وجود

... loading ...

وجود

مشرق وسطیٰ کے وہ ہوٹل جنہوں نے تاریخ بنتے دیکھی

جمعرات 25 جنوری 2018 مشرق وسطیٰ کے وہ ہوٹل جنہوں نے تاریخ بنتے دیکھی

سعودی دار الحکومت ریاض کے عالی شان رٹز کارلٹن ہوٹل کو اب تک اپنے خوبصورت باغات، پْرتعیش اور وسیع رہائشی کمروں، جگمگاتے ڈائننگ ہال، بہترین ریستورانوں اور مردوں کے لیے مخصوص معدنی چشموں پر ناز تھا لیکن چند ماہ پہلے تک اس کا علم نہیں تھا کہ اسے کرپشن کے الزام میں گرفتار دو سو شہزادوں کی نظر بندی اور ان سے پوچھ گچھ کے لیے ایذا رسانی کے مرکز کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔

ریاض کا رٹز کارلٹن ہوٹل ہی نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ میں ایسے بہت سے ہوٹل ہیں جہاں پچھلی ایک صدی سے تاریخ رقم ہوتی رہی ہے۔استنبول کا Pera Palace ہوٹل جو 1892ء میں یورپ سے اورینٹ ایکسپریس سے ترکی آنے والے مالدار مسافروں کے قیام کے لیے تعمیر ہوا تھا۔ اس ہوٹل کو اس بات پر فخر تھا کہ اس میں پہلی بار بجلی استعمال کی گئی اور بالائی منزلوں پر آنے جانے کے لیے ایلیویٹرز نصب کیے گئے تھے۔ سلطنت عثمانیہ کے سلطان عبد الحمید نے گنے چنے ترکو ں کو اس ہوٹل میں غیر ملکیوں سے ملنے اور رقص و سرور کی محفلوں میں شرکت کی اجازت دی تھی۔ پھر اسی ہوٹل نے 1909ء میں کمال اتا ترک کی قیادت میں ترک انقلاب میں سلطان عبد الحمید کا زوال دیکھا۔ یہ ہوٹل اس علاقہ میں واقع ہے جو لٹل یورپ کہلاتا ہے۔ اسی ہوٹل میں ایگیتا کرسٹی نے1934ء میں اپنا مشہورجاسوسی ناول ’’ مرڈر آن دی اورینٹ ایکسپریس’’ لکھا تھا۔

ترکی کے شہر ازمیر میں گرینڈ ہوٹل کرامیر پیلس نے 1922ء کا وہ انقلاب دیکھا ہے جب کمال اتاترک نے یونانیوں کو شکست دے کر ازمیر پر قبضہ کیا تھا جو اس زمانہ میں سمرنا کہلاتا تھا۔ کمال اتا ترک فتح کے بعد سیدھے کرامیر پیلس ہوٹل گئے اور وہاں یونانی ویٹر سے پوچھا کہ کیا بادشاہ کانسٹنٹائین یہاں آکر شرب پیتا تھا؟ ویٹر نے جواب میں کہا، ‘نہیں تو’۔ کمال اتا ترک نے کہا کہ تو پھر میں نے ازمیر کو کیوں فتح کیا۔ اسی زمانہ میں اتا ترک کی فاتح فوج نے کرامیر پیلس ہوٹل کو نذر آتش کر دیا اور کئی سو افراد اس آگ میں جھلس گئے۔

شام کے تاریخی شہر (حلب) میں Baron ہوٹل شام کا قدیم ترین ہوٹل ہے۔ اس ہوٹل میں ٹی ای لارنس ٹہرا تھا اور بل ادا نہیں کیے تھے۔1918ء میں اس ہوٹل میں شام اور عراق کے بادشاہ امیر فیصل قیام کر چکے ہیں اور 1958ء میں مصر کے صدر جمال عبد الناصر نے اسی ہوٹل کی بالکونی سے حلب کے شہریوں سے خطاب کیا تھا۔ 2012ء میں اس ہوٹل نے نہ صرف خونریز خانہ جنگی دیکھی بلکہ اس کا نشانہ بنا اور اس کی چھت اور بالائی منزل گولیوں سے چھلنی ہوگئی۔ اس ہوٹل میں ایک زمانہ میں مصطفیٰ کمال اتا ترک قیام کر چکے ہیں اور حالیہ خانہ جنگی کے دوران اس میں جنگ کے بے گھر متاثرین نے پناہ لی ہے اور اس کی دیواروں نے ان کی آہیں اوردکھ بھری داستانیں سنی ہیں۔

بنان کے دار الحکومت بیروت کے دو ہوٹل ، شان و شوکت اور خانہ جنگی کی تباہی کے عبرت ناک نشان نظر آتے ہیں۔ یہ ہیں ساحل سمندر کے کنارے سینٹ جارج اور بلند و بالا پہاڑی پر ہالی ڈے انِ۔ سینٹ جارج، خانہ جنگی سے پہلے، مشہور اداکاروں کی آماجگاہ تھا، جن میں فرانسیسی اداکارہ بریجٹ باردو اور پیٹر اوٹول نمایاں تھے۔ مشہور برطانوی جاسوس کم فلبی بھی اسی ہوٹل میں ٹہر چکے ہیں۔ ایک دوسرے کے قریب ان ہوٹلوں نے 1975ء میں شروع ہونے والی خونریز خانہ جنگی دیکھی ہے۔ عیش وعشرت کے یہ ہوٹل ایسی ہولناک جنگ کا نشانہ بنے کہ ابھی تک بیروت کے شہری اسے نہیں بھول سکے ہیں۔ گو خانہ جنگی 1990ء میں ختم ہوگئی لیکن سنٹ جارج اور ہالی ڈے کے ڈھانچے ابھی تک جھلسے کھڑے ہیں۔ قاہرہ کا شیپیرڈس ہوٹل، وکٹوریہ دور کی عمارتوں کے طرز پر 1871ء￿ میں کاروان سرائے کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔ 1942ء میں دوسری عالم گیر جنگ کے دوران، مصر میں برطانوی افسر، غیر ملکی سفیر، مالدار امریکی، مشرق وسطیٰ کی حسین خواتین، روسی سفارت کار، جنگ کی خبریں بھیجنے والے مشہور صحافی اسی ہوٹل میں ٹہرتے تھے۔اس ہوٹل نے جولائی 1952ء میں جمال عبدالناصر اور محمد نجیب کی قیادت میں نوجوان فوجی افسروں کی بغاوت کے نتیجے میں مصر کے بادشاہ فاروق کو تخت سے اترتے اور اٹلی میں جلاوطنی اختیار کرتے دیکھا۔ اور پھر اسی سال برطانیہ کے مخالف مظاہرین نے جب شہر میں آگ لگائی تو شیپیرڈس ہوٹل ان کا پہلا نشانہ بنا تھا اور مسمار ہو گیا۔ 1957ء میں شیپیرڈس ہوٹل دوبارہ بنا لیکن اصل ہوٹل سے ایک میل کے فاصلے پر۔ اب بھی یہ ہوٹل 2014ء سے مرمت اور اس سر نو تزین کے لیے بند ہے۔

عراق کے شہر موصل میں جو پچھلے دنوں تک داعش کے کنٹرول میں تھا۔ 1980ء میں دجلہ کے کنارے تعمیر ہونے والے نینوا اوبرائے ہوٹل نے پہلے صدام حسین کا دور دیکھا پھر امریکا، برطانیہ اور مغربی حوایوں کی جنگ دیکھی اور پھرداعش کے خون آشام عذاب سے گذرا اور چند ماہ پہلے داعش کے خلاف عراقی فوج کشی دیکھی جس کے دوران یہ داعش کا مورچہ بنا رہا۔ اچھا ہوا کہ یہ بڑی حد تک مسمار ہوگیا کیونکہ اس میں پچھلے چار سال سے جاری داعش کے ظلم و ستم اور خونریزی کی داستان بیان کرنے کی سکت نہیں۔ کنگ ڈیوڈ ہوٹل شہر کے مشرقی اور مغربی علاقہ کے درمیان واقع ہے جو ایک طویل تاریخ کا شاہد ہے۔ 1946ء میں جب یروشلم برطانیہ کے کنٹرول میں تھا، صہیونیوں کے دہشت گرد گروپ ارگن کے تباہ کن دھماکہ کا نشانہ بنا تھا جس سے ہوٹل کا جنوبی حصہ جس میں برطانوی فوج کا ہیڈ کوارٹر تھامسمار ہوگیا۔اس دھماکے میں 91 افراد ہلاک ہوگئے۔ ان میں برطانوی، عرب اور یہودی شامل تھے۔

چھ منزلہ کنگ ڈیوڈ ہوٹل کا جنوبی حصہ دوبارہ تعمیر ہوگیا ہے لیکن مسمار شدہ حصہ کی تصاویر ہوٹل میں آویزاں ہیں۔ کنگ ڈیوڈ ہوٹل نے 1931ء سے یروشلم میں فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مصائب دیکھے ہیں اور اس ہوٹل نے دیکھا ہے کہ کس طرح پچاس سال پہلے، فلسطینیوں کو ان کی زمینوں اور ان کے مکانات سے بے دخل کیا گیا اور اس سر زمین سے انہیں نکال دیا گیا جہاں ان کے آبائو اجداد صدیوں سے رہ رہے تھے، نہ جانے کب تک اس شہر پر اسرائیل کا تسلط برقرار رہتا ہے۔


متعلقہ خبریں


اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی وجود - پیر 23 مارچ 2026

دیمونا اور عراد میں ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں متعدد عمارتیں تباہ ،شہر کے مشرقی حصے میں دھماکوں کی اطلاعات،پاسداران انقلاب کا اسرائیلی لڑاکا طیارہ گرانے کا دعویٰ، اسرائیل نے تصدیق نہیں کی نیتن یاہو نے صورتحال کو انتہائی مشکل قرار دے دیا، ریسکیو اداروں کو مزید مضبوط کرنے کی...

اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ وجود - پیر 23 مارچ 2026

ایران تیل و گیس کی تنصیبات ، پانی صاف کرنیوالے پلانٹس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نظام کو نشانہ بنا سکتا ہے،ابرہیم ذوالفقاری ایران نے 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنیکیلئے اقدامات نہ کیے تو پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے،صدر ٹرمپ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر...

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم) وجود - پیر 23 مارچ 2026

حکمران طبقہ عیاشیوں میں مصروف ہے جبکہ عوام پر مہنگائی کے بم برسائے جا رہے ہیں غزہ کے بچے اور مجاہدین ملبے کے ڈھیروں میں عید منارہے ہیںاور ا ن کے حوصلے بلند ہیں جماعت اسلامی کراچی کے تحت یکم شوال کو مقامی ہال میں روایتی عید ملن کا انعقاد ہوا جس میں مرکزی ،صوبائی اور کراچی کے ذ...

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم)

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ) وجود - پیر 23 مارچ 2026

تیل کی مسلسل فراہمی کیلئے پرعزم ہیں، ہم ٹارگٹڈریلیف کی طرف جائیں گے، محمد اورنگزیب علاقائی کشیدگی اور جنگی حالات سے توانائی انفرااسٹرکچر متاثر ہونے کا خدشہ ہے،میڈیا سے گفتگو وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عیدالفطر کے موقع پر اہل وطن کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ملک میں استحکا...

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ)

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند وجود - پیر 23 مارچ 2026

سکیورٹی وجوہات کے باعث بانی پی ٹی آئی نمازعید ادا نہیں کر سکے،جیل ذرائع عید کی نماز کے دوران اپنے سیل میں ہی قیام کیا، بچوں سے ٹیلی فون پربات کی ملک بھر کی طرح اڈیالہ جیل میں بھی عید الفطر کی نماز ادا کی گئی۔جیل ذرائع کے مطابق عام قیدیوں نے عید نماز جیل کی جامع مسجد اور امام...

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پاکستان کیخلاف سرگرم دہشتگردوں اور ان کے نیٹ ورکس کا جہاں وجود ہوگا، انہیں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے ذریعے ختم کیا جائے گا، خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے فعال سفارتکاری کر رہا ہے چیف آف ڈیفنس فورس سے اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علماء کی ملاقات ، گمراہ کن پروپیگنڈا اور فرقہ...

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

رپورٹ میں پاکستانی میزائل پروگرام اور پالیسیاں امریکی سلامتی کیلئے ممکنہ خطرہ قرار،پاکستانی میزائل امریکا تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں، پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ایٹمی تصادم کا خطرہ پاکستان مسلسل جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو جنوبی ایشیا سے با...

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت تذبذب کا شکار ،عالیہ حمزہ اور سینٹرل پنجاب کے صدر سزا کے باعث روپوش لاہور کے صدر کسی سے رابطہ ہی نہیں کرتیپنجاب میں تتر بتر تنظیم کو دوبارہ فعال بنانا چیلنج ہوگا، ذرائع عید کے بعد عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک شروع کرنے کے معاملے پر پی ٹی آئی کے ا...

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، ایران کی طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ،اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی علی لاریجانی کی ہلاکت ایرانی حکومت کے خاتمے کے ہمارے منصوبے کا حصہ ہے، ہم ہارڈ لائنر کو نشانہ بنا ...

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

بس کردیں اور بانی کاعلاج کرائیں، جب ملاقات ہو گی تو انھیں بتائیں گے کتنے لوگوں نے ان سے اظہار یکجہتی کیا،اعتزاز احسن کے شکر گزار وہ آئے اور ہمارے ساتھ بیٹھے ،جدوجہد جاری رکھیں گے اگر عید کے بعد علاج نہ کروایا اور ملاقات نہیں ہونے دی تو حالات بدلیں گے، چیف کمشنر کی بات پر کیسے ی...

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

امریکہ، اسرائیل طاغوت، شیعہ سنی تفریق پیدا کرنیوالے ان کے آلہ کار ہیں، امیر جماعت اسلامی جماعت اسلامی اسٹیبلشمنٹ نہیں عوامی تائید سے اقتدار چاہتی ہے، حلقہ خواتین کی تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم بے اختیار، فارم سنتالیس سے آئے...

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ملک کی پیٹرولیم درآمدات کی سپلائی چین بہتر بنانے کیلئے وزیر پیٹرولیم مزید متحرک ہوں شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس،کفایت شعاری کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ حالات کی بہتری تک تمام متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں، ملک کی پیٹرولیم...

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم

مضامین
لیٹر بکس خاموش، عید کارڈ غائب ۔۔۔۔ ایک روایت کا زوال وجود پیر 23 مارچ 2026
لیٹر بکس خاموش، عید کارڈ غائب ۔۔۔۔ ایک روایت کا زوال

آئی ہے عید ہر سال کی طرح وجود پیر 23 مارچ 2026
آئی ہے عید ہر سال کی طرح

بھارت میں ہندو مسلم کشیدگی وجود پیر 23 مارچ 2026
بھارت میں ہندو مسلم کشیدگی

ایرانی ایٹم بم وجود پیر 23 مارچ 2026
ایرانی ایٹم بم

ہمیں اپنے درد کی بو محسوس نہیںہوتی ! وجود پیر 23 مارچ 2026
ہمیں اپنے درد کی بو محسوس نہیںہوتی !

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر