... loading ...
دنیا بھر میں پہاڑی علاقوں میں آباد مکینوں کے لیے ان کے قریب واقع چشموں یا ندیوں سے گھروں تک پانی پہنچانے کے لیے ریم پمپس استعمال ہوتے ہیں جو عمومی طور پر بجلی یا توانائی کے دوسرے ذرائع سے چلتے ہیں۔ لیکن پاکستان کے پہاڑی علاقوں کے غریب مکین ایسے پمپس کو لگوانے اور ان کے خرچ برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے اور اپنی روز مرہ کی ضروریات کے پانی کے لیے روزانہ پیدل یا اپنے بار برداری کے جانوروں کے ذریعے اپنے گھروں سے نیچے میلوں دور واقع چشموں اور ندیوں کا رخ کرتے ہیں۔حال ہی میں ایک پاکستانی انجنیئر رحمت اللہ کندی نے اس پانی کے مسئلے کے حل کے لیے ایک انتہائی سستا اور انتہائی سادہ ریم پمپ ڈیزائن کیا ہے جسے صوبہ خیبر پختون خوا کے کچھ دیہاتوں میں کامیابی سے استعمال کیا جا رہا ہے، جب کہ پہاڑی علاقوں کی ترقیات کا ایک بین الاقوامی ادارہ انٹر نیشنل سنٹر فار دی انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈویلپ مینٹ اس پمپ کو ہنزہ میں تجرباتی طور پر نصب کر رہا ہے۔پروگرام ہر دم رواں ہے زندگی میں گفتگو کرتے ہوئے رحمت اللہ کندی نے کہا کہ ان کے ریم پمپ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ بہت سادہ ہے، اور اس میں صرف دو والو ہیں اور اسے چلانے کے لیے نہ تو بجلی درکار ہوتی ہے اور نہ ہی توانائی کی کوئی اور قسم ، بلکہ یہ اسی پانی کی طاقت سے چلتا ہے جسے کھینچ کر اوپر لے کر جاتا ہے۔ پانی اوپر سے آتا ہے اسے اچانک روکتے ہیں اور اس کی توانائی کو پریشر کی فارم میں اکٹھا کرتے ہیں اور اسی توانائی کو استعمال کر کے پانی کو اوپر کھینچتے ہیں۔اور اس کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ اسے نصب کرنے یا اس کی حفاظت کے لیے کوئی زیادہ مہارت کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اسے ایک عام سمجھ بوجھ رکھنے والا شخص بھی آسانی سے نصب بھی کر سکتا ہے اور چلا بھی سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ریم کی انہی خصوصیات کی وجہ سے اب ایک بین الاقوامی ادارہ اسیہنزہ میں پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر شروع کر رہا ہے۔ اس پائلٹ پراجیکٹ کے انچارج اور پاکستان میں ادارے کے انڈس بیسن پراجیکٹ کے ایسو سی ایٹ کو آرڈی نیٹر مدثر مقصو نے ہر دم رواں ہے زندگی میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ادارہ جس کا ہیڈ کوارٹرز نیپال میں ہیجو کوہ ہندو کش کے پہاڑی علاقے کی ترقیات سے متعلق امور پر ریسرچ کرتا ہے۔ اس میں میانمر سے لے کر پاکستان اور افغانستان تک آٹھ ملک شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریم پمپ ٹکنالوجی کوئی نئی ٹکنالوجی نہیں ہے، لیکن پاکستان میں اس ٹکنالوجی کو باقاعدہ طور پر متعارف کرانے میں رحمت اللہ کندی کا کردار بہت اہم ہے۔ انہوں نے ایک ایسا واٹر ریم پمپ ڈیزائن کیا ہے جو اگر امریکہ یا کسی دوسرے ملک سے منگوایاجائے تو ایک ہزار ڈالر میں دستیاب ہو گا، لیکن پاکستان میں یہ پمپ صرف تین سو ڈالر میں دستیاب ہو رہا ہے۔ اور اگر اس کا استعمال بڑھا تو یہ مزید سستا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ادارہ پاکستان میں پہلی بار کسی دریا کے اوپر ریم پمپ لگا کر پانی کو اونچائی تک لے جا کر وہاں قطرہ قطرہ ا?بپاشی کا نظام قائم کر کے وہاں باغات لگانے کی کوشش کر ر ہا ہے۔ اس سے قبل وہ سولر انرجی کا ایک ایسا پائلٹ پراجیکٹ ہنزہ میں لگا چکا ہے اوراب وہ رحمت اللہ کندی کا یہ ریم پمپ پائلٹ کر رہا ہے۔ اس کی وجہ پر روشنی ڈالتے ہوئے مدثر نے کہا کہ شمالی علاقہ جات کے پہاڑوں سے آنے والا پانی گلیشیئرز یا برف کے پگھلنے سے بنتا ہے، جس میں نمک اور مٹی دونوں شامل ہوتے ہیں۔ عام پمپ اس نمک اور مٹی سے جام اور ناکارہ ہو جاتے ہیں جب کہ یہ نیا ریم پمپ پانی میں شامل نمک اور مٹی دونوں کو ساتھ لے بلند پہاڑی مقامات پرپہنچا دیتا ہے ہاں مٹی اور نمکیات دستیاب نہیں ہوتے اور یوں وہ ان مقامات پر فصلوں کی آبپاشی اور ان کی کاشت ممکن بناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ادارے کا مقصد یہ ہے کہ وہ ایک چھوٹی سی کوئی اختراعی کوشش کر دے جسے حکومت اور دوسرے ادارے بڑھائیں اور پالیسی لیول پر کوئی کام ہو سکے اور پہاڑوں کے مکینوں کی زندگی میں بہتری لا ئی جا سکے۔
ایبٹ آباد کے ایک پہاڑ ی گاؤں شاہ پور کے ایک رہائشی اور کمیونٹی لیڈر ضیاء الرحمان نے اس پمپ کو اپنی بستی میں لگوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ہر دم رواں ہے زندگی میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی بستی کے تین سو مکینوں کو اس پمپ کی مدد سے صاف پانی چوبیس گھنٹے ان کے گھر کے دروازوں تک پہنچ رہا ہے اور اس پمپ کی مدد سے ان کے گاؤں کے لوگ میلوں دور چشموں اور ندیوں تک پیدل سفر کر کے پانی لانے کی مشکل سے حاصل کر چکے ہیں۔ چترال میں دریا کنارے ایک پہاڑ پر واقع ایک ہوٹل کے مالک پرنس سراج الملک نے بھی حال ہی میں رحمت اللہ کندی کے اس ریم پمپ کو اپنے پہاڑی علاقے میں لگوایا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنا ہوٹل ایک بلند پہاڑی پر بنایا ہے جہاں پینے کا پانی تو دستیاب تھا لیکن اس مقام پر باغ لگانا بہت مشکل کام تھا لیکن اس نئیریم کی مددسے وہ چلغ?وزوں کے ساڑھے چار ہزارپودوں کے اپنے باغات کو نیچے واقع دریا کے پانی سے سیراب کر رہے ہیں۔ رحمت اللہ کندی نے کہا کہ ان کے پمپ کو اب بڑیپیمانے پر تیار کیا جاسکتا ہے،وہ اس کی ٹسٹنگ بھی کر چکے ہیں اوراب انہیں ایسے اداروں کی ضرورت ہے جواس ریم پمپ کو ایسے علاقوں میں فروغ دیں جہاں اس کی از حد ضرورت ہے۔ اگرچہ اس کی قیمت بہت زیادہ نہیں ہے لیکن ان علاقوں کے بہت سے غریب لوگ اسے لگوانے کی ابھی بھی استطاعت نہیں رکھتے۔پہاڑوں کی ترقیا ت کے ادارے، انٹر نیشنل سنٹر فار دی انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈویلپ مینٹ کے عہدے دار مدثر مقصود نے کہا کہ وہ وقت دور نہیں جب رحمت اللہ کندی کا یہ ریم پمپ پاکستان کے تمام پہاڑی علاقوں کے مکینوں کے لیے ایک رحمت بن جائے گا جو اس کی مدد سے نہ صرف اپنے روز مرہ کے استعمال کی پانی کی ضروریات پوری کر سکیں گے بلکہ اپنے پہاڑی علاقے میں آبپاشی کر کے فصلیں بھی اگا سکیں گے، اپنے مویشیوں کو بہتر طو ر پر پال سکیں گے اور اپنی اقتصادی حالت کو بہتر بنا سکیں گے۔ جب کہ اس ٹکنالوجی کی مدد سے پاکستان میں دریاؤں کے کنارے جتنی بھی زمینیں ہیں انہیں آباد کیا جا سکے گا۔
نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...
ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...
تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...
ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...
بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...
صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...
ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...
مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...
سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...
سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...
گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...
سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...