وجود

... loading ...

وجود

ٹرمپ کی بیت المقدس پرامریکا مخالف ووٹ دینے والوں کی امداد بند کرنے کی کھلی دھمکی

جمعه 22 دسمبر 2017 ٹرمپ کی بیت المقدس پرامریکا مخالف ووٹ دینے والوں کی امداد بند کرنے کی کھلی دھمکی

اشعرنوید
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کواسرائل کادارالحکومت تسلیم کرنے اورامریکی سفارتخانہ وہاں منتقل کرنے کے اعلان کے بعد سے صرف مسلم ممالک میں ہی نہیں برطانیا‘جرمنی ‘فرانس ‘یورپی ممالک کے علاوہ خودامریکا میں بھی احتجاج جاری ہے ۔اس کے باوجودامریکی صدرطوطے کی طرح اپنی رٹ پراڑے ہیں ۔ ان کی نامعقولیت کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ وہ اپنے بغل بچے کی خاطرساری دنیاسے ٹکرمول لیناچاہتے ہیں۔ امریکی صدرکے اعلان کی دنیابھرمیں مذمت کی جارہی ہے۔ حال ہی میں اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل کے غیرمستقل رکن مصرکی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کواسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے خلاف قراردادپیش کی گئی برطانیا‘ چین ‘فرانس اورروس سمیت 14ممالک نے قراردادکے حق میں ووٹ ڈالے امریکا کی جانب سے اسے مسترد کیا گیا۔ قراردادکے حق میں ووٹ ڈالنے والے ممالک کی جانب سے موقف اختیارکیاگیاکہ مقبوضہ بیت المقدس کے حوالے سے امریکی فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرش نے بھی کہہ دیاکہ بیت المقدس کے حوالے سے کسی فریق کی طرف سے یک طرفہ فیصلے کی کوئی حیثیت نہیں، القدس کو دونوں ریاستوں فلسطین اور اسرائیل کا دارالحکومت بنایا جانا چاہیے ۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان القدس کو خطرناک اقدام قرار دیا۔ان کا کہناتھا کہ امریکی صدر کے بیت المقدس کو اسرائیلی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے بعد مشرق وسطیٰ مزید پر خطر خطہ بن چکا ہے۔ایک سوال کے جواب میں گوٹیرش نے کہا کہ فلسطین۔ اسرائیل تنازعہ کا حل پر امن طریقے سے کیا جانا چاہیے۔ قومی سلامتی کونسل نے جس کی صدارت وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کی نے بھی پاکستان کے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ بیت المقدس سے متعلق یکطرفہ امریکی فیصلہ قبول نہیں، فیصلے کی واپسی کے لیے دبائو ڈالتے رہیں گے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مقبوضہ بیت القدس کواسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے خلاف قراردادآئی تھی جسے امریکانے ویٹوکردیاتھاتاہم سلامتی کونسل کے فیصلے پربحث کے لیے اقوام متحدہ کااجلاس طلب کیاگیاہے (جوتادم تحریرہوچکاہوگا)اجلاس کے دوران امریکی صدرکے اعلان کے خلاف بحث ہوگی ۔اس بات سے انکارممکن نہیں کہ امریکامیں موجودتمام سیاستدان اسرائیل کے لیے نرم گوشہ ہی رکھتے بلکہ انھیں جہاں موقع ملتاہے اس کے حمایت میں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ۔جو لوگ صہیونی ریاست اور امریکا کے تعلقات کو سمجھتے ہیں انہیں صدر ٹرمپ کے اس فیصلے پر تعجب نہیں ہونا چاہئے۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔، اسرائیلی سیاستدانوں میں تو ایسے لوگ نکل آئینگے جو اپنی حکومت کے عربوں کے بارے میں رویئے پر تنقید کرتے ہیں اور ایسے فیصلوں کو فلسطینی عربوں سے زیادتی تصور کرتے ہیں لیکن امریکا کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں میں ایسے سیاستدان ڈھونڈے سے بھی نہیں ملیں گے جو صہیونی حکومت کو عربوں پر مظالم، نئی بستیاں بسانے سے منع اور فلسطینی علاقوں پر قبضوں کو غلط کہہ سکیں۔
ڈونلڈٹرمپ کواس ساری حمایت میں سب سے آگے نکل گئے ہیں ۔ انھوں نے نہ صرف یہ کہ مقبوضہ بیت المقدس کواسرائیل کادارالحکومت تسلیم کرنے اعلان کیابلکہ اقوام متحدہ میں اپنی بات منوانے کے لیے ہروہ طریقہ اپنارہے ہیں جوا ن کے لیے ممکن ہے ۔ گزشتہ روز واشنگٹن میں خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی آمیزلہجہ اختیارکرتے کہہ دیاکہ مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کے معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکا مخالف ووٹ آنے کی پروا نہیں، وہ ہم سے لاکھوں نہیں، کروڑوں بلکہ اربوں ڈالر امداد لیتے ہیں اور ووٹ بھی ہمارے خلاف دیتے ہیں، وہ لوگ مخالفت میں ووٹ دیکر اپنا شوق پورا کرلیں۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ہم نے پوری صورتحال پر نظر رکھی ہوئی ہے اور ایسے تمام ممالک کو دیکھ رہے ہیں اور مخالفت میں ووٹ دینے والوں کی امداد بند کردیں گے۔
اس سے قبل اقوام متحدہ میںمستقل امریکی مندوب نکی ہیلی نے مختلف ممالک کے سفیروں کو خط میں دھمکی دیتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ جنرل اسمبلی میں بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے خلاف قرارداد کی حمایت کرنے والے ممالک کے نام صدرٹرمپ کو بتائوں گی اور ایک ایک ووٹ کا حساب رکھا جائے گا۔امریکاکی جانب سے اس قسم کے بیانات سامنے آنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ڈونلڈٹرمپ اسرائیل کومشرق وسطی کاغنڈہ بنانے کے لیے ہرحدسے گزرناچاہتے ہیں ۔ چاہے انھیں اس کی قیمت امریکاکوکسی ناختم ہونے والی جنگ میں جھونک کرہی کیوں نہ اداکرناپڑے۔ اس بات سے ساری دنیاواقف ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس مسلمانوں کاقبلہ اول ہے اوردنیاکے ہرگوشے میں موجودمسلمان کسی صورت اسے اسرائیل کی دسترس میں جانے نہیں دیں گے اوراس کے لیے سروں پرکفن باندھ کرمیدان میں آجائیں گے ۔موجودہ صورت میں خطے کوکسی ناختم ہونے والی جنگ سے بچانے کے لیے عالمی برادری کوقائدانہ کرداراداکرناہوگا۔ موجودہ صورت حال میں امریکی صدرکوفیصلہ واپس لینے پرمجبورکرنے کاصرف ایک ہی طریقہ رہ جاتاہے اور وہ ہے عالمی رائے عامہ کا متفقہ دبائو۔ بالکل اسی طرح متفقہ جس طرح کا سلامتی کونسل کے اجلاس میں مظاہرہ کیاگیا۔
امریکی شہ پر اسرائیل کی زیادتیاں برابر بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔اورمقبوضہ بیت المقدمیں فلسطینیوں پرپہلے سے جاری مظالم میں مزیدشدت لے آیاہے ۔ ان پرعرصہ حیات تنگ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔فلسطینیوں کی حمایت میں ساری دنیاکے مسلمانوں کااحتجاج بھی جاری ۔ مسلم ممالک کے سربراہان بھی ساری صورت حال کابغور جائزہ لے رہے ہیں ۔ امریکی صدرکی جانب سے اعلان واپس نہ لیاگیاتومسلم ممالک کے سربراہان جن میں ترکی ‘ایران‘مصر اورپاکستان پیش پیش ہے عوامی دبائو میں آکرکوئی بھی بڑافیصلہ کرسکتے ہیں ۔یہ فیصلہ صرف اسرائیل کے لیے ہی نہیں خودامریکا کے لیے خطرنا ک ثابت ہوسکتاہے ۔موجودہ صورت حال میں خطے کوکسی بھی قسم کی کشیدگی سے بچانے کے لیے اقوام متحدہ کوقائدانہ کرداراداکرناہوگا ۔ اورامریکاکواس کے انتہا پسندانہ اقدامات سے بازرکھنا ہوگا۔ا س تناظر میں قومی سلامتی کونسل کا یہ فیصلہ انتہائی صائب ہے کہ بیت المقدس کے حوالے سے امریکی فیصلے کی واپسی کے لیے اس پر دبائو جاری رکھا جائے۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر