وجود

... loading ...

وجود

زہریلے کیمیکل ملے مصنوعی دود ھ کی فروخت‘بڑی کمپنیاں بھی موت بانٹنے میں پیش پیش

جمعرات 01 فروری 2018 زہریلے کیمیکل ملے مصنوعی دود ھ کی فروخت‘بڑی کمپنیاں بھی موت بانٹنے میں پیش پیش

پاکستان میں ہرجانب جعلسازی کرپشن اورفراڈعام ہے ‘چھوٹے بڑے سرکاری اداروں میں رشو ت کاراج ہے ‘ہرکوئی بہتی گنگامیں ہاتھ دھونے میں مصروف ہے ۔ملک کے طول وعرض سے ایسی ایسی بھیانک خبریں موصول ہوتی ہیں کہ دل دہل جاتاہے ۔ملک بھرمیں جعلی مسالہ جات ودیگراشیائے ضروریہ کی تیاری کی خبریں توآئے روزسامنے آتی رہتی تھیں اور ان کوتیارکرنے والے مراکزکے خلاف کئی شہروں میں کارروائی بھی جاتی رہی ہے، لیکن اس سب کے باوجوداعلی حکومتی شخصیات سے تعلقات یارشوت کے بل پریہ کارروباردھڑلے سے جاری ہے ۔ یہی نہیں ظالم لوگ اپنے منافع کی خاطردودھ جیسی نعمت بھی جعلی تیارکرکے مارکیٹ میں فروخت کررہے ۔ اس جرم میں چھوٹے کاروباری حضرات ہی نہیں بڑی بڑ ی کمپنیاں بھی شریک ہیں ۔ کیونکہ جعلی دودھ کی تیاری میں سرمایہ اوروقت کم منافع بہت زیادہ حاصل ہوتاہے۔ کیونکہ اس کی تیاری کے لیے جعلی وائٹنگ پائوڈراوریوریاکھاد اورپانی کی ضرورت ہوتی ہے اورمنٹوں میں جعلی دودھ تیارہوجاتاہے ۔ بعض اطلاعات کے مطابق جعلی دودھ کی تیاری میں بال صفاپائوڈربھی استعمال کیاجاتاہے ۔

یہی نہیں ملک کی بعض مشہورترین کمپنیا ں بھی ٹی وی چینلزاوراخبارات میں پبلسٹی پربھاری بھرکم رقم خرچ کرکے خوبصورت پیکنگ میں دودھ کے نام پرعوام کوناجانے کیاالابلافروخت کرتی رہی ہیں ۔گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ آف پاکستان نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس فیصل عرب اور جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں ڈبے میں مضرِ صحت دودھ سے متعلق کیس کی سماعت کی۔اورملک بھر میں تمام مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوں کی جانب سے ڈبے کے دودھ کی فروخت پر پابندی عائد کردی۔

عدالتی حکم پر مختلف کمپنیوں کی جانب سے فروخت ہونے والے ڈبے کے دودھ کے ٹیسٹ کی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی جس میں انکشاف ہوا کہ چار کمپنیوں کے دودھ مضرِ صحت ہیں جنہیں تیار کرنے کے لیے ان میں کچھ مضرِ صحت کیمیکلز ملائے جاتے ہیں۔کمپنیوں کے وکلا نے اپنے دلائل کے دوران سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ انہیں مزید وقت دیا جائے اور ڈبے کے دودھ کا کسی معیاری لبیبارٹری سے ٹیسٹ کرایا جائے، جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ عوام کو غیر معیاری دودھ فروخت کر رہے ہیں۔

عدالت نے ٹیسٹ کے نتیجے کی روشنی میں چار کمپنیوں کے ڈبے کے دودھ کی فروخت پر پابندی عائد کردی اور ان میں سے ایک کمپنی پر جرمانہ بھی عائد کردیا، اس کے ساتھ ساتھ ٹی وائٹنرز بنانے والی کمپنیوں کو ڈبے پر یہ دودھ نہیں لکھنے کی ہدایت جاری کر دی۔سپریم کورٹ نے دیگر کمپنیوں کے دودھ کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی جس کی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

کراچی رجسٹری میں ہونے والی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ اچھے برانڈز والے دودھ بھی ناقص ہیں، اسی لیے ہر برانڈ کے دودھ کا جائزہ لیا جائے گا۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ڈبے کا دودھ فروخت کرنے والی کمپنیوں کو ہدایت جاری کیں تھیں کہ ٹی وائٹنرز کے ڈبے پر واضح طورپر لکھا جائے کہ یہ دودھ ہرگز نہیں ہے جبکہ ٹی وی اور اخبارات میں بھی اشتہار میں واضح کیا جائے کہ ڈبے میں دودھ نہیں ہے۔

ڈبے کے دودھ کی فروخت کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے عدالت عظمی میں جواب داخل کرایا گیا تھا۔بعدِ ازاں چیف جسٹس نے عدالتی معاون کو حکم دیا تھا کہ مارکیٹ سے دودھ اور ٹی وائٹنرز کے ڈبے اٹھا کر پی سی ایس آئی آر لیبارٹری سے دودھ کا معائنہ کرایا جائے۔ یاد رہے کہ 6 جنوری کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ہونے والی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان میں ڈبے کے تمام دودھ جعلی اور مضر صحت ہیں۔

سماعت کے دوران ڈائریکٹر جنرل فوڈ نے عدالت کو بتایا تھا کہ حلیب، اینگرو فوڈ، نیسلے، ایوری ڈے، فوجی، شکر گنج سمیت 90 فیصد کمپنیاں ٹی وائٹنر بنا رہی ہیں۔خیال رہے کہ اس قبل ہونے والی سماعت کے دوران عدالت نے ڈبے پر جلی حروف میں یہ دودھ نہیں لکھنے کا حکم دیا تھا۔تاہم عدالتی احکامات پر ٹی وائٹنر بنانے والی کمپنی ترنگ نے ڈبے کا نیا ڈیزائن پیش کیا جسے عدالت نے مسترد کردیا تھا۔

بعدازاں لاہوررجسٹری میں ایک کیس کی سماعت کے دوران جب ڈی جی فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ غیر معیاری دودھ کے کئی سیمپل لے کر لیبارٹری بھجوائے گئے ہیں جہاں سے آئی ہوئی رپورٹ غیراطمینان بخش ہے۔ اس موقع پرودھ فروخت کرنیوالی کمپنیوں کے وکلا ء نے بند کی گئی کمپنیوں کو کھولنے کی استدعا بھی کی

اس دوران چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثارنے ریمارکس دیئے نمونوں میں غیر معیاری دودھ بنانے والی کمپنیوں کے خلاف کاروائی کرکے انہیں سیل کیاگیاہے اگر یہ اپنا معیار بہتر کر لیں تو انہیں ڈی سیل کرنے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ پاؤڈر ملک کو دودھ کہہ کرفروخت کررہے ہیں۔ یہ نہ ہو کہ کمپنیوں کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا جائے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کویہ لکھناپڑے گا کہ یہ دودھ نہیں ہے۔ جب تک تسلی نہیں ہوگی، دودھ کی کمپنیاں نہیں کھلیں گی۔دوران سماعت بریسٹر ظفراللہ خان نے کہا کہ غیرمعیاری دودھ کی تشہیر کرنیوالوں کوسزا دی جائے۔ جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ پہلا موقع دے رہا ہوں ہرکوئی اپنا قبلہ درست کر لے۔ قبلہ درست نہ کیا توقانون کیمطابق کارروائی کریں گی. عدالت نے کیس کی مزید سماعت ملتوی کردی۔
اس حوالے سے کوئی دورائے نہیں ہیں کہ دودھ کے نام پرمضرصحت کیمیکل ملک کے تمام شہروں میں کھلے عام فروخت کیاجارہاہے ۔جبکہ ملک بھرمیں باڑوں کے آنے والادودھ بھی کسی طورخالص نہیں کہاجاسکتا ماضی میں توصرف دودھ میں پانی ملاکردوگنامنافع کمایا جاتا تھا اب توبھینسوں کوٹیکے لگاکر دودھ بھی زیادہ بھی حاصل کیاجانے لگاہے اوراس میں پانی بھی ملادیاجاتاہے۔ جس کی وجہ ایک جانب تودودھ اپنی غذایت کھودیتاتودوسر ی جانب ا ن ٹیکوں کے لگائے جانے سے بھینیسںروقت سے پہلے ہی کٹوکے نام پرکمیلے میں پہنچادی جاتی ہیں اور ان کا لاغر گوشت بھی مارکیٹ میں آکربیماریاں پھیلانے کاسبب بنتا ہے اس کے علاوہ ڈبہ پیک دودھ فراہم کرنے والی کمپنیاں دودھ نہیں ٹی وائٹنرفروخت کے لیے پیش کرتی ہیں ۔ اس پرستم یہ کہ ان ڈبوں میں موجودفارمولین نامی کیمیکل بھی انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے ۔اس سلسلے میں سپریم کورٹ کی جانب سے بھنیسوں کادودھ دینے والے انجکشن پربھی پابند ی لگائی جاچکی ہے ۔ اس پابندی پرعمل درآمد کرانا حکومتوں کاکام ہے لیکن افسوس کامقام یہ ہے کہ عدالتی حکم کے باوجودمتعلقہ ادارے حرکت میں آتے نظرنہیں آرہے خاص کرسندھ اورکے پی کے کہیں سے کوئی ایسی اطلاع نہیں ملتی کہ جہاں جعلی دودھ تیارکرنے والوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہو۔

اس سلسلے میں کسی حدتک پنجاب میں فعال محکمہ فوڈکی جانب سے کارروائیوں اورجعلی دودھ کے تلف کیے جانے کی اطلاعات سامنے بھی آجاتی ہیں لیکن کراچی جیسے شہرمیں اس مصنوعی دودھ کی فروخت کی روک تھام کے لیے کوئی ادارہ حرکت میں نظرنہیں آتا۔ کم وپیش تمام علاقوں میں یہ مصنوعی دودھ دکانوں میں فروخت خالص دودھ سے نسبتاکم قیمت پرفروخت کیاجارہاہے اورمہنگائی کے ستائے عوام چندپیسے بچانے کے چکر میں اسے خرید کرخوداپنے اوراہل خانہ کے لیے بیماریوں کاسامان پیداکررہے ہیں ۔ کم وپیش یہی صورت سندھ کے دیگرشہروں کی ہے جہاں ایساکوئی نظام موجودنظرنہیں آتاجوا س مذموم کاروبارمیں ملوث عناصرکوگرفت میں لائے ۔ اس کی وجہ صاف ظاہرہے کہ اس کاروبارمیں وہ سرمایہ دارملوث ہیں جوتمام چھوٹے بڑے افسران کی مٹھی گرم کرنے کے ساتھ ساتھ حکومتی شخصیات کے منہ بندکرنے کے اسباب پیداکرتے رہتے ہیں ۔


متعلقہ خبریں


پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں،سعودی عرب کیلئے خطرہ ہمارے لیے بھی خطرہ ہے ، ترجمان پاک فوج وجود - جمعه 08 مئی 2026

بھارت خود دہشتگردی میں ملوث ہے ،دنیا بھارت کی من گھڑت باتوں پر کان دھرنے سے کیلئے تیار نہیں ، بھارت کے سیاستدان، سیاستدان کم اور جنگجو زیادہ لگتے ہیں، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کسی کا باپ پاکستان پر آنچ نہیں لا سکتا، شوق پورا کرنا ہے کرلے، ہم کھڑے ہیں طاقت سے جواب دیں گے، ...

پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں،سعودی عرب کیلئے خطرہ ہمارے لیے بھی خطرہ ہے ، ترجمان پاک فوج

عوام پر نیا وار،200 یونٹ تک بجلی سبسڈی ختم،پاکستان کی آئی ایم ایف کو نیا نظام متعارف کرانے کی یقین دہانی وجود - جمعه 08 مئی 2026

بجلی سبسڈی کے موجودہ نظام میں بڑی تبدیلی کا عندیہ،8 ماہ میں نیا نظام متعارف کروایا جائے گا،جنوری 2027 سے ہدفی (ٹارگٹڈ) سبسڈی متعارف کرائی جائے گی،ذرائع سبسڈی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیٹا کی بنیاد پر صارفین کو فراہم کی جائے گی، غلط استعمال کو روکنے میں مدد ملے گی،حکومت صارفی...

عوام پر نیا وار،200 یونٹ تک بجلی سبسڈی ختم،پاکستان کی آئی ایم ایف کو نیا نظام متعارف کرانے کی یقین دہانی

پاکستان کا ایک قطرہ پانی کوئی چوری نہیں کرسکتا،دفتر خارجہ وجود - جمعه 08 مئی 2026

سندھ طاس معاہدہ کیتمام آپشنز زیر غور ،دریاؤں کی صورتحال کا مشاہدہ کررہے ہیں امریکا ایران کے درمیان جلد معاہدے کی توقع ہے،ترجمان کی ہفتہ وار بریفنگ ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران میں جلد معاہدے کی توقع ہے، پاکستان کا ایک قطرہ پانی بھی کوئی ...

پاکستان کا ایک قطرہ پانی کوئی چوری نہیں کرسکتا،دفتر خارجہ

پاکستان کا ایک قطرہ پانی کوئی چوری نہیں کرسکتا،دفتر خارجہ وجود - جمعه 08 مئی 2026

سندھ طاس معاہدہ کیتمام آپشنز زیر غور ،دریاؤں کی صورتحال کا مشاہدہ کررہے ہیں امریکا ایران کے درمیان جلد معاہدے کی توقع ہے،ترجمان کی ہفتہ وار بریفنگ ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران میں جلد معاہدے کی توقع ہے، پاکستان کا ایک قطرہ پانی بھی کوئی ...

پاکستان کا ایک قطرہ پانی کوئی چوری نہیں کرسکتا،دفتر خارجہ

عمران خان حکم کریں پورا پاکستان بند کردیں گے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا وجود - جمعرات 07 مئی 2026

180 نشستیں جیتنے والے شخص کو قید کیا گیا، 17 نشستیں جیتنے والوں کو ہم پر مسلط کیا گیا، ہم نے متحد ہوکر اپنے حقوق کی جنگ لڑنی ہے، میں تیار ہوں، قوم بھی تیار ہے ،سہیل آفریدی کل شیخ ادریس صاحب کو شہید کیا گیا، ہم دہشت گردی کے خلاف بولیں تو کہا جاتا جھوٹ بول رہے ہیں، معصوم لوگ شہید...

عمران خان حکم کریں پورا پاکستان بند کردیں گے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

ایران امریکا جنگ کے خاتمے کا 14 نکاتی فارمولا تیار،معاہدہ نہ کیا تو پہلے سے زیادہ شدید بمباری ہوگی،امریکی صدر وجود - جمعرات 07 مئی 2026

ایران کیخلاف جارحانہ فوجی مرحلہ ختم ہو چکا، امریکا کا مذاکرات میں پیش رفت کا دعویٰ،ضرورت پڑنے پر کارروائی دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی گفتگو ایران شرائط مان لیتا ہے تو امریکا اور اسرائیل کی تہران کیخلاف جنگ ختم ہو سکتی ہے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھ...

ایران امریکا جنگ کے خاتمے کا 14 نکاتی فارمولا تیار،معاہدہ نہ کیا تو پہلے سے زیادہ شدید بمباری ہوگی،امریکی صدر

شیخ الحدیث مولانا ادریس قاتلانہ حملے میں شہید وجود - بدھ 06 مئی 2026

موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ ، مولاناادریس کے دو گارڈز بھی زخمی ،مولانا کو زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا راستے میں ہی دم توڑ گئے،ہسپتال کے باہر ہزاروں عقیدت مند پہنچ گئے،علاقہ میںکہرام مچ گیا ضلع چارسدہ میں ممتاز عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس قاتلانہ حملے میں شہید ہ...

شیخ الحدیث مولانا ادریس قاتلانہ حملے میں شہید

دہشت گرد بزدلانہ حملوںسے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے،صدر مملکت ، وزیراعظم وجود - بدھ 06 مئی 2026

چارسدہ میں مولانا ادریس کی شہادت پر آصف زرداری اورشہباز شریف کا اظہارِ افسوس دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قومی عزم غیر متزلزل، زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئیدعا کی چارسدہ میں جے یو آئی کے سابق رکن صوبائی اسمبلی اور ممتاز عالم دین مولانا محمد ادریس ترنگزئی پر حملے کے نتیجے میں ان ک...

دہشت گرد بزدلانہ حملوںسے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے،صدر مملکت ، وزیراعظم

فیلڈ مارشل کو نوبل امن انعام کیلئے نامزدگی کی سفارش ،سندھ اسمبلی میں قرارداد جمع وجود - بدھ 06 مئی 2026

عاصم منیر نے خطے میں امن و استحکام کیلئے بھرپور کردار ادا کیا ہے، ایم کیو ایم ارکان اسمبلی ایران امریکا جنگ رکوانے کیلئے بھی فیلڈ مارشل کی کاوشیں قابل ستائش ہیں، قرارداد کا متن فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو نوبیل امن انعام کے لئے سفارش کی جائے، سندھ اسمبلی میں قرارداد جمع کرا د...

فیلڈ مارشل کو نوبل امن انعام کیلئے نامزدگی کی سفارش ،سندھ اسمبلی میں قرارداد جمع

اسرائیل نے ایران پر نئے حملوں کی تیاری شروع کردی وجود - بدھ 06 مئی 2026

تیاری ایرانی انرجی انفرااسٹرکچر اور سینئر ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کی ہے جنگ امریکا کا انتخاب تھی، اثرات دنیا محسوس کررہی ہے، سی این این رپورٹ اسرائیل نے آبنائے ہُرمُز سے متعلق کشیدگی بڑھنے پر ایران پر نئے حملوں کی تیاری شروع کردی۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق...

اسرائیل نے ایران پر نئے حملوں کی تیاری شروع کردی

ایران کا امریکی جہاز پر حملے کا دعویٰ وجود - منگل 05 مئی 2026

یو ایس نیول ڈسٹرائر جہاز پسپائی پر مجبور،امریکی بحری جہاز کو رکنے کی وارننگ دی گئی تھی ہدایات نظر انداز کرنے پر دو میزائل داغے گئے جو ہدف پر جا لگے، پاسدارانِ انقلاب ایران کی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں اصول و ضوابط کی خلاف ورزی اور انتباہ کے باوجود اپنی سمت تبدیل نہ ...

ایران کا امریکی جہاز پر حملے کا دعویٰ

حکومت پر دبائو بڑھائیں،ارکان اسمبلی آج اڈیالہ جیل پہنچیں،علیمہ خانم کی پارٹی رہنمائوں کو ہدایت وجود - منگل 05 مئی 2026

بانی سے وکلاء اور اہل خانہ کی فوری ملاقات ممکن بنائی جا سکے،عمران خان کے ذاتی معالج، ماہر ڈاکٹروں اور اہل خانہ کی موجودگی میں علاج کا مطالبہ، شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے ضمانت کی درخواستوں پر فوری سماعت مقرر کی جائے، عمران اور بشریٰ کی رہائی کا مطالبہ، تنہائی میں قید رکھ...

حکومت پر دبائو بڑھائیں،ارکان اسمبلی آج اڈیالہ جیل پہنچیں،علیمہ خانم کی پارٹی رہنمائوں کو ہدایت

مضامین
بھارت میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی وجود جمعه 08 مئی 2026
بھارت میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی

دومنڈیاں ۔۔۔۔۔ وجود جمعه 08 مئی 2026
دومنڈیاں ۔۔۔۔۔

اقبال کااضطراب وجود جمعه 08 مئی 2026
اقبال کااضطراب

بھارت کاجنگی جنونبھارت کاجنگی جنون وجود جمعرات 07 مئی 2026
بھارت کاجنگی جنونبھارت کاجنگی جنون

شعور تک درد کے بغیرپہنچنا ممکن نہیں! وجود جمعرات 07 مئی 2026
شعور تک درد کے بغیرپہنچنا ممکن نہیں!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر