... loading ...
ایچ اے نقوی
آئی ایم ایف سے نئے قرض حاصل کرتے رہنے کے لیے پاکستان نے گزشتہ دنوں روپے کی قدر میں کمی کرنے کے حوالے سے آئی ایم ایف کی شرط تسلیم کرتے ہوئے ڈالر کے مقابلے میںروپے کی قدر کم کرنے پرآمادگی ظاہر کردی ہے ،جس کے بعد ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہونا شروع ہوگیاہے،امور تجارت پر نظر رکھنے والے اور کاروبار کی ابجد جاننے والے بھی یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ روپے کی قدر میں کمی کا براہِ راست اثردرآمد کی جانے والی اشیاپہ پڑتا ہے اور وہ مزید مہنگی ہوجاتی ہیں جبکہ برآمدکنندگان کو اس سے فائدہ پہنچتاہے اور بیرونی منڈیوں میں ان کے لیے کاروبار کرنا آسان ہوجاتاہے،جس کے نتیجے میں برآمدات میں اضافہ ہوتاہے اور اس طرح حکومت کودرآمدات اور برآمدات کے درمیان توازن پیداکرنے اور درآمدی وبرآمدی تجارت میں خسارے کو کنٹرول میں رکھنے میں آسانی ہوتی ہے، یہی وہ حقیقت ہے جس کی وجہ سے ڈالرکے مقابلے میں پاکستانی روپے کی گرتی ہوئی قدر سے پاکستان کی ٹیکسٹائل اور دیگر برآمدی صنعت سے وابستہ افراد میں خوشی کی لہردوڑ گئی ہے جبکہ درآمد کنندگان میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کا براہِ راست اثر ان اشیاکی قیمتوں پر ہوتا ہے جو بیرونِ ملک سے درآمد کی جاتی ہیں جیسے کہ کمپیوٹرز، گاڑیاں اور موبائل فونز وغیرہ ڈالر کی قیمت میں اضافے اور روپے کی قیمت میں کمی سے ان تمام اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہونایقینی ہے۔اس کے علاوہ روپے کی قدر میں کمی سے پاکستان پر بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف اور عالمی بنک کے قرضوں کا حجم بھی راتوں رات بڑھ جائے گا۔ اس صورت حال کواس طرح سمجھایاسمجھایا جاسکتاہے کہ اگر ایک ڈالر 100 روپے کے برابر ہو اور ایک ارب ڈالر کا قرضہ ہو تو اس حساب سے 100 ارب روپے کا قرضہ ہوگا لیکن اگر ڈالر 110 کا ہوجائے تو قرضہ بھی اسی حساب سے بڑھ جائے گا۔دوسری جانب روپے کی قدر میں کمی سے ملکی برآمدات کرنے والوں کو بظاہر فائدہ ہوتا ہے۔ چونکہ برآمد کرنے والے کو اپنی چیز کی زیادہ قیمت مل رہی ہوتی ہے اس لیے وہ اپنی پیداواری لاگت میں رہتے ہوئے اشیاکی قیمت میں کمی کر سکتا ہے۔ اس طرح عالمی منڈی میں برآمدات بڑھ جاتی ہیں اوراس سے جاری کھاتے یا کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ بھی کم ہوجاتا ہے۔روپے کی قدر میں کمی سے برآمد کنندگان اور ٹیکسٹائل لابی خوش ہوتی ہے۔
ماہرِ معاشیات پروفیسرشاہد حسن صدیقی کاکہناہے کہ ’جب سے موجودہ حکومت آئی ہے پاکستان کی برآمدات مستقل گر رہی ہیں اور درآمدات تیزی سے بڑھ رہی ہیں جس کی وجہ سے گزشتہ چار سال چار ماہ میں 107 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ ہوا ہے۔ ایسے میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی رقوم کے ذریعے اسے کم کرنے کی کوشش کی گئی تاہم پھر بھی جاری کھاتے کاخسارہ تقریبا 22 ارب ڈالر ہو گیا۔‘انھوں نے بتایا کہ پاکستان میں گزشتہ ایک سال سے جاری سیاسی افراتفری اورعدالتی کارروائی کی وجہ سے اب تک بیرونی سرمایہ کاری میں کمی آئی ہے جس سے پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں پانچ ارب ڈالرسے زیادہ کی کمی واقع ہوئی ہے۔اقتصادی تجزیہ کاروں کاکہنا ہے کہ روپے کی قیمت میں کمی کایہ سلسلہ ابھی کچھ عرصے جاری رہنے کاامکان ہے اور’روپے کی قدر مزید کم ہونے کی گنجائش ہے تاہم اس عمل سے کرنٹ اکاؤنٹ کے خسارے میں کوئی خاطر خواہ فرق نہیں پڑے گا کیونکہ اس کے ساتھ جو دوسرے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اس کے لیے مرکزی بینک اور حکومت دونوں تیار نہیں ہیں لہذا اس عمل سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا اور بجٹ کا خسارہ بھی بڑھ جائے گا’۔ان کا کہنا تھا کہ’روپے کی قدرمیں کمی بظاہر غیر مقبول فیصلہ ہے تاہم پاکستان کا بااثر طبقہ یعنی برآمد کنندگان اور ٹیکسٹائل لابی اس سے بہت خوش ہوں گے۔
‘ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچہ نے بی بی سی کو بتایا کہ جون میں بھی ڈالر 104.80 سے بڑھ کر اچانک 110 روپے ہوگیا تھا جس کے بعد حکومت نے ایکشن لیا اور دوبارہ ڈالر 105 روپے پر آگیا تھا۔ گذشتہ جمعہ کو بھی انٹربینک میں ڈالر 111 روپے پر چلا گیا تھا جس کے دو گھنٹے بعد 105.50 روپے پر آگیا۔ تاہم اسی روز مرکزی بینک کی ویب سائٹ پر ڈالر کی قیمت 107 روپے درج تھی لیکن پیر کو ڈالر پھر بڑھ کر 110 پر چلاگیا تھا اور اس وقت بھی انٹربینک میں 108 روپے کا ڈالر ہے جبکہ درآمد کنندگان کو ڈالر 111. میں دیا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ’حکومت نے پانچ سے دس فیصد کی ایڈجسٹمنٹ کیلیے آئی ایم ایف سے ملاقات کرنے کا عندیہ دیا ہے تاہم اگر ڈالر 111 روپے سے اوپر گیا تو حالات خراب ہوسکتے ہیں۔‘ظفر پراچہ نے بتایا کہ کرنسی ڈیلرز کو روپے کی قدر میں کمی سے نقصان ہی ہوتا ہے کیونکہ اگر انھوں نے ڈالر بیچنا بند کیا تو افراتفری مچ سکتی ہے اور کبھی بھی اس کا فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ بیچنے والا بیچنا بند کردیتا ہے اور خریدنے والا بھاگ بھاگ کرخریدتا ہے۔انھوں نے بتایا کہ اس وقت اوپن مارکیٹ میں ڈالر111 روپے میں فروخت کیا جارہا ہے۔
ایک طرف پاکستان میں روپے کی قیمت میںکمی کا سلسلہ شروع ہوچکاہے اورڈالر آسمان پر اڑان بھر رہاہے دوسری جانب پاکستان کے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے جاری کیے گئے ایک حکم نامے نے دوسرے ممالک سے منگوائی جانے والی 731 درآمدی مصنوعات کو مہنگا کر دیا ہے۔حکومت نے درآمدی مصنوعات پر عائد ڈیوٹی اور مختلف ٹیکسوں کی شرح کو 10 سے 50 فیصد تک بڑھا دیا ہے۔حکومت کے اس حالیہ فیصلے کے بعد مکھن، پنیر، دہی، مچھلی، کاسمیٹک، شیمپو، بالوں کو رنگنے والے کلرز، کھیلوں کا سامان، درآمدی گاڑیوں، خشک میوہ جات، درامدی پھل اور سبزیاں، الیکٹرانک سمیت دیگر اشیا مہنگی ہو گئی ہیں۔حکومت کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے نئے ٹیکس لگائے گئے ہیں اور ان ٹیکسوں سے عام آدمی متاثر نہیں ہو گا بلکہ یہ پر تعیش اشیا پر عائد کیا گیا ہے۔اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت بلاواستہ ٹیکسوں کا دائرہ کار بڑھانے کے بجائے بلواستہ ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کر رہی ہے، جس سے مہنگائی میں اضافہ ہو گا۔دوسری جانب صارفین ضروری درآمدی اشیا پر مزید ٹیکس عائد کرنے پر نالاں ہیں۔ صارفین کا کہنا ہے کہ تجارتی خسارہ کم کرنے کے لیے برآمدات کو بڑھانا چاہیے۔یاد رہے کہ رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ کے دوران پاکستان کی برآمدات ساڑھے تین ارب ڈالر اور درآمدات نو ارب 78 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ جولائی اور اگست میں مجموعی تجارتی خسارہ چھ ارب ڈالر سے بڑھ گیا ہے جو گذشتہ سال سے 33 فیصد زیادہ ہے۔
مجھے ایران کی تازہ ترین تجاویز پیش کر دی گئی ہیں، تہران سے ہماری مذاکرات کی صلاحیت لامحدود ہے ہرمز کی ناکا بندی دوستانہ ہے، نہیں چاہتے ان کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں،ٹرمپ کا ٹروتھ سوشل پر بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے جو کچھ کیا ہے اب تک ایران نے اس کی زیادہ بڑ...
میزائل زمین سے زمین تک 450 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے،حکام پاکستان نے دفاعی نظام کی جانچ سے بھارتی فالس فلیگ ہتھکنڈوں کامنہ توڑجواب دیا،ماہرین پاکستان نے ابدالی میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ کرتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیت اور تکنیکی مہارت کا عملی مظاہرہ کیا ہ...
25 کروڑ عوام پر آئی پی پیز، گیس، چینی اور آٹا مافیانے اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے چند خاندان مختلف ناموں، جماعتوں، نعروں کیساتھ بار بار اقتدار میں آتے ہیں،خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ کرپشن اور مافیا کلچر پاکستان کے مسائل کی جڑ ہیں، جنہ...
نئی قانون سازی کے تحت سپریم لیڈر سے اجازت لی جائے گی ، علی نیکزاد ایران آبنائے ہرمز میں اپنے جائز حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا،گفتگو ایران کی پارلیمنٹ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کی روشنی میں اسٹریٹجک آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کی شر...
بانی پی ٹی آئی ملک کا سب سے بڑا لیڈر ،یہاںوفاداریاں نہ بیچنے والے غدار ہیں، مائنس عمران خان کا ماحول بنایا جا رہا ہے،اداروں سے کہتے ہیں سیاست آپ کا کام نہیں ہے ،محمود اچکزئی تاریخ گواہ ہے عوام کے ریلے کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی اور یہ ریلا عمران خان کو آزاد کرائے گا، ہم بانی ...
عالمی کمپنیاں سوشل میڈیا رولز اور مواد ہٹانے سے متعلق سخت قوانین پر تحفظات رکھتی ہیں رجسٹریشن سے صارفین کی پرائیویسی، آزادیِ اظہارِ رائے پر اثر پڑیگا،قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دنیا کی معروف سوشل میڈیا کمپنیوں نے پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی ظاہر کردی۔ تفصیلات کے مطابق پاک...
قیام امن کیلئے وسائل میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن میں امن کی ضمانت دیتا ہوں فوجی اور انٹیلی جنس کی کارروائیاں امن کے قیام میں ناکام ہوچکی ہیں، لویہ جرگہ سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے کہا ہے کہ قیام امن کیلئے وسائل اگر میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن ...
گھی ، کوکنگ آئل، چائے پتی، چینی کی قیمتوں میں اضافہ، مرغی اورانڈ ے بھی مہنگے شہریوں کی پریشانی میں مزید اضافہ،سرکاری نرخوں پر عملدرآمد سوالیہ نشان بن گیا ملک کے مختلف شہروں کی اوپن مارکیٹ میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار ہے مارکیٹ ذرائع کے مطابق گھی، کوکنگ آئل، چائے پتی، س...
پاکستان کو مسلسل افغان سرزمین سے دہشتگردوں کی دراندازی اور حملوں کا سامنا ہے بعض دہشت گرد کارروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ عناصرملوث پائے گئے، ترجمان پاکستان نے پاک افغان سرحد کی صورتحال پر برطانوی نمائندہ خصوصی کے حالیہ تبصرے کو یکطرفہ اور حقیقت کے منافی قرار دیتے ہوئے سختی...
مشرقِ وسطی میں جاری بحران کے اثرات سے فارمیسیوں سے اہم ادویات غائب ہونے لگیں صورتِ حال برقرار رہی تو آنیوالے دنوں میں ادویات کی قلت سنگین شکل اختیار کر سکتی ہے،ماہرین مشرقِ وسطی میں جاری بحران کے اثرات برطانیہ تک پہنچنا شروع ہو گئے جہاں ملک بھر میں فارمیسیوں سے اہم ادویات غائ...
ایران کی تازہ تجاویز سے مطمئن نہیں،فیصلہ کرنا ہے کہ تہران کیخلاف طاقت استعمال کریں یا مذاکرات کیے جائیں، ٹرمپ کا دو ٹوک اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی تازہ ترین تجاویز سے مطمئن نہیں ہیں۔ واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی ق...
وزارت خزانہ کے تخمینے غلط ثابت، مہنگائی 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی مہنگائی کی سالانہ شرح 10.89فیصد تک جاپہنچی، وفاقی ادارہ شماریات وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ماہانہ رپورٹ جاری کر دی۔وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مارچ کے مقابلے اپریل میں مہنگائی ک...