... loading ...
ایچ اے نقوی
بلدیہ عظمیٰ کراچی کے اسٹیٹ اور اکاموڈیشن ڈیپارٹمنٹ کے ذرائع سے معلوم ہواہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے حکام نے مبینہ طورپر بلدیہ عظمیٰ کراچی کے افسران کا5ارب روپے مالیت کا ایک شاندار بنگلہ غیر قانونی طورپر ایک منظور نظر فرد کو فروخت کردیاہے اور بنگلے کی منتقلی کاعمل بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ غیر قانونی خرید وفروخت بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ریونیو ڈیپارٹمنٹ اور الہٰ دین پارک کی انتظامیہ کی ملی بھگت اورتعاون سے کی گئی ہے۔
بلدیہ عظمیٰ کراچی کے اسٹیٹ اور اکاموڈیشن ڈیپارٹمنٹ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ غیر قانونی طورپر فروخت کیاگیایہ بنگلہ گلشن اقبال میں مین راشد منہاس روڈ پرالہٰ دین پارک کے قریب 5 ایکڑ کی وسیع وعریض اراضی پر واقع ہے اور اس میں رہائشی سہولتوں کے علاوہ سرونٹ کوارٹرز بھی موجود ہیں۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی اس بنگلے کی دیکھ بھال اور اس کے یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی پر 100 ملین یعنی 10 کروڑ روپے سے زیادہ رقم خرچ کرچکی ہے۔
اطلاعات کے مطابق بلدیہ عظمیٰ کراچی کے سابق ایڈمنسٹریٹر ثاقب حسین سومرو اور ایک اور افسر ایم حسین سید نے اس بنگلہ کی فروخت میں کلیدی کردار ادا کیاہے اورنیب کی جانب سے تفتیش شروع ہونے کے بعد ثاقب حسین سومرو ملک چھوڑ کر بیرون ملک فرار ہوچکے ہیں۔یہ بھی معلوم ہواہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری کے قریبی دوست اورمعاون سابق وزیر بلدیات اویس مظفر ٹپی نے بھی اس بنگلے کی غیر قانونی فروخت میں کلیدی کردار ادا کیاہے اور اس پورے معاملے کو خفیہ رکھنے کے انتظامات کیے۔اطلاعات کے مطابق اس بنگلے کی فروخت کی کوششیں 2012 سے ہی شروع کردی گئی تھیں اور بالآخر اویس مظفر ٹپی کی معاونت سے یہ ڈیل 2015 میں مکمل ہوئی ،سرکاری دستاویزات کے مطابق اویس مظفر ٹپی بھی ان دنوں بیرون ملک گئے ہوئے ہیں اور ان کی جلد واپسی کی کوئی امید نہیں ہے ۔
یہ بھی اطلاع ملی ہے کہ سابق ڈپٹی کمشنر ،اسسٹنٹ کمشنر اور گلشن اقبال زون کے مختیار کار نے 2013-14 میں بلدیہ کے اس بنگلے کی اس طرح منتقلی کے خلاف مزاحمت کی تھی اور اس کو کسی فرد کے نام منتقل کرنے سے انکار کردیاتھا جس پر اویس مظفر ٹپی نے ان کاتبادلہ کرادیاتھا۔
سابق کمشنر کراچی شعیب صدیقی کو 2016 میں جب اس ڈیل کی اطلاع ملی تو انھوں نے 2016 ہی میں یہ ڈیل منسوخ کرکے بنگلہ خالی کرانے کے احکامات جاری کردیئے تھے،جس کے بعد ہی ان کو کمشنر کراچی کے عہدے سے ہٹانے کی کوششیں شروع کردی گئی تھیں اور مبینہ طورپر فائلوں کے پیٹ بھرنے کے بعد انھیں بھی اس عہدے سے فارغ کرادیاگیا۔
یہ بنگلہ خریدنے والے نواز شیخ کادعویٰ ہے کہ انھوںنے ریونیو بورڈ کے الاٹمنٹ لیٹر پر یہ بنگلہ حاصل کیاہے ،اور اس کو حاصل کرنے میں ان کاکوئی قصور نہیں ہے کیونکہ انھوں نے اس کے لیے تمام قانونی ذمہ داریاں پوری کی ہیں اگر بلدیہ عظمیٰ کراچی کے افسران یاوزرا نے اس حوالے سے کوئی غیر قانونی فیصلہ کیاہے تو اس کے ذمہ دار ایسا کرنے والے ہیں انھیں اس کاذمہ دار قرار نہیں دیاجاسکتا۔
دوسری جانب بلدیہ عظمیٰ کراچی کے اسٹیٹ اور اکاموڈیشن ڈیپارٹمنٹ کے ذرائع کاکہناہے کہ کوئی بھی سرکاری رہائشی جگہ کسی دوسرے کو اس طرح الاٹ نہیں کی جاسکتی اور ایسا کرنا قطعی خلاف قانون ہے اورایسا جعلی ڈاکومنٹس کے ذریعے کیاگیاہے۔
1970 میں جب حکومت سندھ نے تفریحی پارک کے لیے 400 ایکڑ اراضی مختص کی تھی اس وقت یہ جگہ سفاری پارک کاحصہ تھی ،بعد ازاں گزشتہ برسوں کے دوران اس علاقے میں زمینوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ اور اس علاقے میں بنگلوںاور فلیٹوں کی طلب میں اضافے کے بعد بلڈرز اور ڈیولپرز اور قبضہ مافیا اس زمین پر قبضہ کرنے کی سرتوڑ کوششیں کرتے رہے ہیں۔تاکہ وہ اس جگہ فلیٹ اور بنگلے تعمیر کرکے بھاری رقم کما سکیں۔
کے ایم سی کے ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ اب اس جگہ پر فلیٹ اوربنگلے تعمیر کرنے کے لیے ابتدائی تیاریاں شروع کردی گئی ہیںاور جلد ہی کے ڈی اے اوربلڈنگ کنٹرول کے حکام کی ساز باز سے اس پر رہائشی منصوبے کااعلان کردیاجائے گا۔ تاہم چونکہ فی الوقت کے ڈی اے اور کے بی سی اے کے بیشتر اعلیٰ افسرا ن سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے لیے گئے نوٹس کے سبب مشکل میں ہیں اس لیے وقتی طورپر اس منصوبے پر عملدرآمد رکاہواہے۔
اطلاع کے مطابق کے ایم سی کایہ بنگلہ سب سے پہلے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے چڑیاگھر سے متعلق ڈیپارٹمنٹ کے افسر مسعود عالم کو الاٹ کیاگیاتھا جو کم وبیش 12 سال تک اس میں رہائش پذیر رہے ۔ اس بنگلہ کو آخری مرتبہ سابقہ سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کراچی کے افسر احسان مرزا کو فروری 2006 میں الاٹ کیاگیاتھا اور وہ 2014 تک اس میں رہائش پذیر رہے۔بعد ازاں اس کو قبضہ مافیا کی دست برد سے بچانے کے لیے فروری 2015 میں عقیل بیگ، ڈائریکٹر اکاموڈیشن اکمل ڈار، ایڈیشنل ڈائریکٹر اسٹیٹ ،اور اسسٹنٹ کمشنر جمشید ٹائون کی نگرانی میں اسے سربمہر کردیاگیاتھا اور اس حوالے سے گلشن اقبال تھانے میں رپورٹ جمع کراتے ہوئے پولیس سے اس کی نگرانی کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ اطلاعات کے مطابق بعد بااثر افراد نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے حکام سے پس پردہ رابطے کیے جس پر بلدیہ عظمیٰ کراچی کے سابق ایڈمنسٹریٹر ثاقب حسین سومرو اور ایک اور افسر ایم حسین سید نے مبینہ طورپر بھاری نذرانوں کے عوض ان کی معاونت کی اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کے سابق ایڈمنسٹریٹر ثاقب حسین سومرو نے جو ان دنوں بیرون ملک مفرور ہیں ان کی ملاقات آصف زرداری کے قریبی دوست اویس مظفر ٹپی سے کرائی جنھوں نے اس ڈیل کے لیے کلیدی کردار اداکرکے بلدیہ عظمیٰ کراچی کو 5ارب روپے مالیت کے اس بنگلے سے محروم کردیا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اب جبکہ سندھ ہائیکورٹ ہر طرح کی غیر قانونی الاٹمنٹ اور قبضوں کے خلاف سخت کارروائیاں کرنے کے احکامات دے رہی ہے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے اس بنگلے پر ڈالے گئے ڈاکے کے خلاف کیا کارروائی کرتی ہے۔
پاکستان استنبول میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں شرکت کرے گا، جن کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور بات چیت کے ذریعے تنازعے کے حل کی راہ ہموار کرنا ہے، ترجمان طاہر اندرابی امریکا کے نمائندہ خصوصی اور ایرانی وزیرخارجہ اپنے ممالک کی نمائندگی کریں گے،خطے کی طاقتوںسعودی...
اڈیالہ جیل میں قیدبانی پی ٹی آئی کی صحت بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے، طبی معائنہ شوکت خانم اور شفا اسپتال کے ڈاکٹروں سے کرایا جائے، قائدِ حزبِ اختلاف نے صحت کا معاملہ اٹھا دیا وزیراعظم سے فوری ذاتی مداخلت کا مطالبہ ،خط میں اپوزیشن لیڈرنے ذاتی ڈاکٹروں کے نام تجویز ڈاکٹر محمد ...
صدر میں 200سے زائد دکانیں سیل،مارکیٹ میں حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے دکانداروں کو سات روز قبل نوٹس جاری ، انتظامات کیے جانے تک مارکیٹیں سیل رہیں گی صدر ہاشو سینٹر اور الیکٹرک مارکیٹ سیل کر دی گئی، دونوں مارکیٹوں میں دو سو سے زائد دکانیں موجود ہیں۔تفصیلات کے مطابق فائر سیفٹی ک...
خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ 72,703قومی شناختی کارڈز بلاک کیے گئے سندھ 49,666، پنجاب میں 29,852شناختی کارڈز بلاک ہوئے،نادراحکام پاکستانی حکام نے گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک بھر میں تقریبا 195,000 کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (CNICs) بلاک کیے، جو شہری ڈیٹا بیس میں موجود مخت...
ملک بھر کے عوام ناانصافی کیخلاف رضاکارانہ طور پر دکانیں بند اور احتجاج ریکارڈ کرائیں گے،سندھ اور پنجاب میں پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاریوں اور ان کے گھروں پر چھاپوں کی شدید مذمت بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت،دہشتگردی کیخلاف جدوجہد میں قوم متحد، مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں م...
سیکیورٹی صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال ،امن کیلئے صوبائی حکومت کو کوششیں مزید بڑھانا ہوں گی، صوبائی حکومت با اختیار ،خیبر پختونخوا وفاق کی اہم اکائی ،صوبائی اداروں کو مضبوط کرے،شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات ہوئ...
دہشت گردی کے حوالے سے گفتگو ہوئی، ایک دو ملاقاتیں مزید ہوں گی، میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی اور میں نے بانی سے ملاقات کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔وزیراعظم...
14 روز انتظار کے بعد 30 جنوری کو جواب دینے میں ناکامی پرعہدے سے ہاتھ دھونا پڑا سابق ڈی آئی جی ٹریفک کوعہدے سے ہٹانے پر مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں (رپورٹ : افتخار چوہدری)ڈی آئی جی پیر محمد شاہ پرمبینہ طور پر ذاتی اثرورسوخ استعمال کرکے تاجرکومبینہ طورپراغوا کروانے کا ا...
عدالت نے ایف آئی اے کو چالان مکمل کرنے کیلئے 2 دن کی مہلت دے دی معاملہ 2022 سے چل رہا ہے ، آپ نے دلچسپی ہی نہیں لی، پراسیکیوٹر سے مکالمہ فارن فنڈنگ کسی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے نئی مشکل تیار ہوگئی۔بینکنگ کورٹ اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف غیر...
آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے،شہباز شریف پانی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کومسترد کرتے ہیں،پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے، سندھ طاس معاہدے...
گورنر راج لگانے کی سازشیں ہو رہی ہیں، مجھے عدالتوں سے نااہل کرایا جائے گا،تمام قبائلی اضلاع میں جاکر اسلام آباد میں دھرنے پر رائے لوں گا،سوال یہ ہے دہشتگرد ہمارے گھروں تک پہنچے کیسے؟ میں نے 4 ارب مختص کیے تو وفاق مجھ پر کرپشن کے الزامات لگا رہا ہے، 4 ارب نہیں متاثرین کیلئے 100 ...
کراچی سمیت سندھ میں رہنماؤں ، سینئر صوبائی قیادت ،منتخب نمائندوں اور کارکنان کے گھروں پرتابڑ توڑ چھاپے،متعدد کارکنان نامعلوم مقامات پر منتقل،8 فروری میں 7 دن باقی،حکمران خوفزدہ کریک ڈاؤن کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ منصوبہ بند ی کے تحت کارروائی ہے، گرفتاریوں، دھمکیوں اور حکومت...