وجود

... loading ...

وجود

ہاتھوں کی صفائی

منگل 09 جنوری 2018 ہاتھوں کی صفائی

ہاتھوں کی صفائی صحت وصفائی سے متعلق ایک بہت اہم مسئلہ ہے کیونکہ جب ہم ہاتھوں کے حفظانِ صحت پر مناسب طریقے سے عمل کرتے ہیں تو یہ مختلف بیماریوں کے پھیلاؤں سے روک تھام کرنے کا بہترین طریقہ ہے، ہاتھوں کی باقاعدہ صفائی نہ ہونے سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے ہر سال بہت زیادہ تعداد میں بچے5سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی اس دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں۔
پورے دن میں ہم کئی مختلف اقسام کے ذرائع مثلاً مختلف لوگوں اور آلودہ سطحوں کے ساتھ براہ راست رابطے سے اپنے ہاتھوں پر جراثیم جمع کرتے رہتے ہیں اگر ہم ہاتھوں کے حفظانِ صحت پر درست طریقے سے عمل نہ کریں تو ہم اپنی آنکھوں، ناک یا منہ کو چھونے سے اپنے آپ کو اِن جراثیم سے متاثر کرسکتے ہیں، اور یہ جراثیم ہمارے دوسرے افراد سے رابطہ کرنے یا دیگر سطحات کو چھونے کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے ہیں اور ہاتھوں سے پھیلنے والی مختلف بیماریوں مثلاً نمونیا، دست، نزلہ، انتڑیوں کی بیماریاں، مختلف پیراسائیٹ سے ہونے والی بیماریاں اور ساتھ ساتھ جلداورآنکھوں کی بیماریاں شامل ہیں میں باآسانی مبتلا ہوسکتے ہیں، ان کے علاوہ بھی ہم اپنے ہاتھوں کے ذریعے اپنے جسم میں بہت سارے مختلف جراثیم داخل کرتے ہیں جو ہماری صحت کیلئے بے حد خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں اور پھر ان کے علاج کیلئے ہمیں مختلف اینٹی بائیوٹک استعمال کروائی جاتی ہیں جن کا واحد حل صرف اور صرف مکمل اور بھرپور طریقے سے ہاتھوں کی صفائی میں پوشیدہ ہے۔
ہم اپنے روز مرہ کے تمام کام اپنے ہاتھوں کے ذریعے ہی سر انجام دیتے ہیں اور ہمارے ہاتھ ہر طرح کی سطح سے مَس ہوتے ہیں جس کی وجہ سے جراثیم ہمارے ہاتھوں پر مسلسل موجود رہتے ہیں اور جب ہم اپنے گندے ہاتھوں کو بغیر صاف کئے کسی بھی چیز کو کھاتے ہیں تو جراثیم ہمارے جسم میں داخل ہوکر ہمیں طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا کرتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں ہر حال میں اپنے ہاتھوں کی صفائی کا خیال رکھنا چاہئے اور کچھ حالات اور صورتوں میں ہمیشہ اپنے ہاتھوں کوصاف کرنا چاہئے جیسا کہ کھانا کھانے سے پہلے، آنکھوں، ناک اور منہ کو چھونے سے پہلے اور چھونے کے بعد تاکہ جراثیم ہمارے جسم کے دوسرے حصوں پر منتقل نہ ہو، اس کے علاوہ بیت الخلا استعمال کرنے کے بعد ناک صاف کرنے اور چھینکنے یا کھانسنے کے بعد، چہرے یا کسی زخم کو ہاتھ لگانے سے پہلے اور بعد میںدھونا چاہئے۔جب بھی گوشت، مچھلی یا پولٹری کو دھوئیں اس کے بعد اپنے ہاتھوں کومکمل اوردرست طریقے سے دھونا چاہئے کیونکہ گوشت، مچھلی یا پولٹری یا مختلف کچی سبزیوں پر بیکٹیریا اورمختلف پبراسائیٹ موجود ہوسکتے ہیں جو بہت تیزی کے ساتھ گوشت وغیرہ سے ہمارے ہاتھوں پر منتقل ہوجاتے ہیں اور پھر ہاتھوں کے ذریعے ہمارے جسم میں داخل ہوکر مختلف انفیکشن پیدا کرتے ہیں۔
مختلف آلودہ یا گندے مواد کو چھونے یا تلف کرنے کے بعد یعنی بچوں کے ڈائپرز بدلنے یا بچوں یا بیمار افراد کی گندی اشیاء کو ٹھکانے لگانے کے بعد ہاتھ صاف کرنے چاہئے اس کے علاوہ مختلف جانوروں، پولٹری اور پالتوں جانوروں کو چھونے کے بعد یا ان کے فضلے کو ٹھکانے لگانے کے بعد، کوڑا کرکٹ اور مٹی یا ڈسٹ سے اٹی چیزوں کو ہاتھ لگانے کے بعد درست طریقے سے ہاتھوں کی صفائی ضروری ہے۔
ایک ریسرچ کے مطابق مختلف عوامی تنصیبات اور آلات جیسا کہ متحرک زینہ،لفٹ،دروازے کے لاک، سوئچ بورڈز، ٹیلیفون وغیرہ جو کہ مشترکہ طورپر استعمال ہوتے ہیںان پر بیکٹیریا کافی مقدار میں موجود ہوتے ہیں، ایک تحقیق کے مطابق ایک اسمارٹ فون پر تقریباً30,000کے قریب بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں اور ایک کی بورڈ پر تقریباً ایک ٹوائلٹ سیٹ کی نسبتاً زیادہ بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں اور ایک بنک کے جاری کردہ نوٹ پر تقریباً26,000بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں جو ہمارے چھونے کے بعد باآسانی ہمارے ہاتھوں پر منتقل ہوجاتے ہیں جس سے بچنے کا واحد حل ہاتھوں کی باقاعدہ صفائی ہے۔
مریض کے ساتھ رابطے یا مریض کو چھونے سے پہلے ہاتھوں کو اچھی طرح صاف کرلینا چاہئے تاکہ مریض ہمارے ہاتھوں کے مختلف مہلک جراثیموں سے محفوظ رہ سکے۔ کسی بھی جراثیم کش عمل سے پہلے اپنے ہاتھوں کی صفائی ضروری ہے تاکہ مریض کونقصان دہ جراثیم بشمول اس کے اپنے جراثیموں سے حفاظت کیلئے اور یہ کہ جراثیم اس کے اپنے جسم میں داخل ہوکر اس کو مزید بیمار نہ کرسکیں۔ اس کے علاوہ مریض کے جسم سے ارج شدہ مواد کو چھونے سے پہلے اور چھونے کے بعد ہاتھوں کی صفائی ضروری ہے اور اس دوران کوشش کریں کہ دستانوں کااستعمال کریں اور دستانے اتارنے کے بعد بھی ہاتھوں کو صاف کرلینا چاہئے تاکہ خود کو اور صحت مند ماحول کو مریض کے نقصان دہ جراثیم سے بچایاجاسکے۔
ہاتھوں کی صفائی کیلئے صرف پانی سے ہاتھ دھونا کافی نہیں ہوتا ہے بلکہ صابن کا استعمال بھی ہاتھوں کی مکمل صفائی کیلئے بے حد ضروری ہے جس سے جراثیم کا کافی حد تک خاتمہ ممکن ہوتا ہے، سب سے پہلے ہاتھوں کو پانی سے گیلا کریں اور ہاتھ کی تمام سطحوں کو کافی صابن لگائیں، ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو مسلیں، دائیں ہتھیلی کو دوسرے ہاتھ کی پشت پر رکھ کر انگلیوں اور دوسرے حصوں کو آگے پیچھے ملنا چاہئے، ہتھیلیوں کی طرف سے انگلیوں کو ملیں اور انگلیوں کی پشت کو آپس میں مخالف ہتھیلیوں پر ملیں، دونوں انگوٹھے ہتھیلیوں میں لے کر گھماتے ہوئے ملیں، دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ہتھیلیوں میں پیچھے اور آگے کی طر ف اور ارد گرد گھماتے ہوئے ملیں، اب ہاتھ پانی کے ساتھ دھولیں اور کسی تولیے سے صاف کرنے کے بجائے پیپر ٹاول یاhot air blowerکی مدد سے اچھی طرح خشک کرلیں۔
اس کے علاوہ بڑھے ہوئے ناخنوں میں میل،مٹی اور جراثیم باآسانی پھنس جاتے ہیں اور کھانے کے دوران یہ ہماری خوراک کاحصہ بن سکتے ہیں، بڑھے ہوئے ناخنوں کی صفائی قدرے مشکل ہوتی ہے لہٰذا ناخن باقاعدگی سے تراشنے چاہئے اور ہاتھوں کی صفائی کے ساتھ ساتھ ناخنوں کی صفائی کا بھی خاص خیال رکھنا چاہئے۔
ایک تحقیق کے مطابق باقاعدگی سے ہاتھوں کی صفائی سے دست کی بیماریوں سے32%اور سانس کی بیماریوں میں30%کمی کی جاسکتی ہے تو ہمیں کوشش کرنا چاہئیکہ زیادہ سے زیادہ ہاتھوں کی صفائی کا خیال رکھیں، کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کو معمول بنائیں خاص طورپر بچوں کو اسکی ترغیب دیں اور ان کو سکھانا چاہئے کہ کس طرح سے مناسب طریقے سے بیت الخلا سے واپسی پر اور مختلف چیزیں استعمال کرنے کے بعد اور کھانا کھانے سے پہلے اپنے ہاتھ صاف کرنے چاہیئے ۔ اس کے علاوہ چھینکنے یا کھانستے وقت ٹشوپیپرز کااستعمال کریں اور اپنے بازو کو چہرے پر رکھنا چاہئے، اپنے ہاتھوں پر چھینکنا یا کھانسنا نہیں چاہئے اور استعمال کے بعد ٹشوپیپر کو مناسب طریقے سے کوڑے دان میں ڈالنا چاہئے، اپنے گھروں اور دفاتر میں مختلف سطحوں وغیرہ کو صاف اور جراثیم سے پاک رکھنا چاہئے، دروازے کی نابز،سوئچ بورڈز، ٹیلیفون، کی بورڈ کی صفائی کاخاص خیال رکھتے ہوئے استعمال کے بعد اپنے ہاتھوں کو مکمل صاف کرنا چاہئے۔گھروں میں تولیوں کااشتراک نہیں کرنا چاہئے اور اگر ممکن ہو تو تولیوں کا استعمال ترک کرتے ہوئے کاغذی تولیوں کوترجیح دینا چاہئے۔
ہاتھوں کی باقاعدہ اور بھرپور صفائی کے ذریعے نہ صرف ہم مختلف بیماریوں سے بچ سکتے ہیں بلکہ اپنے دین کے احکام پر بھی خوش اسلوبی سے عمل پیرا ہوسکتے ہیں جو ہمیں ’’صفائی نصف ایمان ہے‘‘ سکھاتا ہے ۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر