وجود

... loading ...

وجود

حکومت سندھ اور پیپلز پارٹی قیادت سے ٹکرائو سے آئی جی سندھ پولیس گریزاں

جمعرات 14 دسمبر 2017 حکومت سندھ اور پیپلز پارٹی قیادت سے ٹکرائو سے آئی جی سندھ پولیس گریزاں

الیاس احمد
موجودہ آئی جی سندھ پولیس حکومت سندھ اور پیپلز پارٹی کے لیے ایسے بن گئے ہیں جیسے کسی پرندے کے لیے تیر کمان ہوتا ہے۔ پی پی کی قیادت اور حکومت سندھ کے لیے آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ کا نام اتنا ناپسندیدہ بن چکا ہے کہ ان کا نام سنتے ہی ان کے ہاتھ سے روٹی کا نوالہ گرجاتا ہے ان کا موڈ خراب ہوجاتا ہے ان کے چہرے کی ہوائیاں اڑجاتی ہیں وجہ صرف ایک ہی ہے کہ پی پی پی کی اعلیٰ قیادت کا کاروباری شراکت دار کو آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ پسند نہیں کرتے ان کے اشارے پر نہیں چلتے ان کے جائز ناجائز کام نہیں کرتے ہیں اس کاروباری شخصیت کو ناراض کرنے کا مطلب پوری پیپلز پارٹی اور حکومت سندھ کو ناراض کرنا ہے اور اس ایک نقطہ کو لے کر اچھی شہرت کے حامل افسر اے ڈی خواجہ کو ہٹانے کے لیے حکومت سندھ نے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا اور قانونی حدود بھی پھلانگ ڈالیں حیرت تو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ پر ہوتی ہے جن کے والد عبداﷲ شاہ جب وزیراعلیٰ تھے تو اے ڈی خواجہ ان کے پرسنل اسٹاف افسر (پی ایس او) تھے اور یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ عبداﷲ شاہ کوئی حکم جاری کرتے تھے تو پی ایس او کی حیثیت سے اے ڈی خواجہ اگر کسی حکم پر عمل نہیں کرنے دیتے تھے اور وزیراعلیٰ عبداﷲ شاہ کو تفصیلی بات بتاتے تو عبداﷲ شاہ فوری طورپر حقیقت تسلیم کرتے مگر کیا عبداﷲ شاہ سے زیادہ مراد علی شاہ مجبور ہیں؟ مراد علی شاہ اپنے والد کی قبر پر جب حاضری دیتے ہوں گے تو اپنے دل میں کیا کہتے ہوں گے کہ ’’دیکھو ابا جان آپ تو محترمہ بینظیر بھٹو کے سامنے بھی ڈٹ جاتے تھے اور اپنی بات منوالیتے تھے آپ چہیتے پی ایس او کی باتوں کو بھی مان لیتے تھے لیکن اب میں تو پارٹی قیادت کے سامنے مجبور ہوں اور کٹھ پتلی بن کر آپ کے چہیتے پی ایس او کو پریشان کررہا ہوں‘‘۔
وقت تو ویسے بھی گزرجاتا ہے جب سید مراد علی شاہ کی تاریخ لکھی جائے گی اور ان کا مقابلہ اپنے والد سید عبداﷲ شاہ سے کیا جائے گا تو مورخ کیا لکھے گا؟ یہ خود مراد علی شاہ کو بھی پتہ ہے اس وقت مراد علی شاہ کے پاس صفائی اور وضاحت کے لیے کچھ نہیں ہوگا۔ اسی لیے تو اﷲ تعالیٰ نے عزت، ذلت، رزق، روزگار اور زندگی موت اپنے ہاتھ میں رکھی ہے، کیونکہ اگر یہ سب انسانوں کے ہاتھ میں ہوتا تو وہ کسی کو جینے کا بھی حق نہ دیتے اسی طرح اﷲ تعالیٰ نے آئی جی سندھ پولیس کی عزت رکھی، حکومت سندھ نے ہر طرح کی زور آزمائی کی لیکن آئی جی کو نہ ہٹاسکی، اب تو صرف صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال کے بیانات رہ گئے ہیں، جس میں اخلاقیات کا جنازہ نکالا جاتا ہے، دوسری جانب اب آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ سے ان کے اپنے قریبی دوست ناراض ہونا شروع ہوگئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ جب حکومت سندھ نے ان کے خلاف ہر طرح کی کارروائی کی ہے تو پھر وہ بھی حکومت سندھ کے مقرر کردہ پولیس افسران کو ہٹائیں۔ اس وقت 29 اضلاع میں سے 22 اضلاع میں ایس ایس پیز وہ تعینات ہیں جن کو بلاول ہائوس، وزیراعلیٰ ہائوس اور وزیر داخلہ سندھ نے تعینات کیا تھا۔ قریبی دوستوں اور ساتھیوں نے آئی جی سے کہا ہے کہ جب سندھ ہائی کورٹ نے انہیں تبادلوں وتقرریوں کا اختیار دیا ہے تو پھر وہ ان افسران کو کیوں نہیں تعینات کرتے جو کم از کم حکومت سندھ کے حامی نہیں ہیں جن کو حکومت سندھ نے نظر انداز کیا تھا مگر آئی جی سندھ کا کہنا ہے کہ جب اختیارات ملتے ہیں تو انسان کا اصل چہرہ سامنے آجاتا ہے اگر اﷲ تعالیٰ نے ان کو سندھ ہائی کورٹ کے توسط سے اختیارات دیئے ہیں تو وہ ان اختیارات کا ناجائز استعمال نہیں کریں گے اور کسی بھی صورت میں ایسا تاثر نہیں دینا چاہتے جس سے یہ ثابت ہو کہ وہ بھی انتقامی کارروائی کرنا چاہتے ہیں اگر دوست سمجھتے ہیں کہ حکومت سندھ نے انتقام لیا تھا اور آج وہ بھی انتقام لیں تو پھر دونوں میں باقی کیا فرق رہ جائے گا وہ انتقام پر کبھی یقین نہیں رکھتے یہی وجہ ہے کہ 22 ایس ایس پیز اور 8 میں سے 6 ڈی آئی جیز بھی حکومت سندھ، بلاول ہائوس اور صوبائی وزیر داخلہ کے مقرر کردہ ہیں ان کو انہوں نے تبدیل نہیں کیا۔
آئی جی سندھ کا یہ موقف اپنی جگہ پر درست ہے کیونکہ سب سے بڑا انتقام معاف کرنا ہے ۔لیکن ان کے دوست اور ساتھی اس وجہ سے ناراض ہیں کہ جو پولیس افسران مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے رہے اورآئی جی سندھ کاہرطرح ساتھ اب وہ افسرچاہتے ہیں کہ کم ازکم آئی جی سندھ ایک فیصلہ تواپنی مرضی کاکرلیں اور اپنے ساتھیوں کو اہم عہدوں پر تعینات کریں۔ ایسے افسران جنہوں نے حکومت سندھ اور صوبائی وزیر داخلہ سے وفاداری دکھائی تھی ان کو سبق ضرور سکھایا جائے تاکہ آئندہ کسی کو بھی ایسی حرکت کرنے کی جرأت نہ ہوسکے مگر آئی جی سندھ ٹس سے مس نہیں ہورہے اور انہوں نے اپنے ساتھیوں اور دوستوں پر واضح کردیا ہے کہ وہ کسی کے خلاف ایسی کوئی کارروائی نہیں کریں گے۔ جس سے انتقامی کارروائی کا شائبہ بھی ہو۔ آئی جی سندھ سے آہستہ آہستہ قریبی دوست اور ساتھی دور ہوتے جارہے ہیں ،کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ جب وہ مشکل وقت حکومتی رعب اور پیشکش کو پس پشت ڈال کر آئی جی سندھ کے ساتھ کھڑے رہے اور آج آئی جی سندھ کو سندھ ہائی کورٹ نے مکمل بااختیار بنادیا ہے تو وہ کم از کم اپنے قریبی دوستوں کو تو ایڈجست کریں اور جو مخالف تھے ان کو کھڈے لائن لگادیں۔ آئی جی سندھ نے اپنے دوستوں اور ساتھیوں کی مخالفت مول لی ہے اور ان کی ایک سوچ یہ بھی ہے کہ کل کلاں انہیں ملازمت سے ریٹائرڈ بھی ہونا ہے تو وہ بھی سندھ میں رہیں گے اور موجودہ حکمراں بھی سندھ میں رہیں گے انہیں اس وقت یہ نہ کہا جائے کہ انہوں نے حکومت کی طرح خود بھی انتقام لیا۔


متعلقہ خبریں


ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، ایران کی طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ،اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی علی لاریجانی کی ہلاکت ایرانی حکومت کے خاتمے کے ہمارے منصوبے کا حصہ ہے، ہم ہارڈ لائنر کو نشانہ بنا ...

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

بس کردیں اور بانی کاعلاج کرائیں، جب ملاقات ہو گی تو انھیں بتائیں گے کتنے لوگوں نے ان سے اظہار یکجہتی کیا،اعتزاز احسن کے شکر گزار وہ آئے اور ہمارے ساتھ بیٹھے ،جدوجہد جاری رکھیں گے اگر عید کے بعد علاج نہ کروایا اور ملاقات نہیں ہونے دی تو حالات بدلیں گے، چیف کمشنر کی بات پر کیسے ی...

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

امریکہ، اسرائیل طاغوت، شیعہ سنی تفریق پیدا کرنیوالے ان کے آلہ کار ہیں، امیر جماعت اسلامی جماعت اسلامی اسٹیبلشمنٹ نہیں عوامی تائید سے اقتدار چاہتی ہے، حلقہ خواتین کی تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم بے اختیار، فارم سنتالیس سے آئے...

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ملک کی پیٹرولیم درآمدات کی سپلائی چین بہتر بنانے کیلئے وزیر پیٹرولیم مزید متحرک ہوں شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس،کفایت شعاری کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ حالات کی بہتری تک تمام متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں، ملک کی پیٹرولیم...

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم

تہران پر بمباری، عراق ودبئی میں ڈرون حملہ،10امریکی فوجی ہلاک وجود - منگل 17 مارچ 2026

بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب وکٹوریہ بیس پر ڈرونز اور راکٹوں سے حملہ، آگ بھڑک اٹھی ،8 افراد زخمی ،عراقی مزاحمتی تنظیم کی امریکی سفارتخانے کو نشانہ بنانے کی کوشش،روسی ٹی وی کا دعویٰ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے17 ویں روز ایران پر حملوں کا سلسلہ جاری ، اسرائیل کے وسطی علاقوں...

تہران پر بمباری، عراق ودبئی میں ڈرون حملہ،10امریکی فوجی ہلاک

بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام، ادائیگی مرکز کی چھت گرنے سے 8 خواتین جاں بحق، 70سے زائد زخمی وجود - منگل 17 مارچ 2026

رقم کی وصولی کے سلسلہ میںخواتین دوکان کی چھت پرچڑھ گئیں جس سے کمزورچھت اچانک زمین بوس ہوگئی،ضلعی انتظامیہ متعدد کی حالت تشویشناک علاقہ بھرکی فضاسوگوار،وزیراعلیٰ پنجاب کانوٹس، رپورٹ طلب کرلی، لواحقین سے اظہارتعزیت بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کی رقم وصولی کے دوران دوکان کی چھت گر...

بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام، ادائیگی مرکز کی چھت گرنے سے 8 خواتین جاں بحق، 70سے زائد زخمی

عالمی سطح پر جاری کشیدگی، کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں(وزیر اعظم) وجود - منگل 17 مارچ 2026

بروقت فیصلوں کی بدولت اس وقت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مناسب مقدار موجود ہے،شہباز شریف ملکی معیشت کے استحکام اور عوام کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس میں بات چیت وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے پیش نظر کسی بھی ق...

عالمی سطح پر جاری کشیدگی، کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں(وزیر اعظم)

کراچی کے موٹر سائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرا دیا وجود - منگل 17 مارچ 2026

سروے میں 100فیصد موٹرسائیکل سوار دھوکا دینے میں ملوث نکلے ،ڈی آئی جی ٹریفک آئی جی سندھ کے احکامات پر عید کے بعد بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا شہر قائد کے موٹرسائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرادیا ، ڈی آئی جی ٹریفک نے انکشاف کیا سروے میں 100 فیصد موٹرسائیکل س...

کراچی کے موٹر سائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرا دیا

اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں وجود - پیر 16 مارچ 2026

اصفہان میں15 افراد شہید، کئی زخمی ہو گئے،لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ،ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے موجودہ شرائط امریکا کیلئے قابل قبول نہیں ہیں، امریکی صدر ٹرمپ اسرائیل میںایرانی پاسداران انقلاب کے میزائل حملے سے بڑے پیمانے تباہی ، متعدد مقامات پر آگ...

اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں

گورنر ہاؤس میںکتنے پیسے خرچ اور کہاں استعمال ہو ئے، مکمل آڈٹ کراؤں گا، گورنر سندھ نہال ہاشمی وجود - پیر 16 مارچ 2026

کراچی اور سندھ کے خلاف منفی بات نہ کی جائے،میں سیاسی کارکن ہوں،ہم ہوں یا نہ ہوں، صوبہ اورشہر ہمیشہ قائم رہیں گے ، پروپیگنڈا نہیں کریں گے، وزیراعظم کے یوتھ پروگرام کو لایا جائے گا سوشل میڈیا ویڈیوبنا کر فنکار نہیں بنائیں، نوازشریف جیل جا سکتے ہیںملک کو نقصان نہیں پہنچاسکتے، میںغل...

گورنر ہاؤس میںکتنے پیسے خرچ اور کہاں استعمال ہو ئے، مکمل آڈٹ کراؤں گا، گورنر سندھ نہال ہاشمی

نیتن یاہو کو ہر حال میں نشانہ بنائیں گے، پاسداران انقلاب کی دھمکی وجود - پیر 16 مارچ 2026

اسرائیلی وزیر اعظم زندہ ہیں تو وہ ایرانی حملوں کا ہدف رہیں گے، بچوں کا قاتل قراردیتے ہوئے سخت بیان نیتن یاہو محفوظ اور ہلاکت سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں، اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے خبروں کو مسترد کردیا ایران کی پاسداران انقلاب نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے خلاف سخت بی...

نیتن یاہو کو ہر حال میں نشانہ بنائیں گے، پاسداران انقلاب کی دھمکی

آپریشن غصب للحق،684 شدت پسند ہلاک، 252 چوکیاں تباہ وجود - پیر 16 مارچ 2026

مسلح افواج کی کارروائیوں میں 912 زخمی،دہشتگردوں کی44 پوسٹوں پر قبضہ 229 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں تباہ کی گئیں، وزارت اطلاعات کا بیان آپریشن غضب لِلحق کے تحت پاکستان کی مسلح افواج کی کارروائیوں میں دہشتگردوں اور افغان طالبان کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ وز...

آپریشن غصب للحق،684 شدت پسند ہلاک، 252 چوکیاں تباہ

مضامین
چاہ بہار پر بھارتی سرمایہ کاری وجود جمعرات 19 مارچ 2026
چاہ بہار پر بھارتی سرمایہ کاری

خلیجی لڑائی کے کچھ حیران کُن پہلو وجود جمعرات 19 مارچ 2026
خلیجی لڑائی کے کچھ حیران کُن پہلو

پاک افغان بگڑتے تعلقات وجود بدھ 18 مارچ 2026
پاک افغان بگڑتے تعلقات

نیتن یاہو کا بھائی یا قصائی ؟ وجود بدھ 18 مارچ 2026
نیتن یاہو کا بھائی یا قصائی ؟

کفن چور وجود منگل 17 مارچ 2026
کفن چور

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر