وجود

... loading ...

وجود

کامران ٹیسوری پر اختلافات برقرار، متحدہ قومی موومنٹ پر ڈاکٹر فاروق ستار کا خود کش حملہ

جمعه 09 فروری 2018 کامران ٹیسوری پر اختلافات برقرار، متحدہ قومی موومنٹ پر ڈاکٹر فاروق ستار کا خود کش حملہ

آئندہ ماہ ہونے والے ایوان بالا کے انتخابات کے لیے سونے کے تاجر کامران ٹیسوری کی نامزدگی سے پیدا ہونے والا بحران وقت گزرنے کے ساتھ شدید تر ہوتا جارہا ہے۔ بظاہر دونوں دھڑوں کے سرکردہ اراکین ’’ہم ایک ہیں‘‘ کا راگ الاپ رہے ہیں اور دعوے کیے جارہے ہیں کہ مسائل گفت وشنید سے طے کرلیے جائیں گے تاہم عملی طورپر یہ خلیج بڑھتی ہی جارہی ہے۔ انتہائی اندرونی اور باوثوق ذرائع کے مطابق یہ جھگڑا بظاہر طے پاگیا تو بھی ایم کیو ایم کے کسی امیدوار کے بھی ایوان بالا کے لیے کامیاب ہونے کے امکانات اب نہایت معدوم ہو چکے ہیں۔ ’’جرأت‘‘ کو دونوں گروپس کے اندرونی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ کامران ٹیسوری کی نامزدگی پر پیدا ہونے والے جھگڑے کے پس منظر میں جو اصل محرکات ہیں ان کا تعلق مالی معاملات سے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران جب سے کامران ٹیسوری ایم کیو ایم میں شامل ہوئے ہیں تب سے وہ اور ڈاکٹر فاروق ستار پارٹی کو ملنے والے فنڈز کے حوالے سے مشکوک رویہ اپنائے ہوئے ہیں ، جس پر پارٹی کے اندر سینیٹ انتخابات سے قبل ہی کافی تشویش پائی جاتی تھی۔ ذرائع نے بتایا کہ 22 اگست کو ہونے والی پاکستان مخالف تقریر کے بعد جب ڈاکٹر فاروق ستار کو ٹیم کی کپتانی کا موقع ملا تو جلد ہی انہیں اوپننگ بیٹسمین بھی کامران ٹیسوری کی شکل میں میسر آگیا جس کے ساتھ انہوں نے جوڑی بنالی، یہ جوڑی تب سے ملکر کھیلتی چلی آرہی ہے اور انہوں نے اس کھیل میں کافی ’’رنز‘‘ مل کر جوڑے ہیں۔ 22؍ اگست کے بعد بہت سے مخیر کاروباری حضرات نے کھل کر مالی امداد دینے سے معذرت کرلی تھی، تاہم یہ مالی بحران جلد اس وقت حل ہوگیا جب ڈاکٹر فاروق ستار کو کامران ٹیسوری کی شکل میں ’’خفیہ تدابیر‘‘ کا راستہ مل گیا، ایسے تمام ’’رابطوں ‘‘ کو کامران ٹیسوری سے متعارف کرادیا گیا جن سے وہ رقوم مختلف کھاتوں میں وصول کرتے رہے۔ ان وصولیابیوں کے راز دار صرف ڈاکٹر فاروق ستار تھے اور پارٹی کے دیگر رہنمائوں کو اس حوالے سے کوئی معلومات فراہم نہیں کی جارہی تھیں لیکن عامر خان اور دیگر چند کو اس حوالے سے معلومات اڑتے اڑاتے مل ہی گئیں ۔پارٹی رہنمائوں کے استفسار پر ڈاکٹر فاروق ستار نے ٹال مٹول سے کام لیا لیکن یہ بات مصدقہ ہے کہ بہت سارے لوگوں نے بیئرر چیکس سے مالی امداد کی ہیں جو کامران ٹیسوری اور فاروق ستار کے علاوہ کسی کے علم میں نہیں ہیں۔ انتہائی ذمہ دار ذرائع نے دعویٰ کیا کہ بظاہرایم کیو ایم کے ’’فنانسر‘‘ سمجھے جانے والے کامران ٹیسوری اپنی جیب سے دھیلا خرچ کرنے والے بھی نہیں ہیں، فنکشنل لیگ میں رہتے ہوئے بھی ان پر سنگین مالی بدعنوانیوں کے الزامات لگ چکے ہیں۔ ان کے خلاف پیر پگارا کو شکایت کی گئی تھی کہ انہوں نے پیر صاحب کے نام پر اندرون سندھ کی ایک کاروباری شخصیت سے ویگو ہائی ایکس گاڑی اینٹھ لی تھی۔ ان کے خلاف دبئی میں بھی مالی خوردبرد کی شکایات ریکارڈ پر موجود ہیں۔ ایم کیو ایم کے ذرائع کے مطابق ڈاکٹر فاروق ستار کے کامران ٹیسوری کے ساتھ نازک مالی مفادات کے سبب وہ نہ تو اُنہیں کشتی سے اُتارسکتے ہیں نہ ہی خود اُترسکتے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ ایم کیو ایم پر خودکش حملہ کرنے کی کوشش سے بھی باز نہ آئے۔ جمعرات کے روز صورتحال اس وقت دلچسپ ہوگئی جب کامران ٹیسوری کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ بیرسٹر ڈاکٹر فروغ نسیم ایوانِ بالا کی رکنیت کے لیے دلچسپی نہیں رکھتے۔ ڈاکٹر فروغ نسیم کو یہ دعویٰ ناگوار گزرا اور انہوں نے عامر خان گروپ کے عہدیداروں کو پارٹی کے نئے آئین کی متعلقہ دفعات کی تشریح اوردرست اطلاق سے آگاہ کیا جس کے بعد رابطہ کمیٹی کے اراکین میں توانائی کی لہر دوڑگئی۔ اس سے قبل وہ یہ رائے قائم کرچکے تھے کہ اگر ڈاکٹر فاروق ستار نہ مانے تو وہ اپنے امیدواروں کو آزاد امیدوار ظاہر کریں گے لیکن بیرسٹر فروغ نسیم کی ’’تھپکی‘‘ کے بعد انہیں علم ہوا کہ وہ دو تہائی اکثریت سے کنوینر کو بھی تبدیل کرسکتے ہیں ۔واضح رہے کہ پارٹی کا نیا آئین ڈاکٹر فروغ نسیم نے ہی تیار کیا ہے جو الیکشن کمیشن میں جمع کرایا جاچکا ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار تک جب یہ بات پہنچی تو وہ زچ ہوگئے اور رابطہ کمیٹی کے 10 اراکین کی سرکاری ملازمتوں کا بھانڈا پھوڑ دیا جو ایک طرح سے ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ کا خود ہی اپنی جماعت پر خودکش حملہ تھا ۔ اب اس صورتحال میں اندرونی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بظاہر اگر دونوں گروپس میں کوئی مفاہمت ہو بھی گئی تو بھی ایم کیو ایم کے اراکین صوبائی اسمبلی کی بڑی تعداداب اوپن مارکیٹ میں اپنا ووٹ ،چیک کی طرح بھنائے جانے پر غور کررہی ہے۔ جہاں اس کے سب پر بھاری خریدار نقدی کے ساتھ موجود ہیں۔ ایم کیو ایم کے اندرونی ذرائع کے مطابق یہ بات زیر گردش ہے کہ ایم کیو ایم کے سینیٹر میاں عتیق نے نااہل میاں محمد نواز شریف کو پارٹی صدر بنائے جانے کے بل کی حمایت میں ووٹ ایسے ہی نہیں ڈالا تھا، اس کے پیچھے وہ ’’چمک‘‘ کارفرما تھی جو حکمراں جماعت نے ڈاکٹر فاروق ستار کو دکھائی تھی۔ اس چمک سے اندرون خانہ مستفید ہونے والے تین لوگ تھے۔ جن میں ایک خود ووٹ دہندہ کا اور دو حصے اس جوڑے کے تھے۔ اراکینِ اسمبلی کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر فاروق ستار نے محض دکھاوے کے لیے میاں عتیق کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا تھا۔ ایسی اطلاعات کی روشنی میں اراکینِ اسمبلی کی رائے ہے کہ وہ کیوں نہ بہتی گنگا میں ہاتھ دھولیں اور پھر ہوسکتا ہے کہ یہ ان کا آخری موقع ہو، شاید اس کے بعد وہ منتخب ہو ہی نہ پائیں۔


متعلقہ خبریں


امریکا ، ایران میں2ہفتے کی جنگ بندی،مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

شہباز شریف اور فیلڈ مارشل نے ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبلدونوں ممالک کو رضا مند کر لیا،ٹرمپ کا ایران پر حملے مؤخر کرنے کا اعلان، دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادگی امریکا اور ایران نے دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے اسلام آباد میں مذاکرات پر رضامند ہو گئے۔ واضح رہے کہ امریکا...

امریکا ، ایران میں2ہفتے کی جنگ بندی،مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے

اپوزیشن اتحاد کا 25 اپریل کو ملک گیر جلسوں کا اعلان وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

محمود اچکزئی کی زیر صدارت اجلاس،ملکی سیاسی صورتحال، مشرقِ وسطیٰ کشیدگی اور بلوچستان پر تفصیلی غور ، ایران اور امریکا جنگ بندی کا خیر مقدم ،لبنان، شام اور غزہ مسائل کا حل ناگزیر قرار بلوچستان میں آپریشن بند کرنے، بلوچ رہنماؤں کی رہائی، عمران خان سے ملاقاتوں کی بحالی،مقدمات پر س...

اپوزیشن اتحاد کا 25 اپریل کو ملک گیر جلسوں کا اعلان

فیلڈ مارشل جنگ بندی کیلئے کئی راتیں جاگے، وزیراعظم وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

ایرانی و امریکی قیادت سے رابطے میں رہے، اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم نے انتھک محنت کی ہم نے اور دوست ممالک نے امن معاہدے کیلئے کوششیں کیں،کابینہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس ہوا جس میں ایران امریکا مذاکرات میں اہم کردار پر فیلڈ مارشل کے ...

فیلڈ مارشل جنگ بندی کیلئے کئی راتیں جاگے، وزیراعظم

امریکا کو جنگ میں سفارتی، فوجی شکست ہوگئی(حافظ نعیم) وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

جنگ بندی پر اسلام آباد کے کردار کو سراہتے ہیں، پاکستان کسی طرف جھکاؤ کے بغیر ثالثی کرے ایران کا ایٹمی و میزائل پروگرام تباہ کرنے کے بلند و بانگ دعوے دھرے رہ گئے،ویڈیو پیغام امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے امریکہ-اسرائیل اور ایران جنگ بندی معاہدہ پر ایرانی قیاد...

امریکا کو جنگ میں سفارتی، فوجی شکست ہوگئی(حافظ نعیم)

اسرائیل نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا، لبنان پر فضائی حملے جاری وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

مکابرہ میں اسرائیلی فضائی حملہ جبکہ خیام میں شدید گولہ باری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں، فضائی حملہ اسپتال کے قریب ہوا امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے جاری رہنے کی اطلاعات ...

اسرائیل نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا، لبنان پر فضائی حملے جاری

آج ایرانی تہذیب ختم ہوجائے گی،ڈیڈ لائن ختم ہونے پر امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی وجود - بدھ 08 اپریل 2026

ایران میں دوبارہ کبھی واپس نہیں آئے گی ،میں نہیں چاہتا کہ ایسا ہو لیکن غالباً ایسا ہو جائے گا ،آج بلیک میلنگ، کرپشن اور خونریزی کے 47 سالہ دور کا خاتمہ ہوجائے گا ٹرمپ کی دھمکی کا بیان پاگل پن اور نسل کشی کا انتباہ قرار(عرب میڈیا ) ہم نے ایران میں رجیم چینج کردی، موجودہ قیادت م...

آج ایرانی تہذیب ختم ہوجائے گی،ڈیڈ لائن ختم ہونے پر امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی

ایران کے سعودیہ پر غیر ضروریحملے کشیدگی کو بڑھا رہے ہیں،کور کمانڈر کانفرنس وجود - بدھ 08 اپریل 2026

سعودی عرب میں پیٹروکیمیکل اور صنعتی کمپلیکس حملوں پر اظہار تشویش،حملے غیر ضروری،کشیدگی میں اضافہ قرار، مشرق وسطی تنازع حل کرنے کی مخلصانہ کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، فیلڈ مارشل آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسزکاپاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو یقینی بنانے کی صلاحیت پ...

ایران کے سعودیہ پر غیر ضروریحملے کشیدگی کو بڑھا رہے ہیں،کور کمانڈر کانفرنس

عمران خان کی رہائی کیلئے انصاف ، کوئی رعایت نہیں مانگتے،سہیل آفریدی وجود - بدھ 08 اپریل 2026

مقدمات میں تاخیر اور عدالتی عمل میں رکاوٹیں نفرتوں کو بڑھا رہی ہیں، جس کا نقصان ملک کو ہوگا بانی پی ٹی آئی کی پر امن رہائی تحریک کیلئے عملی ممبرشپ شروع ہو چکی ہے ،وزیراعلیٰ کی صحافی سے گفتگو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سُہیل افریدی نے کہا ہے کہ عمران خان کے کیسز میں تاخیر ...

عمران خان کی رہائی کیلئے انصاف ، کوئی رعایت نہیں مانگتے،سہیل آفریدی

ملک بھر میں بازار رات8بجے بند کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 07 اپریل 2026

سندھ حکومت مشاورت کے بعد جواب دے گی، توانائی بچت کیلئے شادی ہالز، ریسٹورنٹس، بیکریاں رات 10 بجے کے بعد کھولنے کی اجازت نہیں ہوگی، اطلاق آج سے ہوگا میڈیکل اسٹورزکے اوقات کار ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہوں گے،وزیراعظم کی زیر صدارت توانائی بچت اور کفایت شعاری اقدامات کے نفاذ کے حوالے ...

ملک بھر میں بازار رات8بجے بند کرنے کا فیصلہ

ٹرمپ کی ڈیڈ لائن ختم،امریکا ایران جنگ خطرناک مرحلے میں داخل وجود - منگل 07 اپریل 2026

آج کی ڈیڈ لائن حتمی ، ہماری فوج دنیا کی عظیم فوج ، ضرورت پڑی تو ایران کے تیل پر قبضہ کریں گے، ویسے ان کے پاس کچھ میزائل اور ڈرون باقی رہ گئے ہیں،ٹرمپ کاتقریب سے خطاب ایران نے امریکی تجاویز پر جنگ بندی کو مستردکردیا ، جنگ کا مستقل اور مکمل خاتمہ ضروری ہے ، ایران نے اپنا ردعمل پا...

ٹرمپ کی ڈیڈ لائن ختم،امریکا ایران جنگ خطرناک مرحلے میں داخل

پیٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 07 اپریل 2026

ملک بھر میںحکومت کی تیاری مکمل، موبائل ایپ کے ذریعے فیول خریداری کی مانیٹرنگ شہریوں کیلئے کوٹہ مقرر ، کسی شخص کو مقررہ حد سے زیادہ پیٹرول خریدنے کی اجازت نہیں ہوگی حکومت نے ملک بھر کے پٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول مینجمنٹ سسٹم نافذ کرنے اور شہریوں کیلئے پٹرول کا کوٹہ مقرر کرنے کا...

پیٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ

ایران کا امریکی انتباہ ماننے سے انکار؛ جنگ بندی کی تجاویز مسترد وجود - منگل 07 اپریل 2026

ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو جنگ بندی کیلئے اپنے مطالبات پہنچا دیے ہیں، ایران ایران کے واضح موقف کو کسی صورت پسپائی یا پیچھے ہٹنے کی علامت نہ سمجھا جائے،ترجمان ایران اور امریکہ کے درمیان جاری براہِ راست جنگ کے دوران پیر، کو تہران نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن...

ایران کا امریکی انتباہ ماننے سے انکار؛ جنگ بندی کی تجاویز مسترد

مضامین
کینیڈا میں جرائم، بھارتی ملوث وجود جمعرات 09 اپریل 2026
کینیڈا میں جرائم، بھارتی ملوث

ہم جسمانی نہیں روحانی طور پر قیدی ہیں! وجود جمعرات 09 اپریل 2026
ہم جسمانی نہیں روحانی طور پر قیدی ہیں!

بھارتیوں کی امریکہ میں غیر قانونی آمد وجود بدھ 08 اپریل 2026
بھارتیوں کی امریکہ میں غیر قانونی آمد

پاکستان میں مہنگائی کا طوفان وجود بدھ 08 اپریل 2026
پاکستان میں مہنگائی کا طوفان

امریکہ اور اسرائیل کی ہیکڑی نکل گئی! وجود منگل 07 اپریل 2026
امریکہ اور اسرائیل کی ہیکڑی نکل گئی!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر