... loading ...
کبیرہ اورصغیرہ گناہ میں فرق
سوال:سوال یہ پوچھناہے کہ ہم گناہوں کے درمیان فرق کیسے کریں؟یعنی کوئی واضح فرق ہے جس سے پتہ چلے کہ فلاں گناہ چھوٹاہے اور فلاں گناہ بڑاہے،ان کی تعریف کیاہے؟
جواب:’’گناہ ‘‘اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حکم کی خلاف ورزی ، احکامات کی عدم تعمیل کانام ہے،اللہ تعالیٰ کی ذات کبریائی کے سامنے توانسان کی ہر غلطی ہی بہت بڑی غلطی اور سنگین جرم ہے،گویاہرگناہ اپنی ذات کے لحاظ سے بڑاگناہ ہے،لیکن قرآن واحادیث مبارکہ میں گناہوں پروعیداور لب ولہجہ کی تبدیلی کی بناپر گناہوں کی دوقسمیں ذکرکی گئی ہیں،صغیرہ اور کبیرہ۔
صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کی کوئی قطعی تعداد نہیں ، مختلف احادیث کوسامنے رکھتے علماء نے مختلف تعداد ذکر کی ہے۔تعریف کی حد تک جس گناہ پر مجرم کے لئے رحمت سے دوری(لعنت)مذکورہو،وعیدسنائی گئی ہو،جس پر عذاب وسزاکاذکرہووہ کبائر ہیں۔ تفسیر بیان القرآن میں حکیم الامت رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’ گناہ کبیرہ کی تعریف میں بہت اقوال ہیں جامع تر قول وہ ہے جس کوروح المعانی میں شیخ الاسلام بارزی سے نقل کیا گیاہے کہ جس گناہ پر کوئی وعید ہو یاحد ہو یا اس پر لعنت آئی ہو یا اس میں مفسدہ کسی ایسے گناہ کے برابر یا زیادہ ہو جس پروعید یاحد یالعنت آئی ہو یاوہ براہ تہاون فی الدین صادر ہو وہ کبیرہ ہے اور اس کا مقابل صغیرہ ہے اور حدیثوں میں جو عددوارد ہے اس سے مقصود حصر نہیں بلکہ مقتضائے وقت ان ہی کا ذکر ہوگا۔‘‘
نیزمفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ نے تفسیرمعارف القرآن میں مذکورہ مسئلہ پرتفصیل کلام فرمایاہے ذیل میں وہ نقل کیاجاتاہے:
’’ گناہوں کی دو قسمیں:آیت مذکورہ سے معلوم ہوا کہ گناہوں کی دو قسمیں ہیں، کچھ کبیرہ، یعنی بڑے گناہ اور کچھ صغیرہ یعنی چھوٹے گناہ اور یہ بھی معلوم ہو گیا کہ اگر کوئی شخص ہمت کر کے کبیرہ گناہوں سے بچ جائے تو اللہ تعالی کا وعدہ ہے کہ ان کے صغیرہ گناہوں کو وہ خود معاف فرما دیں گے۔کبیرہ گناہوں سے بچنے میں یہ بھی داخل ہے کہ تمام فرائض و واجبات کو ادا کرے، کیونکہ فرض و واجب کا ترک کرنا خود ایک کبیرہ گناہ ہے، تو حاصل یہ ہوا کہ جو شخص اس کا اہتمام پورا کرے کہ تمام فرائض و واجبات ادا کرے اور تمام کبیرہ گناہوں سے اپنے آپ کو بچا لے، تو حق تعالی اس کے صغیرہ گناہوں کا کفارہ کر دیں گے….گناہ اور اس کی دو قسمیں صغائر، کبائر:آیت میں کبائر کا لفظ آیا ہے، اس لئے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ گناہ کبیرہ کسے کہتے ہیں اور وہ کل کتنے ہیں اور صغیرہ گناہ کی کیا تعریف ہے اور اس کی تعداد کیا ہے؟علماء امت نے اس مسئلہ پر مختلف انداز میں مستقل کتابیں لکھی ہیں۔
گناہ کبیرہ اور صغیرہ کی تقسیم اور ان کی تعریفات سے پہلے یہ خوب سمجھ لیجئے کہ مطلق گناہ نام ہے ہر ایسے کام کا جو اللہ تعالی کے حکم اور مرضی کے خلاف ہو، اسی سے آپ کو یہ اندازہ بھی ہو جائے گا کہ اصطلاح میں جس گناہ کو صغیرہ یعنی چھوٹا کہا جاتا ہے، درحقیقت وہ بھی چھوٹا نہیں اللہ تعالی کی نافرمانی اور اس کی مرضی کی مخالفت ہر حالت میں نہایت سخت و شدید جرم ہے اور اس کی مرضی کی مخالفت کبیرہ ہی ہے،کبیرہ اور صغیرہ کا فرق صرف گناہوں کے باہمی مقابلہ اور موازنہ کی وجہ سے کیا جاتا ہے ، اسی معنی میں حضرت عبداللہ بن عباس سے منقول ہے کہ کل مانھی عنہ فھو کبیرۃ یعنی جس کام سے شریعت اسلام میں منع کیا گیا ہے وہ سب کبیرہ گناہ ہیں۔خلاصہ: یہ ہے کہ جس گناہ کو اصطلاح میں صغیرہ یا چھوٹا کہا جاتا ہے اس کے یہ معنی کسی کے نزدیک نہیں ہیں کہ ایسے گناہوں کے ارتکاب میں غفلت یا سستی برتی جائے اور ان کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کیا جائے بلکہ صغیرہ گناہ کو بیباکی اور بے پرواہی کے ساتھ کیا جائے، تو وہ صغیرہ بھی کبیرہ ہوجاتا ہے….البتہ گناہوں کے مفاسد اور نتائج بد اور مضر ثمرات کے اعتبار سے ان کے آپس میں فرق ضروری ہے اس فرق کی وجہ سے کسی گناہ کو کبیرہ اور کسی کو صغیرہ کہا جاتا ہے۔
گناہ کبیرہ: گناہ کبیرہ کی تعریف قرآن و حدیث اور اقوال سلف کی تشریحات کے ماتحت یہ ہے کہ جس گناہ پر قرآن میں کوئی شرعی حد یعنی سزا دنیا میں مقرر کی گئی ہے یا جس پر لعنت کے الفاظ وارد ہوئے ہیں یا جس پر جہنم وغیرہ کی وعید آئی ہے وہ سب گناہ کبیرہ ہیں، اسی طرح ہر وہ گناہ بھی کبیر میں داخل ہوگا جس کے مفاسد اور نتائج بدکسی کبیرہ گناہ کے برابریا اس سے زائد ہوں، اسی طرح جو گناہ صغیرہ جرات و بے باکی کے ساتھ کیا جائے یا جس پر مداومت کی جائے تو وہ بھی کبیرہ میں داخل ہو جاتا ہے۔ابن عباسؓ کے سامنے کسی نے کبیرہ گناہوں کی تعداد سات بتلائی تو آپ نے فرمایا سات نہیں سات سو کہا جائے تو زیادہ مناسب ہے۔امام ابن حجر مکی نے اپنی کتاب الزواجر میں ان تمام گناہوں کی فہرست اور ہر ایک کی مکمل تشریح بیان فرمائی ہے جو مذکور الصدر تعریف کی رو سے کبائر میں داخل ہیں، ان کی اس کتاب میں کبائر کی تعداد چار سوسٹرسٹھ تک پہنچی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ بعض نے بڑے بڑے ابواب معصیت کو شمار کرنے پر اکتفاء کیا ہے تو تعداد کم لکھی ہے بعض نے ان کی تفصیلات اور انواع و اقسام کو پورا لکھا تو تعداد زیادہ ہوگئی، اس لئے یہ کوئی تعارض و اختلاف نہیں ہے۔
رسول کریم ﷺنے مختلف مقامات میں بہت سے گناہوں کا کبیرہ ہونا بیان فرمایا اور حالات کی مناسبت سے کہیں تین کہیں چھ کہیں سات کہیں اس سے بھی زیادہ بیان فرمائے ہیں اسی سے علماء امت نے یہ سمجھا کہ کسی عدد میں انحصار کرنا مقصود نہیں، بلکہ مواقع اور حالات کے مناسب جتنا سمجھا گیا اتنا بیان کر دیا گیا۔
بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کبیرہ گناہوں میں بھی جو سب سے بڑے ہیں تمہیں ان سے باخبر کرتا ہوں، وہ تین ہیں، اللہ تعالی کے ساتھ کسی مخلوق کو شریک ساجھی ٹھہرانا ماں باپ کی نافرمانی اور جھوٹی گواہی دینا یا جھوٹ بولنا۔
اسی طرح بخاری و مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے دریافت کیا کہ سب سے بڑا گناہ کیا ہے، فرمایا کہ تم اللہ تعالی کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراؤ ، حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ہے ، پھر پوچھا کہ اس کے بعد کونسا گناہ سب سے بڑا ہے؟ تو فرمایا کہ تم اپنے بچہ کو اس خطرہ سے مار ڈالو کہ یہ تمہارے کھانے میں شریک ہوگا ‘تمہیں اس کو ساتھ بدکاری کرنا، بدکاری خود ہی بڑا جرم ہے اور پڑوسی کے اہل و عیال کی حفاظت بھی چونکہ اپنے اہل و عیال کی طرح انسان کے ذمہ لازم ہے اس لئے یہ جرم دوگنا ہو گیا۔
صحیحین کی ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ بات کبیرہ گناہوں میں سے ہے کہ کوئی شخص اپنے ماں باپ کو گالیاں دے ، صحابہ کرام نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص اپنے ہی ماں باپ کو گالی دینے لگے؟ فرمایا کہ ہاں! جو شخص کسی دوسرے شخص کے ماں باپ کو گالی دیتا دیتا ہے اس کے نتیجہ میں وہ اس کے ماں باپ کو گالی دیتا ہے تو یہ بھی ایسا ہی ہے جیسا کہ اس نے خود اپنے ماں باپ کو گالیاں دی ہوں، کیونکہ یہی ان گالیوں کا سبب بنا ہے۔
اور صحیح بخاری کی ایک روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک اور قتل ناحق اور یتیم کا مال ناجائز طریق پر کھانے اور سود کی آمدنی کھانے اور میدان جہاد سے بھاگنے اور پاکدامن عورتوں پر تہمت لگانے اور ماں باپ کی نافرمانی کرنے اور بیت اللہ کی بے حرمتی کرنے کو کبیرہ گناہوں میں شمار فرمایا ہے۔
بعض روایات حدیث میں اس کو بھی کبیرہ گناہ قرار دیا گیا ہے کہ کوئی شخص دارالکفر سے ہجرت کرنے کے بعد پھر دارالہجرۃ کو چھوڑ کر دارالکفر میں دوبارہ چلا جائے۔
دوسری روایات حدیث میں ان صورتوں کو بھی گناہ کبیرہ کی فہرست میں داخل کیا گیا ہے مثلاً جھوٹی قسم کھانا ، اپنی ضرورت سے زائد پانی کو روک رکھنا، دوسرے ضرورت والوں کو نہ دینا جادو سیکھنا، جادو کا عمل کرنا اور فرمایا کہ شراب پینا اکبر الکبائر ہے اور فرمایا کہ شراب پینا ام الفاحش ہے، کیونکہ شراب میں مست ہو کر آدمی ہر برے سے برا کام کر سکتا ہے۔
اسی طرح ایک حدیث میں ارشاد فرمایا کہ سب سے بڑا کبیرہ گناہ یہ ہے کہ انسان اپنے مسلمان بھائی پر ایسے عیب لگائے جس سے اس کی آبرو ریزی ہوتی ہو۔
ایک حدیث میں ہے جس شخص نے بغیر کسی عذر شرعی کے دو نمازوں کو ایک وقت میں جمع کر دیا تو وہ کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوا، مطلب یہ ہے کہ کسی نماز کو اپنے وقت میں نہ پڑھا، بلکہ قضاء کر کے دوسری نماز کے ساتھ پڑھا۔
بعض روایات حدیث میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالی کی رحمت سے مایوس ہونا بھی کبیرہ گناہ ہے اور اس کے عذاب و سزا سے بے فکر و بے خوف ہو جانا بھی کبیرہ گناہ ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ وارث کو نقصان پہنچانے اور اس کا حصہ میراث کم کرنے کے لئے کوئی وصیت کرنا بھی کبائر میں سے ہے۔
اور صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا کہ خائب و خاسر ہوئے اور تباہ ہو گئے اور تین دفعہ اس کلمہ کو دہرایا حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ محروم القسمتہ اور تباہ و برباد کون لوگ ہیں؟ تو آپ نے جواب دیا ایک وہ شخص جو تکبر کے ساتھ پاجامہ یا تہبند یا کرتہ اور عباء کو ٹخنے سے نیچے لٹکاتا ہے، دوسرے وہ آدمی جو اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کر کے احسان جتلائے ، تیسرے وہ آدمی جو بوڑھا ہونے کے باوجود بدکاری میں مبتلا ہو ، چوتھے وہ آدمی جو بادشاہ یا افسر ہونے کے باوجود جھوٹ بولے پانچویں، وہ آدمی جو عیال دار ہونے کے باوجود تکبر کرے، چھٹے وہ آدمی جو کسی امام کے ہاتھ پر محض دنیا کی خاطر بیعت کرے۔اور صحیحین کی ایک حدیث میں ہے کہ چغلی کھانے والا جنت میں نہ جائے گا۔اور نسائی و مسند احمد وغیرہ کی ایک حدیث میں ہے کہ چند آدمی جنت میں نہ جائیں گے شرابی، ماں باپ کا نافرمان، رشتہ داروں سے بلاوجہ قطع تعلق کرنے والا، احسان جتلانے والا، جنات شیاطین یا دوسرے ذرائع سے غیب کی خبریں بتانے والا، دیوث، یعنی اپنے اہل و عیال کو بے حیائی سے نہ روکنے والا۔
مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالی کی لعنت ہے اس شخص پر جو کسی جانور کو اللہ کے سوا کسی کے لئے قربان کرے۔
وسوسہ میں مبتلا آدمی کی طلاق کا حکم
سوال:میرا سوال یہ ہے کہ اگرکسی شخص کے دل میں یہ خیال آتاہوکہ اگر میرایہ کام تم نے نہیں کیاتوتمہیں طلاق،لیکن یہ خیال صرف دل میں باربار آتاہو ،تواس کا کیاحکم ہے؟جب کہ وہ شخص اپنی بیوی کو طلاق دینانہیں چاہتا۔کیا اس طرح خیال آنے سے اور وسوسہ سے طلاق ہوجاتی ہے؟
جواب:خیال اور وسوسے آنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔لہذا صورت مسئولہ میں کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، البتہ بار بار اس طرح کے خیالات لانے سے اجتناب کرناچاہیے۔(فتاویٰ شامی ، 2/570 ، ط : سعید )
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...
سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...
روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...
سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...
20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...
ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...
اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...
مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...
رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...
حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...
احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...
شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...