... loading ...
مفتی محمد وقاص رفیعؔ
’’حسد‘‘ کہتے ہیں کسی کے پاس اللہ تعالیٰ کی کوئی نعمت دیکھ یہ تمنا کرنا کہ اُس سے یہ نعمت چھن جائے،چاہے مجھے حاصل ہو یا نہ ہو۔ یہ ایک ایسی باطنی اور روحانی بیماری ہے جو انسان کے سینے میں کینہ، بغض اور کھوٹ کا بیج بودیتی ہے، جس سے انسان کے تمام نیک اعمال تلف ہوجاتے ہیں، اور اُس سے اعمالِ صالحہ کی توفیق اللہ تعالیٰ چھین لیتے ہیں ۔
معاشرتی زندگی کے حوالے سے مختلف مواقع پر ہادیٔ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت کو حسد، کینہ بغض اور ان جیسی دیگر باطنی اور روحانی بیماریوں سے بچنے کی ہمیشہ تاکید فرمائی ہے اور آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ اتفاق و اتحاد، موافقت ویگانگت اور بھائی چارگی کی تعلیم دی ہے۔
چنانچہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ حسد نہ کرو! نہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ بغض رکھو! اور نہ ہی آپس میں ایک دوسرے سے قطع تعلقی کرو! اور اللہ کے بندے بھائی بھائی ہوجاؤ!۔(صحیح مسلم:۴/۱۹۸۳)
ایک دوسری روایت میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’حسد سے بچو! کیوں کہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے۔‘‘ اور ایک روایت میں آیا ہے کہ: ’’ حسد نیکیوں کے نور کو بجھا دیتا ہے۔‘‘(سنن ابی داؤد: ۴/۲۷۶)
ایک اور روایت میں آتا ہے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں آپؐ نے ارشاد فرمایا: ’’ابھی تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آئے گا، تو اتنے میں ایک انصاری آئے جن کی داڑھی سے وضوء کے پانی کے قطرے گر رہے تھے، اور اُنہوں نے بائیں ہاتھ میں جوتیاں لٹکا رکھی تھیں ۔ اگلے دن پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی بات فرمائی تو پھر وہی انصاری اسی طرح آئے جس طرح پہلی مرتبہ آئے تھے ۔ تیسرے دن پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ویسی ہی بات فرمائی اور وہی انصاری اسی حال میں آئے ۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم مجلس سے اُٹھے تو حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ اُس انصاری کے پیچھے گئے، اور اُن سے کہا: ’’میرا والد صاحب سے جھگڑا ہوگیا ہے ، جس کی وجہ سے میں نے قسم کھالی ہے کہ میں تین دن تک اُن کے پاس نہیں جاؤں گا ۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو آپ مجھے اپنے ہاں تین دن ٹھہرالیں؟۔‘‘ اُنہوں نے کہا: ’’ضرور!۔‘‘ پھر حضر ت عبد اللہؓ بیان کرتے تھے کہ : ’’میں نے اُن کے پاس تین راتیں گزاریں ، لیکن میں نے ان کو رات میں زیادہ عبادت کرتے ہوئے نہ دیکھا، البتہ جب رات کو اُن کی آنکھ کھل جاتی تو بستر پر اپنی کروٹ بدلتے اور تھوڑا سا اللہ کا ذکر کرتے اور ’’اللہ اکبر‘‘ کہتے، اور نمازِ فجر کے لیے بستر سے اُٹھتے۔ ہاں! جب بات کرتے تو خیر ہی کی بات کرتے۔جب تین راتیں گزر گئیں اور مجھے ان کے تمام اعمال عام معمول ہی کے نظر آئے (اور میں حیران ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے بشارت تو اتنی بڑی دی ، لیکن ان کا کوئی خاص عمل تو ہے نہیں) تو میں نے اُن سے کہا : ’’اے اللہ کے بندے! میرا والد صاحب سے کوئی جھگڑا نہیں ہوا ، نہ کوئی ناراضگی ہوئی، اور نہ میں نے اُنہیں چھوڑنے کی قسم کھائی، بلکہ قصہ یہ ہوا کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے بارے میں تین مرتبہ یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ: ’’ابھی تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آنے والا ہے۔‘‘ اور تینوں مرتبہ آپ ہی آئے ۔ اِس پر میں نے سوچا کہ میں آپ کے ہاں رہ کر آپ کا خاص عمل دیکھوں اور پھر اس عمل میں آپ کے نقش قدم پر چلوں ۔ میں نے آپ کو کوئی بڑا کام کرتے ہوئے تو دیکھا نہیں ، تو اب آپ بتائیں کہ آپ کا وہ کون سا خاص عمل ہے جس کی وجہ سے آپ اس درجہ کو پہنچ گئے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا؟ اُنہوں نے کہا: ’’میرا کوئی خاص عمل تو ہے نہیں ، وہی عمل ہیں جو تم نے دیکھے ہیں۔‘‘ میں یہ سن کر چل پڑا۔ جب میں نے پشت پھیری تو اُنہوں نے مجھے بلایا اور کہا: ’’میرے اعمال تو وہی ہیں جو تم نے دیکھے ہیں ، البتہ یہ ایک خاص عمل ہے کہ ’’میرے دل میں کسی مسلمان کے بارے میں کھوٹ نہیں ہے۔ اور کسی کو اللہ نے کوئی خاص نعمت عطا فرمارکھی ہو تو میں اِس پر اُس سے ’’حسد‘‘ نہیں کرتا۔‘‘ میں نے کہا: ’’اسی چیز نے آپ کو اتنے بڑے درجے تک پہنچایا ہے۔‘‘ اخرجہ احمد باسناد حسن والنسائی ۔ (حیاۃ الصحابہؓ:۲/۴۵۸، ۴۵۹ )
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’دو شخصوں کے سوا کسی پر ’’حسد‘‘ کرنا جائز نہیں : ایک وہ شخص کہ جس کو حق تعالیٰ شانہ نے قرآن شریف کی تلاوت عطا فرمائی ہو اور وہ دن رات اس میں مشغول رہتا ہو۔ اور دوسرا وہ شخص کہ جس کو حق سبحانہ وتعالیٰ نے مال و دولت کی فراوانی عطا فرمائی ہو اور وہ دن رات اس کو خرچ کرتا ہو۔‘‘(صحیح بخاری:۹/۱۵۴،جامع ترمذی :۴/۳۳۰)
اسمٰعیل بن اُمیہؒ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’تین چیزیں ایسی ہیں جن سے آدمی عاجز نہیں : (۱)بد شگونی (۲) بدظنی (۳) حسد۔ آپؐ نے فرمایاکہ: ’’بدشگونی سے تجھے نجات اس طرح مل سکتی ہے کہ تو اُس پر عمل ہی نہ کر!۔ اور بد ظنی سے تجھے نجات اس طرح مل سکتی ہے کہ تو اُس کے بارے میں بات ہی نہ کر!۔ اور حسد سے تجھے نجات اس طرح مل سکتی ہے کہ تو اپنے مسلمان بھائی کی برائی کے پیچھے مت پڑ! ۔(جامع معمر بن راشد: ۱۰/۴۰۳)
مضارب بن حزنؒ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ لوگوں کو حضرت عثمان کے قتل پر کس چیز نے اُبھارا؟ تو آپؓ نے فرمایا کہ: ’’حسد‘‘ نے۔‘‘(کتاب السنۃ:۲/۵۵۶)
امام ابن عیینہؒ فرماتے ہیں کہ: ’’ حسد‘‘ وہ پہلا گناہ ہے جو آسمان پر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرکے کیا گیا ۔ یعنی شیطان نے حضرت آدم علیہ السلام پر حسد کیا۔اور یہی وہ پہلا گناہ ہے جو زمین پر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرکے کیا گیا ۔ یعنی حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے نے اپنے بھائی پر حسد کیا اور اُس کو قتل کردیا۔(المجالسۃ وجواہر العلم: ۳/۵۱)
امام اصمعیؒ فرماتے ہیں کہ: ’’میں نے بنو عذرہ نامی قبیلہ میں ایک اعرابی (بدو) کو دیکھا جس کی ایک سو بیس سال عمر تھی، میں نے اُس سے پوچھا کہ تمہارے اتنی لمبی عمر کا راز کیا ہے؟تو اُس نے بتایا کہ : ’’میں نے حسد کرنا چھوڑدیاہے، اس لیے ابھی تک باقی (زندہ) ہوں۔‘‘(المجالسۃ وجواہر العلم: ۳/۵۲)
یحییٰ بن ایوبؒ کہتے ہیں کہ انہیں حضرت حسن بصریؒ کی طرف سے یہ بات پہنچی ہے کہ ’’حسد‘‘ نیکیوں کو اس طرح فاسد کردیتا ہے جس طرح ایلوا شہد کو فاسد کردیتا ہے۔(شرح اُصول اعتقاد اہل السنۃ والجماعۃ: ۶/۱۰۹۲)
وہب بن منبہؒ کہتے ہیں کہ: ’’مؤمن آدمی جب ’’حسد‘‘ کرنا چھوڑدیتا ہے تو اُس کی محبت ظاہر ہوجاتی ہے۔‘‘ (حلیۃ الاولیاء: ۴/۶۸)رجاء بن حیوۃؒ کہتے ہیں کہ: ’’ جو کوئی موت کو اکثر یاد کرتا ہو وہ ’’حسد‘‘ اور ’’خوشی‘‘ کو ترک کردیتا ہے۔‘‘ (حلیۃ الاولیاء:۵/ ۷۳)سفیان بن عیینہ ؒ کہتے ہیں کہ: ’’کینہ ٗ حسد ہی کو کہتے ہیں ، جو اس سے نکلے وہ ’’ شر‘‘ ہے اور جو اس میں باقی رہے وہ ’’کینہ‘‘ ہے، اور جس شخص میں حسد نام کی ذرّہ سی بھی کوئی چیز ہوتی ہے وہ صحیح سلامت نہیں رہتا۔ (حلیۃ الاولیاء: ۷/ ۲۸۴)
الغرض حسد، کینہ، بغض اور کھوٹ یہ ایسی باطنی اور روحانی بیماریاں ہیں جو اوّل تو انسان کو نیک اعمال کی طرف راغب ہی نہیں کرتیں، بلکہ اُلٹا پہلے سے جو نیک اعمال اُس نے کیے ہوتے ہیںاُن کو بھی کو ضائع کردیتی ہیں ،اور اس طرح رفتہ رفتہ انسان اعمالِ صالحہ سے دور ہوتے ہوتے معاصی اور گناہوں کی دلدل میں پھنس جاتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اُس سے اعمالِ صالحہ کی چھین لیتے ہیں، اور وہ کوئی نیک عمل نہیں کرسکتا۔
مجھے ایران کی تازہ ترین تجاویز پیش کر دی گئی ہیں، تہران سے ہماری مذاکرات کی صلاحیت لامحدود ہے ہرمز کی ناکا بندی دوستانہ ہے، نہیں چاہتے ان کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں،ٹرمپ کا ٹروتھ سوشل پر بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے جو کچھ کیا ہے اب تک ایران نے اس کی زیادہ بڑ...
میزائل زمین سے زمین تک 450 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے،حکام پاکستان نے دفاعی نظام کی جانچ سے بھارتی فالس فلیگ ہتھکنڈوں کامنہ توڑجواب دیا،ماہرین پاکستان نے ابدالی میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ کرتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیت اور تکنیکی مہارت کا عملی مظاہرہ کیا ہ...
25 کروڑ عوام پر آئی پی پیز، گیس، چینی اور آٹا مافیانے اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے چند خاندان مختلف ناموں، جماعتوں، نعروں کیساتھ بار بار اقتدار میں آتے ہیں،خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ کرپشن اور مافیا کلچر پاکستان کے مسائل کی جڑ ہیں، جنہ...
نئی قانون سازی کے تحت سپریم لیڈر سے اجازت لی جائے گی ، علی نیکزاد ایران آبنائے ہرمز میں اپنے جائز حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا،گفتگو ایران کی پارلیمنٹ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کی روشنی میں اسٹریٹجک آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کی شر...
بانی پی ٹی آئی ملک کا سب سے بڑا لیڈر ،یہاںوفاداریاں نہ بیچنے والے غدار ہیں، مائنس عمران خان کا ماحول بنایا جا رہا ہے،اداروں سے کہتے ہیں سیاست آپ کا کام نہیں ہے ،محمود اچکزئی تاریخ گواہ ہے عوام کے ریلے کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی اور یہ ریلا عمران خان کو آزاد کرائے گا، ہم بانی ...
عالمی کمپنیاں سوشل میڈیا رولز اور مواد ہٹانے سے متعلق سخت قوانین پر تحفظات رکھتی ہیں رجسٹریشن سے صارفین کی پرائیویسی، آزادیِ اظہارِ رائے پر اثر پڑیگا،قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دنیا کی معروف سوشل میڈیا کمپنیوں نے پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی ظاہر کردی۔ تفصیلات کے مطابق پاک...
قیام امن کیلئے وسائل میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن میں امن کی ضمانت دیتا ہوں فوجی اور انٹیلی جنس کی کارروائیاں امن کے قیام میں ناکام ہوچکی ہیں، لویہ جرگہ سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے کہا ہے کہ قیام امن کیلئے وسائل اگر میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن ...
گھی ، کوکنگ آئل، چائے پتی، چینی کی قیمتوں میں اضافہ، مرغی اورانڈ ے بھی مہنگے شہریوں کی پریشانی میں مزید اضافہ،سرکاری نرخوں پر عملدرآمد سوالیہ نشان بن گیا ملک کے مختلف شہروں کی اوپن مارکیٹ میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار ہے مارکیٹ ذرائع کے مطابق گھی، کوکنگ آئل، چائے پتی، س...
پاکستان کو مسلسل افغان سرزمین سے دہشتگردوں کی دراندازی اور حملوں کا سامنا ہے بعض دہشت گرد کارروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ عناصرملوث پائے گئے، ترجمان پاکستان نے پاک افغان سرحد کی صورتحال پر برطانوی نمائندہ خصوصی کے حالیہ تبصرے کو یکطرفہ اور حقیقت کے منافی قرار دیتے ہوئے سختی...
مشرقِ وسطی میں جاری بحران کے اثرات سے فارمیسیوں سے اہم ادویات غائب ہونے لگیں صورتِ حال برقرار رہی تو آنیوالے دنوں میں ادویات کی قلت سنگین شکل اختیار کر سکتی ہے،ماہرین مشرقِ وسطی میں جاری بحران کے اثرات برطانیہ تک پہنچنا شروع ہو گئے جہاں ملک بھر میں فارمیسیوں سے اہم ادویات غائ...
ایران کی تازہ تجاویز سے مطمئن نہیں،فیصلہ کرنا ہے کہ تہران کیخلاف طاقت استعمال کریں یا مذاکرات کیے جائیں، ٹرمپ کا دو ٹوک اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی تازہ ترین تجاویز سے مطمئن نہیں ہیں۔ واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی ق...
وزارت خزانہ کے تخمینے غلط ثابت، مہنگائی 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی مہنگائی کی سالانہ شرح 10.89فیصد تک جاپہنچی، وفاقی ادارہ شماریات وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ماہانہ رپورٹ جاری کر دی۔وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مارچ کے مقابلے اپریل میں مہنگائی ک...