وجود

... loading ...

وجود

بھارتی آرمی چیف کی بڑبولیاں‘پاک فوج کی للکارپرچپ سادھ لی

منگل 16 جنوری 2018 بھارتی آرمی چیف کی بڑبولیاں‘پاک فوج کی للکارپرچپ سادھ لی

جرات رپورٹ
مکاردشمن بھارتی فوج نے آزادکشمیرکے علاقے میں لائن آف کنٹرول پر جندوٹ کوٹلی سیکٹرمیں بلااشتعال فائرنگ کرکے پاک فوج کے جوانوں کوشہیدکردیا۔جوابی فائرنگ میں پاک فوج نے تین بھارتی فوجیوں کوہلا ک اورمتعدد کوزخمی کردیا۔ لائن آف کنٹرول پربھارتی شرانگیزی کافی عرص سے جاری ہے دفترخارجہ کی جانب سے بار بار بھارتی کمیشن کے افسران کوطلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا جاتا ہے اس کے باجود بھارتی فوج کی جانب سے بلاجوازفائرنگ کاسلسلہ جاری رہتاہے ۔ مکار دشمن رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھا کرشہری آبادی کونشانہ بناتا اورپاک فوج کے دندان شکن جواب پردم دباکربھاگ لیتا ہے ۔لائن آف کنٹرول پربھارتی شر انگیزیاں نئی بات نہیں لیکن امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کے بھارت کی جانب جھکائو کے باعث اس کی جانب سے پاکستانی علاقوں میں بلا جواز فائرنگ اورلائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیاں حدسے زیادہ بڑھ گئی ہیں ۔ یہی نہیں حال ہی میں بھارتی آرمی چیف بین راوت نے بیان دے ڈالاہے کہ پاکستان کاایٹمی پروگرا م دھوکہ ہے اس نے اپنے بیان میں دھمکی بھی دی اورکہہ دیاکہ اگرمودی سرکار اجازت دے توسرحدپارکارروائی کرسکتے ہیں ۔

جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ بھارتی آرمی چیف کا بیان بچگانہ ہے۔ بھارت کسی خوش فہمی میں نہ رہے، ایٹمی صلاحیت بھارت سے نمٹنے کے لیے ہی ہے۔ بھارت ہمارے عزم کو آزمانے کا خود نتیجہ دیکھے گا۔ جوہری ریاستوں میں جنگ کا امکان نہیں ہوتا، پاک فوج ذمہ دار ادارہ ہے اور پاکستان کے پاس مستند جوہری طاقت موجود ہے۔ وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے بھی رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی آرمی چیف کا بیان جوہری تصادم کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ اگر بھارت کی یہی خواہش ہے تو وہ آزما کر دیکھ لے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارتی آرمی چیف کا بیان غیرذمہ دارانہ اور دھمکی آمیز ہے جو سازشی مائنڈ سیٹ کی ترجمانی کرتا ہے۔

65ء کی جنگ میں عبرتناک شکست کے بعد بھارت نے سازشوں کے ذریعے پاکستان کی قیادت کی نااہلی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 71ء میں پاکستان کو دولخت کردیا۔ اس قیادت کے ہوتے ہوئے بھارت مغربی پاکستان میں بھی مہم جوئی کر سکتا تھا۔ ایک تو مغربی پاکستان میں منظم مطلوبہ اسلحہ سے لیس فوج موجود تھی جس کے شانہ بشانہ عوام تھے‘ دوسرے بھارت پر عالمی دبائو بھی تھا اس لیے مغربی محاذ پر خاموشی میں بھارت کو بہتری نظر آئی۔ سقوط مشرقی پاکستان کا سب سے بڑا سبق محب وطن اہل و ذی ہوش قیادت کے لیے ناگزیریت ہے۔ بھارت جیسے عیار و مکار دشمن کے لیے پاکستان شروع دن سے ناقابل برداشت رہا ہے۔ اکھنڈ بھارت کے ایجنڈے کی تکمیل میں پاکستان بڑی رکاوٹ ہے۔ بھارت اس رکاوٹ کو ہر صورت دور کرنے کے درپے رہا ہے۔ بھارت کے ایسے عزائم کے پیش نظر ہی پاکستان نے اپنا دفاع ناقابل تسخیر بنانے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کا فیصلہ کیا۔ سقوط مشرقی پاکستان کے چند سال بعد بھارت نے پوکھران میں پہلا ایٹمی دھماکہ کرکے خود کو ایٹمی طاقت باور کرادیا جو اسکی طرف سے خطے کے ممالک بالخصوص پاکستان کے لیے اکھنڈ بھارت کی تکمیل کے ایجنڈے کے لیے ایٹمی قوت تک استعمال کرنے کی وارننگ تھی۔ پاکستان جو مشرقی پاکستان کی علیحدگی پر زخم خوردہ تھا‘ اس نے 73ء میں پوکھران میں بھارت کے ایٹمی دھماکے کے جواب میں خود بھی ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول کا عزم کیا اور تمام تر مشکلات اور امریکا کی دھمکیوں کے باوجود مختصر مدت میں ایٹمی طاقت کا حصول ممکن بنالیا۔ گو پاکستان نے باقاعدہ دھماکے بھارت کے 98ء میں دھماکوں کے جواب میں کیے تاہم 80ء کی دہائی میں پاکستان ایٹمی قوت سے سرفراز ہو چکا تھا۔

بھارت 80ء کی دہائی میں روایتی اور غیرروایتی اسلحہ کے لگائے ڈھیروں کے زعم میں پاکستان کیخلاف جارحیت کے ارتکاب کے لیے پر تولنے لگا۔ اس نے سرحدوں پر فوج ڈپلائے کردی۔ یہی وہ موقع تھا جب صدر جنرل ضیاء الحق کرکٹ ڈپلومیسی کے تحت بھارت گئے۔ ایئرپورٹ پر پروٹوکول کے تحت وزیراعظم راجیوگاندھی آئے‘ ان کے مشیروں کی موجودگی میں ضیاء الحق نے باور کرایا کہ پاکستان کے پاس ایٹمی صلاحیت موجود ہے‘ آپ کی فوجیں بارڈر سے واپس نہ ہوئیں تو ہم سبق سکھانے سے گریز نہیں کرینگے۔ جنرل ضیاء الحق کے پاکستان واپس پہنچنے سے قبل بھارتی فوج کی بیرکوں میں واپسی شروع ہوچکی تھی۔ بھارت کے غیرذمہ دار آرمی چیف راوت کو پاکستان کا ایٹمی پروگرام دھوکہ نظر آرہا ہے۔ ابھی پاکستان باقاعدہ ایٹمی قوت نہیں بنا تھا تو راجیوگاندھی کو جنرل ضیاء کی دھمکی میں حقیقت نظر آگئی تھی۔

پاکستان اگر ایٹمی قوت نہ ہوتا تو بھارت سقوط ڈھاکہ کے بعد مغربی پاکستان پر یلغار کرنے سے گریز نہ کرتا۔ گیدڑ بھبکی سے کام لینے والا جنرل راوت پہلا بھارتی آرمی چیف نہیں ‘ اس کی طرح چند سال قبل جنرل دیپک کپور نے بھی کہا تھا کہ بھارت 96 گھنٹے میں اسلام آباد اور بیجنگ پر قبضہ کرسکتا ہے۔ جنرل اور آرمی چیف کی سطح کا عہدیدار پینے کے بعد ہی ایسی بہکی بہکی اور غیرحقیقی باتیں کر سکتا ہے۔

2016ء کے آخر پر اوڑی چھائونی پر مجاہدین کے حملے نے بھارتی فوج کی مہارت کا پول کھول دیا تھا جب تمام حفاظتی حصار توڑ کر چند حریت پسندوں نے بیس فوجیوں کو ہلاک کردیا۔ اس پر بھارت تلملایا‘ پاکستان پر الزام عائد کیا اور سبق سکھانے کی دھمکیاں دیں۔ اس وقت مودی نے پاکستان کیخلاف جنگجویانہ بیان بازی کرکے فوجی کمانڈروں کا اجلاس بلایا، اس میں وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ، وزیر دفاع منوہر پاریکر، قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول اور بھارتی فوج کے سربراہ جنرل دلبیر سنگھ سمیت اہم حکام شریک ہوئے۔بھارتی وزیراعظم مودی اور ان کے مشیر اجیت دوول نے فوجی کمانڈرز سے پاکستان کے خلاف جنگ کے آپشنز مانگے تو جنرل دلبیر سنگھ نے کہا کہ پاکستان نے کنٹرول لائن پر دفاعی انتظامات مزید مضبوط بنا لیے ہیں، کنٹرول لائن پر پاک فوج سے چھیڑچھاڑ کا خیال اب دل سے نکال دینا ہی بہتر ہوگا۔جنرل دلبیر سنگھ نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے مزید کہا کہ انہوں نے فیلڈ کمانڈروں سے ملاقاتیں کیں اور خود کنٹرول لائن کا بھی جائزہ لیا ہے۔ کوئی بھی ایڈونچر خود بھارت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔
اس کے بعد بھارت کی طرف سے انتہاء پسند بپھرے ہوئے میڈیا اور مشتعل پارلیمنٹیرین کو مطمئن کرنے کے لیے پاکستان کے اندر سرجیکل سٹرائیک کے جھوٹے دعوے کیے گئے جس کا پول خودبھارت ہی کے میڈیا اور کچھ سیاست دانوں نے کھول دیا اور بھارتی حکومت کو سبکی اور فوج کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔

پاکستان کے کسی بھی ہمسایے کے لیے کبھی جارحانہ عزائم نہیں رہے۔ مگر دفاع کے معاملے میں آخری حد تک جانے سے بھی گریز نہ کرنے کی پالیسی ہے۔ آج امریکا کی طرف سے پاکستان پر تعاون نہ کرنے کے الزام لگائے جارہے ہیں۔ امریکا کی طرف سے نام نہاد امداد بند کردی گئی ہے۔ صدر ٹرمپ جارحیت کی دھمکی دے چکے ہیں‘ پاکستان کی طرف سے امریکا کے ساتھ سینگ پھنسانے سے حتی الامکان گریز کیا جارہا ہے تاہم جارحیت کی صورت میں امریکا کو بھی جواب دینے کے لیے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت ایک صفحے پر ہے۔ امریکا بھارت کے درمیان قربتیں بڑھی ہیں۔ انکے درمیان نیا نیا رومانس ہے‘ کبھی تو لگتا ہے امریکا بھارت کی زبان میں پاکستان کو مخاطب کررہا ہے‘ پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت نے واضح کردیا ہے کہ پاکستان کے لیے بھارت نہ تو امریکا ہے اور نہ ہی امریکا کے لیے پاکستان افغانستان ہے۔ جارحیت کسی طرف سے بھی ہوئی تو پاکستان دوٹوک جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ آج پاک امریکا تعلقات کشیدگی کی انتہاء پر ہیں جن میں کسی وقت بھی بہتری آسکتی ہے۔ امریکا کو ادراک ہے کہ اسے افغانستان میں جنگ جیتنے کے لیے پاکستان کی ضرورت ہے۔ یہ ضرورت افغانستان میں آخری امریکی فوجی کی موجودگی تک رہے گی سردست امریکا کا افغانستان سے مکمل انخلاء کا ارادہ نہیں جبکہ مسئلہ کشمیر کے حل تک بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری کا کوئی امکان نہیں ہے۔

مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے مابین تین جنگیں ہوچکی ہیں۔ بھارت کے پاکستان کے خلاف عزائم اور پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دینے اور مداخلت کے پیش نظر ایک اور جنگ کے خطرے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا جو ایٹمی جنگ سے کم نہیں ہو سکتی جس میں شاید جیت پر جشن منانے اور ہزیمت پر ماتم کرنیوالا بھی کوئی باقی نہ بچے۔ روایتی جنگ بھی تباہ کن ہوگی۔ دفاعی پیداوار کے وزیر رانا تنویر نے کہا ہے کہ بھارت کا کونہ کونہ پاکستان کے ایٹمی میزائلوں کی زد میں ہے۔ عالمی دفاعی جریدے جینز کے مطابق پورا بھارت پاکستان کے میزائل غوری سوئم کے نشانے پر ہے۔ جنگیں صرف اسلحہ کے زور اور انبار کے ذریعے ہی نہیں لڑی اور جیتی جاتیں۔ اس کے لیے فوج کا جذبہ اہم ترین ہوتا ہے۔ پاک فوج کے سپاہی کے لیے جذبہ شہادت سب سے بڑھ کر ہے۔ وہ ہمہ وقت جان قربان کرنے پر آمادہ جبکہ مقابل سپاہی کو جاں بچانے کی فکر ہوتی ہے۔ جنگوں میں اسلحہ کی اہمیت سے بھی انکار ممکن نہیں۔ اس میدان میں بھی بھارت مفلوک الحالی کا شکار ہے۔

بھارت سے تعلق رکھنے والے دفاعی امور کے ماہر اجے شکلا کاکہنا ہے: ’’ہمارا فضائی دفاع کا نظام نہایت بری حالت میں ہے۔ زیادہ تر اسلحہ 70 کی دہائی سے زیرِ استعمال ہے اور فضائی دفاع کا نیا نظام نصب کرنے میں شاید دس سال لگ جائیں۔‘‘ایک حکومتی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بھارتی بحریہ کے زیرِ استعمال 45 مگ طیارے جن پر بھارت کو بہت فخر ہے، ان طیاروں میں سے صرف 16 سے 38 فیصد طیارے اڑنے کے قابل ہیں۔انڈیا ان طیاروں کو ملک میں زیر تعمیر ایئر کرافٹ کیریئر سے اڑانے کا ارادہ رکھتا تھا۔ اس ایئرکرافٹ کیریئر پر 15 سال قبل کام شروع ہوا تھا اور اسے 2010 ء میں مکمل ہونا تھا لیکن اب ایسا لگ رہا ہے کہ 2023 ء سے قبل اس کا مکمل ہونا ممکن نہیں۔ ماہرین یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اتنی بڑی تعداد میں فوج کی تعیناتی کے باوجود جنگجو بار بار بھارتی فوج کے اڈوں میں گھسنے میں کیسے کامیاب ہوجاتے ہیں؟بھارت کے پاس ایک ہی ایٹمی آبدوز تھی جو عملے کی نالائقی کے باعث حادثے کا شکار ہو کر ناکارہ ہوگئی۔ ادھر بھارتی فوج کی یہ حالت ہے کہ خودکشی کا رجحان دنیا کے متعدد ممالک کی نسبت کہیں زیادہ ہے کیونکہ وہ شدید نفسیاتی عوارض کی شکار ہے۔ ایسے میں یہ دعویٰ کرنا بہت مشکل ہے کہ وہ جنگ کے میدان میں جانے کی ہمت کرسکتی ہے۔جنرل راوت ایسی فوج اور غیرمعیاری اسلحہ سے پاکستان کے ساتھ پنجہ آزمائی کے خواب دیکھ رہے ہیں۔


متعلقہ خبریں


مذاکرات کیلئے سیاسی کارکنوں کو رہا،مقدمات ختم کیے جائیں، نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کانفرنس وجود - جمعرات 08 جنوری 2026

صدرزرداری، نوازشریف اور وزیراعظم کی مشاورت سیحکومتی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز، اپوزیشن کمیٹی کو سیاسی قیدیوں تک رسائی دی جائے،عمران خان کو آج تک سچ نہیں بتایا گیا میڈیا کی سینسر شپ ختم کی جائے،ملک کو ترقی کی راہ پر لے جانے کیلئے سب کو مل کر چلنا ہوگا، شہیدوں کا خون رائ...

مذاکرات کیلئے سیاسی کارکنوں کو رہا،مقدمات ختم کیے جائیں، نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کانفرنس

برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول ہماری ترجیح ،وزیراعظم وجود - جمعرات 08 جنوری 2026

زرعی برآمدات میں اضافے اور تجارتی خسارے میں کمی پر لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت برآمد کنندگان کو ٹیکس ری فنڈ کے حوالے سے کوتاہی قابل قبول نہیں،جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول ہماری ترجیح ہے جبکہ وزیراعظم نے ...

برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول ہماری ترجیح ،وزیراعظم

کراچی کی ترقی دنیا کے بہترین شہروں کے ہم پلہ ہونی چاہیے،مراد علی شاہ وجود - جمعرات 08 جنوری 2026

ایف ڈبلیو او کے تعاون سے کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کی منظوری ،وزیراعلیٰ کا523ترقیاتی اسکیموں کا اعلان تمام میگا اور اہم منصوبے عالمی معیار کی منصوبہ بندی اور ڈیزائن کے تحت ہونے چاہئیں، اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او)، محکم...

کراچی کی ترقی دنیا کے بہترین شہروں کے ہم پلہ ہونی چاہیے،مراد علی شاہ

پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے وجود - جمعرات 08 جنوری 2026

سلمان اکرم راجاکا بیرسٹر گوہر سے متعلق بیان، واٹس ایپ گروپس میں شدید تنقید،ذرائع سیکریٹری جنرل نے پارٹی کو اس نہج پر پہنچایا وہ پارٹی میں گروپنگ کر رہے ہیں، اراکین پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے بیرسٹر گوہر کے بیان کے بعد پی ٹی آئی میں اختلافات سامنے آگئے، پ...

پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے

پی ٹی آئی مذاکرات کیلئے ا سپیکر ایاز صادق کو وزیراعظم کا گرین سگنل وجود - جمعرات 08 جنوری 2026

منتخب نمائندوں سے ہی مذاکرات ہوں گے،غیر منتخب نمائندوں سے بات چیت نہیں کریں گے،حکومتی ذرائع حکومتی وفد تیار ،ابھی تک مذاکرات کیلئے تحریک انصاف کے کسی رہنما نے باضابط رابطہ نہیں کیا، ذرائع اسپیکر آفس وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے لیے گرین سگ...

پی ٹی آئی مذاکرات کیلئے ا سپیکر ایاز صادق کو وزیراعظم کا گرین سگنل

کسی جماعت سے کوئی مسئلہ نہیں،سیاسی جماعتیں بحران کا حل نکالیں،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 07 جنوری 2026

خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم ہے، خیبر پختونخوا میں آپریشن نہیں کرنا تو کیا خارجی نور ولی کو وزیر اعلیٰ لگا دیا جائے؟ اس کی بیعت کرلی جائے؟ ڈی جی آئی ایس پی آر وزیر اعلیٰ کے پی فرما رہے ہیں کابل ہماری سکیورٹی کی گارنٹی دے، کیا ہبت اللہ بتائیں گے چارس...

کسی جماعت سے کوئی مسئلہ نہیں،سیاسی جماعتیں بحران کا حل نکالیں،ترجمان پاک فوج

عمران خان سے ملاقات تک مذاکرات نہیں ہوں گے، سیکرٹری جنرل تحریک انصاف وجود - بدھ 07 جنوری 2026

اب تک کہیں سے اشارہ نہیں ملا ، بانی پی ٹی آئی سے ہم ملے گے ان سے مکالمہ ہو گا،ہدایت لیں گے پھر ان سے بات ہوسکتی ہے،سلمان اکرم راجا کا بیرسٹر گوہر کو چیئرمین پی ٹی آئی تسلیم کرنے سے انکار سندھ حکومت احسان نہیں کر رہی، سہیل آفریدی کو پروٹوکول دینا آئینی حق ،رانا ثنا 5 بڑوں وال...

عمران خان سے ملاقات تک مذاکرات نہیں ہوں گے، سیکرٹری جنرل تحریک انصاف

کراچی میںدہشت گردی کا خطرناک منصوبہ ناکام،2 ہزار کلوگرام بارودی مواد برآمد،3 دہشت گرد گرفتار وجود - منگل 06 جنوری 2026

مصدقہ اطلاعات پرکئی ہفتوں پر محیط انتہائی پیچیدہ اور پیشہ ورانہ انٹیلی جنس آپریشن،گرفتار دہشت گردوں میں جلیل احمد عرف فرید، نیاز قادر عرف کنگ، حمدان عرف فرید شامل ہیں کارروائی میں 30 عدد امونیم نائٹریٹ سے بھرے ڈرم، 5 دھماکہ خیز سلنڈرز، ایک پرائما کارڈ اور ڈیٹونیٹرز کی بڑی مقدار...

کراچی میںدہشت گردی کا خطرناک منصوبہ ناکام،2 ہزار کلوگرام بارودی مواد برآمد،3 دہشت گرد گرفتار

عمران خان کا پیغام سندھ کے شہر شہر لے جایا جائے گا،حلیم عادل شیخ وجود - منگل 06 جنوری 2026

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا 9 سے 11 جنوری تک سندھ کا تاریخی دورہ کریں گے،پی ٹی آئی آٹھ فروری یومِ سیاہ کے طور پر منائیں گے عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا،پریس کانفرنس پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے انصاف ہاؤس کراچی میں اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ...

عمران خان کا پیغام سندھ کے شہر شہر لے جایا جائے گا،حلیم عادل شیخ

وینزویلا میں تیل تک رسائی نہیں دی تودوبارہ حملہ کرینگے، ڈونلڈ ٹرمپ وجود - منگل 06 جنوری 2026

ڈیلسی روڈریگز نے درست کام نہیں کیا تو مادورو سے زیادہ بھاری قیمت چکانا پڑے گی گرین لینڈ امریکی دفاع کیلئے ضروری ہے ،امریکی صدرکی نائب صدر وینزویلا کو دھمکی واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا نے درست رویہ اختیار نہ کیا تو امریکا دوبارہ حملہ کر دے ...

وینزویلا میں تیل تک رسائی نہیں دی تودوبارہ حملہ کرینگے، ڈونلڈ ٹرمپ

کراچی میں گندے اور کھلے نالوںقائم فوڈ اسٹالز امراض کا گڑھ بن گئے وجود - منگل 06 جنوری 2026

روشنیوں کا شہر مختلف مسائل کا شکار، ٹوٹی سڑکیں، کھلے نالوں نے شہر کی شکل بگاڑ دی،ماہرین نے صحت کیلئے ہولناک قرار دیدیا ان فوڈ اسٹریٹس اور غذائی اسٹالز میں پہلے ہی حفظان صحت کے اصولوں کا فقدان ہے رہی سہی کسر اڑتی دھول مٹی نے پوری کردی روشنیوں کا شہر کہلانے والا کراچی مختلف مسا...

کراچی میں گندے اور کھلے نالوںقائم فوڈ اسٹالز امراض کا گڑھ بن گئے

صوبائی حکومت کسی بھی ملٹری آپریشن کی اجازت نہیں دے گی،سہیل آفریدی وجود - منگل 06 جنوری 2026

15 نکاتی ایجنڈے میں واضح کیا گیا کہ ملٹری آپریشن کسی بھی مسئلے کا حل نہیں،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا تمام فریق مل کر بیٹھیں گے تو مؤثر پالیسی بنے گی اور امن بحال ہوگا،صوبائی کابینہ اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کسی بھی ملٹری آپریشن...

صوبائی حکومت کسی بھی ملٹری آپریشن کی اجازت نہیں دے گی،سہیل آفریدی

مضامین
آر ایس ایس کی دہشت گردی وجود جمعرات 08 جنوری 2026
آر ایس ایس کی دہشت گردی

وینزویلا کے خلاف امریکی کارروائی کا پیغام! وجود جمعرات 08 جنوری 2026
وینزویلا کے خلاف امریکی کارروائی کا پیغام!

خواہش وجود بدھ 07 جنوری 2026
خواہش

گزشتہ برس ساڑے سات ہزارکشمیری گرفتار وجود بدھ 07 جنوری 2026
گزشتہ برس ساڑے سات ہزارکشمیری گرفتار

امریکہ کے خلاف نفرت کا پس منظر کیا ہے ؟ وجود بدھ 07 جنوری 2026
امریکہ کے خلاف نفرت کا پس منظر کیا ہے ؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر