... loading ...
انگریز سامراج اور متعصب ومتعفن ہندوگٹھ جوڑ اور برصغیر کی غلط وناہموار تقسیم کے نتیجے میں جہاں برصغیر کے طول عرض میں آگ اور خون کا کھیل شروع ‘وہاں وادی کشمیر میں بھی قتل وغارت گری کا نیا بازار گرم ہوا جس نے پاکستان کے عوام ‘آزاد قبائل اور مالمانوں کی ملحقہ ریاستوں کو بھی آتش زیر پاکر دیا۔جذبہ جہاد سے سرشار اور اللہ کے دشمنوں کے خلاف ہزاروں حریت پسندکشمیرکے مظلوم عوام اور نہتے مسلمانوں کی مدد کو پہنچنے لگے اس طرح جموں وکشمیر کی وادی اور بلند وبالا پہاڑوں میں ایک ہمہ گیر جنگ کا آغاز ہوا جس نے اس پوری جنت اراضی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔یوں تو مقبوضہ کشمیر میں جنگ کا آغاز 1947کی غیر منصفانہ تقسیم کے بعد ہی سے شروع ہوچکا تھا لیکن اس کا باقاعدہ آغاز دسمبر 1963میں اس وقت ہوا جب حضرت بل کی خانقانہ سے موئے مبارک چوری کیے گئے ۔اس قبیح واقعہ نے مسلمانوں اور بالخصوص کشمیریوں کے اندر ہندوئو ں کے خلاف ایک شدید نفرت کو جنم دیا اور پھر پورا کشمیر ہنگاموں اور ایک نہ تھمنے والے طوفان کی لپیٹ میں آگیا ۔
اگست 1965میں مجاہدین آزادی نے انقلابی کونسل قائم کی اور متعدد مقامات پر مقبوضہ کشمیر کی فوجوں کا تقریباً ایک ماہ تک ناطقہ بند کیے رکھا ۔یہ سلسلہ بڑھتے بڑھتے باقائدہ جنگ کی صورت اختیار کر گیا اس طرح 31اگست 1965کو ٹیٹوال سیکٹر میں پیر سوہا پر وہ قبضہ کرنے کے لیے مقبوضہ کشمیر کی فوج کو شکست فاش سے دوچار ہونا پڑا ۔ 31اگست کو درہ حاجی پیر میں بھارت اور آزاد کشمیر کی فوجوں میں گھمسان کا رن پڑا اس کا جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہوتا چلا گیا ۔یکم ستمبر تا چھ ستمبر دونوں ملکوں کے درمیان شدید جنگ ہوئی اور پاکستانی فوجیں بھارت کے علاقے اکھنور تک پہنچ گئیں ۔بھارت حسب روایت رام رام کی مالا جپتے اقوام متحدہ میں چیخا چلایا اور اس طرح جنگ بندی کا اعلان کردیا گیا۔اس جنگ بندی کے بعد مقبوضہ کشمیر کے اندر باقاعدہ گوریلا وار کی ابتداہوئی اس لیے کہ جنگ کے بعد نہ صرف کشمیری نوجوانوں کے حوصلے ہمالیہ کی چوٹیوں تک بلند ہوئے بلکہ وہ اس عسکری قوت کے مالک بن گئے جس کی ضرورت ہر آزادی کی خواہاں قوم کو ہوتی ہے چنانچہ مقبوضہ کشمیر کے اندر باقاعدہ گوریلا جنگ کا آغاز ہوا یہ گوریلے اور گوریلا جنگ آخر ہے کیا ؟چونکہ اکثریت اس کی اہمیت سے آگاہ نہیں لہذا اس کا کچھ حصہ اپنے قارئین کی نذر کرتے ہیں تاکہ وہ اس گوریلا وار کی اہمیت وفوقیت کو جان سکیں ۔گوریلا جنگ جسے چھاپہ مار جنگ بھی کہا جاتا ہے کسی باقاعدہ فوج کے مقابلے میں کم جنگی وسائل اور کم افرادی قوت ہونے کے باعث حریت پسندانہ جذبہ کے تحت لڑی جاتی ہے ۔
حریت پسند دشمن کے آمنے سامنے لڑنے کی بجائے اچانک شب خون مارتے ہوئے دشمن کی فوج،فوجی تنصیبات اور دیگر اہم مقامات پر حملہ آور ہوتے ہیں اور سارے کا سارا نظام درہم برہم کرکے رکھ دیتے ہیں دشمن کے ہر اس پلان کو ناکام ونامراد کردینے میں کامیاب رہتے ہیں جس کی تیاری دشمن نے کر رکھی ہوتی ہے اس طرح یہ گوریلے یا حریت پسند اپنی افرادی قوت کو محفوظ رکھتے ہوئے ایک طویل عر صہ تک جنگ جاری رکھنے میں کامیاب رہتے ہیں مقبوضہ کشمیر کے اندر اس جنگ یا اس گوریلاوار کی ضرورت آخرکیوں پیش آئی یا تحریک آزادی کشمیر اس گوریلا وار سے آخر کیوں مشروط ہوئی ؟اس کا نہایت سادہ اور آسان جواب یہ ہے کہ چونکہ مقبوضہ کشمیر کے اندر بھارتی فوج کے مقابلے میں کوئی باقاعدہ فوج نہیں لہذا اس فوجی قوت کے ساتھ لڑنے اور اپنے وطن کو آزاد کرانے کے لیے کشمیری نوجوانوں نے اپنے ازلی وابدی دشمن کی باقاعدہ فوج کے خلاف لڑنے کے لیے گوریلا جنگ کا اختیار کیا اس لیے کہ وادی کشمیر گوریلاوار کے لیے فوری ترین خطہ ہے ۔ماضی میں ہمیں اس کی کئی مثالیں ملتی ہیں ۔ماضی قریب میں ویت نام کی گوریلا جنگ اور مائوزے تنگ کی چھاپہ مار جنگ علاوہ ازیں سکھوں کی خالصتان تحریک کو بھی کسی نہ کسی طور پر گوریلاوار کہا جاسکتا ہے گوریلا وار کے عظیم رہنما مائوزے تنگ عوامی حمایت سے متعلق لکھتے ہیں کہ ’’گوریلا طرز جنگ میں ضروری ہے کہ عوام کو پہلے ذہنی طور پر تیار کیا جائے اس لیے کہ جب تک اندرونی طور پر رائے عامہ درست نہ ہوگی ،کامیابی مشکل ہے ۔
مائوزے تنگ نے رائے عامہ کو سمندر سے تشبہیہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ وہ سمندر ہے جس میں گوریلے بے رحم لہروں سے کھیلتے ہیں ‘‘اسی طرح گوریلا جنگ کے ماہراور ہیروجنرل گریواز (Gen.Grivas) نے قرص کی آزادی کے لیے انگریز وں کے خلاف گوریلا جنگ لڑی حالانکہ خطے کے اطراف میں سمندر ہی سمندر تھا اور کسی طرف سے بیرونی امداد کی توقع نہ تھی لہذا انہوں نے چھاپہ مار کاروائیوں کے لیے خود ساختہ ہتھیار تیار کیے اور دشمن کے خلاف بھرپور چھاپہ مار کاروائیاں کیں ۔ویت نام میں امریکی فوج کی بدترین شکست کا سبب یہی گوریلا کاروائیاں تھیں اور امریکا جدید ترین اسلحہ اور ہتھیار رکھنے کے باوجود ویت نام میں بری طرح شکست وریخت سے دوچار ہوا جس کا اعتراف امریکی کرنل ویوڈ ڈینس ان الفاظ میں کرتا ہے کہ ’’ان جنگوں اور کھائیوں میں میں امریکی فوجی اگرچہ اپنے جنگی سازوسامان کے اعتبار سے ویت نامی گوریلوں سے کہیں زیادہ تھے مگرانکی چھاپہ مار کاروائیوں نے ہمارے تمام حربے ناکام بنادیئے بلکہ وہ بھاری امریکی اسلحہ جو ہم نے ویت نامیوں کے خلاف استعمال کرنے کے لیے اکھٹا کیا وہ اسلحہ ہمارے ہی خلاف استعمال ہوا ۔ایسی خوفناک اور غیرفطری جنگ تھی جس کا ہمیں کبھی سامنا نہ ہوا تھا ۔ویت نامیوں نے ایسے ایسے طریقے اور حربے استعمال کیے جو ہمارے تصور میں بھی نہ تھے یہی وجہ تھی کہ ہماری امریکی فوج شدید خوف ووحشت میں مبتلا ہوگئی جس کے باعث جس کا جدھر منہ آیا ادھر بھاگ نکلا ،جنگ کے اختتام یا امریکی شکست کی حالت یہ تھی کہ امریکی فوجی ہیلی کا پٹروں کے ساتھ لٹک لٹک کر راہ فرار اختیار کر رہے تھے ‘‘۔
گوریلا جنگ کا اندازہ اور اس کی اہمیت اسی ایک بات یا واقعہ سے ہوجاتی ہے جس کا اقرار امریکی کرنک ڈیوڈڈینس نے کیا لہذا گوریلا جنگ کی اہمیت خطہ کشمیر میں لڑنے والی چھاپہ مار جنگ اس کی اہمیت اور فوقیت کو واضح کر دیتی ہے کہ بے سروسامانی کے عالم اور حالت میں کشمیری گوریلوں نے ہر طرح کے جدید اسلحہ سے لیس بھارتی فوجوں کو نہ صرف بے دست وپا کرکے رکھ دیا ہے بلکہ وہ خوف ودہشت کے باعث ذہنی مریض بنتے جارہے ہیں ۔خود بھارتی فوجیوں کے بیانات ہیں کہ ہم کشمیر ی حریت پسندوں کی ان خفیہ اور چھاپہ مار کاروائیوں کے آگے بے بس ہیں نہ ہمارے پاس کھانے پینے کی اشیا ہیں اور نہ ہی ہمارا کوئی ایسا ٹھکانہ ہے جو ان کشمیری تجربہ کار گوریلوں سے محفوظ ہے۔بھارتی فوجی نے ایک وڈیو جاری کی جس میں اس نے کہا کہ ’’ہم بغیر کچھ کھائے پیئے بے یارومددگاربیٹھے ہیں ،کوئی ہمیں پوچھنے والا نہیں اور ہمیں دشمن کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ہمارے فوجی جوانوں کی ذہنی حالت یہ ہوچکی ہے کہ وہ اپنے ہی افسروں کو گولیوں سے بھون ڈالتے ہیں‘‘۔
مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے حوالے سے مجاہد اسلام حافظ محمد سعید جیسے مجاہد و مجتہد آئے روز پیدا نہیں ہوتے جنھوں نے اپنا تن من دھن اسلام اور وطن عزیز پر قربان کردیا آج کے اس دور میں برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں اور مجاہدین اسلام کے لیے حافظ محمد سعید بلاشبہ کسی نعمت عظمیٰ سے کم نہیں ۔کچھ عرصہ قبل گوجرانوالہ میں حافظ محمد سعید کے اعزاز میں ان مجاہدیں اسلام نے ایک پر شکوہ تقریب کا انقعاد کیا جسے دیکھ کر میں سات آٹھ سال پیچھے چلا گیا ۔مجھے یوں محسوس ہوا گویا میں سلطان صلاح الدین ایوبیؒکے دور میں ہوں ،سلطان محمود غزنوی ؒ کا غلام ہوں ،سلطان جلال الدین شاہ خوارزم کا ہمرقاب ہوں ،سلطان محمد فاتح کی فوج کا ایک ادنیٰ سپاہی ہوں ،سلطان نور الدین زنگی کا کوئی شہہ سوار ہوں،سلطان ظہیر الدین بابر کے جتھے کا تیغ زن ہوں۔وہی ڈسپلن ،وہی جذبہ وہی جوش وخروش اور گھوڑوں کی وہی چال اور ٹاپ ،جن غازی گھوڑوں کے سموں کی قسم اللہ نے قرآن میں کھائی ۔گھوڑوںکے سموں کی آوازتو گوجرانوالہ میں گونج رہی تھی مگر ہندو لاموں کے دل ہندئوستان میں دہل رہے تھے ۔ کوئی بھارتی چینل ایسا نہ تھا جو حافظ سعید کو دہشت گرد قرار دینے میں پیش پیش نہ تھا حافظ محمد سعید ہی نہیں یہ مسلمان ان ہندئووں اور یہودیوں نصرانیوں کی نگاہ میں دہشت گرد ہے مگر اللہ کی نگاہ میں اللہ کا سپاہی اور مجاہد ۔اسلامی دنیا کی تاریخ میرے سامنے ہے۔سلاطین اسلام کا روشن ستارہ ،جاندار اور مجاہد انہ کردار آج بھی یہود وہنود کے اذہان پر خوف وہشت بن کر چھایا ہوا ہے ،رہی سہی کسر مجاہد اسلام حافظ محمد سعید نے پوری کردی ہے ۔حافظ سعید کی سر کی کروڑوں روپے قیمت رکھ دینے کا مطلب نہایت واضح اور صاف ہے کہ انہیں اپنے سومنات کے مندر گرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں حافظ سعید اور ان کے گوریلوں کے لیے چند اشعار حاضر ہیں۔
مجاہد قوت باطل کا اندیشہ نہیں رکھتا
تلاطم کی خبر ساحل کا اندیشہ نہیں رکھتا
ضرورت راہ کی منزل کا اندیشہ نہیں رکھتا
بنام بے سروسامانی شبیرؓ چلنا ہے!
سنو اے جانثاروں !ہمیں کشمیر چلنا ہے
پیپلز پارٹی کے ماننے کی صورت میں چیئرمین پی پی بلاول بھٹو کو اہم وزارت کا قلمدان ملنے کا امکان ،وفاقی کابینہ میں ردوبدل متوقع ، نئے چہرے سامنے لائے جائیں گے‘ذرائع وزیراعظم کی تمام وزراء سے کارکردگی رپورٹ طلب ، وزراء کے قلمدان تبدیل کرنے کا عمل شروع ہوگا،کامرس، پاور، ہاؤسنگ، موا...
امریکا اور ایران نے وقت سے پہلے ہی جنگ بندی معاہدے پر دستخط کر دیے سوئٹزرلینڈ میں متوقع ملاقات کے حوالے سے حتمی فیصلہ جلد سامنے آئے گا معروف امریکی جریدے ایگزیوس کے مطابق امریکا اور ایران نے طے شدہ وقت سے پہلے ہی جنگی ماحول کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق مفاہمتی...
جنیوا میں ہونے والی مفاہمتی یاداشت کی تقریب میں شرکت ضروری نہیں رہی ایم او یو پر امریکی اور ایرانی صدور کے دستخط کے بعد بطورثالث توثیق کر دی وزیراعظم شہباز شریف کا سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کی تقریب میں شرکت کے لیے شیڈول دورہ منسوخ کردیا گیا۔تفصیلات کے ...
شہری مشکلات کا شکار، ملازمت پیشہ افراد، مزدور، طلبہ کوطویل فاصلے پیدل طے کرنا پڑے حب ریور روڈ، شیرشاہ و دیگر علاقوں میں شہری پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی پر پریشان کراچی میں ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث شہر بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ معطل ہوگئی، جس سے شہری شدید مشکلات کا شکار ہو...
موجودہ اسٹیٹس کو کے مطابق غیر مسلم افراد مسجد اقصی کا دورہ کر سکتے ہیں انہیں وہاں مذہبی عبادات یا رسومات ادا کرنے کی اجازت نہیں،رپورٹ اسرائیل کے بعض سخت گیر حکومتی عہدیداروں اور انتہا پسند دائیں بازو کے رہنماں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ امریکا کے بعض حلقوں کے تعاون سے مسج...
حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...
میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...
ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...
منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...
رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...
ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...
81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...