... loading ...
جہاں ایک طرف کچھ حشرات الارض انسانوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں وہیں کچھ نے انسانوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ ان میں سے ایک بستروں کے کھٹمل ہیں جنہیں بیڈ بَگ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ہمارے گھروں، ہوٹلوں اور عوامی سہولیات کے مقامات پر خاصی پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔ یہ کھٹمل ننھے منے سے حشرات ہیں اور عمدہ کپڑوں کی دکانوں، ہسپتالوں، عام یا اعلیٰ رہائشی علاقوں میں تمیز نہیں کرتے، انہیں ہر وہ مقام بھاتا ہے جہاں زیادہ تعداد میں لوگ ہوں۔ حالیہ کچھ عرصے میں ان کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا سائنسی نام Lectularius Cimex ہے۔ ان کی لمبائی عام طور پر چھ ملی میٹر (ایک انچ کا چوتھائی) ہوتی ہے۔ یہ انسانی خون پر زندہ رہتے ہیں اور اپنے شکار کو پہچاننے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بیرونی دنیا میں رہنے والا یہ ایک طفیلی ہے۔ اس کے ہاں بہت سے بچوں کی پیدائش ہوتی ہے۔ ایک مادہ 500 انڈے دے سکتی ہے۔ یہ بھوک میں زندہ رہنے کی حیرت انگیز صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ خوراک کے بغیر تین ماہ تک زندہ رہ سکتے ہیں۔ ارتقا کے ساتھ ان کے پَر ختم ہو گئے لیکن نقل و حمل کے لیے یہ اپنا بندوبست پھر بھی کر لیتے ہیں۔ یہ کپڑوں، فرنیچر، سامان وغیرہ سے چپک کر ایک سے دوسری جگہ چلے جاتے ہیں۔ انڈے دینے اور لاروا کی نشوونما کے لیے انسانی خون کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب یہ کاٹتے ہیں تو چبھن اور الرجی ہوتی ہے۔ اس سے سماجی فوبیا اور خوف کی علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔ تاہم یہ بہت کم خون چوستے ہیں اور ان کی وجہ سے خون کی کمی کا کوئی خدشہ نہیں ہوتا۔ کہایہ جاتاہے کہ کھٹمل انسانی جسم سے فاسد خون چوستے صاف خون انھیں بالکل بھی پسند نہیں ان کے کاٹے سے بے چینی تو بہرحال رہتی ہے لیکن مچھرکی طرح کاٹنے کے بعد کوئی خطرناک بیماری انسان کونہیں دے جاتے بلکہ گنداخون ہی پیتے ہیں ۔
طویل عرصہ سے انسانوں کے ساتھ تعلق کی وجہ سے یہ دنیا بھر میں پائے جاتے ہیں۔ یہ برفیلے قطبین سے لے کر بلندوبالا پہاڑوں اور صحرائوں ہر جگہ موجود ہیں۔ لیکن آخر کیا وجہ ہے کہ اس کھٹمل کو ہم انسانوں سے اتنی ’’محبت‘‘ ہے؟ ایک تو اس نوع کے حشرات جنہیں Cimicidae کہا جاتا ہے، کو زندہ رہنے کے لیے خون کی ضرورت ہوتی ہے۔ کچھ چمگادڑوں اور دوسرے پرندوں پر گزارا کرتے ہیں۔ دو انواع ایسی ہیں جو انسانوں کی دلدادہ ہیں یہC.lectularius اور C.hemipterus ہیں۔ بستروں کے کھٹمل کا منہ کاٹنے والے آلے میں بدل سکتا ہے، ان کی جلد، بال یا پر ان کی حفاظت کرتے ہیں۔ کٹھملوں کی مختلف اقسام مختلف جگہوں پر رہتی ہیں، وہیں جہاں خون والے جاندار موجود ہوں۔ دوسرے جانداروں سے ان کے تعلق کی ایک وجہ موسمیاتی تبدیلی بھی ہے۔ آج نہیں، لیکن ہزاروں سال قبل کی بات ہے۔ اولین جدید انسانوں کو متعدد گلیشیئرز سے نپٹنا پڑتا تھا۔ یورپ اور دیگر خطوں میں انسان ایک طویل برفانی عہد سے گزرا تھا جس میں موسم انتہائی ٹھنڈا ہو گیا تھا۔ ٹھنڈ سے بچنے کے لیے جہاں ممکن ہوتا انسان غاروں میں پناہ لیتے۔ بدقسمتی سے Cimicidae اور دوسرے طفیلی پہلے ہی سے وہاں رہتے تھے اور پرندوں چمگادڑوں اور دوسرے میملز کا خون پیتے تھے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ بیڈ بگ نے اسی دوران انسانوں کو ’’پسند‘‘ کیا۔ جب دنیا کا موسم گرم ہوا تو یہ ہمارے ساتھ ہو لیے اور گھروں تک آن پہنچے۔ جینیاتی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ چمگادڑوں اور انسانوں کا خون چوسنے والے کھٹمل کے اجداد ایک ہی ہیں۔
لاکھوں سال پرانی انسانی آبادیوں میں ان کی موجودگی کا پتا چلا ہے۔ ان کے کاٹنے سے الجھن ضرور ہوتی ہے لیکن یہ خطرناک نہیں۔ اگر ان سے ہمیں وائرس اور بیکٹیریا منتقل ہوتے تو جانے نسل انسانی کا مستقبل کیا ہوتا۔ ان میں کیڑے مار زہر کی مزاحمت کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ اگر ان کی مدد سے انہیں ختم کیا جائے تو یہ اپنے جسم میں زہر کے خلاف مدافعت پیدا کر کے واپس آ جاتے ہیں۔ اس کے بعد زیادہ طاقت ور زہر تیار ہوتا ہے تو اس کے خلاف بھی یہ مدافعت پیدا کرلیتے ہیں۔ ان کا مقابلہ کرنے کے لیے پہلا قدم ان کا سراغ لگانا ہے۔ ان حشرات کے پاس چھپن چھپائی کھیلنے کا لاکھوں سال کا تجربہ ہے۔ اس مقصد کے لیے تربیت یافتہ کتے بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان کی ایک خامی ہے، یہ بہت زیادہ اور بہت کم درجہ حرارت کو برداشت نہیں کر پاتے۔ اگر کپڑوں کو زیادہ گرم پانی میں دھویا جائے اور تیس منٹ تک گرم مقام پر سکھایا جائے تو یہ زندہ نہیں رہ پاتے۔ اسی طرح اگر کپڑوں اور سامان کو جما دینے والی سردی میں رکھا جائے تو بھی ان کا جینا محال ہو جاتا ہے۔ ان سے نجات کے کچھ روایتی طریقے بھی ہیں۔ بہرحال اگر ان کی نشان دہی جلد کر لی جائے اور صفائی کا خاص خیال رکھا جائے تو ان سے نپٹنا آسان ہو جاتا ہے۔
خودکش حملہ آور نے گیٹ پر روکے جانے پر دھماکا کیا، متعدد زخمیوں کی حالت نازک، اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ،صدروزیراعظم کی مذمت،تحقیقات کا حکم وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ...
جس نے خودکش دھماکا کیا اس کی معلومات مل گئی ہیں، ہوسکتا 72 گھنٹوں میں انجام تک پہنچائیں، وزیرمملکت داخلہ وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ امام بارگارہ دھماکا خودکش تھا، حملہ آور کی معلومات مل گئی ہیں اور افغانستان کا کتنی دفعہ سفر کیا اس کی تفصیلات بھی آگئی ہیں۔وزیر ...
عمران خان نے دائیں آنکھ میں نظر کی کمی کی شکایت کی اور ان کی رضامندی سے علاج کیا گیا،پمز اسلام آباد کے سینئر اور مستند ماہر امراض چشم نے اڈیالہ جیل میں آنکھوں کا مکمل معائنہ کیا،ایگزیکٹو ڈائریکٹر معائنے میں سلٹ لیمپ معائنہ، فنڈواسکوپی، آنکھ کے اندرونی دباؤ کی پیمائش، ضروری ...
قوم کو نفرت، انتہاپسندی، اور دہشتگردی کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا، چیئرمین حکومت عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات کو یقینی بنائے،شدیدمذمت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں امام بارگاہ و مسجد میں دہشتگردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذ...
9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، بند کمروں میں فیصلوں سے بہت نقصانات ہوئے غلط پالیسیوں سے یہاں امن قائم نہیں ہو رہا اور ہم دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پولیس پر 9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، پولیس کو سیاست میں مت گھ...
معرکہ حق میں شاندار فتح سے کشمیر کا مسئلہ پوری دنیا میں اجاگر ہوا،وزیراعظم جلد کشمیر کی آزادی ممکن ہوگی ، کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا، معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت پراکی...
آزادی اظہاررائے کی آڑ میںعوام کو تکلیف پہنچانے نہیںدیں گے،سیدمراد علی شاہ احتجاج کیلئے کئی مقامات ہیں، مرکزی سڑکوں پر احتجاج نہیں کیا جاسکتا، میڈیا سے گفتگو وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہر شخص کو احتجاج اور جلسے جلوسوں کی اجازت ہے لیکن آزادی اظہار رائے کی آڑ میں ک...
کسی کو بھی کراچی بند کرنے کی اجازت نہیں، شہر قائد ملک کا معاشی مرکز ہے اس کا پہیہ چلتا ہے تو ملک چلتا ہے،ضیا لنجار پیر محمد شاہ پر لگے الزامات کی انکوائری جاری ہے، رپورٹ آنے سے پہلے کچھ کہنا مناسب نہیں ہے،میڈیا سے گفتگو وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے پاکستان تحریک انصاف (...
ملک بھر میںکشمیریوں سے غیر متزلزل حمایت کا عہد، شہدا کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی آزاد کشمیر اور پاکستان کو ملانے والے مختلف مقامات پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بھی بنائی گئی پاکستان ، آزاد کشمیر ، گلگت بلتستان اور دنیا بھر میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے جدوجہد آزادی میں مصروف ...
پاکستان اور جموں وکشمیر کے اٹوٹ رشتے کی تجدید، دنیا کشمیریوں کی پکار سنے گی پاکستان اور آزاد کشمیر میںجوش و خروش سے جلسے ، جلوسوں ، ریلیوں کا انعقادکیا جائیگا پاکستان، آزاد جموں وکشمیر اور دنیا بھر میںآج یوم یکجہتی کشمیر جوش و خروش سے منایا جائے گا جسکا مقصد بھارتی ظلم ستم...
ہر شہر میں جلسے منعقد کیے جائیں اور ریلیاں نکالی جائیں، مولانا عبدالغفور حیدری 8 فروری کا الیکشن قوم کیلئے ناقابل قبول ، عوامی مینڈیٹ پر کھلا ڈاکا ہے،بات چیت جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ایف) نے 8 فروی کو یوم سیاہ منانے کا اعلان کر دیا۔ اس حوالے سے مرکزی سیکریٹری جنرل جمعیت...
آٹا، چکن، مصالحے،بیکری آئٹمز، دودھ سمیت بیشتر اشیاء مزید مہنگی کر دی گئیں پھلوں کی 2۔28 اور مصالحہ جات کی 2 فیصدقیمتوں میں اضافہ ریکارڈکیا گیا رمضان المبارک کی آمدسے قبل مہنگائی میں اضافہ، آٹا، چکن، مصالحے،بیکری آئٹمز، دودھ سمیت بیشتر اشیاء مزید مہنگی کر دی گئیں۔ تفصیلات...