... loading ...
الیاس احمد
موجودہ آئی جی سندھ پولیس حکومت سندھ اور پیپلز پارٹی کے لیے ایسے بن گئے ہیں جیسے کسی پرندے کے لیے تیر کمان ہوتا ہے۔ پی پی کی قیادت اور حکومت سندھ کے لیے آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ کا نام اتنا ناپسندیدہ بن چکا ہے کہ ان کا نام سنتے ہی ان کے ہاتھ سے روٹی کا نوالہ گرجاتا ہے ان کا موڈ خراب ہوجاتا ہے ان کے چہرے کی ہوائیاں اڑجاتی ہیں وجہ صرف ایک ہی ہے کہ پی پی پی کی اعلیٰ قیادت کا کاروباری شراکت دار کو آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ پسند نہیں کرتے ان کے اشارے پر نہیں چلتے ان کے جائز ناجائز کام نہیں کرتے ہیں اس کاروباری شخصیت کو ناراض کرنے کا مطلب پوری پیپلز پارٹی اور حکومت سندھ کو ناراض کرنا ہے اور اس ایک نقطہ کو لے کر اچھی شہرت کے حامل افسر اے ڈی خواجہ کو ہٹانے کے لیے حکومت سندھ نے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا اور قانونی حدود بھی پھلانگ ڈالیں حیرت تو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ پر ہوتی ہے جن کے والد عبداﷲ شاہ جب وزیراعلیٰ تھے تو اے ڈی خواجہ ان کے پرسنل اسٹاف افسر (پی ایس او) تھے اور یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ عبداﷲ شاہ کوئی حکم جاری کرتے تھے تو پی ایس او کی حیثیت سے اے ڈی خواجہ اگر کسی حکم پر عمل نہیں کرنے دیتے تھے اور وزیراعلیٰ عبداﷲ شاہ کو تفصیلی بات بتاتے تو عبداﷲ شاہ فوری طورپر حقیقت تسلیم کرتے مگر کیا عبداﷲ شاہ سے زیادہ مراد علی شاہ مجبور ہیں؟ مراد علی شاہ اپنے والد کی قبر پر جب حاضری دیتے ہوں گے تو اپنے دل میں کیا کہتے ہوں گے کہ ’’دیکھو ابا جان آپ تو محترمہ بینظیر بھٹو کے سامنے بھی ڈٹ جاتے تھے اور اپنی بات منوالیتے تھے آپ چہیتے پی ایس او کی باتوں کو بھی مان لیتے تھے لیکن اب میں تو پارٹی قیادت کے سامنے مجبور ہوں اور کٹھ پتلی بن کر آپ کے چہیتے پی ایس او کو پریشان کررہا ہوں‘‘۔
وقت تو ویسے بھی گزرجاتا ہے جب سید مراد علی شاہ کی تاریخ لکھی جائے گی اور ان کا مقابلہ اپنے والد سید عبداﷲ شاہ سے کیا جائے گا تو مورخ کیا لکھے گا؟ یہ خود مراد علی شاہ کو بھی پتہ ہے اس وقت مراد علی شاہ کے پاس صفائی اور وضاحت کے لیے کچھ نہیں ہوگا۔ اسی لیے تو اﷲ تعالیٰ نے عزت، ذلت، رزق، روزگار اور زندگی موت اپنے ہاتھ میں رکھی ہے، کیونکہ اگر یہ سب انسانوں کے ہاتھ میں ہوتا تو وہ کسی کو جینے کا بھی حق نہ دیتے اسی طرح اﷲ تعالیٰ نے آئی جی سندھ پولیس کی عزت رکھی، حکومت سندھ نے ہر طرح کی زور آزمائی کی لیکن آئی جی کو نہ ہٹاسکی، اب تو صرف صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال کے بیانات رہ گئے ہیں، جس میں اخلاقیات کا جنازہ نکالا جاتا ہے، دوسری جانب اب آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ سے ان کے اپنے قریبی دوست ناراض ہونا شروع ہوگئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ جب حکومت سندھ نے ان کے خلاف ہر طرح کی کارروائی کی ہے تو پھر وہ بھی حکومت سندھ کے مقرر کردہ پولیس افسران کو ہٹائیں۔ اس وقت 29 اضلاع میں سے 22 اضلاع میں ایس ایس پیز وہ تعینات ہیں جن کو بلاول ہائوس، وزیراعلیٰ ہائوس اور وزیر داخلہ سندھ نے تعینات کیا تھا۔ قریبی دوستوں اور ساتھیوں نے آئی جی سے کہا ہے کہ جب سندھ ہائی کورٹ نے انہیں تبادلوں وتقرریوں کا اختیار دیا ہے تو پھر وہ ان افسران کو کیوں نہیں تعینات کرتے جو کم از کم حکومت سندھ کے حامی نہیں ہیں جن کو حکومت سندھ نے نظر انداز کیا تھا مگر آئی جی سندھ کا کہنا ہے کہ جب اختیارات ملتے ہیں تو انسان کا اصل چہرہ سامنے آجاتا ہے اگر اﷲ تعالیٰ نے ان کو سندھ ہائی کورٹ کے توسط سے اختیارات دیئے ہیں تو وہ ان اختیارات کا ناجائز استعمال نہیں کریں گے اور کسی بھی صورت میں ایسا تاثر نہیں دینا چاہتے جس سے یہ ثابت ہو کہ وہ بھی انتقامی کارروائی کرنا چاہتے ہیں اگر دوست سمجھتے ہیں کہ حکومت سندھ نے انتقام لیا تھا اور آج وہ بھی انتقام لیں تو پھر دونوں میں باقی کیا فرق رہ جائے گا وہ انتقام پر کبھی یقین نہیں رکھتے یہی وجہ ہے کہ 22 ایس ایس پیز اور 8 میں سے 6 ڈی آئی جیز بھی حکومت سندھ، بلاول ہائوس اور صوبائی وزیر داخلہ کے مقرر کردہ ہیں ان کو انہوں نے تبدیل نہیں کیا۔
آئی جی سندھ کا یہ موقف اپنی جگہ پر درست ہے کیونکہ سب سے بڑا انتقام معاف کرنا ہے ۔لیکن ان کے دوست اور ساتھی اس وجہ سے ناراض ہیں کہ جو پولیس افسران مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے رہے اورآئی جی سندھ کاہرطرح ساتھ اب وہ افسرچاہتے ہیں کہ کم ازکم آئی جی سندھ ایک فیصلہ تواپنی مرضی کاکرلیں اور اپنے ساتھیوں کو اہم عہدوں پر تعینات کریں۔ ایسے افسران جنہوں نے حکومت سندھ اور صوبائی وزیر داخلہ سے وفاداری دکھائی تھی ان کو سبق ضرور سکھایا جائے تاکہ آئندہ کسی کو بھی ایسی حرکت کرنے کی جرأت نہ ہوسکے مگر آئی جی سندھ ٹس سے مس نہیں ہورہے اور انہوں نے اپنے ساتھیوں اور دوستوں پر واضح کردیا ہے کہ وہ کسی کے خلاف ایسی کوئی کارروائی نہیں کریں گے۔ جس سے انتقامی کارروائی کا شائبہ بھی ہو۔ آئی جی سندھ سے آہستہ آہستہ قریبی دوست اور ساتھی دور ہوتے جارہے ہیں ،کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ جب وہ مشکل وقت حکومتی رعب اور پیشکش کو پس پشت ڈال کر آئی جی سندھ کے ساتھ کھڑے رہے اور آج آئی جی سندھ کو سندھ ہائی کورٹ نے مکمل بااختیار بنادیا ہے تو وہ کم از کم اپنے قریبی دوستوں کو تو ایڈجست کریں اور جو مخالف تھے ان کو کھڈے لائن لگادیں۔ آئی جی سندھ نے اپنے دوستوں اور ساتھیوں کی مخالفت مول لی ہے اور ان کی ایک سوچ یہ بھی ہے کہ کل کلاں انہیں ملازمت سے ریٹائرڈ بھی ہونا ہے تو وہ بھی سندھ میں رہیں گے اور موجودہ حکمراں بھی سندھ میں رہیں گے انہیں اس وقت یہ نہ کہا جائے کہ انہوں نے حکومت کی طرح خود بھی انتقام لیا۔
دہشتگردوں نے 12 مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے، بروقت اور مؤثر کاروائی کے نتیجے میں تمام حملے ناکام ، حملہ آوروں کا تعاقب اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ تا حال جاری ،سکیورٹی ذرائع گوادر میں بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کی دہشت گردی، 11 معصوم بلوچ مزدور بے دردی سے شہید،5 مرد،...
31 کروڑ تنازع پر اغوائ، دانش متین کیس میں ڈی آئی جی ٹریفک ،پولیس، بااثر شخصیات زیرِ تفتیش پولیس افسران سے رابطوں کے بعد دانش متین کو واپس کراچی لا کر دفتر کے قریب چھوڑ دیا گیا، ذرائع ( رپورٹ: افتخار چوہدری) ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کا بلڈر کے اغوا میں ملوث ہونے کا انکشاف۔...
بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد نیٹ ورک کی کمر توڑ دی مختلف علاقوں میں دہشتگرد حملوں کو ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد بوکھلاہٹ ...
حکومت سندھ نے موٹر گاڑیوں کے پورے نظام کو کمپیوٹرائز کردیا گیا ہے،سینئر وزیر کچھ بسیں پورٹ پر موجود ہیں،مزید 500 بسوں کی اجازت دے دی ہے،بیان سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ بغیر کمپیوٹرائز فٹنس اب کوئی گاڑی سڑک پر نہیں چل سکتی۔ایک بیان میں شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ...
سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ بنا کر متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں ہم کسی سے مدد نہیں مانگ رہے ہیں،حکومت قانونی کارروائی کرے،انتظامیہ سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم ہوگئے، متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق گُل پلازہ کے مت...
تیس منٹ تک جاری ملاقات میںپی ٹی آئی کے تحفظات سے آگاہ کیاگیا،سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤںعدالت کے باہر پہنچ گئے، کارکنوں کی نعرے بازی، اندر اور باہر سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے عمران خان کو ایسے اسپتال لایا گیا جہاں اس مرض کا ڈاکٹر ہی نہیں ہے،پانچ دن جھوٹ کے بعد ای...
انٹیلی جنس بیسڈ اپریشن جاری ہے،بڑے آپریشن سے متعلق پھیلایا جانے والا تاثر جھوٹا اور بے بنیاد ہے، نہ تو علاقے میں فوج کی تعداد میں کوئی اضافہ کیا گیا ہے ،موجودہ موسم بڑے آپریشن کیلئے موزوں نہیں گزشتہ تین برسوں سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کیخلاف انٹیلی جنس معلومات پرآپر...
شہر قائد میں میگا پروجیکٹس چل رہے ہیں، وزیراعلی نے حال ہی میں 90ارب روپے مختص کیے ہیں 15ہزار خواتین نے پنک اسکوٹی کیلئے درخواستیں دی ہیں، سینئر وزیر کاسندھ اسمبلی میں اظہار خیال سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی میں ترقیاتی کام جاری ہیں، سڑکیں بن رہی ہیں،ش...
حکومتی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، معیشت مستحکم ہو چکی ہے، وزیراعظم میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 روپے کم کر دوں، میرے ہاتھ بندھے ہیں،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتوں کیلئے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان کر دیا، اور کہا کہ میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 رو...
بانی پی ٹی آئی کی صحت پر خدشات،طبی معاملے میں کسی بھی غفلت یا تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا، طبی حالت فورا فیملی کے سامنے لائی جائے ، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی فیملی اور ذاتی معالجین کے علم کے بغیر اسپتال منتقل کرنا مجرمانہ غفلت ، صحت سے متعلق تمام حقائق فوری طور پر سامنے...
پاک فوج بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے، جدید جنگ کی نوعیت میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہیں،مستقبل کے میدانِ جنگ کے تقاضوں کیلئے ہر سطح پر اعلیٰ درجے کی تیاری ناگزیر ، چیف آف ڈیفنس فورس سید عاصم منیر کی بہاولپور گیریژن آمد، کور کمانڈرنے استقبال کیا، جوانوں کے بلند حوصلے، پیشہ وران...
عدالتی تحقیقات کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھ رہے ہیں،شرجیل میمن کسی سیاسی جماعت کے دبائو میں نہیں آئیں گے، سینئر صوبائی وزیر کی پریس کانفرنس حکومت سندھ نے کراچی میں پیش آئے سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان کردیا۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سن...