وجود

... loading ...

وجود

حسد کی برائی اوراس کا علاج

جمعه 15 دسمبر 2017 حسد کی برائی  اوراس کا علاج

مفتی محمد وقاص رفیعؔ
’’حسد‘‘ کہتے ہیں کسی کے پاس اللہ تعالیٰ کی کوئی نعمت دیکھ یہ تمنا کرنا کہ اُس سے یہ نعمت چھن جائے،چاہے مجھے حاصل ہو یا نہ ہو۔ یہ ایک ایسی باطنی اور روحانی بیماری ہے جو انسان کے سینے میں کینہ، بغض اور کھوٹ کا بیج بودیتی ہے، جس سے انسان کے تمام نیک اعمال تلف ہوجاتے ہیں، اور اُس سے اعمالِ صالحہ کی توفیق اللہ تعالیٰ چھین لیتے ہیں ۔
معاشرتی زندگی کے حوالے سے مختلف مواقع پر ہادیٔ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت کو حسد، کینہ بغض اور ان جیسی دیگر باطنی اور روحانی بیماریوں سے بچنے کی ہمیشہ تاکید فرمائی ہے اور آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ اتفاق و اتحاد، موافقت ویگانگت اور بھائی چارگی کی تعلیم دی ہے۔
چنانچہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ حسد نہ کرو! نہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ بغض رکھو! اور نہ ہی آپس میں ایک دوسرے سے قطع تعلقی کرو! اور اللہ کے بندے بھائی بھائی ہوجاؤ!۔(صحیح مسلم:۴/۱۹۸۳)
ایک دوسری روایت میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’حسد سے بچو! کیوں کہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے۔‘‘ اور ایک روایت میں آیا ہے کہ: ’’ حسد نیکیوں کے نور کو بجھا دیتا ہے۔‘‘(سنن ابی داؤد: ۴/۲۷۶)
ایک اور روایت میں آتا ہے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں آپؐ نے ارشاد فرمایا: ’’ابھی تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آئے گا، تو اتنے میں ایک انصاری آئے جن کی داڑھی سے وضوء کے پانی کے قطرے گر رہے تھے، اور اُنہوں نے بائیں ہاتھ میں جوتیاں لٹکا رکھی تھیں ۔ اگلے دن پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی بات فرمائی تو پھر وہی انصاری اسی طرح آئے جس طرح پہلی مرتبہ آئے تھے ۔ تیسرے دن پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ویسی ہی بات فرمائی اور وہی انصاری اسی حال میں آئے ۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم مجلس سے اُٹھے تو حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ اُس انصاری کے پیچھے گئے، اور اُن سے کہا: ’’میرا والد صاحب سے جھگڑا ہوگیا ہے ، جس کی وجہ سے میں نے قسم کھالی ہے کہ میں تین دن تک اُن کے پاس نہیں جاؤں گا ۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو آپ مجھے اپنے ہاں تین دن ٹھہرالیں؟۔‘‘ اُنہوں نے کہا: ’’ضرور!۔‘‘ پھر حضر ت عبد اللہؓ بیان کرتے تھے کہ : ’’میں نے اُن کے پاس تین راتیں گزاریں ، لیکن میں نے ان کو رات میں زیادہ عبادت کرتے ہوئے نہ دیکھا، البتہ جب رات کو اُن کی آنکھ کھل جاتی تو بستر پر اپنی کروٹ بدلتے اور تھوڑا سا اللہ کا ذکر کرتے اور ’’اللہ اکبر‘‘ کہتے، اور نمازِ فجر کے لیے بستر سے اُٹھتے۔ ہاں! جب بات کرتے تو خیر ہی کی بات کرتے۔جب تین راتیں گزر گئیں اور مجھے ان کے تمام اعمال عام معمول ہی کے نظر آئے (اور میں حیران ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے بشارت تو اتنی بڑی دی ، لیکن ان کا کوئی خاص عمل تو ہے نہیں) تو میں نے اُن سے کہا : ’’اے اللہ کے بندے! میرا والد صاحب سے کوئی جھگڑا نہیں ہوا ، نہ کوئی ناراضگی ہوئی، اور نہ میں نے اُنہیں چھوڑنے کی قسم کھائی، بلکہ قصہ یہ ہوا کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے بارے میں تین مرتبہ یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ: ’’ابھی تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آنے والا ہے۔‘‘ اور تینوں مرتبہ آپ ہی آئے ۔ اِس پر میں نے سوچا کہ میں آپ کے ہاں رہ کر آپ کا خاص عمل دیکھوں اور پھر اس عمل میں آپ کے نقش قدم پر چلوں ۔ میں نے آپ کو کوئی بڑا کام کرتے ہوئے تو دیکھا نہیں ، تو اب آپ بتائیں کہ آپ کا وہ کون سا خاص عمل ہے جس کی وجہ سے آپ اس درجہ کو پہنچ گئے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا؟ اُنہوں نے کہا: ’’میرا کوئی خاص عمل تو ہے نہیں ، وہی عمل ہیں جو تم نے دیکھے ہیں۔‘‘ میں یہ سن کر چل پڑا۔ جب میں نے پشت پھیری تو اُنہوں نے مجھے بلایا اور کہا: ’’میرے اعمال تو وہی ہیں جو تم نے دیکھے ہیں ، البتہ یہ ایک خاص عمل ہے کہ ’’میرے دل میں کسی مسلمان کے بارے میں کھوٹ نہیں ہے۔ اور کسی کو اللہ نے کوئی خاص نعمت عطا فرمارکھی ہو تو میں اِس پر اُس سے ’’حسد‘‘ نہیں کرتا۔‘‘ میں نے کہا: ’’اسی چیز نے آپ کو اتنے بڑے درجے تک پہنچایا ہے۔‘‘ اخرجہ احمد باسناد حسن والنسائی ۔ (حیاۃ الصحابہؓ:۲/۴۵۸، ۴۵۹ )
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’دو شخصوں کے سوا کسی پر ’’حسد‘‘ کرنا جائز نہیں : ایک وہ شخص کہ جس کو حق تعالیٰ شانہ نے قرآن شریف کی تلاوت عطا فرمائی ہو اور وہ دن رات اس میں مشغول رہتا ہو۔ اور دوسرا وہ شخص کہ جس کو حق سبحانہ وتعالیٰ نے مال و دولت کی فراوانی عطا فرمائی ہو اور وہ دن رات اس کو خرچ کرتا ہو۔‘‘(صحیح بخاری:۹/۱۵۴،جامع ترمذی :۴/۳۳۰)
اسمٰعیل بن اُمیہؒ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’تین چیزیں ایسی ہیں جن سے آدمی عاجز نہیں : (۱)بد شگونی (۲) بدظنی (۳) حسد۔ آپؐ نے فرمایاکہ: ’’بدشگونی سے تجھے نجات اس طرح مل سکتی ہے کہ تو اُس پر عمل ہی نہ کر!۔ اور بد ظنی سے تجھے نجات اس طرح مل سکتی ہے کہ تو اُس کے بارے میں بات ہی نہ کر!۔ اور حسد سے تجھے نجات اس طرح مل سکتی ہے کہ تو اپنے مسلمان بھائی کی برائی کے پیچھے مت پڑ! ۔(جامع معمر بن راشد: ۱۰/۴۰۳)
مضارب بن حزنؒ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ لوگوں کو حضرت عثمان کے قتل پر کس چیز نے اُبھارا؟ تو آپؓ نے فرمایا کہ: ’’حسد‘‘ نے۔‘‘(کتاب السنۃ:۲/۵۵۶)
امام ابن عیینہؒ فرماتے ہیں کہ: ’’ حسد‘‘ وہ پہلا گناہ ہے جو آسمان پر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرکے کیا گیا ۔ یعنی شیطان نے حضرت آدم علیہ السلام پر حسد کیا۔اور یہی وہ پہلا گناہ ہے جو زمین پر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرکے کیا گیا ۔ یعنی حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے نے اپنے بھائی پر حسد کیا اور اُس کو قتل کردیا۔(المجالسۃ وجواہر العلم: ۳/۵۱)
امام اصمعیؒ فرماتے ہیں کہ: ’’میں نے بنو عذرہ نامی قبیلہ میں ایک اعرابی (بدو) کو دیکھا جس کی ایک سو بیس سال عمر تھی، میں نے اُس سے پوچھا کہ تمہارے اتنی لمبی عمر کا راز کیا ہے؟تو اُس نے بتایا کہ : ’’میں نے حسد کرنا چھوڑدیاہے، اس لیے ابھی تک باقی (زندہ) ہوں۔‘‘(المجالسۃ وجواہر العلم: ۳/۵۲)
یحییٰ بن ایوبؒ کہتے ہیں کہ انہیں حضرت حسن بصریؒ کی طرف سے یہ بات پہنچی ہے کہ ’’حسد‘‘ نیکیوں کو اس طرح فاسد کردیتا ہے جس طرح ایلوا شہد کو فاسد کردیتا ہے۔(شرح اُصول اعتقاد اہل السنۃ والجماعۃ: ۶/۱۰۹۲)
وہب بن منبہؒ کہتے ہیں کہ: ’’مؤمن آدمی جب ’’حسد‘‘ کرنا چھوڑدیتا ہے تو اُس کی محبت ظاہر ہوجاتی ہے۔‘‘ (حلیۃ الاولیاء: ۴/۶۸)رجاء بن حیوۃؒ کہتے ہیں کہ: ’’ جو کوئی موت کو اکثر یاد کرتا ہو وہ ’’حسد‘‘ اور ’’خوشی‘‘ کو ترک کردیتا ہے۔‘‘ (حلیۃ الاولیاء:۵/ ۷۳)سفیان بن عیینہ ؒ کہتے ہیں کہ: ’’کینہ ٗ حسد ہی کو کہتے ہیں ، جو اس سے نکلے وہ ’’ شر‘‘ ہے اور جو اس میں باقی رہے وہ ’’کینہ‘‘ ہے، اور جس شخص میں حسد نام کی ذرّہ سی بھی کوئی چیز ہوتی ہے وہ صحیح سلامت نہیں رہتا۔ (حلیۃ الاولیاء: ۷/ ۲۸۴)
الغرض حسد، کینہ، بغض اور کھوٹ یہ ایسی باطنی اور روحانی بیماریاں ہیں جو اوّل تو انسان کو نیک اعمال کی طرف راغب ہی نہیں کرتیں، بلکہ اُلٹا پہلے سے جو نیک اعمال اُس نے کیے ہوتے ہیںاُن کو بھی کو ضائع کردیتی ہیں ،اور اس طرح رفتہ رفتہ انسان اعمالِ صالحہ سے دور ہوتے ہوتے معاصی اور گناہوں کی دلدل میں پھنس جاتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اُس سے اعمالِ صالحہ کی چھین لیتے ہیں، اور وہ کوئی نیک عمل نہیں کرسکتا۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر