مرتب کیاہے جسے علم و ادب پبلشرزاینڈ بک سیلرز،کراچی نے شائع کیا ہے۔اس کتاب میں عصمت چغتائی کے سولہ (۱۶)بہترین افسانے ’’بھول بھلیاں‘‘، ’’ پنکچر‘‘ ، ’’ساس‘‘، ’’سفرمیں‘‘، ’’اس کے خواب‘‘، ’’جنازے‘‘، ’’لحاف‘‘، ’’بیمار‘‘، ’’میرا بچہ… کیوں رے کتے‘‘، ’’بچہ‘‘، ’’تل‘‘، ’’دوزخی‘‘، چھوٹی آپا‘‘،’’جھری میں سے‘‘، ’’ایک شوہر کی خاطر‘‘، اور ’’عورت اور مرد‘‘ شامل کیے گئے ہیں۔جن میں ان کانمائندہ افسانہ ’’لحاف‘‘بھی شامل ہے۔ کتاب کا پیش لفظ اُردوافسانے کا بڑا نام کرشن چندر کی تحریر کو بنایا گیا ہے۔علم ادب پبلشرزاینڈ بک سیلرزکراچی میں ایک نیا ادارہ ہے مگر ان کاابھی تک تمام کام معیاری سامنے آرہاہے۔وہ کلاسیک ادب کو شائع کر رہے ہیں اور اُردو ادب کے اسلاف شعرا اور ادبا کو چھاپنے کا منصوبہ بنا کر چل رہے ہیں ۔اگر اسی طرح یہ ادارہ کام کرتارہا تو ایک دن بڑا ادارہ ہوگا۔
٭
کتاب:دیپ کی لو پہ شبنم(ناول)
ناول نگار:محمد وسیم شاہد
قیمت:۴۰۰؍روپے
ناشر:علم و ادب پبلشرز اینڈ بک سیلرز،کراچی
’’دیپ کی لو پہ شبنم‘‘جناب محمد وسیم شاہد کا ناول ہے جو لیاری چاکیواڑہ کے ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جس نے’’ لندن‘‘ جیسے ترقی یافتہ اور ماڈرن ملک کے مقابلے میں کراچی کے پسماندہ علاقے ’’لیاری‘‘ کو ترجیح دی،اپنی زمین اور ملک کی مٹی سے محبت ہی حب الوطنی کا ثبوت ہے۔ کتاب میں ’’پیغام‘‘ کے عنوان سے اسپیکر بلوچستان اسمبلی محترمہ راحیلہ درانی صاحبہ کامضمون شامل کیا گیاہے اور بلوچستان کے نمائندہ ادیب جناب آغا گل کی مثبت رائے بھی شامل کتاب کی گئی ہے۔ لیاری کی کہانی کے عنوان سے جناب وحید زہیر کی عبارت بھی قابل مطالعہ ہے۔ محمد وسیم شاہد کا ناول اکیس ویں صدی کے ناولوں میں ایک خوب صورت اضافہ ہے جو مواد کے ساتھ ساتھ عمدہ کاغذ پر زیور طباعت سے آراستہ ہوا ہے۔ مجھے امید ہے ناول کے قارئین اس ناول کو پسند کریں گے اور مشاہیراُردو ادب محمد وسیم شاہد کودادوتحسین سے نوازیں گے۔ناول طباعت کے لحاظ سے بھی خوب صورت اور دیدہ زیب سرورق کے ساتھ شائع ہوا ہے۔
٭
کتاب:میری شاعری(انتخاب اوّل)
شاعر:پروفیسر جاذب قریشی
قیمت:۶۰۰؍روپے
ناشر:جہان حمد پبلی کیشنز،کراچی
میری شاعری کے انتخاب اول میں پروفیسر جاذب قریشی کی وہ غزلیں ،نظمیں، ہائیکوز، نثری نظمیں،ثلاثیاں،آشوبی نظمیں،ذاتی نظمیں ، قومی نظمیں،حمد،نعت،منقبت،سلام اور سوانح عمری شامل ہیں جو اُن کی کتابوں ’’پہچان‘‘، ’’تلاش‘‘،’’شاعری‘‘،’’تصویریں‘‘،’’ستارہ یا پر چھا ئیں‘‘، ’’ادھورہ پن پورا پن‘‘،’’گمشدہ آواز‘‘، ’’لہوکی پوشاک‘‘،’’ روشنیاں‘‘ اور’’ شناسائی‘‘ میں شامل ہیں۔ پروفیسر جاذب قریشی وہ شاعر ہیں جنھوں نے اُردو شاعری کو جدت سے آشنا کیا ہے۔ جدید شاعری ہی ان کی پہچان بنی۔ شروع میں تو ان کی جدت طرازی پر بے شمار اعتراضات ہوئے ان کا مذاق اُڑایا گیا مگر جب ان کی شاعری کے معانی و مفاہیم کی پرتیں کھلناشروع ہوئیں تو معترضین اور ناقدین ہی نے انھیں سب سے زیادہ داد دی۔ ’’میری شاعری‘‘ کے انتخاب اول میں ایسی جدید شاعری کے تمام نمونے شامل کیے گئے ہیں جن کا مطالعہ کیف و سرور دیتا ہے اور جدید شاعری کے رموز سے آشنا کرتا ہے۔
٭
کتاب:میری تنقید(انتخاب اول)
مصنف:پروفیسر جاذب قریشی
قیمت:1000
پبلشرز:جہانِ حمد پبلی کیشنز، کراچی
پروفیسر جاذب قریشی کی نئی کتاب ’’میری تنقید‘‘ انتخاب اول میں وہ شخصی مضامین اور کالم شامل کیے گئے ہیں جو اُن کی کتابوں’’ شاعری اور تہذیب‘‘،’’ امکان سے آگے‘‘،’’ آنکھ اور چراغ‘‘، ’’ سیارے‘‘،’’ شاعرات‘‘،’’ نثری اسالیب ‘‘اور’’ آئینہ خانے‘‘ میں شامل ہیں۔ پروفیسر جاذب قریشی ایک جید نقاد ہیں جن کی تحریر کا اعتبار قائم ہے۔ ان کی تنقید کے حوالے سے یہ بات مشہور ہے کہ وہ جس شاعر و ادیب کے بارے میں جیسا لکھتے ہیں وہ ویسا ہی ہوتا ہے، نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ۔ ان کے مضامین مرزا اسد اللہ خاں غالب سے لے کر طاہر سلطانی تک کوئی بھی مطالعہ کیجیے سب میں ندرت اور جدت طرازی کی موجیں ملیں گی۔ ان کی تحریروں اور شاعری کے فن پاروں کو دنیا بھر کے شاعروں/ ادیبوں اور دانش وروں نے پسندیدگی کی نظر سے دیکھا ہے۔ ’’میری تنقید‘‘ اردو ادب کا سرمایہ ہے ۔ابھی تو یہ انتخاب اول ہے اس کے بعد ان کے تنقیدی مضامین کاانتخاب دوم شائع ہوگا۔
٭
ماہنامہ:ارمغان حمد(شمارہ…۱۲۵)
مدیراعلیٰ:طاہرسلطانی
مدیر:حافظ محمد نعمان طاہر
ناشر: جہانِ حمد پبلی کیشنز،کراچی
ماہنامہ ’’ارمغان حمد‘‘ کراچی کا شمارہ نمبر ۱۲۵؍ اِس حوالے سے خصوصی شمارہ ہے کہ اِس میں بزم جہان حمد کے زیراہتمام ہونے والے اٹھائیس ماہانہ حمدیہ طرحی مشاعروں کا احوال ۷۷۶ صفحات پریک جاشایع کیا گیاہے۔ بزم جہان حمد کے ماہانہ طرحی حمدیہ مشاعروں میں پڑھا گیا چارسو سے زائد طرحی حمدیہ کلام،ماہانہ مشاعروں کی روداد کے ساتھ ڈاکٹر معین الدین عقیل اور ڈاکٹر سہیل شفیق کے مضامین نیز ان مشاعروں کے تاریخی جائزے پر مشتمل جناب طاہر سلطانی کا مضمون اور تصویری خبر نامہ شامل اشاعت ہے۔ مدیراعلیٰ جناب طاہر سلطانی قابل مبارک باد ہیں کہ وہ فروغ حمد اور حمد کی ترویج و اشاعت میں برس ہا برس سے منہمک ومصروف ہیں اور اسی میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔بزم جہان حمد اس سے قبل بھی حمدونعت کے بہت اچھے مجموعہ ہائے کلام اور حمدیہ و نعتیہ انتخاب شائع کر چکے ہیں۔اس میدان میں حمد و نعت ان کی تخصیص ہے۔اب جناب طاہر سلطانی کے بیٹے حافظ محمد نعمان طاہر نے ارمغان حمد کی ادارت سنبھال لی ہے اور وہ بڑی توجہ اور دل جمعی سے حمدونعت کا یہ کار خیر انجام دے رہے ہیں۔
٭
ماہنامہ:خوفناک کہانیاں،کراچی
شمارہ:فروری ۲۰۱۸ء
منیجنگ ایڈیٹر:خالد علی
قیمت:۷۰؍روپے
ناشر:شمع بک ایجنسی،کراچی
ماہنامہ’’ خوفناک کہانیاں‘‘ کراچی سے شائع ہونے والا ایک منفرد ڈائجسٹ ہے جس میں خوفناک کہانیوں کے علاوہ معاشرتی،سماجی اور تعلیمی کہانیاں بھی شائع ہوتی ہیں،اس ڈائجسٹ میں بڑے رائٹرز جیسے ایم الیاس،ایم اے راحت،اے آرخاتون،روشن آرا،اورسیما کاجل کے ساتھ ساتھ نئے لکھنے والوں کو بھی موقع دیاجاتاہے،زیرنظر دوسراشمارہ ہے جس نے پاکستان بھر میں دھوم مچادی ہے،اس ڈائجسٹ میں خواتین کہانی کاروں کی بھی اچھی خاصی تعداد لکھ رہی ہیں جن میں حمیراغلام حسین کیریو،زرینہ قادری،شکیلہ اعظم،دعا بخاری، ثوبیہ تبسم،اے آر خاتون،شگفتہ ارم درانی،روشن آرا،سیما کاجل،نادیہ مجید،مدھوبالا،امبر حسین،ملکہ گلونہ،صبا ملک،آصفہ پروین، نورین عابداورمہرین فاطمہ کے نام شامل ہیں۔اس میں قسط وار ناولوں کے سلسلے بھی شائع ہورہے ہیں جو ڈائجسٹ کی جان ہیں اور جن کا انتظار قارئین ہر ماہ بے چینی سے کرتے ہیں۔خوفناک کہانیاں پراسرار دہشت سے بھر پور کہانیوں کا ایک اچھا انتخاب ہے۔آپ بھی پڑھ کر لطف اُٹھا سکتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر