وجود

... loading ...

وجود

دنیا بھر میں خواتین کاکردار بڑھ رہاہے

پیر 23 اکتوبر 2017 دنیا بھر میں خواتین کاکردار بڑھ رہاہے

پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق، دنیا بھر میں 15 خواتین بر سرِ اقتدار ہیں جن میں سے 8 اپنے ملک کی پہلی خاتون رہنما ہیں۔جن میں برطانیہ کی وزیر اعظم تھریسا مے اور جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل اپنی سیاست اور سفارتکاری کے اعتبار سے اور بنگلہ دیش کی وزیر اعظم حسینہ واجد اور میانمار کی سربراہ آنگ سان سوچی اپنی سفاکی ، بے رحمی اور اسلام دشمنی کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہیں،پوری دنیا میں صرف خواتین بر سرِ اقتدار ہونے کا مطلب یہ ہے کہ خواتین رہنما اقوام متحدہ کی 193 رکن ریاستوں میں سے 10 فیصد سے کم کی نمائندگی کر رہی ہیں۔امریکہ کے صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں چاروں شانے چت ہونے والی امریکہ کی سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے جولائی 2016 میں ڈیموکریٹس کی نامزدگی کے بعد کہاتھا کہ مجھے یقین نہیں آ رہا کہ ہم نے روایتی بندھنوں کو توڑنے کے لیے ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ ہوسکتاہے کہ امریکی انتخابات کے دوران لڑکیوں میں کوئی رات دیر تک یہ دیکھنے کے لیے جاگ رہی ہوکہ میں اگلی خاتون صدر بن سکتی ہوں ، لیکن یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ اگلی اان میں سے کوئی ایک ہو گی’۔
یاوٹس سینٹر کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ نیو یارک شہر میں اس کی سب سے بڑی شیشے کی چھت ہے، اور امریکہ کی تاریخ میں پہلی خاتون صدر بننے کے لیے یہ بہترین انتظام تھا۔لیکن ہیلری کلنٹن کی شکست نے رجحان کو بدلنے نہیں دیا، گذشتہ ایک دہائی میں عالمی سطح پر منتخب شدہ برِسر اقتدار خواتین کی تعداد دگنی ہو چکی ہے۔ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ایسی خواتین جنھیں خاتون رہنما میسر ہیں ان کی امنگیں زیادہ ہیں۔تحقیق کے مطابق عالمی سطح پر منتخب خواتین بلاشبہ روایات اورروایتی بندھنوں کو توڑ رہی ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ اپنے ملکوں کی دیگر خواتین کو ساتھ لے کر چل رہی ہیں؟ بھارت کی مقامی حکومتوں میں سیاسی کوٹے کے نظام سے اس بارے میں کوئی اندازہ لگایاجا سکتا ہے یا اس حوالے سے اندازہ لگانے میں مدد مل سکتی ہے۔ 1993 سے اب تک، بے ترتیب انداز میں منتخب شدہ 3 میں سے ایک بھارتی گاؤں کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ خاتون کے لیے چیف کونسلر کا عہدہ مخصوص کرے جو کہ قدرتی طور پر ایک سماجی تجربہ ہے۔
2012 میں ہزاروں انڈین نوجوانوں اور ان کے والدین پر کی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ خاتون رہنما اور گاؤں کی نوجوان خواتین کی اولین خواہشات کا باہمی تعلق ہے۔جب والدین سے پوچھا گیا کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم کے لحاظ سے کیا چاہتے ہیں، اس عمر میں جب ان کا پہلا بچہ ہوا اور جب اس کی ملازمت کے امکانات پیدا ہوئے تو زیادہ تر والدین نے اپنے بیٹوں کے لیے اعلیٰ خواہشات کا اظہار کیا۔لیکن ایک بار جب گاؤں میں خاتون رہنما دو انتخابی مدتیں پوری کر چکی تو والدین کی لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے ‘خواہشات کا فرق’ ان لوگوں کے مقابلے میں جنھیں خاتون کی رہنمائی میسر نہیں رہی، کم ہو کر 25 فیصد رہ گیا ہے۔خود نوجوانوں کے لیے بھی، یہ صرف 32 فیصد ہو گیا۔ جب خاتون نگران تھیں تب بھی لڑکوں سے توقعات کم نہ ہوئیں، لہٰذا یہ معمولی فرق لڑکیوں کے لیے بہترین خواہشات سے مجموعی طور پر کم ہی رہا ہے۔
اس تحقیق کے مصنف کے مطابق خواتین رہنماؤں کو پالیسی کے ذریعے عورتوں کے حالات بدلنے کی محدود گنجائش حاصل رہی ہے۔ لیکن مثبت کردار کے نمونے کے طور پر ان کی موجودگی ان کے ارد گرد نوجوان خواتین کی خواہشات اور تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے کافی تھی۔
2012 میں کی گئی ایک سوئس تحقیق سے یہ پتہ چلا ہے کہ مثالی شخصیت، خواتین کے رویے پر اثر انداز ہوتی ہے جب وہ قیادت کرنے کی صورتحال سے گزرتی ہیں، چاہے وہ مثالی شخصیت ان سے دور ہو۔تحقیق کے مصنف نے لڑکوں اور لڑکیوں کو ورچوئل ریالٹی کے حامل ماحول میں چار مختلف گروپوں کی شکل میں تقریر کرنے کی دعوت دی۔ ایک کو جرمن چانسلر اینگلا مرکل کی تصویر دیوار پر نظر آئی، ایک گروپ کو ہیلری کلنٹن (اس وقت وہ وزیر خارجہ تھیں)، ایک کو دیوار پر بل کلنٹن دکھائی دیے اور ایک کو سرے سے کوئی تصویر نہیں دکھائی گئی۔
لڑکیوں نے مرد سیاست دان یا کسی بھی مثالی شخصیت کی غیر موجودگی کے مقابلے میں، کامیاب خاتون سیاست دان کے سامنے نمایاں طور پر زیادہ لمبی تقریر کی۔ اور جتنی زیادہ لمبی تقریر کی انھوں نے اپنی اتنی ہی زیادہ مثبت درجہ بندی کی۔سوئس تحقیق کے مصنف نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ‘یہ صرف خواتین سیاست دانوں کی تعداد میں اضافہ نہیں بلکہ یہ مساوات کا ہدف بھی ہے، یہ وہ انجن بھی ہو سکتا ہے جس کے ذریعے یہ مقصد حاصل ہو۔‘
یہ اعداد و شمار اس تصور کو تقویت بخشتے ہیں کہ سیاسی کرداروں میں خواتین کی صرف موجودگی کو روزمرہ کی زندگی میں وسیع مساوات سے منسلک کیا جا سکتا ہے۔عالمی اقتصادی فورم نے اپنی ‘گلوبل جینڈر گیپ’ نامی رپورٹ میں چار کلیدی عناصر کی بنیاد پر درجہ بندی کی ہے جس میں صحت اور بقا، تعلیم کا حصول، معیشت میں شرکت اور سیاست میں شمولیت شامل ہیں۔سنہ 2016 میں آئس لینڈ، فِن لینڈ اور ناروے وہ ممالک تھے جن کا مجموعی صنفی فرق کم ترین سطح پر تھا اور وہاں سیاست میں عورتوں کی شمولیت کا بھی زیادہ امکان تھا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان ممالک میں جہاں خواتین کو سیاست میں نمائندگی ملتی ہے وہاں وہ زیادہ بہتر انداز میں کام کرتی ہیں۔خواتین رہنماؤں اور ان کی خواتین ہم منصبوں کی زندگی کے حالات میں بہتری کے درمیان ایک مضبوط تعلق قائم کرنا مشکل ہے۔یہ جزوی بات ہے کیونکہ گذشتہ صدی میں تقریباً ہر ملک میں صنفی مساوات بہت بہتر ہوئی ہے، قطع نظر اس کے کہ وہاں خاتون رہنما رہی ہیں یا نہیں۔اس کے علاوہ، کئی خواتین کو حال ہی میں منتخب کیا گیا یا پھر وہ کم عرصے تک ہی رہنمائی کر سکیں اس لیے ان کی پالیسیوں کے براہ راست اثرات کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔البتہ، جو ثبوت ہمارے پاس ہیں ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جو خواتین روایتی بندھنوں کو توڑ سکیں انھوں نے اپنی ہم وطنوں کی اْمنگوں میں اضافہ کیا۔ اور ان کے ملکوں میں خواتین کے لیے بہتر معیار زندگی کے امکانات بھی روشن ہوئے ہیں۔
ترقی پذیر ممالک میں زرعی شعبے میں اوسطً 43 فیصد افرادی قوت خواتین پر مشتمل ہے اور ماہرین کے خیال میں گذشتہ دو دہائیوں میں زرعی شعبے میں خواتین کے کام کرنے کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔اقوام متحدہ کے ادارے برائے خوراک و زراعت کی ایک رپورٹ کے مطابق اس بات کے ’واضح شواہد‘ موجود ہیں کہ زراعت میں خواتین کا کردار بڑھا ہے کیونکہ خواتین کے اس شعبے میں آنے کے بعد مرد زرعی شعبے میں اب نوکریاں نہیں کر رہے ہیں۔بین الاقوامی ادارہ محنت کے اعداد و شمار کے مطابق اقتصادی طور پر سرگرم خواتین کی ایک چوتھائی تعداد زرعی شعبے سے منسلک ہیں۔گو کہ ان اعداد و شمار میں علاقائی طور پر فرق پایا جاتا ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ملازمت فراہم کرنے میں زرعی شعبے کا اہم کردار ہے لیکن امیر اور غریب ممالک میں یہ شرح مختلف ہے کیونکہ امیر ممالک میں مرد و خواتین صنعتوں اور خدمات کے شعبوں میں ملازمت کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔پھر سوال یہ پیداہوتا ہے کہ زرعی شعبے میں خواتین کا کردار کہاں بڑھا ہے؟یہ رجحان سب سے زیادہ شمالی افریقہ میں دیکھنے کو ملا جہاں زراعت میں خواتین کا کردار 30 فیصد سے بڑھ کر 43 فیصد ہو گیا ہے۔ ایسے ہی رجحانات مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیا، لاطینی امریکہ میں دیکھنے کو ملے۔ جبکہ نیم صحرائی افریقی علاقوں میں زرعی شعبے میں خواتین کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا ہے۔ تین دہائیاں قبل یہاں زراعت میں خواتین مزدوروں کی تعداد میں 60 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کے خیال میں یہاں پہلے سے ہی خواتین کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ کاشتکاری میں خواتین کا بڑھتا ہوا کردار مثبت اقدام ہے۔ کچھ خواتین خود اپنی زمینوں پر کاشتکاری کرتی ہیں تو کچھ کسی اور کی زمین پر ملازمت کرتی ہے۔گو کہ خواتین کے اس بڑھتے ہوئے کردار کا مطلب خواتین کا با اختیار ہونا ہر گز نہیں ہے بلکہ اس کی اہم وجہ مردوں کا ہجرت کر کے دوسری جگہ جانا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین کے مقابلے میں مردوں میں بہتر مواقعوں کی تلاش کے لیے شہری علاقوں کا رخ کرنے کا رجحان زیادہ ہے۔ اس لیے جو خواتین پیچھے رہ جاتی ہیں انھیں اکثر زمینوں پر زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔زرعی شعبے کی افرادی قوت میں خواتین کی تعداد زیادہ ہے لیکن اْن کی ملازمت کی نوعیت اکثر غیر واضح ہوتی ہے۔ خواتین اکثر اوقات جز وقتی ملازمت کرتی ہیں۔
عالمی بینک کے تجزیے کے مطابق تنخواہ دار خواتین کی ملازمتوں میں بھی زیادہ تر نوکریاں مزدوری یا کم ہنر مندی کی ہوتی ہیں۔ انتظامی طور پر موجود محدود آسامیوں پر زیادہ تر مرد کام کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر خواتین کاشت کاری کرتی ہیں تو مارکیٹنگ اور رقم وصولی کی ذمہ داری مردوں کی ہی ہوتی ہے۔دیہی علاقوں میں پانی بھرنے اور ایندھن جمع کرنے کا کام بھی عورتیں کرتی ہیں۔تاہم دستیاب شواہد کے مطابق اکثر خواتین کی تنخواہ مردوں کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق صنف کے لحاظ سے آمدن میں فرق ہے اور 14 ممالک میں خواتین کی اوسطً تنخواہیں مردوں کے مقابلے میں 28 فیصد کم ہیں۔ماہرین کے خیال میں تنخواہوں کے اس فرق کاسبب’پیداوار کا فرق’ ہے اور ترقی پذیر ملکوں میں خواتین کاشتکاروں کی پیداوار اوسط پیدوار سے 20 سے 30 فیصد کم ہے اور کم پیداوار کا الزام خانگی امور کی ذمہ داری ادا کرنے پر عائد کیا جاتا ہے۔
یف اے او کا کہنا ہے کہ کئی معاشروں میں گھر بار سنھبالنا اور بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ دار خواتین ہوتی ہیں اور دیہی علاقوں میں پانی لانا، ایندھن جمع کرنے کا کام بھی عورتیں کرتی ہیں۔ اسی وجہ سے آمدن کمانے والے ذرائع میں اْن کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔ایف اے او کی پروگرام اسسٹنٹ ماریہ لوئیس کے مطابق ‘خواتین کے لیے یہ بہت مشکل ہے کہ وہ روایات کو چیلنج کریں۔’ماہرین کا کہنا ہے کہ فوڈ پراسیسنگ اور دوسرے ویلیو ایڈیشن سے معاشرے میں صنفی عدم مساوات کم کی جا سکتی ہے۔ماہرین کاخیال ہے کہ زراعت میں خواتین کی ملازمتیں بڑھنے سے کافی فائدہ ہوا ہے۔ اس حوالے مالی کی ایک
28 سالہ خاتون تھیرراکاحوالہ دیاجاتاہے وہ کہتی ہیں کہ ‘آج میں کم کاروبار والے سیزن کے بارے میں زیادہ پریشان نہیں ہوں۔ اب ہم نئی سرگرمیوں میں مصروف ہیں جو ہمیں زیادہ مضبوط بناتی ہیں‘۔یہ خاتون اْن خواتین میں شامل ہیں جنھیں ایف اے او کی جانب سے ’خصوصی زرعی کِٹس’ ملی ہیں جس میں مٹر، باجرہ اور اعلیٰ معیار کی سبزیوں اور پھلوں کے بیج شامل ہیں۔اس نئی تکنیک کی مدد سے مالی کی خواتین اْن اوقات میں آمدنی حاصل کر سکتی ہیں جب اْن کے شوہر ملازمت کے لیے علاقے میں موجود نہیں ہوں گے۔تھیررا نے کہا کہ ‘آئندہ آنے والے مہینوں کے لیے ہمارے پاس اضافی خوراک موجود ہے‘۔دنیا بھر میں کئی تنظمیں اور این جی اوز ایسی تکنیکیں متعارف کروا رہی ہیں جس میں محنت کم کی جائے اور خواتین کو قرضے فراہم کیے جائیں۔ یہ دونوں عناصر چیزوں کو مثبت طور پر بدل کر رکھ سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین کو سماجی طور پر با اختیار بنانے کے لیے زمین کے ملکیت بہت اہم ہے اور ترقی پذیر ممالک میں خواتین اور مردوں میں جائیداد کی ملکیت کے قوانین مختلف ہیں۔شواہد کے مطابق کوئی بھی شخص زمین کی ملکیت اور اْس پر کاشتکاری سے بہت با اختیار ہوتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پالیسی میں تبدیلی تو آغاز ہے لیکن زیادہ توجہ سماجی روایات پر دینا ہو گی جو خواتین کو وراثت میں حق دینے کیخلاف ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زرعی شعبے میں زیادہ خواتین کے کام کرنے سے کسی حد تک معاشرے میں صنفی عدم توازن تو کم ہو گا لیکن اس کے لیے کچھ وقت درکار ہے۔


متعلقہ خبریں


مینڈیٹ چوری کیخلاف عوام کا بھرپور احتجاج، اپوزیشن اتحاد کی کامیاب ہڑتال پر مبارکباد وجود - پیر 09 فروری 2026

8 فروری الیکشن کو 2 سال مکمل،پی ٹی آئی کا احتجاج، مختلف شہروں میں شٹر ڈاؤن، آواز بلند کرنے کا مقصد انتخابات میں بے ضابطگیوں کیخلاف عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کا مطالبہ ہے، پارٹی ترجمان پاکستانی قوم کی سیاسی پختگی اور جمہوری شعور کا منہ بولتا ثبوت ہے، آئیے مل کر اس گرتے ہوئے نظام ک...

مینڈیٹ چوری کیخلاف عوام کا بھرپور احتجاج، اپوزیشن اتحاد کی کامیاب ہڑتال پر مبارکباد

ملک بھرمیں تحریک انصاف کی پہیہ جام کال مسترد(مراد علی شاہ) وجود - پیر 09 فروری 2026

اتوارکے روز شہریوں نے دکانیں کھولی،سانحہ گل پلازہ متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں، وزیر اعلیٰ کی میڈیا سے گفتگو وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں۔شہرِ قائد میں ...

ملک بھرمیں تحریک انصاف کی پہیہ جام کال مسترد(مراد علی شاہ)

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان وجود - پیر 09 فروری 2026

دہشت گرد آرہے ہیں تو ماردیں کس نے روکا ہے،نیتن یاہو کے ساتھ امن بورڈ میں بیٹھنے پر شرم آنی چاہیے، سربراہ جے یو آئی ہم نے روش بھانپ کر عمران خان سے اختلاف کیا تھا تو آپ اس سے دو قدم آگے ہیں، ہم بھی دو قدم آگے ہوں گے، خطاب جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل ا...

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان

8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال وجود - اتوار 08 فروری 2026

محمود اچکزئی کی وزیراعظم کو شریک ہونے کی پیشکش، عوام سے جذباتی نہ ہونے کی اپیل،شہباز شریف سے کہتا ہوں وہ عوام کے سوگ میں شامل ہوجائیں، ملکی حالات ایسے نہیں عوام کو جذباتی کیا جائے، پیغام مریم نواز کو ہمارے ساتھ ہونا چاہیے، ناانصافی سے گھر اور رشتے نہیں چلتے تو ملک کیسے چلے گا،مل...

8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار وجود - اتوار 08 فروری 2026

داعش افغانی خودکش حملہ آور کا نام یاسر، پشاور کا رہائشی ، حملے سے قبل مسجد کی ریکی کی، ایک ہفتہ پہلے مسجد سے ہوکر گیا،شواہد جمع کرنے کیلئے نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد لی گئی، ابتدائی تفتیش حملے کی منصوبہ بندی، تربیت اور ذہن سازی افغانستان میں داعش نے کی، افغان طالبان ک...

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند وجود - اتوار 08 فروری 2026

ڈالرز کی منی لانڈرنگ اور اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے ہیں،گورنر اسٹیٹ بینک ٹریڈ بیس منی لانڈرنگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، سینئر صحافیوں سے ملاقات و گفتگو گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے دو ارب ڈالر کے رول اوور میں کوئی مسئ...

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت وجود - اتوار 08 فروری 2026

کسٹمز کے اینٹی اسمگلنگ یونٹ کا نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی سکھر کے سرکاری دفتر پر چھاپہ نان کسٹم پیڈ اور ٹمپرڈ گاڑی قبضے میں لے لی،جبکہ حیران کن طور پر ڈپٹی ڈائریکٹر مقدمے میں نامزد دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ کھل کر سامنے آگئی، پاکستان کسٹمز کے اینٹی ...

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی وجود - هفته 07 فروری 2026

خودکش حملہ آور نے گیٹ پر روکے جانے پر دھماکا کیا، متعدد زخمیوں کی حالت نازک، اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ،صدروزیراعظم کی مذمت،تحقیقات کا حکم وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ...

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری وجود - هفته 07 فروری 2026

جس نے خودکش دھماکا کیا اس کی معلومات مل گئی ہیں، ہوسکتا 72 گھنٹوں میں انجام تک پہنچائیں، وزیرمملکت داخلہ وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ امام بارگارہ دھماکا خودکش تھا، حملہ آور کی معلومات مل گئی ہیں اور افغانستان کا کتنی دفعہ سفر کیا اس کی تفصیلات بھی آگئی ہیں۔وزیر ...

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول وجود - هفته 07 فروری 2026

عمران خان نے دائیں آنکھ میں نظر کی کمی کی شکایت کی اور ان کی رضامندی سے علاج کیا گیا،پمز اسلام آباد کے سینئر اور مستند ماہر امراض چشم نے اڈیالہ جیل میں آنکھوں کا مکمل معائنہ کیا،ایگزیکٹو ڈائریکٹر معائنے میں سلٹ لیمپ معائنہ، فنڈواسکوپی، آنکھ کے اندرونی دباؤ کی پیمائش، ضروری ...

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو وجود - هفته 07 فروری 2026

قوم کو نفرت، انتہاپسندی، اور دہشتگردی کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا، چیئرمین حکومت عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات کو یقینی بنائے،شدیدمذمت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں امام بارگاہ و مسجد میں دہشتگردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذ...

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی وجود - هفته 07 فروری 2026

9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، بند کمروں میں فیصلوں سے بہت نقصانات ہوئے غلط پالیسیوں سے یہاں امن قائم نہیں ہو رہا اور ہم دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پولیس پر 9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، پولیس کو سیاست میں مت گھ...

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی

مضامین
مولانا کی ''میں'' وجود منگل 10 فروری 2026
مولانا کی ''میں''

سندھ کا تعلیمی بحران مصنوعی ذہانت کے تناظر میں مسائل کا تجزیہ وجود منگل 10 فروری 2026
سندھ کا تعلیمی بحران مصنوعی ذہانت کے تناظر میں مسائل کا تجزیہ

دنیا کا بڑا بحران وسائل کی کمی نہیں ! وجود منگل 10 فروری 2026
دنیا کا بڑا بحران وسائل کی کمی نہیں !

شکسگام ، چین کا حصہ ہے! وجود پیر 09 فروری 2026
شکسگام ، چین کا حصہ ہے!

پروفیسر شاداب احمد صدیقی وجود پیر 09 فروری 2026
پروفیسر شاداب احمد صدیقی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر