وجود

... loading ...

وجود

اچھا نام بچے کے لیے پہلا تحفہ ہے

جمعه 22 دسمبر 2017 اچھا نام بچے  کے لیے پہلا تحفہ ہے

حاجی محمد حنیف طیب
نام کسی بھی آدمی کی شخصیت کا اہم حصہ ہوتا ہے جس سے وہ پہچانا اور پکارا جاتا ہے۔ گھر، محلے،خاندان، اسکول، مدرسے، جامعہ، بازار اور دفتر میں نام ہی اس کی شناخت ہوتا ہے جس طرح کہ کتاب کا نام اس کی شناخت ہوتا ہے۔ کئی مرتبہ نام گھریلو ماحول اور تہذیبی روایات کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ نام اچھا ہو تو انسان کا ضمیر اسے کام بھی اچھا کرنے کی ترغیب دیتا رہتا ہے۔ بچے کے پیدا ہوتے ہی اس کا نام رکھنے کے لیے غوروفکر شروع ہوجاتا ہے۔ ایسے میں باپ کو چاہئے کہ اپنے بچے کا نام اچھا رکھے کہ یہ اس کی طرف سے اپنے بچے کے لیے پہلا اوربنیادی تحفہ ہے۔ جسے بچہ عمر بھر اپنے سینے سے لگائے رکھتا ہے۔
حضور ﷺنے فرمایا: آدمی سب سے پہلا تحفہ اپنے بچے کو نام کا دیتا ہے اس لیے چاہئے کہ اس کا نام اچھا رکھے (جمع الجوامع )
قیامت کے دن نام پکارا جائے گا۔نام کا تعلق صرف دنیاوی زندگی تک نہیں بلکہ جب میدان حشر قائم ہوگا تو انسان کو اسی نام سے مالک کائنات عزوجل کے حضور بلایا جائے گا جس نام سے اسے دنیا میں پکارا جاتا تھا۔ جیسا کہ حضرت سیدنا ابو درداء رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور پاک صاحب لولاک ﷺنے فرمایا۔ قیامت کے دن تم اپنے اور اپنے آباؤ اجدادکے ناموں سے پکارے جائو گے لہذا اپنے اچھے نام رکھا کرو (ابو دائود)
نام کب رکھیں؟افضل یہ ہے کہ ساتویں دن بچے کا عقیقہ کیا جائے اور نام رکھا جائے۔ عقیقہ کرنے سے پہلے بھی نام رکھانا جائز ہے (نزہۃ القاری )
حضرت سیدنا عمرو بن شعیب رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺنے بچہ کی پیدائش کے ساتویں دن اس کا نام رکھنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ (ترمذی)
نام کون رکھے گا؟نام رکھنے کی ذمے داری بنیادی طور پر بچے کے والد کی بنتی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا۔ اولاد کا والد پر یہ حق ہے کہ اس کا اچھا نام رکھے اور اچھا ادب سکھائے۔ (شعب الایمان )
حضرت علامہ عبدالرئوف منادی علیہ رحمتہ اس حدیث کے تحت نقل کرتے ہیں۔ امت کو اچھا نام رکھنے کا حکم دینے میں اس بات پر تنبیہ ہے کہ آدمی کے کام اس کے نام کے مطابق ہونے چاہئیں کیونکہ نام انسان کی شخصیت کے لیے جسم کی طرح ہوتا اور اس کی شخصیت کی عکاسی کرتا ہے۔ اﷲکی حکمت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ نام اور کام میں مناسبت اور تعلق ہو۔ نام کا اثر شخصیت پر اور شخصیت کا اثر نام پر ظاہر ہوتا ہے (فیض القدیر)
حکیم الامت مفتی احمد یار خان رحمتہ اﷲ علیہ اس حدیث پاک کے تحت لکھتے ہیں۔ اچھے نام کا اثر نام والے پر پڑتا ہے۔ اچھا نام وہ ہے جو بے معنی نہ ہو۔ جیسے بدھو ، تلوا وغیرہ اور فخر و تکبر نہ پایا جائے۔ جیسے بادشاہ، شہنشاہ وغیرہ اور نہ برے معنی ہوں جیسے عاصی وغیرہ۔ بہتر یہ ہے کہ انبیاء اکرام علیہم السلام یا حضور کے صحابہ عظام، اہل بیت اطہار رضی اﷲعنہم کے ناموں پر نام رکھنے چاہئے۔ (مراۃ المناجیح )
ہمارے معاشرے میں نام رکھنے کے مختلف انداز:۔بچے یا بچی (بالخصوص پہلی اولاد) کی پیدائش کے بعد عموما قریبی رشتہ داروں مثلا نانی، دادی، خالہ، پھوپھی، تایا ، چاچا وغیرہ کا اصرار ہوتا ہے کہ اس کا نام میں رکھوں گا اور ہر ایک اپنی پسند کا نام بھی چن کر لے آتا ہے۔ اگر والد، راضی ہو تو تو اس میں بھی حرج نہیں۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ نام رکھنے والے بعض اوقات دینی معلومات کی کمی کی وجہ سے بچوں کے ایسے نام بھی رکھ دیتے ہیں جو شرعا ناجائز ہوتے ہیں یا جن کے معانی اچھے نہیں ہوتے۔ ایسے نام رکھنے سے بہرحال بچا جائے۔ والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بیٹے یا بیٹی کا نام نہایت ہی خوبصورت ہو۔ مگر نام کے حتمی انتخاب کے وقت الفاظ کی ظاہری خوبصورتی کا خیال تو ہوتا ہے لیکن دیگر پہلوئوں پر توجہ نہیں ہوتی چنانچہ بعض اوقات لوگ اہل علم سے ایسے ایسے ناموں کے معافی پو چھتے ہیں جو عربی، اردو یا فارسی کسی لغت میں نہیں ملتے۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کے بے معنی نام رکھنا مناسب نہیں۔
اﷲکے پسندیدہ نام:۔اگر کسی بچے کا نام عبد سے شروع کرنا ہو تو سب سے افضل نام عبداﷲ اور عبدالرحمٰن ہیں۔حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ تمہارے ناموں میں سے اﷲکے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نام عبداﷲ اور عبدالرحمٰن ہیں (مسلم)
مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمتہ اﷲعلیہ لکھتے ہیں۔ ان دونوں میں زیادہ افضل عبداﷲہے کہ عبودیت یعنی بندہ ہونے کی اضافت (نسبت) اسم ذات (یعنی اﷲ) کی طرف ہے۔ انہیں (یعنی عبداﷲاور عبدالرحمٰن) کے حکم میں وہ اسماء(یعنی نام) ہیں۔ جن میں عبودیت کی اضافت دیگر اسماء صفاتیہ کی طرف ہو۔ مثلا عبدالرحیم ، عبدالملک، عبدالخالق وغیرہ۔ حدیث میںجو ان دونوں ناموں کو تمام ناموں میں اﷲ تعالیٰ کے نزدیک پیارا فرمایا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اپنا نام عبد کے ساتھ رکھنا چاہتا ہو تو سب سے بہتر عبداﷲاور عبدالرحمٰن ہیں۔ وہ نام نہ رکھے جائیں جو جاہلیت میں رکھے جاتے تھے کہ کسی کا نام عبد شمس (سورج کا بندہ) اور کسی کا نام عبدالدار (گھر کا بندہ) ہوتا۔ (بہار شریعت )
مفتی محمد امجدعلی اعظمی رحمۃ ُاﷲعلیہ مزید لکھتے ہیں۔ عبداﷲ اور عبدالرحمٰن بہت اچھے نام ہیں۔ مگر اس زمانہ میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ بجائے عبدالرحمٰن کے اس شخص کو بہت سے لوگ رحمٰن کہتے ہیں اور غیر خدا کو رحمٰن کہنا حرام ہے۔ اسی طرح عبدالخالق کو خالق، عبدالمعبود کو معبود کہتے ہیں۔ اس قسم کے ناموں میں ایسی ناجائز ترمیم ہرگز نہ کی جائے۔ اسی طرح بہت کثرت سے ناموں میں تصغیر کا رواج ہے۔ یعنی نام کو اس طرح بگاڑتے ہیں جس سے حقارت نکلتی ہے اور ایسے ناموں میں تصغیر ہرگز نہ کی جائے لہذا جہاں یہ گمان ہوکہ ناموں میں تصغیر کی جائے گی۔ یہ نام نہ رکھے جائیں، دوسرے نام رکھے جائیں (بہار شریعت )
عبداﷲ نام رکھنا:۔سرکار دوعالم ﷺنے بہت سے خوش نصیب بچوں کا نام عبداﷲ رکھا۔ چنانچہ حضرت سیدنا عبداﷲ بن مطیع رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ ان کے والد نے خواب میں دیکھاکہ انہیں کھجوروں کی تھیلی دی گئی۔ انہوں نے نبی کریمﷺ سے اپنا خواب بیان کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ تمہاری کوئی زوجہ امیہ سے ہے؟ انہوں نے عرض کی جی ہاں! بنو لیث قبیلہ سے تعلق رکھنے والی زوجہ۔آپ ﷺ نے فرمایا۔ عنقریب تمہارا اس کے ہاں بیٹا پیدا ہوگا۔ جب بچہ پیدا ہوا وہ اسے آپ ﷺکے پاس لائے۔ آپﷺنے اسے کھجور کی گھٹی دی۔ اس کا نام عبداﷲرکھا اور اس کے لیے برکت کی دعا فرمائی (الاصابۃ )
عبدالرحمٰن نام رکھا:۔سرکاردوعالم ﷺ نے کئی صحابہ کرام علیہم الرضوان کا نام عبدالرحمٰن رکھا۔ چنانچہ حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں میر انام عبدشمس تھاتوسرکاردوعالم ﷺنے میرا نام عبدالرحمٰن رکھا (اسد الغابہ )
محمد نام رکھنا :۔حضور ﷺنے فرمایا ،اﷲ تعالیٰ نے ارشادفرمایا۔ مجھے اپنے عزت و جلال کی قسم، جس کا نام تمہارے نام پر ہوگا اسے عذاب نہ دوں گا۔ (کشف الخفاء)
جب کوئی قوم کسی مشورہ کے لیے جمع ہو اور ان میں کوئی شخص ’’محمد‘‘ نام کا ہو اور وہ اسے مشورہ میں شریک نہ کریں تو ان کے لیے مشاورت میں برکت نہ ہوگی (الکامل فی ضعفاء)
دو شخص روز قیامت اﷲرب العزت کے حضور کھڑے کیے جائیں گے۔ حکم ہوگا، انہیں جنت میں لے جائو۔ عرض کریں گے۔ الٰہی ہم کس عمل پر جنت کے قابل ہوئے، ہم نے تو جنت کا کوئی کام نہیں کیا؟ فرمائے گا: جنت میں جائو۔ میں نے حلف کیا ہے کہ جس کا نام احمد یا محمد ہو، دوزخ میں نہ جائے گا (مسندالفردوس )
جس کے تین بیٹے ہوں اور وہ ان میں سے کسی کا نام محمد نہ رکھے وہ ضرور جاہل ہے۔ (معجم کبیر )
رزق میں برکت ہوجاتی:۔حضرت سیدنا امام مالک رحمتہ اﷲعلیہ فرماتے ہیں۔ اہل مکہ آپس میں یہ گفتگو کیا کرتے تھے کہ جس گھر میں بھی محمد نام کا کوئی فرد ہوتا ہے تو اس گھر میں خیروبرکت ہوتی ہے اور ان کے رزق میں برکت ہوتی ہے (المنتقی شرح موطا امام مالک)
’’محمد‘‘ نام رکھا:۔کئی صحابہ کرام علیہم الرضوان ایسے ہیں جن کا نام حضور ﷺنے محمد رکھا۔ جیسا کہ حضرت سیدنا محمد بن طلحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما۔ اُم المومنین حضرت سیدنا زینب بنت حبش رضی اﷲتعالیٰ عنہما کی بہن حضرت سیدتنا حمنہ رضی اﷲتعالیٰ عنہما کے صاحبزادے ہیں۔ جب آپ کی ولادت ہوئی آپ کے والد حضرت سیدنا طلحہ رضی اﷲ عنہ آپ کو سرکار ابد قرار، آپ ﷺ کے پاس لے گئے تاکہ آپﷺبچے کو گھٹی دیں اور اس کا نام رکھیں۔ پیارے آقاﷺنے آپ کے سر پر ہاتھ پھیرا اور ان کا نام محمد رکھا اور اپنی کنیت ابوالقاسم عطا فرمائی۔حضرت سیدنا شعیب رحمتہ اﷲعلیہ، امام عطاء رحمتہ اﷲ علیہ روایت فرماتے ہیں کہ جو یہ چاہے کہ اس کی عورت کے حمل میں لڑکا ہو تو اسے چاہئے کہ اپنا ہاتھ عورت کے پیٹ پر رکھ کر کہے۔ اگر یہ لڑکا ہوا تو میں اس کا نام محمد رکھوں گا۔ ان شاء اﷲلڑکا ہوگا (فتاویٰ رضویہ)
بچے کانام محمد رکھو تو اس کی عزت کرو:۔جب کوئی شخص اپنے بیٹے کا نام محمدرکھے تو اسے چاہئے اس نام پاک کی نسبت کے سبب اس کے ساتھ حسن سلوک کرے اور اس کی عزت کرے۔ حضرت سیدنا علی الرتضیٰ کرم اﷲ تعالیٰ وجہ الکریم سے مروی ہے کہ نبی کرمﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جب تم بیٹے کا نام محمد رکھو تو اس کی عزت کرو اور مجلس میں اس کے لیے جگہ کشادہ کرو اور اس کی نسبت بڑائی کی طرف نہ کرو (الجامع الصغیر)
سلطان محمود غزنوی نے ایک بار ایاز کے بیٹے کوپکارا: اے ایاز کے بیٹے، استنجے کے لیے پانی لائو۔ ایاز نے تھوڑے دنوں بعد عرض کی کہ حضور! مجھ سے یا اس سے (یعنی میرے بیٹے سے) کیا قصور ہوا کہ آپ نے اس کا نام نہ لیا؟ فرمایا۔ تیرے بیٹے کا نام محمد ہے۔ میں اس دن بے وضو تھا میں نے کبھی وضو کے بغیر محمد نام کو اپنی زبان سے ادا نہ کیا (تفسیرنعیمی)
بلا ضرورت دو تین نام ملاکر نہ رکھیں:۔پاک و ہند کے بعض علاقوں میں والد کے نام کو بیٹے کے نام کا حصہ بنایا جاتا ہے جیسے محمد طاہر جنید، ایسے عرف پر عمل کرنے میں حرج نہیں۔ لیکن غیر ضروری طور پر دو یا تین ناموں پر مشتمل ایک نام نہ رکھا جائے۔
نام رکھنے میں مذکر ومونث کا بھی خیال رکھیں:۔بعض اوقات لڑکے کا نام لڑکیوں والا اور لڑکیوں کا نام لڑکوںوالا رکھ دیا جاتا ہے۔ نام ایسا ہو جسے سنتے ہی معلوم ہوجائے کہ یہ لڑکی کا نام ہے یا لڑکے کا مثلا لڑکی کے لیے خدیجہ اور لڑکے کے لیے قاسم نام رکھا جائے۔
غیر مسلموں جیسے مخصوص نام نہیں رکھنے چاہئے :۔اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کو ممانعت ہے کہ کافروں کے نام رکھے۔ جیسا کہ یوحنا نام رکھنے کے متعلق بعض فقہاء نے تصریح فرمائی ہے ۔(فتاویٰ رضویہ)ایک اور جگہ نقل کرتے ہیں۔ ناموں کی ایک قسم کفار کے ساتھ مختص ہے۔ جیسے جرجس، پطرس اور یوحنا وغیرہ۔ لہذا اس نوع (یعنی قسم) کے نام مسلمانوں کے لیے رکھنے جائز نہیں۔ کیونکہ اس میں کفار سے مشابہت پائی جاتی ہے۔ واﷲ تعالیٰ اعلم (فتاویٰ رضویہ )
تاریخی نام رکھنا:۔کئی لوگ تاریخ کے حساب سے نام رکھنے پر بہت زور دیتے ہیں۔ یعنی بچہ جس تاریخ و سن میں پیدا ہوا۔ اس کا حساب لگا کر نام رکھا جاتا ہے۔ اگرچہ علم الاعداد کے لحاظ سے نام رکھنا بزرگوں سے ثابت ہے لیکن بزرگان دین اپنا تاریخی نام اصل نام سے الگ رکھتے تھے۔ بہرحال اگر کوئی تاریخ کے حساب سے نام رکھنا چاہئے تاکہ سن ولادت بھی محفوظ ہوجائے تو رکھ سکتا ہے، لیکن اس میں کوئی فضیلت نہیں ہے۔ بہتر یہی ہے کہ کسی نبی علیہ السلام، کسی صحابی یا کسی ولی کے بابرکت نام پرنام رکھیں۔ اعلیٰ حضرت سے کسی نے عرض کی۔ حضور میرا بھتیجا پیدا ہوا ہے۔ اس کاکوئی تاریخی نام تجویز فرمادیں۔ارشاد فرمایا: تاریخی نام سے کیا فائدہ؟ نام وہ ہوں جن کے احادیث میں فضائل آئے ہیں۔
قرآن سے نام نکالنا:۔بعض لوگ قرآن شریف سے بچوں کا نام نکالتے ہیں۔ اگر وہ نام قرآن پاک میں کسی نبی یا نیک و صالح آدمی کا ہے تب تو کوئی حرج نہیں۔ لیکن بعض اوقات وہ قرآن پاک سے وہ ایسا لفظ نام کے لیے منتخب کرلیتے ہیں جسے معنوی خرابی کی وجہ سے نام کے طور پر استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ مثلا پاکستان کے ایک دیہات میں ایک عورت جو ذرا سی قرآن کریم پڑھنا جانتی تھی۔ اس کے یہاں یکے بعد دیگرے تین بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ اس نے خود کو پڑھا لکھا سمجھتے ہوئے بچیوں کے نام تجویز کرنے کے لیے قرآن پاک سے سور ۃکوثر کاانتخاب کیا۔ چنانچہ بڑی بچی کانام کوثر، دوسری کا نام النحرتجویز کیا۔ تیسری کا نام ابتر مقرر کیا۔ کوثر کے معنی تو بحیثیت نام کسی حد تک درست بھی ہے۔ لیکن وانحر کا معنی ہے ’’اورتم قربانی کرو‘‘ جبکہ آخری لفظ ابتر کے معنی ہے ’’خیر سے محروم رہنے والا‘‘ جو کسی بھی طرح نام رکھنے کے لیے مناسب نہیں۔ مگر جہالت کا کیا علاج۔ اسی طرح ایک بچی کا نام مذبذبین۔ پوچھا گیا یہ کیا نام ہے؟ جواب ملا قرآن شریف میں ہے۔ حالانکہ مذبذبین کا لفظ ان لوگوں کے لیے استعمال ہوا جو کفر و ایمان کے بیچ میں ڈگمگا رہے ہیں نہ خالص مومن نہ کھلے کافر (خزائن العرفان)
بہرحال ایسے لوگوں کو بطور اصلاح کچھ کہا جائے تو سمجھتے ہیں کہ قرآن کریم سے رکھے ہوئے ناموں پر اعتراض کیا جارہا ہے۔ حالانکہ قرآن کریم سے نام تجویز کرنے کے بھی کچھ اصول ہیں۔ ورنہ تو قرآن پاک میں حمار (گدھا) کلب (کتا) خنزیر (سور) بقرہ (گائے) فرعون (خدائیکا دعویٰ کرنے والا مشہور بادشاہ) ہامان (مشہور کافر) وغیرہ کے الفاظ بھی آئے ہیں تو کیا ان کے معنی اور نسبت جاننے کے بعد بھی کوئی ان الفاظ کو اپنے بچے یا بچی کا نام رکھنے کے لیے استعمال کرنے پر تیار ہوگا؟ یقیناً نہیں۔
نیک شخص کے نام پر نام رکھنے کی برکت :۔ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے جس قوم میں کوئی نیک شخص انتقال کرجائے۔ اس کے انتقال کے بعد اس قوم میں کوئی بچہ پیدا ہوا اور وہ اسی بزرگ شخصیت کے نام پر اس بچہ کانام رکھیںتواس اچھا نام رکھنے کے سبب ان لوگوں کے لیے اس بچہ میں بھی وہی نیک صفات پیدا فرمادے گا ۔(ابن عساکر )
محبوبان خدا کے ناموں پر نام رکھنا مستحب ہے:۔فی زمانہ یہ رواج بھی زور پکڑ چکا ہے کہ اپنے بچوں کا نام رکھنے کے لیے ناولوں، ٹی وی ڈراموں اور فلموں کے اداکاروں کے نام بھی چن لیے جاتے ہیں حالانکہ مستحب یہ ہے کہ اﷲوالوں کے نام پر نام رکھے جائے۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ لکھتے ہیں۔حدیث سے ثابت کہ محبوبان خدا انبیاء و اولیاء علیہم السلام کے اسمائے طیبہ پر نام رکھنا مستحب ہے جبکہ ان کی مخصوصات سے نہ ہو (فتاویٰ رضویہ)
بہار شریعت میں ہے۔ اسمائے طیبہ، انبیائے کرام اور صحابہ و تابعین و بزرگان دین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے۔ امید ہے کہ ان کی برکت بچہ کے شامل حال ہو (بہار شریعت )
٭ بچہ کا نام اچھا رکھنا چاہئے٭ میدان محشر میں دنیا میں رکھے گئے نام سے پکارا جائے گا٭ ساتویں دن نام رکھنا بہتر ہے۔ پہلے بھی رکھا جاسکتا ہے٭ نام رکھنا والد کی ذمہ داری ہے۔٭ بچے کا نام منتخب کرتے وقت شرعی احکام کو مدنظر رکھناچاہئے۔
٭کچھ نام ایسے ہیں جن کا رکھناافضل، کچھ کارکھناجائز، کچھ نام نامناسب اور کچھ ناجائز ہیں۔


متعلقہ خبریں


سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم وجود - هفته 31 جنوری 2026

تیس منٹ تک جاری ملاقات میںپی ٹی آئی کے تحفظات سے آگاہ کیاگیا،سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤںعدالت کے باہر پہنچ گئے، کارکنوں کی نعرے بازی، اندر اور باہر سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے عمران خان کو ایسے اسپتال لایا گیا جہاں اس مرض کا ڈاکٹر ہی نہیں ہے،پانچ دن جھوٹ کے بعد ای...

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع وجود - هفته 31 جنوری 2026

انٹیلی جنس بیسڈ اپریشن جاری ہے،بڑے آپریشن سے متعلق پھیلایا جانے والا تاثر جھوٹا اور بے بنیاد ہے، نہ تو علاقے میں فوج کی تعداد میں کوئی اضافہ کیا گیا ہے ،موجودہ موسم بڑے آپریشن کیلئے موزوں نہیں گزشتہ تین برسوں سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کیخلاف انٹیلی جنس معلومات پرآپر...

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن وجود - هفته 31 جنوری 2026

شہر قائد میں میگا پروجیکٹس چل رہے ہیں، وزیراعلی نے حال ہی میں 90ارب روپے مختص کیے ہیں 15ہزار خواتین نے پنک اسکوٹی کیلئے درخواستیں دی ہیں، سینئر وزیر کاسندھ اسمبلی میں اظہار خیال سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی میں ترقیاتی کام جاری ہیں، سڑکیں بن رہی ہیں،ش...

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان وجود - هفته 31 جنوری 2026

حکومتی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، معیشت مستحکم ہو چکی ہے، وزیراعظم میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 روپے کم کر دوں، میرے ہاتھ بندھے ہیں،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتوں کیلئے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان کر دیا، اور کہا کہ میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 رو...

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان

قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد وجود - جمعه 30 جنوری 2026

بانی پی ٹی آئی کی صحت پر خدشات،طبی معاملے میں کسی بھی غفلت یا تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا، طبی حالت فورا فیملی کے سامنے لائی جائے ، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی فیملی اور ذاتی معالجین کے علم کے بغیر اسپتال منتقل کرنا مجرمانہ غفلت ، صحت سے متعلق تمام حقائق فوری طور پر سامنے...

قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 30 جنوری 2026

پاک فوج بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے، جدید جنگ کی نوعیت میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہیں،مستقبل کے میدانِ جنگ کے تقاضوں کیلئے ہر سطح پر اعلیٰ درجے کی تیاری ناگزیر ، چیف آف ڈیفنس فورس سید عاصم منیر کی بہاولپور گیریژن آمد، کور کمانڈرنے استقبال کیا، جوانوں کے بلند حوصلے، پیشہ وران...

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان وجود - جمعه 30 جنوری 2026

عدالتی تحقیقات کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھ رہے ہیں،شرجیل میمن کسی سیاسی جماعت کے دبائو میں نہیں آئیں گے، سینئر صوبائی وزیر کی پریس کانفرنس حکومت سندھ نے کراچی میں پیش آئے سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان کردیا۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سن...

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان

غزہ میں اقتدار کی منتقلی کے انتظامات مکمل، فائلیں تیار، کمیٹیاں تشکیل وجود - جمعه 30 جنوری 2026

حماس غزہ میں انتظامی ذمہ داریاںفلسطینی ٹیکنو کریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کیلئے تیار صدرٹرمپ کی سربراہی میںکمیٹی جنگ کے بعد غزہ کے روزمرہ انتظامی امور چلائے گی فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کی انتظامی ذمہ داریاں ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کے ...

غزہ میں اقتدار کی منتقلی کے انتظامات مکمل، فائلیں تیار، کمیٹیاں تشکیل

وادی تیراہ میں نقل مکانی ہے فوجی آپریشن نہیں،خواجہ آصف وجود - بدھ 28 جنوری 2026

خیبر پختونخوا حکومت فوج پر ملبہ ڈالنا چاہتی ہے، جرگہ کے بعد صوبائی حکومت کی طرف سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا صوبائی حکومت کے مفادات ٹی ٹی پی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں،وزیر دفاع کی پریس کانفرنس وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وادی تیراہ میں نقل مکانی معمول کی بات ہے، خیبر پختو...

وادی تیراہ میں نقل مکانی ہے فوجی آپریشن نہیں،خواجہ آصف

لوگ ازخود نہیں جارہے مجبور کیاگیا ، سہیل آفریدی وجود - بدھ 28 جنوری 2026

وادی تیراہ کے جس علاقے میں آپریشن کیا جا رہا ہے وہاں برفباری کے باعث جانور زندہ نہیں رہ سکتے آفریدی قوم نے کمیٹی ممبران سے اتفاق نہیں کیا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی فوجی آپریشن کی سختی سے مخالفت خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے وادی تیراہ میں فوجی آپریشن کی س...

لوگ ازخود نہیں جارہے مجبور کیاگیا ، سہیل آفریدی

سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن ،ملبہ اٹھانے کا کام بند وجود - بدھ 28 جنوری 2026

متاثرہ عمارت کے اطراف میں پولیس اور رینجرز اہلکار تعینات کر دیے گئے دکانداروں کو بھی حفاظتی اقدامات کے ساتھ اندر لے کر جائیں گے،ڈی سی (رپورٹ: افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن اور ملبہ اٹھانے کا کام مکمل بند کردیا گیاہے، انتظامیہ نے متاثرہ عمارت کو کراچی بلڈنگ کن...

سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن ،ملبہ اٹھانے کا کام بند

جماعت اسلامی کاوزیر اعلیٰ مراد شاہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ وجود - بدھ 28 جنوری 2026

کراچی مسائل کا حل صوبائی یا وفاقی کنٹرول نہیں، بااختیار کراچی سٹی گورنمنٹ ہے، حافظ نعیم یکم فروری کو شاہراہ فیصل پر جینے دو کراچی مارچ کیا جائے گا، پریس کانفرنس سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے منگل کے روز ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ک...

جماعت اسلامی کاوزیر اعلیٰ مراد شاہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

مضامین
نک دا کوکا ۔۔۔ وجود هفته 31 جنوری 2026
نک دا کوکا ۔۔۔

ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح راہداری وجود هفته 31 جنوری 2026
ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح راہداری

بسنت تہوار ثقافت، حفاظت، اور اخلاقی ذمہ داری وجود جمعه 30 جنوری 2026
بسنت تہوار ثقافت، حفاظت، اور اخلاقی ذمہ داری

بھارت کی کمزور معاشی اصلاحات وجود جمعه 30 جنوری 2026
بھارت کی کمزور معاشی اصلاحات

بیداری وجود جمعه 30 جنوری 2026
بیداری

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر