وجود

... loading ...

وجود

رائوانواربمقابلہ سندھ پولیس ۔۔۔چوہے بلی کاکھیل جاری

جمعه 02 فروری 2018 رائوانواربمقابلہ سندھ پولیس ۔۔۔چوہے بلی کاکھیل جاری

سپریم کورٹ کی جانب سے درندہ صفت رائوانوارکی گرفتاری کے لیے دی گئی پہلی ڈیڈلائن گزرگئی لیکن سندھ پولیس تمام ترکوششوں کے باوجوداسے گرفتارکرناتودورکی بات اس کے درست ٹھکانے کاپتہ نہ چلاپائی ۔اس کودیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ رائوانوارانسان سے چھلاوابن چکاہے ۔اس حوالے سے آئی جی سندھ نے بھی یہ کہتے ہوئے اپنی بے بسی ظاہرکردی کہ رائوانواروٹس ایپ استعمال کررہے ہیں اورہمارے پاس اس کاکھوج لگانے کی صلاحیت نہیں ہے ۔ یہ بات اپنی جگہ لیکن اس حقیقت سے انکارممکن نہیں کہ سندھ پولیس معطل ایس ایس پی کی گرفتاری کے لیے سرتوڑکوششیں کررہی ہے اس حوالے سے سندھ بھرمیں ہی نہیں ملک کے دیگرشہروں میں کارروائیاں جاری ہیں ۔ پشاور اور اسلام آباد میں بھی چھاپے مارے گئے مگر رائو انوار کو گرفتاری عمل میں نہ آسکی ۔ امکان یہی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ کسی نجی طیارے میں یا سمندری راستے سے فرار ہو چکے ہیں یا انہیں بااثر شخصیات نے چھپا رکھا ہے۔ یہ طرفہ تماشا ہے کہ رائو انوار ایک نجی ٹی وی چینل پر تو نمودار ہوجاتے ہیں اور اس چینل کو انٹرویو کے لیے دستیاب ہیں مگر وہ پولیس اور قانون نافذ کرنیوالے دوسرے اداروں کے لیے چھلاوا بنے ہوئے ہیں۔ کیا یہ پولیس کی ناقص کارکردگی کا بڑا ثبوت نہیں؟ ایک پولیس افسر کو جو عدالت کو مطلوب ہے جس پر جعلی پولیس مقابلوں میں سینکڑوں افراد کی ہلاکتوں کا الزام ہے۔ وہ نجی ٹی وی چینل کی تو دسترس میں ہے‘ مگر متعلقہ ادارے اسے ڈھونڈنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ عدالت کے حکم پر بھی وہ گرفتار نہیں ہو رہے تو کیا پولیس اپنے پیٹی بند بھائی کی گرفتاری میںدانستاً ٹال مٹول کر رہی ہے۔ رائو انوار اگر بے گناہ ہیں تو انہیں عدالت میں پیش ہو کر مارے جانے والوں کے جرائم کے ثبوت عدالت میں پیش کرنے چاہئیں۔ اس طرح چوہے بلی کے کھیل سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ اگر وہ گرفتاری نہیں دیتے تو پھر پولیس کو چاہئے کہ وہ تمام ممکنہ ذرائع استعمال کر کے انہیں جلد از جلد گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرے۔

دوسری جانب سپریم کورٹ میں نقیب قتل کیس ازخودنوٹس کیس کی سماعت جاری ہے ۔ چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثارنے رائوانوارکی گرفتاری کے لیے سندھ پولیس کومزید دس روزکی مہلت دیتے ہوئے نہ صرف ان کاپیغام میڈیا پر چلانے پرپابندی لگا دی بلکہ ملزم کی تلاش کے لیے ڈی جی ایف آئی اے کو انٹرپول کے ذریعے دنیا بھر کے ایئرپورٹس سے رابطہ کرنے کا حکم دے دیا۔سپریم کورٹ میں نقیب اللہ قتل ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ اور ڈی جی سول ایوی ایشن عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ شہریوں کے جان و مال کے محافظ پر قتل کا الزام لگا ہے، نقیب اللہ قتل کا الزام دراصل ریاست پر ہے۔ اس موقع پر آئی سندھ نے عدالت کو بتایا کہ ڈی آئی جی کو 13 جنوری کو پولیس مقابلے کا بتایا گیا، 4 میں سے 2 دہشتگردوں کی شناخت موقع پر ہوگئی تھی، 17 جنوری کو نقیب اللہ کی لاش کی شناخت ہوئی، سوشل میڈیا سے معلوم ہوا ہے نقیب اللہ روشن خیال تھا، معلومات ملنے پر تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی، 19 جنوری کو تحقیقاتی کمیٹی نے بتایا پولیس مقابلہ فرضی تھا۔

اس موقع پرچیف جسٹس نے استفسار کیا تحقیقاتی کمیٹی رپورٹ آنے کے بعد ایف آئی آر درج کیوں نہیں کی؟، تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد ملزمان کو فرار سے روکنا چاہیے تھا۔ آئی سندھ نے جواب دیا کہ راؤ انوار کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لیے وزارت داخلہ کو خط لکھا تھا۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا آپ کی کوشش کے باوجود راؤ انوار اسلام آباد ائرپورٹ پہنچ گیا۔ آئی جی سندھ نے بتایا کہ 20 جنوری کو راؤ انوار پی کے 300 کے ذریعے اسلام آباد آئے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا راؤ انوار فلم کی طرح گنے کی ٹرالی پر لیٹ کر آیا؟، ایئر پورٹ تک پہنچنے کے دوران راؤ انوار کو کیوں نہیں روکا گیا؟۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کیا راؤ انوار کو فرار ہونے کا موقع دیا گیا؟، راؤ انوار کو ایف آئی اے نے روکا، اگر وہ چلا جاتا تو کیا ہوتا؟، آپ نے تو صرف خط بازی کے ذریعے کام چلا دیا، پولیس اتنے اہم ملزم کی نگرانی کیوں نہیں کر رہی تھی؟ چشم دید گواہوں کے کہنے پر مقدمہ درج کیوں نہیں ہوا، آپ کو معلوم ہے عدالت پر آئی جی کی تقرری سے متعلق کتنی تنقید ہو رہی ہے، آپ کی تقرری پر ہمیں بہت کچھ سننا پڑ رہا ہے۔ آئی سندھ اے ڈی خواجہ نے کہا عدالت کہے تو عہدہ چھوڑ دیتا ہوں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ راؤ انوار عدالتی حفاظت میں آجاؤ، اگر عدالتی تحویل میں نہ آئے تو زندگی کو خطرہ ہو سکتا ہے، جن لوگوں کے کہنے پر کام ہو رہے ہیں نہیں چھوڑیں گے، مجھے نہیں معلوم کہ راؤ انوار سے کون لوگ کام کروا رہے ہیں۔

سوال یہ پیداہوتاہے کہ ایک ایس ایس پی رینک کاافسرجسے ماورائے عدالت قتل سے میڈیاکے ذریعے شہرت ملی اتناطاقت ورکیسے ہوگیاکہ ساری پولیس فورس‘ ملک بھر کی ایجنسیاں اسے گرفتارکرنے میں ناکام ہیں ۔رہی بات جعلی مقابلوں کی تواس حوالے سے ماضی میں بھی اس پرالزاما ت لگتے رہے ہیں لیکن وہ اس قسم کی صورت حال سے دوچارنہیں ہواجواسے آج کل درپیش ہے ۔ ہرمرتبہ حدودسے تجاوزکرنے کے بعد وہ دندناتا نظر آتا اور پہلے سے بڑھ کرکارروائیوں میں مصروف ہوجاتا،حیرت کی بات یہ ہے کہ ہربارمبینہ خطرناک دہشت گردوں سے اس کا اور اسکی پارٹی کاٹاکراہوتااورکسی کوخراش تک نہ آتی اوراسلحہ وبارودلے کرچلنے اورخودکودھماکے سے اڑالینے والے مبینہ دہشت گردہی مارے جاتے ۔ اورمیڈیاپرآکر وہ ہیروبن جاتا۔ نقیب اللہ کی ہلاکت والے روزبھی یہی رائوانوارٹی وی اسکرین پرنظرآیا اوراپنے تازہ کارنامے سے آگاہ کیا۔ اگرسوشل میڈیااس معاملے کونہ اٹھاتاتوشایدسفاک ایس ایس پی ہمیشہ کی طرح اسے معاملے سے بچ نکلتالیکن اس بات سے کسی کوانکاربھی ممکن نہیں کہ اللہ کی پکڑبڑی ہے اورانسان خواہ کتنابھی بڑاجرم کرلے اپنی زندگی میں ایک بار ضرورقانون کی گرفت میں آتاہے ۔

جیسے جیسے کیس کی تفتیش آگے بڑھ رہی ہے مزید سنگین معاملات سامنے آرہے ہیں ۔ رائوانوارصرف پولیس مقابلو ں ہی میں مصروف نہیں تھا۔ اس کی سرپرستی میں دیگرغیرقانونی دھندے جن میں ریتی بجری کی چوری ‘زمینوں پرقبضہ وغیروغیرقابل ذکرہیں جاری تھے اطلاع کے مطابق اب دھندے بند ہوچکے ہیں۔یہ بھی کہاجاتاہے کہ اسے پیپلزپارٹی کی اعلی ترین شخصیت کی پشت پناہی بھی حاصل تھی ،اسی لیے وہ ہربارمعطل ہونے کے بعد دوبارہ اپنی من پسند سیٹ پربراجمان ہوتارہاہے ۔اس وقت بھی جب ساری پولیس فورس اورایجنسیاں اسے تلاش کرنے میں مصروف ہیں اورپاکستان میں ہونے کے باجودکسی کے ہاتھ نہیں آرہاہے اسے دیکھتے ہوئے کوئی کم عقل بھی صاف کہہ سکتاہے کہ وہ اپنے انہی سرپرستوں کی بنائی گئی خفیہ کمیں گاہوں میں موجودہے جن کی ایماء پروہ ہربڑے سے بڑاکام کرنے سے بھی چوکتا تھا۔


متعلقہ خبریں


آئی ایم ایف نے پاکستان سے مہنگائی کی جنگ چھیڑ دی،پیٹرولیم مصنوعات،سولر سسٹم پر 18 فیصدٹیکس کا مطالبہ وجود - بدھ 01 اپریل 2026

پیٹرولیم مصنوعات اور سولر سسٹم مزید مہنگا ہونے کا خدشہ،نئے گھروں پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ، اگلے بجٹ کے ٹیکس ہدف میں 16 سو ارب روپے اضافے کی تجویز،ذرائع ایف بی آر اس وقت پیٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی کی شرح صفر،چھوٹے کاروبار اور تاجروں پر اثاثوں کی بنیاد پر ٹیکس لگانے کی ...

آئی ایم ایف نے پاکستان سے مہنگائی کی جنگ چھیڑ دی،پیٹرولیم مصنوعات،سولر سسٹم پر 18 فیصدٹیکس کا مطالبہ

اپنا تیل خود حاصل کرو امریکا تمہاری مدد کو نہیں آئے گا،ٹرمپ برطانیہ، فرانس و دیگر ممالک پر برہم وجود - بدھ 01 اپریل 2026

برطانیہ سمیت وہ ممالک جو ایران کیخلاف جنگ میں شامل نہیں ہوئے اور جیٹ فیول حاصل نہیں کرپارہے آئل امریکا سے خریدیں یا ہمت کرکے آبنائے ہرمز جائیں اور آئل حاصل کرلیں آپ کو اب خود لڑنا سیکھنا ہوگا،ایران کو تباہ کر دیا اور مشکل مرحلہ مکمل ہو چکا ہے،فرانس نے ایران کے قصائی کے حوالے...

اپنا تیل خود حاصل کرو امریکا تمہاری مدد کو نہیں آئے گا،ٹرمپ برطانیہ، فرانس و دیگر ممالک پر برہم

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی قیادت متحرک،تحریک تیز کرنے کا اعلان وجود - بدھ 01 اپریل 2026

جنید اکبر خان کی زیرصدارتخیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں ایک اہم تنظیمی اجلاس سہیل آفریدی نے اجلاس کے شرکاء کو صوبے کو درپیش اہم معاملات پر تفصیلی بریفنگ دی خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت نے تنظیمی استحکام، موجودہ سیاسی صورتحال اور بانی چیٔرمین عمران خان کی رہائی کے لیے جا...

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی قیادت متحرک،تحریک تیز کرنے کا اعلان

خیبر پختونخوا حکومت سے علیمہ خانم کی بتدریج دوری، اختلافات کی اندرونی کہانی وجود - بدھ 01 اپریل 2026

علیمہ کی ہدایت پر فیصل ترکئی، عاقب اللہ کو کابینہ میں شامل کرنے پر اختلافات کی وجہ بنے مختلف نجی محافل میں ان تقرریوں کے حوالے سے پارٹی کے اندر تنقید کا سلسلہ شروع ہوا خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت میں چند ماہ قبل تک عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کو غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل...

خیبر پختونخوا حکومت سے علیمہ خانم کی بتدریج دوری، اختلافات کی اندرونی کہانی

صوبوں کی مخالفت ، حکومت کا اسمارٹ لاک ڈاؤن نہ لگانے کا فیصلہ وجود - منگل 31 مارچ 2026

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس، شہباز شریف کی ملاقات، قومی سلامتی کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی غور، مشکل وقت میں معاشی طور پر کمزور طبقات کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، آصف زرداری ایندھن کے کم استعمال، پبلک ٹرانسپورٹ کے فروغ اور مشترکہ سفری سہولیات کیلئے عوام میں آگاہی پھیلائی جائے،...

صوبوں کی مخالفت ، حکومت کا اسمارٹ لاک ڈاؤن نہ لگانے کا فیصلہ

ٹرمپ کی ایران کے بجلی گھروں، تیل کے کنوئوں پر حملوں کی دھمکی وجود - منگل 31 مارچ 2026

ایران کو 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کھولنے کا الٹی میٹم،بصورت دیگر امریکا ایرانی تیل کے کنوؤں ،بجلی گھروں اور ڈی سیلینائزیشن پلانٹس کو نشانہ بنا سکتا ہے، امریکی صدرکاسوشل میڈیا پر بیان ٹرمپ نے ایران کے ایندھن اور توانائی ڈھانچے پر حملہ کیا تو خطے میں امریکی توانائی کے انفراسٹرک...

ٹرمپ کی ایران کے بجلی گھروں، تیل کے کنوئوں پر حملوں کی دھمکی

ایران کیخلاف جنگ میں امریکا نے 26 ارب ڈالر اڑا دیے وجود - منگل 31 مارچ 2026

حالیہ ایران پر امریکی فوجی حملے کی وجہ سے پینٹاگون پر بھاری مالی بوجھ آن پڑا ہے 800 سے زائد ٹوماہاک میزائلوں پر 3۔06 ارب ڈالر خرچ ہوئے،سینٹ کام ایران کیخلاف جنگ میں امریکہ نے 26 ارب ڈالر اڑا دیے، اس ایک ماہ کی جنگ کے دوران اخراجات آسمان سے باتیںکرنے لگے جس کی وجہ سے یہ تاری...

ایران کیخلاف جنگ میں امریکا نے 26 ارب ڈالر اڑا دیے

ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پرعزم ،وزیراعظم وجود - منگل 31 مارچ 2026

خطے میں کشیدگی کے فوری خاتمے کیلئے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں، شہبازشریف جنگ سے ایران سمیت کئی مسلم ممالک میں جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے،پیغام وزیر اعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پرعزم ہیں، جنگ سے ایران سمیت کئی مسلم ممالک میں جان...

ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پرعزم ،وزیراعظم

امریکا کی زمینی فوج بھیجنے کی تیاری،امریکی فوج شارک کی خوراک بنے گی، ایران کی تباہ کن نتائج کی دھمکی وجود - پیر 30 مارچ 2026

ہمارے جوان زمین پر امریکی فوجیوں کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ انہیں آگ لگا کر نشانہ بنائیں اور ان کے علاقائی شراکت داروں کو ہمیشہ کیلئے سزا دیں،ترجمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز ایسا اقدام امریکی افواج کے لیے شدید ذلت آمیز نتائج کا باعث بنے گا،ٹرمپ نے امریکی افواج کو دلدل میں دھکیل ...

امریکا کی زمینی فوج بھیجنے کی تیاری،امریکی فوج شارک کی خوراک بنے گی، ایران کی تباہ کن نتائج کی دھمکی

اسلام آباد میں چار فریقی وزرائے خارجہ اجلاس، مشرق وسطی کا تنازع مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق وجود - پیر 30 مارچ 2026

پاکستان کی میزبانی میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے درمیان بات چیت کا پہلا راؤنڈ ختم،اگلا راؤنڈ جلد ہوگا جس میںتجاویز پر پیش رفت سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا جائے گا اسحاق ڈار کی سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں، ایران کی موجودہ صورتحال پر تبادل...

اسلام آباد میں چار فریقی وزرائے خارجہ اجلاس، مشرق وسطی کا تنازع مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق

وفاقی حکومت نے قاسم خان کی گفتگو کوخود متنازع بنایا، سہیل آفریدی وجود - پیر 30 مارچ 2026

گفتگو کا اردو ترجمہ کروایا ہے ،یہ ایک بیٹے کے باپ کیلئے احساسات تھے جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفتگو کو جی ایس پی پلس کے ساتھ جوڑ کر غلط بیانی کی جا رہی ہے،نیوز کانفرنس وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفت...

وفاقی حکومت نے قاسم خان کی گفتگو کوخود متنازع بنایا، سہیل آفریدی

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں، شہباز شریف وجود - پیر 30 مارچ 2026

حکومت نے 125 ارب کی خطیر رقم، مختلف بچتوں اور ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کر کے دی وزیراعظم کا ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات پرجائزہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومتی فیصلوں کی بدولت پٹرولیم مصنوعات کی ملکی ضروریات کیلئے مناسب مقدار موجود ہے۔وزیراعظم ...

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں، شہباز شریف

مضامین
تسبیح خواں وجود بدھ 01 اپریل 2026
تسبیح خواں

کشمیریوں کی شناخت ختم کرنے کی سازش وجود بدھ 01 اپریل 2026
کشمیریوں کی شناخت ختم کرنے کی سازش

انصاف کا قتل کب تک ہوتا رہے گا ؟ وجود بدھ 01 اپریل 2026
انصاف کا قتل کب تک ہوتا رہے گا ؟

ایرانی حملوں سے خوفزدہ امریکی فوجی وجود منگل 31 مارچ 2026
ایرانی حملوں سے خوفزدہ امریکی فوجی

اسلامی یا روایتی میوچل فنڈز:سرمایہ کار کس کو چُنیں؟ وجود منگل 31 مارچ 2026
اسلامی یا روایتی میوچل فنڈز:سرمایہ کار کس کو چُنیں؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر