وجود

... loading ...

وجود

پیپلز پارٹی کا لاپتہ افراد پر کمیشن بنانے کا مطالبہ

جمعه 29 دسمبر 2017 پیپلز پارٹی کا لاپتہ افراد پر کمیشن بنانے کا مطالبہ

ابوخضر
پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی) کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ لاپتہ افراد پر کمیشن کی تشکیل کے ساتھ ساتھ تاریخ کو درست کرنے کے لیے سچ پر مبنی اور مفاہمتی کمیشن بنایا جائے۔اس حوالے سے نوڈیرو ہاؤس میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی صدارت میں اجلاس منعقد ہوا۔اس موقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے معاشی حالت پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ ڈالر کی قدر مقامی مارکیٹ میں کم ہوچکی تھی، جس سے عام آدمی کے مستقبل پر اثر پڑا تھا لیکن حکومت نے معاشی حالت کو نقصان پہنچایا اور 40 ارب روپے کے قرضے حاصل کیے ۔سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے بے نظیر بھٹو قتل کیس کے عدالتی فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا اور فیصلہ کیا کہ اس حوالے سے عدالت میں دائر نظرثانی کی درخواست کی موثر انداز میں پیروی کی جائے گی۔اجلاس میں کہا گیا کہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف کو دوسروں پر الزامات لگانے کے بجائے ملک واپس آکر بے نظیر بھٹو قتل کیس اور آئین کی خلاف ورزی کرنے الزامات کا سامنا کرنا چاہیے۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو عوامی رابطہ مہم کے ذریعے ملک بھر کا دورہ کریں گے اور عوامی جلسوں سے خطاب کریں گے، ان دوروں کا آغاز سندھ سے ہوگا اور پھر جنوبی اور سینٹرل پنجاب، خیبرپختونخوا سے ہوتے ہوئے بلوچستان میں اختتام ہوگا۔سی ای سی کے اجلاس میں گلگت بلتستان میں جاری احتجاج اور بد امنی پر تحفظات کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ علاقے کے لوگوں کو ان کا بنیادی حق فراہم کیا جائے، ساتھ ہی اجلاس میں فاٹا کے خیبر پختونخوا سے انضمام کی بھی حمایت کی گئی۔اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی قربانیاں دینے والے فوجی جوانوں اور شہریوں کو خراج تحسین پیش کیا اور حکومت پر زور دیا کہ وہ نیشنل ایکشن پلان پر اس کی اصل روح میں عمل درآمد کو یقینی بنائے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ڈاکٹر طاہر القادری کی کثیر جماعتی کانفرنس میں آصف علی زرداری پیپلز پارٹی کے وفد کی سربراہی کریں گے۔

لاپتہ افرادکامعاملہ نیا نہیں ہے یہ سلسلہ ایک دہائی سے جاری ہے ۔ ملک کم وپیش تمام ہی سیاسی ومذہبی جماعتیں مختلف اوقات میں اپنے کارکنوں کے لاپتہ ہونے کی دہائی دیتی رہی ہیں ۔ خاص ایم کیوایم جوسندھ کی دوسری اورملک کی تیسری بڑی جماعت کہلائی جاتی ہے کی جانب سے 1992سے اپنے کارکنوں اورہمدردوں کے لاپتہ ہونے کا شور مچایا جاتا رہاہے ۔ ان کاالزام ہے کہ کراچی آپریشن کے دوران اور اس سے قبل ان کے سینکڑوں کارکن اور ہمدرد پراسرار طور پر لاپتہ کردیئے گئے ۔ 22اگست کوبانی ایم کیوایم کی ملک دشمن تقریرکے بعد ایم کیوایم کے دودھڑوں میں تقسیم ہونے اورفاروق ستارکی قیادت میں ایم کیوایم پاکستان کے معرض وجودمیں آنے کے بعدایم کیوایم پاکستان کی جانب سے بھی لاپتہ افرادکوبازباب کرائے جانے کامطالبہ کیاجاتارہاہے اورفاروق ستارکئی بارمیڈیاٹاک کے ذریعے اعلی حکام سے مطالبہ کیاہے کہ ان کی جماعت ایم کیوایم پاکستان کے لاپتہ کارکنوں کوبازیاب کرایاجائے اورکارکن ایجنسیوں کی تحویل میں ہیں عدالتوں میں پیش کرکے قانونی کارروائی کی جائے ۔

ادھرشیعہ کمیونٹی کی جانب سے بھی ان کی درجنوں افرادکولاپتہ کیے جانے کے مطالبات سامنے آتے رہیں اورشیعہ علماء کونسل ‘مجلس وحدت مسلمین سمیت کئی شیعہ جماعتوں نے اس حوالے سے احتجاج بھی کیاتھا۔ کچھ عرصہ قبل ایم ڈبلیوایم نے جیل بھروتحریک کاآغازکیاتھااوران کے مقامی رہنمائوں نے لاپتہ افرادکی بازیابی تک ازخودگرفتاری بھی دی تھی۔اس کے علاوہ ملک کی دیگرمذہبی جماعتوں کی جانب سے بھی ان کے کارکنوں کولاپتہ کیے جانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔

لاپتہ افراد کے حوالے سے ملک کی اعلی ترین عدالت سپریم کورٹ میں بھی مقدمہ زیرسماعت رہااورعدالت عظمی نے متعلقہ اداروں سے لاپتہ افرادکے حوالے سے جرائم کی تفصیلات طلب کرکے بے گناہ افرادکی فوری رہائی کاحکم بھی دیاتھا۔عدالت عظمی میں انسانی حقوق کی تنظیم ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی چیئرپرسن آمنہ مسعود جنجوعہ کی درخواست پر لاپتہ افراد کیس کی سماعت کی گئی تھی ۔سماعت کے دوران حکومتی وکیل ساجد الیاس بھٹی نے عدالت کو بتایا کہ قبائلی علاقوں میں قائم فعال حفاظتی مراکز کی رپورٹ تاحال موصول نہیں ہوئی جبکہ حراستی مراکز کا معاملہ وزارتِ داخلہ اور قبائلی علاقوں کا ہے۔سماعت کے دوران جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ اگر کسی شخص نے جرم کیا ہے تو اسے اس کی سزا ضرور ملنی چاہیے جبکہ اگر حراستی مرکز میں بے گناہ قید ہے تو اسے رہا کیا جائے۔سماعت کے دوران ایک لاپتہ شخص کے والد نے عدالت میں بتایا کہ وہ اپنے بیٹے کے بچوں سے جھوٹ بول بول کر تنگ آ چکے ہیں۔عدالت نے حراستی مرکز میں قید تاسف ملک کی اہل خانہ سے ایک ہفتے کے اندر میں ملاقات کروانے کا حکم دے دیا۔آمنہ مسعود جنجوعہ کے وکیل طارق اسد ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب کے علاقے راجن پور سے کچھ لوگوں کو اٹھا کر سیھون شریف کے مقدمے میں پھنسانے کی کوشش کی گئی۔

واضح رہے کہ گزشتہ سماعت کے دوران لاپتہ افراد کے لواحقین کی نمائندگی کرنے والی آمنہ جنجوعہ نے عدالت کو لاپتہ افراد کے حوالے سے اپنی رپورٹ پیش کی۔رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ لاپتہ افراد کے لیے بنی انکوئری کمیشن کو مارچ 2011 سے اب تک 4229 کیسز موصول ہوئے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ کمیشن کی جانب سے 2939 کیسز کو ختم کیا ہے جبکہ آمنہ جنجوعہ نے دعویٰ کیا کہ لوگوں کے لاپتہ ہونے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

ملک کی سابق حکمران اورسندھ کی موجودہ برسراقتدارپارٹی جانب سے لاپتہ افرادکے حوالے سے کمیشن بنانے کامطالبہ سامنے آنا ان لوگوں کے لیے نیک شگون ہے جوکئی برس سے اپنے لاپتہ افرادکی واپسی کی راہ تک رہے ہیں ۔ اس حوالے سے اطلاعات کے مطابق سب سے زیادہ لاپتہ افرادکاتعلق بلوچستان سے ہے ۔ جہاں سے مختلف سیاسی وسماجی تنظیموں کی جانب سے کوئٹہ میں ان کی بازیابی کے لیے کیمپ بھی لگایاگیا۔ضرورت اس امرکی ہے کہ پیپلزپارٹی جوخودسندھ کی حکمران جاعت کواس حوالے اپنے صوبے سے ابتداکرنی چاہیے ۔


متعلقہ خبریں


حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار وجود - بدھ 17 جون 2026

حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...

حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا وجود - بدھ 17 جون 2026

میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات وجود - بدھ 17 جون 2026

ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب وجود - بدھ 17 جون 2026

منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان وجود - بدھ 17 جون 2026

رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت وجود - منگل 16 جون 2026

ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ وجود - منگل 16 جون 2026

81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن وجود - منگل 16 جون 2026

عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان وجود - پیر 15 جون 2026

تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے وجود - پیر 15 جون 2026

پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم وجود - اتوار 14 جون 2026

حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران وجود - اتوار 14 جون 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران

مضامین
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش وجود بدھ 17 جون 2026
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش

علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب وجود بدھ 17 جون 2026
علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب

ایک تقریب ملتوی ہوگئی!! وجود منگل 16 جون 2026
ایک تقریب ملتوی ہوگئی!!

جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے! وجود منگل 16 جون 2026
جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے!

کب تک ؟ وجود منگل 16 جون 2026
کب تک ؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر